لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


رمضان المبارک میں منافع خوری عروج پر! Share
……سید شہزاد عالم……
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی کا طوفان برپا ہوگیا ہے جس کے سامنے غریب عوام بے بس و لاچارنظر آ رہی ہے ۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں منافع خوروں کا راج قائم ہے جو کھلم کھلا سرکاری احکامات کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ پھل اور سبزی فروش اس بات کا رونا روتے ہیں کہ ایک تو انہیں منڈی سے مال دگنے ریٹ پر مل رہا ہے اور دوسری طرف ہر طرح کے بھتہ خوروں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے جس کے باعث سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فروخت ممکن نہیں رہتی۔ بھتہ نہ دیں تو مارکیٹ میں ٹھیلا کھڑا کرنا ممکن نہیں جبکہ مار پیٹ کا سامنا الگ ہوتا ہے۔ پولیس ان کی مدد سے قاصر ہوتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت کو خود قیمتیں کنٹرول کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور اس کے تمام اقدامات نیم دلانہ ہی ہوتے ہیں کیونکہ منافع خوروں کی لابیوں کے ساتھ اس کے میل کھاتے سیاسی مفادات منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔
رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی ملک بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں ۔ اصولی طور پر رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہونی چاہئے تاکہ اس بابرکت مہینے میں غریب عوام کو ریلیف مل سکے لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر کھانے پینے کی اشیاء پر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے کم آمدنی اور تنخواہ دارعوام تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں اور ان کی نظریں نہ چاہتے ہوئے بھی حکومت کی طرف اٹھتی ہیں کہ وہ انہیں مہنگائی کے بم سے بچانے کے لئے کوئی اقدامات کرے۔
پہلا قدم تویہی ہو سکتا ہے کہ اصل منڈی میں قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ پرائس کمیٹیاں صرف مارکیٹوں میں چھاپے مار کر چھوٹے خوانچہ فروشوں اور پتھاریداروں کو دکھاوے کا جرمانہ کر کے اپنے فرض سے سبکدوش نظر آتی ہیں لیکن مسئلے کی جڑ کو کاٹنے سے صرف نظر کرتی ہیں۔ فریز کئے ہوئے گلے سڑے فروٹ مہنگے داموں فروخت کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ اب ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ عوام ازخود مہنگی اشیاء کا استعمال ترک کر دیں یا کم کر دیں تا کہ منافع خوروں کو قیمتیں کم کرنے پر مجبور کیا جاسکے یا عوام صارفین کمیٹیاں بنا کر بھرپور احتجاج کریں اور بے حس حکومت کو مہنگائی کم کرنے کے لئے نتیجہ خیز اقدامات پر مجبور کریں۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صارفین کمیٹیاں سول سوسائٹی اور میڈیا کی مدد سے عدلیہ کا سہارا لیں تا کہ عدلیہ کے احکامات صوبائی سطح پر حکومتوں کو ناجائز منافع خوری کے خلاف موثر اقدامات پر مجبور کر سکیں۔۔۔ اس دیرپا اور سنگین مسئلے کے حل کے لئے آپ بھی اپنے خیالات اور مشاہدات سے آگاہ کریں ۔۔۔! shahzad.janggroup@gmail.com  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 116 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


Arsalan, Karachi............bhot galat hai ye
 
arsalan Posted on: Wednesday, August 08, 2012


Farhan Baig, USA..........iss gov ne benazir ki shahadat ki waja se hukomat ki hai,sb ko pata tha k PP ki peechli hokumatain kaisi guzri hain..Dil khoon k aanso rota hai yee sb sun k,pata nahi kia hoga .
 
Farhan Baig Posted on: Wednesday, August 08, 2012


Farhan Baig, USA..........iss gov ne benazir ki shahadat ki waja se hukomat ki hai,sb ko pata tha k PP ki peechli hokumatain kaisi guzri hain..Dil khoon k aanso rota hai yee sb sun k,pata nahi kia hoga .
 
Farhan Baig Posted on: Wednesday, August 08, 2012


Javed Iqbal, USA.............pakistan mein har roz sadder , wazeer, kabina pase bnati he agr eak mehna rmazan mubark men tajiron nah pase bna liya to khia hova
 
javed iqbal Posted on: Monday, August 06, 2012


Javed Iqbal, USA.............pakistan mein har roz sadder , wazeer, kabina pase bnati he agr eak mehna rmazan mubark men tajiron nah pase bna liya to khia hova
 
javed iqbal Posted on: Monday, August 06, 2012


Mark, USA.........new york may RAMZAN MAY NON MUSLIM BHI SALE LAGATEY HEY OR HER CHEES SASTA BACHTAY HEY AMERICAN, FRANCH CHISE STORE OR INDIAN STORE KEY ALLAHWA Sb hi 20 say 30% TEK RATE GIRJATAY HEY
 
mark Posted on: Monday, August 06, 2012


Mark, USA.........new york may RAMZAN MAY NON MUSLIM BHI SALE LAGATEY HEY OR HER CHEES SASTA BACHTAY HEY AMERICAN, FRANCH CHISE STORE OR INDIAN STORE KEY ALLAHWA Sb hi 20 say 30% TEK RATE GIRJATAY HEY
 
mark Posted on: Monday, August 06, 2012


محمد عثمان، گوجرانوالہ…حکومت روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، مہنگائی نے عوام کو جینا دوبھر کردیا ہے، ان کیلئے اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
 
Muhammad Usman Posted on: Monday, August 06, 2012


محمد عثمان، گوجرانوالہ…حکومت روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، مہنگائی نے عوام کو جینا دوبھر کردیا ہے، ان کیلئے اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
 
Muhammad Usman Posted on: Monday, August 06, 2012


Rizwan Ahmed Bhutto, Naudero...........aaj kal mulk mai har cheez ka bohat bohran hai iss govt nai mulk ko barbad kar diya hai.
 
Rizwan Ahmed Bhutto Posted on: Monday, August 06, 2012


Rizwan Ahmed Bhutto, Naudero...........aaj kal mulk mai har cheez ka bohat bohran hai iss govt nai mulk ko barbad kar diya hai.
 
Rizwan Ahmed Bhutto Posted on: Monday, August 06, 2012


نجیب، برطانیہ…صدر زرداری اور ان کی ٹیم ملک لوٹنے میں لگی ہوئی ہے، اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ دیانت دار قیادت کا انتظار کیا جائے، اللہ پاکستان کی عوام پر رحم کرے۔ آمین
 
Najeeb Posted on: Monday, August 06, 2012


نجیب، برطانیہ…صدر زرداری اور ان کی ٹیم ملک لوٹنے میں لگی ہوئی ہے، اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ دیانت دار قیادت کا انتظار کیا جائے، اللہ پاکستان کی عوام پر رحم کرے۔ آمین
 
Najeeb Posted on: Monday, August 06, 2012


وسیم، چین…پاکستان کی عوام ذمہ دار ہے، وہ ایسے کرپٹ لوگوں کو ووٹ کیوں دیتی ہے، ہم ہمیشہ حکمرانوں کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن ہم نے کبھی تبدیلی کیلئے اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کیا؟
 
Waseem Posted on: Monday, August 06, 2012


وسیم، چین…پاکستان کی عوام ذمہ دار ہے، وہ ایسے کرپٹ لوگوں کو ووٹ کیوں دیتی ہے، ہم ہمیشہ حکمرانوں کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن ہم نے کبھی تبدیلی کیلئے اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کیا؟
 
Waseem Posted on: Monday, August 06, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | Next
Page 2 of 8


ایدھی صاحب اب بھی زندہ رہ سکتے ہیں ۔۔۔؟؟
جو دلوں کو فتح کرلے ۔۔۔ وہی فاتح زمانہ
یہ کون چلا گیا لوگو ۔۔؟؟
خواتین کی عید شاپنگ اور بیچارے مرد
دیکھیں ذرا چاند عید کا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy