لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


شکست سے کوئی سبق سیکھے گا؟ Share
……سید شہزاد عالم……
لندن اولمپکس میں آسٹریلیا کے ہاتھوں پاکستان کی عبرتناک شکست کے بعد پاکستانی ہاکی ٹیم نہ صرف میڈل کی دوڑ سے باہر ہو گئی بلکہ کسی بھی کھیل میں میڈل حاصل کرنے کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔ اب ہاکی میں ساتویں یا آٹھویں پوزیشن ہی مقدر ہے۔ آسٹریلیا سے میچ جیتنے کی صورت میں سیمی فائنل کا ٹکٹ کنفرم ہو جاتا لیکن اس اہم ترین میچ میں ٹیم کی کارکردگی ایسی تھی جیسے انہیں سیمی فائنل کھیلنے سے کوئی دلچسپی نہ ہو۔ درحقیقت آسٹریلیا نے ہاکی کے میچ میں پاکستانی ٹیم کو ٹینس کا مزا چکھادیا۔ سات گو ل سے شکست اس سے پہلے کبھی نہ کھائی تھی۔ہاکی کے علاوہ دیگر کھیلوں میں بھی کھلاڑی ابتدائی راؤنڈ میں ہی شکست کھا کر مقابلوں سے باہر ہوتے رہے۔لندن اولمپکس ہم پاکستانیوں کے لئے انتہائی مایوس کن ثابت ہوئے۔ لیکن سچی بات تو یہ ہے جو بویا جاتا ہے، وہی کاٹا جاتا ہے۔پاکستان میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اس کے بعد یہی دن دیکھنے کو ملتا ہے۔ کھیلوں کی مینجمنٹ میں ایک سے بڑھ کے ایک نالائق بیٹھا ہے جس کی قابلیت محض سیاسی وابستگی یا کسی طاقتور شخص سے قرابت داری ہوتی ہے۔ اسپورٹس کے فنڈز کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔ نااہل انتظامیہ کو متعلقہ کھیل کی ابجد کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ قومی اور صوبائی سطح کے کھیلوں میں بد انتظامی اور افراتفری عروج پر ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ کے بجائے سفارش اور پیسے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ کھیلوں کے ذمہ داران ملک میں کھیلوں کے فروغ کے بجائے اس کی بربادی کا ساماں زیادہ کرتے ہیں۔ ملک میں مختلف کھیلوں میں جو بھی ٹیلنٹ سامنے آتا ہے وہ زیادہ تر خداداد ہوتا ہے، ذمہ داران کا اس میں کوئی کمال نہیں ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کسی کھیل میں ابتدائی ٹیلنٹ سامنے آنے کے بعد اس کھلاڑی کو اعلیٰ تربیت دلائی جائے، بیرون ملک تربیت کے لئے بھیجا جائے اور اس کی گرومنگ کی ہر ممکن کوشش کی جائے تاکہ وہ کھلاڑی بین الاقوامی معیار سے روشناس ہو، اور کسی بھی انٹر نیشنل ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے کے قابل ہو، لیکن ہوتا اس کے با لکل بر عکس ہے۔ ٹیلنٹ کی ہر ممکن حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اہل کھلاڑیوں کے بجائے سفارشی کھلاڑی ملک کی نمائندگی کرتے ہیں جن کی ناقص کارکردگی قوم کی بدنامی کا سبب بنتی ہے۔ دنیا کی دیگر اقوام کھیلوں میں اپنا معیار بلند سے بلند تر کر رہی ہیں۔ ان کے اور ہمارے کھلاڑیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ان کی عمومی جسمانی صحت، کھیل میں پختگی ، پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ اور ان کے پیچھے مضبوط مینجمنٹ کا وجود ہمارے لئے سیکھنے کا سبق ہے۔ بحیثیت قوم ہم آج کھیلوں سمیت اپنا کوئی بھی شعبہ صحیح سے چلانے کے قابل نہیں رہے۔ ہم میں اور دیگر اقوام کے درمیان فرق گہرے سے گہرا ہوتا جارہا ہے۔ لندن اولمپکس کے نتائج میں کیا ہمارے لئے کوئی سبق ہے یا حسب دستور ہم ساری ذمہ داری بدقسمتی پر ڈال کر ریت میں سر دبا کر کسی اگلے مقابلوں میں شکست کی تیاریوں میں مصروف ہو جائیں گے۔۔۔۔؟
shahzad.janggroup@gmail.com  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 39 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


Kamran, Karachi.........Maksad England Ke sair tha woo kar Le shekast say team nay ya sekaa hay kay aglay world cup say aik month phalay beyaan dian gian kay dushman kaa moo noch Lian Gian os kay baad har kar hockey wapis kar dian gian os kay 6 month kay baad captian shahib TV show mein khana paka rahay hoin gian.
 
kamran Posted on: Thursday, August 09, 2012


ارشد احمد خان، ملائشیا…ہمارے حکمرانوں سے لے کر عام آدمی تک کرپٹ ہے تو کھیلوں کا یہی حال ہونا ہے-
 
ارشد احمد خان Posted on: Thursday, August 09, 2012


KHAN GM KHAN USA , USA............AFSOOS SAD AFSOOS KH HMARI QAUMI GHYRAT KO ZANG AALOOD KIYA JA RAHA HAI NH EDHR KE RAHE NH UDHR KE RAHE......sorry
 
KHAN GM KHAN USA Posted on: Thursday, August 09, 2012


نعمان، آسٹریلیا…معذرت کے ساتھ میں قومی ہاکی ٹیم پرتنقید کے بجائے اس کی کارکردگی کو سراہتا ہوں، وہ میرے ہیرو ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ہاریں یا جیتیں، ہارجیت کھیل کا حصہ ہے۔
 
Nouman Posted on: Thursday, August 09, 2012


Hunain Saleem, Portugal.........masla yai hai k jb hamko ko koi ebrat naak shikasat hoti hai hamara media b tb hee sar char kar bolta hai, es mai kasoor kiska kaho mai kahty haina jasi awam waisy hukmraan /theik/ baat hai, chahy koi adara ho ya khayl ka nazaam jb tk hm huud nhi badly gy tb tk kuch theik nhi ho skta aoor na hony ki omeed rakhni chahiyai,hamara mulk pakistan afsos k sirf aik syasi mulk rah gya hai jha jamooriyat b naam ki hai, jismy haar koi taqribaan qasoor waar hai . LLAH HAMARY MULK KO CRAAPT HUMRAAN NAO SY BCHAIY AAAOR HMKO HOOD NUTRAL HONY KI HIMAAT DY (AAMEEN)
 
hunain saleem Posted on: Thursday, August 09, 2012


خالد، انکل، امریکا…اس قسم کی کھیلوں کی شکست اب روز کا معمول بن گئی ہے اور کسی کے کان پر کوئی جوں بھی نہیں رینگتی - اگلے المپک میں میرٹ کی بجاے بڑی بے شرمی سے وائلڈ کارڈ پر کھیل رہے ہونگے -
 
خالد انکل Posted on: Thursday, August 09, 2012


محمد ارشد، جھنگ…حکومت پاکستان کو کھیلوں کو ترجیح دینی چاہئے اور اس کیلئے اضافی فنڈز جاری کرنے چاہئیں اس کے بعد ہی ہمارے کھیل بہتر ہوں گے۔اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے کھیلوں کے ارباب اختیار اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے۔
 
Muhammad Arshad Posted on: Thursday, August 09, 2012


شاجی، کراچی…کوئی سیکھے یا نہ سیکھے، میں نے یہ سبق ضرور سیکھا ہے کہ ہماری اسپورٹس ٹیموں سے کوئی توقع نہ رکھو کیونکہ وہ ہمیشہ آپ کو مایوس کرتی ہیں اور سیاست نے ہمارے کھیلوں کو خراب کیا ہے۔
 
Shajee Posted on: Thursday, August 09, 2012


Imran, Dera Bugti...........inshallh pher jeetan gay.
 
imran Posted on: Thursday, August 09, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | Next
Page 3 of 3


انقلاب کا جھانسہ اورسادہ لوح عوام
’دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا‘
گورا رنگ ہی کیوں؟
ورلڈ پولیو ڈے
ایبولا جان لیوا مرض
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 34 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 12 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy