لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


لندن اولمپکس، چین اور امریکا میں میڈلز کی جنگ!! Share
……سید شہزاد عالم……
لندن میں جاری اولمپکس مقابلوں میں دن گزرنے کے ساتھ ساتھ تیزی آتی جا رہی ہے۔ اب تک چینی اور امریکی ایتھلیٹس کے درمیان تمغوں کی اصل دوڑ جاری ہے، جس میں اب تک چین کو سبقت حاصل ہے۔ اس دوڑ میں اب تک میزبان برطانیہ کا دور دور تک نام نظر نہیں آ رہا ہے۔ امریکی پیراک مائیکل فیلپس تاریخ کے کامیاب ترین اولمپین بن گئے۔انہوں نے چار ضرب دو سو میٹر ریلے میں طلائی تمغہ جیت کر رشین جمناسٹ کا 18 میڈلز جیتنے کا ریکارڈتوڑ دیا۔امریکی پیراک نے اب تک مجموعی طور پر 19 میڈلز جیتے ہیں۔ جہاں کھیلوں کے نئے نئے ریکارڈز بن رہے ہیں وہیں کرپشن بھی کسی سے پیچھے نظر نہیں آرہی ہے۔ ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ کے واقعات بھی کھلے عام دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ اولمپک حکام اسٹیڈیم کی خالی نشستوں سے پریشان نظر آ رہے ہیں کہ شائقین آخر کہاں چلے گئے؟ میچ فکسنگ اب کرکٹ تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اب اس لعنت نے دیگر کھیلوں کا بھی رخ کرلیا ہے، لندن اولمپکس جیسا انٹرنیشنل میگا ایونٹ بھی اس سے محفوظ نہ رہا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار میچ فکسنگ کسی مرد کھلاڑی نے نہیں بلکہ خواتین کھلاڑیوں نے کی ہے۔ بیڈمنٹن کی عالمی فیڈریشن نے اولمپک مقابلوں میں شامل آٹھ کھلاڑیوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپنے میچز ہارے ہیں۔ عالمی بیڈمنٹن فیڈریشن نے لند ن اولمپکس کے بیڈمنٹن کے ویمنز ڈبلز ایونٹ میں تین ممالک کے آٹھ کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کا الزام لگایا ہے،ان کھلاڑیوں کا تعلق چین ، جنوبی کوریا اور انڈونیشیاء سے ہے، بیڈمنٹن کی عالمی فیڈریشن کے مطابق ومبلے ارینا میں تینوں ممالک کے کھلاڑی جان بوجھ کر پوائنٹس نہیں بنارہے تھے تاکہ اگلے میچز میں انہیں آسان حریف سے سامنا ہو،ان الزامات کے بعد چین نے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ جنوبی کوریا کے ہیڈ کوچ سنگ ہان کوک نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے کھلاڑیوں نے جان بوجھ کر میچ ہارا ہے کیونکہ اس سے پہلے چین کے کھلاڑیوں نے ایسا کیا۔ عذر گناہ بدتر از گناہ، اب وجہ کچھ بھی بیان کی جائے، اولمپک حکام کو ان باتوں کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے تاکہ کھیلوں اور ان کے نتائج پرشائقین کا اعتبار اور اعتماد قائم رہے۔ کھیلوں میں کرپشن اور دھوکہ دہی کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔
اس بار کیونکہ اولمپکس گیمز لندن میں ہو رہے ہیں تو کرکٹ کے شائقین ان مقابلوں میں کرکٹ کی عدم شمولیت کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مقبولیت کے بعد کرکٹ کے شائقین اس طرز کی کرکٹ کو اولمپکس مقابلوں میں شامل دیکھنا چاہتے ہیں۔ اولمپکس گیمز میں کرکٹ کی شمولیت کے لئے آئی سی سی کو بھرپور کوششیں کرنی چاہئے۔
اولمپک مقابلوں میں پاکستان کو سب سے زیادہ امیدیں اپنی ہاکی ٹیم سے ہوتی ہیں۔ پاکستان نے آخری بار لاس اینجلس اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔ ہاکی میں زوال کے بعد سے پاکستانی ٹیم کی عالمی مقابلوں میں کوئی نمایاں کارکردگی نہیں رہی لیکن پھر بھی ہم اپنی ہاکی ٹیم کواولمپکس میں کم از کم وکٹری اسٹینڈ پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اولمپکس میں طلائی تمغہ پاکستان میں ہاکی کو ایک بار پھر زندہ کر دے گا اور کھلاڑیوں میں ایک نئی روح پھونک دے گا۔ تاہم اس کے لئے ہماری ہاکی ٹیم کو سر دھڑ کی بازی لگانا ہو گی۔
shahzad.janggroup@gmail.com  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 25 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


Muhammad Abid Awan , Saudi Arabia........mai Electrical Engineer hoon Almost 5 saal sai Saudia mai hoon. bahir ki dunya kay haalaat aur baypanah taraqi ka mushahaida apnay andaz mai kerta rahta hoon. kafi baar khyal aya k is baray mai kuch likho laikin is tarah ki observations ko khabi likha nahi laikin aaj 1st time Blog perhtay hoyai ahsas hoa k kuch likhta hoon. Pakistan sai bohat mohabbat kerta hoon aur apnay watan ki khater jaan ki qurbani bhi meray nazdeek koi mani nahi rakhti. hamara mulk ajj jin halaat sai dochar hai us k zamadar baishak hum log hi hain, hum being a pakistani khabi aik qoum nahi ban sakay, infaradi soch aur faiday k khater hum sab nai pakistan ko kahan kahan zakhm nahi lagaaey aur phir bhi hum kahtay hain k Pakistan Tabahi kay dahanay per khara hai aur kyon na ho, her aik shobay sai taluq rakhnay walay nai is watan ko achi tarah nuqsan pohanchaya hai, Khuda k bando khabi sochoo k ager koi khayber sa apna safar shro keray aur quetta tak jai to is watan ko na qabil-byan khobsoorti aur zarkhazi ko daikh ker kon ye kahsakta hai k ye mulk gareeb hai aur begger hai,
 
Muhammad Abid Awan Posted on: Monday, August 13, 2012


محمد بلال ڈوگر، لاہور…ہماری اسپورٹس مینجمنٹ کو مستعفی ہوجانا چاہئے، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونہ انہیں ملکی وقار کی کوئی پرواہ نہیں۔
 
muhammad bilal dogar Posted on: Friday, August 10, 2012


Adnan, Karachi.............china is the best
 
adnan Posted on: Friday, August 10, 2012


Ali, Peshawar..................china hee jite ga.
 
ali Posted on: Wednesday, August 08, 2012


Shah Fayaz, Peshawar.........pakistan me log boke mar rahe hai our tum log paisa khelon par kharch kar raha ho ye na munasib hai kisi gharib ko daina chahiya k aik waqat ki roti lele.
 
shahfayaz Posted on: Tuesday, August 07, 2012


راشد خان، یوکے…ہمیں پاکستان میں نورا اولمپکس منعقد کرنے چاہئیں تاکہ تمام میڈلز ہم ہی جیت جائیں۔
 
rashid khan Posted on: Tuesday, August 07, 2012


خالد انکل، امریکا…اپنے زمانے کے ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان اب دور دور تک کسی انٹرنیشنل مقابلے میں کسی نمایاں پوزیشن پر نظر آتے ہیں - بہتر ہے مستقبل کے لیے ابھی سے خامیوں کو دور کیا جائے اور ٹیم کا چناؤ صرف میرٹ پر ہونا چائے -
 
خالد انکل Posted on: Tuesday, August 07, 2012


خالد انکل، امریکا…اگرچہ گولز کھانے سے روزہ تو نہیں ٹوٹا البتہ دل ضرور ٹوٹ جاتا ہے -
 
خالد انکل Posted on: Tuesday, August 07, 2012


واجد علی، اسلام آباد…افسوس کی بات ہے کہ پاکستان اولمپکس میں ایک میڈل بھی حاصل نہیں کرسکا، آسٹریلیا سے سات گول کی شکست شرمناک ہے۔
 
Wajid Ali Posted on: Tuesday, August 07, 2012


Syed Tayyeb Ahmed Jan, Bajaur Agency............pakistan ka tu allah hafiz hai.q ki pakistan mi president se lekar clerk sari ki sari chor ha.ak admi b nahi muklis pakistan ka.
 
syed tayyeb ahmad jan Posted on: Tuesday, August 07, 2012


تصورخان، ملتان…خوش نصیب ہیں وہ کھلاڑی جن کے حکمران کھیلوں پر توجہ دیتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں تو ہر قسم کا فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اقتصاد بھی مضبوط ہوتا ہے ، صحت مند معاشرہ بھی تشکیل پاتا ہے اور ملک کا نام بھی روشن ہوتا ہے چین یا امریکہ جس طرح خرچ کرتے ہیں تو میڈل تو لیں گے ۔ اے کاش ہمارے حکمران ان چیزوں کو سمجھ لیتے !!!!
 
تصورخان Posted on: Monday, August 06, 2012


عبدالرشیدچوہدری، امریکا…دیگر مسائل کی طرح ہمارے کھیل بھی زبوں حالی کا شکار ہیں، کوئی دور تھا کہ ہم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا کرتے تھے اور آج ہمارے حصے میں صرف شرمندگی آتی ہے حالانکہ ہم لوگ ہرطرح کی صلاحیتوں سے مالامال ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیں، پاکستان کا مفاد پرست طبقہ کبھی نہیں چاہے گا کہ ایسا ہومگر ایسا ہونا ضروری ہے اورہوگا اور ہم بھی دیکھیں گے، اٹھو اور آگے بڑھو کہ اللہ صرف ان کی مدد کرتا ہے جواپنی مدد آپ کرتے ہیں۔
 
Abd-ur-Rashid Chaudhry Posted on: Monday, August 06, 2012


خالد انکل، امریکا…اولمپک کا سب سے زیادہ دلفریب ایونٹ مردوں اور خواتین کی 100 میٹرز ریس پر ایک بار پھر جمیکا کے کھلاڑیوں کی اجارہ داری رہی - آج ہاکی ٹیم کی جیت سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی -
 
خالد انکل Posted on: Sunday, August 05, 2012


خالد انکل، امریکا…لندن المپکس اپنی پوری آب و تاب سے جاری ہیں اور چین کا سونے کے میڈلز جیتنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، آخر کار امریکی پیراک فیلپس نے اپنا لوہا منوالیا، مغرب کی خاتون اب یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ اولمپک کے کچھ خواتین کے کھیلوں کا ڈریس کوڈ ہونا چاہئے تاکے ان کے مرد زیادہ وقت ٹی وی نہ دیکھیں، پاکستان کی آج کی جیت سے کچھ امید کی کرن نظر آئی ہے۔
 
خالد انکل Posted on: Wednesday, August 01, 2012


رفعت، کینیڈا…مجھے بے چینی سے انتظار ہے کہ پاکستان اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتے لیکن سوئمنگ اور شوٹنگ میں ہمارے کھلاڑیوں نے مایوس کیا اور دونوں کوالیفائنگ راؤنڈ میں ہی ہار گئے۔ ہمیں اپنے کھلاڑیوں کی فزیکل فٹنس پر بھرپور توجہ دینی چاہئے، چین اس حوالے سے بہترین مثال ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہر کوئی زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی فکر میں ہے۔
 
Riffat Posted on: Wednesday, August 01, 2012
Prev | 1 | 2 | Next
Page 1 of 2


گورا رنگ ہی کیوں؟
ورلڈ پولیو ڈے
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
اب مستحکم فیصلے ہی پاکستانی کرکٹ کو بچاسکتے ہیں
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 33 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy