لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


اب کے ہم بچھڑے تو شاید… Share
……شفیق احمد……

موسیقی کے گھرانے کلاونت سے تعلق رکھنے والے شہنشاہِ غزل مہدی حسن کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، وہ بذاتِ خود اس پہچان کے مالک تھے، جس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ملی اور فلمی نغمات کو گا کر یادگار بنایا، تاہم غزل کی گائیکی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان کے پرستاروں کا ماننا ہے کہ اگر وہ فلم میں نہ بھی گاتے تو اتنی ہی شہرت کی بلندی پر ہوتے، جتنی غزل گائیکی پرتھے۔ان کی غزلوں”گُلوں میں رنگ بھرے“ اور ”یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے“ کو فلموں میں بھی شامل کیا گیا۔انہوں نے فیض احمد فیض اور احمد فراز جیسے بڑے شعراء کی شاعری کواپنی آواز کا رنگ دے کر چار چاند لگا دیے۔

ایک مرتبہ خاں صاحب، نیپال کے شاہ بریندرا کے دربار میں نغمہ سرا تھے کہ اپنے ایک گیت ’زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں‘ کی ایک لائن بھول گئے تو شاہ بریندرا اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور اس گیت کی وہ لائن گا کر حاضرین کو حیرت زدہ کردیا۔ اس واقعے سے مہدی حسن کی مقبولیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

بھارت کی ممتاز لیجینڈری گلوکارہ لتا منگیشکر نے تو یہ کہہ کر انہیں خراج تحسین پیش کیا کہ ” ان کے گلے میں تو بھگوان بولتا ہے“۔ ایک اور موقع پر لتا جی نے کہا کہ وہ اپنے دن کا آغاز مہدی حسن کی غزل گا کر کرتی ہوں۔ان کے انتقال پر لتا نے اس ملال کا اظہار بھی کیا ہے کہ خان صاحب کے ساتھ کوئی گیت نہ گا نے کا انہیں بے حد افسوس ہے۔

ان جیسا گلوکار پورے برصغیر میں نہیں ہے۔ خانصاحب کے مداحوں اور پرستاروں میں دلیپ کمار، کشور کمار، جگجیت سنگھ، ہری ہرن جیسے فنکار بھی شامل ہیں جو خود اپنے اپنے شعبوں میں لیجینڈ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

شہنشاہِ غزل علالت کے باعث اپنی عمرکے آخری چند برس میں کچھ نہیں گا پائے، تاہم انہوں نے جو کچھ گا دیا وہ صدیوں کے لیے کافی ہے اور ہر آنے والے گلوکارکے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

ایک اندازے کے مطابق مہدی حسن نے چون ہزار سے زائد فلمی، غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں اوراپنے وقت کے عظیم موسیقاروں کے ساتھ کام کیا جن میں استاد نیاز حسین شامی، پنڈت غلام قادر (برادر مہدی حسن) ، ماسٹر عنایت حسین، خواجہ خورشید انور، رشید عطرے، نثار بزمی اور محسن رضا شامل ہیں۔

مہدی حسن کے انتقال سے پاکستان میں غزل گائیکی کا ایک باب ختم ہوگیا، دنیا بھر میں اپنے فن سے داد پانے والے گلوکار نے اپنے آخری ایام بستر علالت پر گزارے اور طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 50 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


ذوالفقار، امریکا…ہم ایک عظیم گلوکار سے محروم ہوگئے۔
 
zulfiqar Posted on: Friday, June 15, 2012


SYED AAMIR HUSSAIN, KARACHI........... MAHDI HASSAN SAHIB KO ALLAH TALAH JANNAT UL FIR-DOS MAY JAGA ATTA FARMAE. AMEEN SOMA AMMEN. MOJAY NAHI LAGTA K IN JESA INSAN PORAY ASIA MAY PHIR PADA HOSAKAY.
 
SYED AAMIR HUSSAIN Posted on: Friday, June 15, 2012


محمد اطہر، جرمنی…اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم…اے راحت جاں مجھ کو رلانے کیلئے آ
 
Muhammad Athar Posted on: Thursday, June 14, 2012


ذکیہ بانو، جرمنی…مہدی حسن عظیم فنکار تھے، وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔
 
zakia bano Posted on: Thursday, June 14, 2012


حبیب الرحمان ستی، تحصیل کوٹلی…مہدی حسن عظیم گلوکار تھے، ان کے انتقال کی خبر سن کو مجھے دلی صدمہ ہوا، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
 
HABIB UR REHMAN SATTI Posted on: Thursday, June 14, 2012


ندیم پرویز، حیدرآباد…مہدی حسن کے فن کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔
 
nadeem parvez Posted on: Thursday, June 14, 2012


Saifi, Walipur Bura.........Mehdi Hassan bohat achhay insan thay.
 
saifi Posted on: Thursday, June 14, 2012


عذرا ایاز، کراچی…سر کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا، خان صاحب سے محبت کرنے والوں سے اپیل ہے کہ ان کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کرکے ان سے اپنی محبت کا حق اداکریں۔
 
Azra Ayaz Posted on: Thursday, June 14, 2012


ندیم علی، سعودی عرب…اللہ مہدی حسن کی مغفرت فرمائے، ان کے چاہنے والے انہیں کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔
 
Naveed Ali Posted on: Thursday, June 14, 2012


سید علی طاہر ناصر، کراچی…مہدی حسن کو شہنشاہ غزل کے بجائے شہنشاہ موسیقی کہنا زیادہ درست ہوگا، کیونکہ ان کی غزل اور گیت عوام میں یکساں مقبول ہیں، ”ہم چلے اس جہاں سے دل اٹھ گیا یہاں سے“
 
syed Ali Tahir Nasir Posted on: Thursday, June 14, 2012


راؤ راشد ایوب خان، پاک پتن شریف…میں مہدی حسن صاحب کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، بے شک وہ ایک عظیم فنکار تھے۔
 
Rao Rashid Ayub Khan Posted on: Thursday, June 14, 2012


Zakir, USA.......Bohat yaad aaen gey woh din,hamain tarpaaen gey woh din "Hasan" teri qasam. Aman aur muhabbat key safeer-----Allah Hafiz
 
Zakir Posted on: Wednesday, June 13, 2012


خالد انکل، امریکا…خان صاحب کے فن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے تمام بڑے سے بڑے ہم عصر فنکار بھی ان کے فن کا لوہا مانتے تھے، اگرچہ وہ آج ہم سے رخصت ہوگئے، مگر وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ خان صاحب کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی۔
 
خالد انکل Posted on: Wednesday, June 13, 2012


دانیال صدیقی، امریکا…ہم ایک اور لینجنڈ سے محروم ہوگئے، مہدی حسن عظیم گلوکار اور انسان تھے، ان کا خلاء کبھی پر نہیں کیا جاسکے گا۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
 
Danial Siddiqi Posted on: Wednesday, June 13, 2012


رحیم بیگ، امریکا…ہم ایک عظیم غزل گائیک سے محروم ہوگئے، اللہ مہدی حسن کی مغفرت فرمائے اور جنت میں جگہ عطا کرے۔
 
rahim baig Posted on: Wednesday, June 13, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | Next
Page 3 of 4


اردو زبان کا نفاذ،ایک اہم قومی و آئینی ضرورت
’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
اب مستحکم فیصلے ہی پاکستانی کرکٹ کو بچاسکتے ہیں
ہاتھ دھونے کا عالمی دن
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 33 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
ہاتھ دھونے کا عالمی دن
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 4 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy