لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


ڈاکٹرز کی ہڑتال ، مستقل حل کی ضرورت Share
……سید شہزاد عالم……
پنجاب میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران جاں بحق ہونے والے کس کے ہاتھوں پر اپنا لہو تلاش کریں۔ ہڑتال کیا ہے انسانیت کا جنازہ ہے ۔ زیر علاج معصوم بچے کی ڈرپ کھینچ لینا اور ماں باپ کی چیخ و پکار کو نظر انداز کر کے ہڑتال پر چلے جانا دل سوز واقعہ ہے جو مسیحائی جیسے مقدس پیشے کے منہ پر ایک طمانچہ سے کم نہیں۔ مطالبات منوانے کے لئے ہڑتال پر جانا ایک انتظامی معاملہ ہے اور مریضوں کے علاج سے انکار ایک غیر انسانی فعل ہے جس کی توقع ایک ڈاکٹر سے ہرگز نہیں کی جاسکتی۔ ڈاکٹری جیسے مقدس پیشے سے وابستہ افراد مطالبات منوانے کے لئے دیگر راستے بھی ڈھونڈ سکتے ہیں، اور اگر وہ اپنے موقف کو درست اور بر حق جانتے ہیں تو عدالت کے دروازے پر بھی دستک دے سکتے ہیں لیکن مسلسل ہڑتال پر چلے جانا اور جاں بلب مریضوں کے علاج سے انکار بہرحال ایک کریہہ جرم ہے جس کی ایک انسان دوسرے انسان سے توقع نہیں کر سکتا۔ حکومت کا غیر لچکدار رویہ اور سرد مہری بھی اپنی جگہ قابل مذمت ہے ۔ معاملات کو بگاڑنے سے بہتر ہے کہ اعلی سطح پر اس معاملے کو دیکھا جائے اور قابل قبول حل نکالا جائے۔ آئے دن ڈاکٹروں کی ہڑتال چاہے ان کے مطالبات بادی النظر میں جائز ہوں لیکن ہڑتال پر چلے جانا ہرگز قابل قبول صورتحال نہیں ہے۔ اس سے قبل یہ روش دیگر صوبوں میں بھی پھیلے حکومت کو موثر ایکشن لینا چاہئے، ڈاکٹروں کے جائز مطالبات مان کر ہڑتال کے خاتمے کی صورت نکالی جائے اور معصوم عوام کو اس کرب اور اذیت ناک صورتحال سے نجات دلائی جائے۔ پاک فوج سے ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرنا ایک عارضی حل ہے۔ صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے اور آئندہ کے لئے ایسی صورتحال کی بیخ کنی کی جائے۔
shahzad.janggroup@gmail.com  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 102 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


انقلاب پٹیل، کراچی…مسلسل ہڑتال پر چلے جانا اور جاں بلب مریضوں کے علاج سے انکار بہرحال ایک کریہہ جرم ہے جس کی ایک انسان دوسرے انسان سے توقع نہیں کر سکتا- حکومت کا غیر لچکدار رویہ اور سرد مہری بھی اپنی جگہ قابل مذمت ہے ۔
 
Inqilab Patel Posted on: Wednesday, July 04, 2012


انقلاب پٹیل، کراچی…مسلسل ہڑتال پر چلے جانا اور جاں بلب مریضوں کے علاج سے انکار بہرحال ایک کریہہ جرم ہے جس کی ایک انسان دوسرے انسان سے توقع نہیں کر سکتا- حکومت کا غیر لچکدار رویہ اور سرد مہری بھی اپنی جگہ قابل مذمت ہے ۔
 
Inqilab Patel Posted on: Wednesday, July 04, 2012


Inqilab Patel, Karachi..........iss baat sey qata nazar k mutalbat jaez hein ya nhi, Doctors ka is tarah strike krna, is profession ki touheen hy. Asal mein is mada parasti k dour mein in jesy doctors ab kisi jazby k liy nhi bas paisy k liy kam krty hein. Punjab ki awam ko chahiy k aisy doctors jin ki wajah sy on k azizon ki death hue hy on k khilaf bhar poor ehtijaj karein warna yeh waba poory mulk ko apni lapait mein ly legi.
 
Inqilab Patel Posted on: Wednesday, July 04, 2012


Inqilab Patel, Karachi..........iss baat sey qata nazar k mutalbat jaez hein ya nhi, Doctors ka is tarah strike krna, is profession ki touheen hy. Asal mein is mada parasti k dour mein in jesy doctors ab kisi jazby k liy nhi bas paisy k liy kam krty hein. Punjab ki awam ko chahiy k aisy doctors jin ki wajah sy on k azizon ki death hue hy on k khilaf bhar poor ehtijaj karein warna yeh waba poory mulk ko apni lapait mein ly legi.
 
Inqilab Patel Posted on: Wednesday, July 04, 2012


Asif, Lahore..........Wah Wah Wah doctors per tashadud boht bura lagta hia jab wo gareeb awam per zulm kar rahe hia wo nazar nahi a raha hia kisi ko kia kasoor hai kisi gareeb ka they dont have money.... agr un k pas bhi ho to wo bhi private doctors k pas jaye. in hospitals mian to gareebon ne hi ana hia to doctor kia aur hukamran kai sab hi in per karo zulm.
 
Asif Posted on: Wednesday, July 04, 2012


Asif, Lahore..........Wah Wah Wah doctors per tashadud boht bura lagta hia jab wo gareeb awam per zulm kar rahe hia wo nazar nahi a raha hia kisi ko kia kasoor hai kisi gareeb ka they dont have money.... agr un k pas bhi ho to wo bhi private doctors k pas jaye. in hospitals mian to gareebon ne hi ana hia to doctor kia aur hukamran kai sab hi in per karo zulm.
 
Asif Posted on: Wednesday, July 04, 2012


محمد ادریس خان، راولپنڈی…ینگ ڈاکٹرز کا ڈرامہ کافی عرصے سے جاری ہے، کچھ ماہ پہلے بھی انہوں نے ہڑتال کرکے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کرایاتھا، پنجاب میں آئے دن محکمہ صحت میں اس قسم کے ڈرامے ہو رہے ہیں،کبھی ڈینگی تو کبھی پی آئی سی میں جعلی دواوٴں کا مسئلہ ہے، کبھی ڈاکٹرز کی ہڑتال ہے اور کبھی پیرا میڈیکل کی، اس پورے عرصے میں بے شمار مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بہت سے مریض بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے، ان تمام مواقع پر ہمارے اس پڑھے لکھے نام نہاد باشعور طبقے کا کردار انتہائی افسوسناک رہا ہے، ڈاکٹرز کا پیشہ انتہائی باوقار ہونے کے ساتھ بہت ہی ذمہ دارانہ بھی ہے، انسانی زندگی سے زیادہ قیمتی اور محترم اور کوئی چیز نہیں ہے، اسی لئے ڈاکٹرز اپنے پیشے سے وفاداری کا حلف لیتے ہیں، لیکن پنجاب میں جو کچھ پچھلے دنوں میں ہوا اور اب بھی ہورہا ہے اس کی توقع کسی ان پڑھ جاہل سے بھی نہیں کی جاسکتی کہ ایک طرف بچے، بوڑھے، خواتین اور مرد تڑپ رہے ہوں اور ہمارے مسیحا ان کو چھوڑ کر اپنے لئے بہتر سہولیات کے حصول کے لئے ہڑتال پر چلے جائیں اور مریض ان کے سامنے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جائیں اور وہ کہیں کہ مریض بھاڑ میں جائیں ہم اپنے مطالبات کے منظور ہونے تک ان کا علاج نہیں کریں گے، ایسے لوگوں کو ڈاکٹر یا مسیحا کہنا تو دور کی بات ہے ان کو پڑھا لکھا کہنا بھی تعلیم کی توہین ہے، حکومت کو ایسے لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہئے ورنہ کہیں بھی کسی محکمہ میں بھی نظم و ضبط برقرار نہیں رہ سکتا، ینگ ڈاکٹروں کے معاملات کو ایک بڑی سازش کا حصہ بھی کہا جاسکتا ہے، ہو سکتا ہے کہ محکمہ صحت میں ایسی چند کالی بھیڑیں ہوں جو کسی اور کے مذموم مقاصد کی بھینٹ ان نوجوان ڈاکٹرز کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہوں، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں کیا خامی ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان جاہلوں سے بھی بدتر ہیں، ڈاکٹرز، وکیل، اسمبلی ممبران اور پولیس فورس پڑھے لکھے لوگ ہیں لیکن پچھلے چار سالوں میں ان سب کے طرز عمل کو سامنے رکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس بھلے ہی بڑی بڑی ڈگریاں ہوں مگر تعلیم یا علم سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔
 
Mohammad Idris Khan Posted on: Wednesday, July 04, 2012


محمد ادریس خان، راولپنڈی…ینگ ڈاکٹرز کا ڈرامہ کافی عرصے سے جاری ہے، کچھ ماہ پہلے بھی انہوں نے ہڑتال کرکے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کرایاتھا، پنجاب میں آئے دن محکمہ صحت میں اس قسم کے ڈرامے ہو رہے ہیں،کبھی ڈینگی تو کبھی پی آئی سی میں جعلی دواوٴں کا مسئلہ ہے، کبھی ڈاکٹرز کی ہڑتال ہے اور کبھی پیرا میڈیکل کی، اس پورے عرصے میں بے شمار مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بہت سے مریض بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے، ان تمام مواقع پر ہمارے اس پڑھے لکھے نام نہاد باشعور طبقے کا کردار انتہائی افسوسناک رہا ہے، ڈاکٹرز کا پیشہ انتہائی باوقار ہونے کے ساتھ بہت ہی ذمہ دارانہ بھی ہے، انسانی زندگی سے زیادہ قیمتی اور محترم اور کوئی چیز نہیں ہے، اسی لئے ڈاکٹرز اپنے پیشے سے وفاداری کا حلف لیتے ہیں، لیکن پنجاب میں جو کچھ پچھلے دنوں میں ہوا اور اب بھی ہورہا ہے اس کی توقع کسی ان پڑھ جاہل سے بھی نہیں کی جاسکتی کہ ایک طرف بچے، بوڑھے، خواتین اور مرد تڑپ رہے ہوں اور ہمارے مسیحا ان کو چھوڑ کر اپنے لئے بہتر سہولیات کے حصول کے لئے ہڑتال پر چلے جائیں اور مریض ان کے سامنے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جائیں اور وہ کہیں کہ مریض بھاڑ میں جائیں ہم اپنے مطالبات کے منظور ہونے تک ان کا علاج نہیں کریں گے، ایسے لوگوں کو ڈاکٹر یا مسیحا کہنا تو دور کی بات ہے ان کو پڑھا لکھا کہنا بھی تعلیم کی توہین ہے، حکومت کو ایسے لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہئے ورنہ کہیں بھی کسی محکمہ میں بھی نظم و ضبط برقرار نہیں رہ سکتا، ینگ ڈاکٹروں کے معاملات کو ایک بڑی سازش کا حصہ بھی کہا جاسکتا ہے، ہو سکتا ہے کہ محکمہ صحت میں ایسی چند کالی بھیڑیں ہوں جو کسی اور کے مذموم مقاصد کی بھینٹ ان نوجوان ڈاکٹرز کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہوں، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں کیا خامی ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان جاہلوں سے بھی بدتر ہیں، ڈاکٹرز، وکیل، اسمبلی ممبران اور پولیس فورس پڑھے لکھے لوگ ہیں لیکن پچھلے چار سالوں میں ان سب کے طرز عمل کو سامنے رکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس بھلے ہی بڑی بڑی ڈگریاں ہوں مگر تعلیم یا علم سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔
 
Mohammad Idris Khan Posted on: Wednesday, July 04, 2012


Dr. Raheel Zaidi, Karachi..........punjab k dr bilkul galati par hain baqi 3nu subon say ab bhi punjab ki salraies ziada hain ye har kam manwany k liye hartal pa chaly jatay hain koi in say pouchay dr bhi strike kartay hain ?? wo bhi is tarha ?? adalat jao ye kam kar k poori dunya main ruswaiy kar di.
 
dr raheel zaidi Posted on: Wednesday, July 04, 2012


Dr. Raheel Zaidi, Karachi..........punjab k dr bilkul galati par hain baqi 3nu subon say ab bhi punjab ki salraies ziada hain ye har kam manwany k liye hartal pa chaly jatay hain koi in say pouchay dr bhi strike kartay hain ?? wo bhi is tarha ?? adalat jao ye kam kar k poori dunya main ruswaiy kar di.
 
dr raheel zaidi Posted on: Wednesday, July 04, 2012


Khalid Mehmood, Jahanian.............Army doctor ne hospital mai a k bhat acha kam kia meri dua ha k army pakistan k hr department mai aa jaye.
 
Khalid mehmood Posted on: Tuesday, July 03, 2012


Khalid Mehmood, Jahanian.............Army doctor ne hospital mai a k bhat acha kam kia meri dua ha k army pakistan k hr department mai aa jaye.
 
Khalid mehmood Posted on: Tuesday, July 03, 2012


Sajjad Bukhari, Rawalpindi...........doctors ki hutaal key barey mein media bilkul yukterfa hukomti story beyan ker reha hai aour tasweer ka dosra rukh nain dikha reha doctors ney eik saal tuk wait kiya aour bar bar hukomat say request ki key doctors ka service structure banao jaisey dosrey departments ka hai mager hukumat ney koi tuwaja na di tung aa ker eik month ka notice dey ker doctors ney sirf opd band ki yehni emergency aour tumam wards open thae aour operations bi ho rehey thae her eik ko pata hai key jub koi bemaar ho tu emergency jata hai phir ya theek ho ker gher aa jata hai ya admit ker liya jata hai opd mein tu sirf stable patients jatey hein jub tuk hukumat ney police key zereyeh say doctors key khelaf crack down nain kiya tha tub tuk eik bi patient ki jan nain gayee thi jub police raat 11 bajey hostels mein ghuss gayee aour doctors ko arrest kiya un ko mara peeta geya tu doctors apni jan bachaney key liyeh subah hospital nain aayeh aour sarey hospital mein kaam band ho geya us key baad hi patients halak howey aour is ki zumeydari punjab humkomat pey aaed hoti hai.
 
sajjad bukhari Posted on: Tuesday, July 03, 2012


Sajjad Bukhari, Rawalpindi...........doctors ki hutaal key barey mein media bilkul yukterfa hukomti story beyan ker reha hai aour tasweer ka dosra rukh nain dikha reha doctors ney eik saal tuk wait kiya aour bar bar hukomat say request ki key doctors ka service structure banao jaisey dosrey departments ka hai mager hukumat ney koi tuwaja na di tung aa ker eik month ka notice dey ker doctors ney sirf opd band ki yehni emergency aour tumam wards open thae aour operations bi ho rehey thae her eik ko pata hai key jub koi bemaar ho tu emergency jata hai phir ya theek ho ker gher aa jata hai ya admit ker liya jata hai opd mein tu sirf stable patients jatey hein jub tuk hukumat ney police key zereyeh say doctors key khelaf crack down nain kiya tha tub tuk eik bi patient ki jan nain gayee thi jub police raat 11 bajey hostels mein ghuss gayee aour doctors ko arrest kiya un ko mara peeta geya tu doctors apni jan bachaney key liyeh subah hospital nain aayeh aour sarey hospital mein kaam band ho geya us key baad hi patients halak howey aour is ki zumeydari punjab humkomat pey aaed hoti hai.
 
sajjad bukhari Posted on: Tuesday, July 03, 2012


Dr. Faisal, Karachi.......ye sirf bahana he young doctors ka or hakoomat ab lashon per siyasat chamkaye gi
 
Dr Faisal Posted on: Tuesday, July 03, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | Next
Page 3 of 7


کیا ہم عید قرباں کو صاف ستھرے طریقے سے نہیں منا سکتے ۔۔؟؟
کانگو بخار سے بچیئے
ہم زندہ قوم ہیں ، پائندہ قوم ہیں
اصلاح معاشرہ اور ذرائع ابلاغ
سسکتی پاکستانیت اور بھارتی پروپیگنڈہ
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy