لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


ارسلان کیس، گھر گھر نئی بحث شروع Share
……طارق بٹ……

قابل مثال چیف جسٹس افتخار چودھری کے بیٹے ارسلان ایک بڑی کرپشن میں ملوث ہونے پر ملک کے ہر گھر میں اپنے بیٹوں کو برائیوں سے بچانے کیلئے والد کی بنیادی ذمہ داریوں مجبوریوں اور فرائض پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ یقینا یہی وہ وقت ہے کہ ذہین بیٹوں، بھتیجوں، بھائیوں قریبی خاندانی افراد اور قریبی رشتوں والے دوستوں کے کاموں کے بارے میں ان کی جانچ پڑتال کی جائے بہت سے ایسے بیٹے، بھتیجے، بھائی ، خاندانی ممبرز اور دوست ایسے ہیں جو بدقسمتی سے کرپشن میں ملوث ہیں۔ یقینا اس وقت معاشرہ بہت حد تک کرپشن اور کم اخلاقی معاملات کی طرف جا رہا ہے جو گزشتہ 5 سالوں میں بڑھی ہے۔ کرپشن زندگی میں ہرطرف نظر آ رہی ہے لیکن اگر کوئی بیٹا کرپشن یا فراڈ میں ملوث ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا باپ برا ہے۔ قدرتی جواب ہے کہ نہیں اور نہیں ہونا چاہیے۔ ایسی کئی مثالیں اسلامی تاریخ میں پائی جاتی ہیں۔ حضرت نوع علیہ السلام کا بیٹا ان کی بات نہیں سنتا تھا، اعتماد نہیں کرتا تھا اور آخری دن تک سیلاب کے بارے میں بھی اپنے باپ کی بات نہ مانتا رہا،کیا اس سے باپ قصور وار ثابت ہوتا ہے یقینا نہیں۔ اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی ظالم تھیں لیکن کیا اس کا الزام حضرت لوط کو دیا جا سکتا ہے بالکل نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدین بتوں کی پوجا کرتے تھے لیکن کیا ان کے بیٹوں کو اس کا الزام دیا جا سکتا ہے نہیں لیکن جب بیٹے آزاد انہ طور پر زندگی گزاریں اور بڑے ہوں تو یہ باپ کیلئے کافی مشکل ہوتا ہے کہ ان کی رہنمائی کریں یا پڑھائیں یا اپنی خواہشات کے مطابق تربیت دیں۔ بیشتر ممالک میں جب لڑے اور لڑکیاں 18 سال تک پہنچتے ہیں تو والدین کو ان کو سوال کرنے یا رہنمائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ایک امریکی یونیورسٹی نے حال ہی میں ایک پاکستانی باپ کو بتایا کہ وہ اس کے زیر تعلیم بچے کی پراگریس رپورٹ اس کے دستخط ہونے تک باپ کو نہیں بھیج سکتے، باپ نے احتجاج کیا لیکن بے سود رہا۔ اب یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کس وقت اور کہاں والدین پر ان کے بچوں کے رویے پر الزام دیا جا سکتا ہے اس سوالات کے جواب میں ہماری ثقافتی حدود، نفسیات، قانون اور مذہب کی کیا حدود ہیں۔ قوم کی ایک غالب اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ چیف جسٹس اس معاملے میں بے قصور ہیں ان کا سابقہ ریکارڈ اور کردار اور عدالتی کیریئر بار بار اس بات کو شفاف بناتا ہے کہ وہ ایسے شخص ہیں جو خریدے نہیں جا سکتے ہیں ان کو مشرف سے بھی کوئی مشکلات نہ ہوئیں انہوں نے قوم کو سکھایا کہ کس طرح انکار کیا جاتا ہے لیکن چیف جسٹس کا تمام محبت کے باوجود احتساب اور اس سے متعلق کئی سوالات پوچھے جا سکتے ہیں ازخود نوٹس کے آغاز میں ہی چیف جٹس نے قرآن پاک کی قسم کھا کر کہا کہ وہ ارسلان کے کاروبار سے متعلق نہیں جانتے۔ ارسلان کی دوسری شادی حال ہی میں لاہور میں ہوئی ہے، پہلی میں طلائی ہو گئی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صرف 3 سال قبل ایف آئی اے میں نوکری ڈھونڈنے والا کئی کنسٹرکشن، انجینئرنگ اور ٹیلی کام کمپنی (400 ملازمین) کا مالک کیسے بن گیا۔ اس کے اپنے اکاوٴنٹس کے مطابق اس کی کمپنیاں 90 کروڑ کی ہیں کوئی ایمانداری سے یقین کرتا ہے کہ چیف جسٹس نے غصے سے کیا کہا لیکن اب بھی یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ کیوں، ایک باپ اپنے بڑے بیٹے کے بڑھتے کاروبار اور دوسری سرگرمیوں پر گہری نظر نہ رکھ سکا۔ عدالتی سماعت میں چیف جسٹس زوروشور سے احتساب، میرٹ اور اخلاقیات پر زور دیتے ہیں جو قرآن و سنت کے مطابق ہیں لیکن وہ اپنے خاندان کے مقدمے میں اپنے گھر میں ان پر سختی سے عمل کرانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کیا ایسا نہیں چیف جسٹس نے قوم کیلئے کئی مثالیں قائم کیں اس لئے ان سے محبت کرنے میں کوئی شک نہیں لیکن ہم پوچھتے ہیں تمام والدین سے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور منافع بخش سودوں کے بارے میں جاننے کے بارے میں غلطی کیوں کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ چیف جسٹس نے کرپشن کے خلاف بے خوف اقدامات کئے۔ لاپتہ افراد اور سماجی ناانصافیوں کیخلاف کام کیا۔ ایک دن میں 18 گھنٹے کام کیا لیکن کوئی بھی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ کیا وہ ایک زیادہ بہتر نظر رکھنے والا باپ نہیں بن سکتے تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے کیوں نہ پوچھا کہ اس نے اتنی بڑی دولت کہاں سے حاصل کرلی۔ جب چیف جسٹس عدالت میں سینکڑوں افراد کے مقدمات سن سکتے ہیں تو آدھے اسلام آباد میں پھیلی ان کے بیٹے کی شہرت کے بارے میں خبروں سے لاعلم کیسے رہے۔ یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے چیف جسٹس کی وجہ سے خود کو 100 فیصد امپروو کیا۔ جج اس سے پہلے کبھی اتنے آزاد نہ تھے کبھی سٹیٹس کو کے اتنے خلاف نہ تھے۔ ان میں حکومتی اپوزیشن، فوجی، تاجر اور بیرونی دباوٴ بھی شامل تھا۔ مختصر وقت میں ایک شاندار تاریخ لکھی گئی تاہم عدلیہ سے بڑی محبت کے باوجود وقت آگیا ہے کہ اس کے شارٹ کمنگ اور گیپس کو پر کیا جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ عدالت میں ججز مکمل نہیں ہیں اور اب اس میں مقدمات کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں یہ حقیقت ہے کہ مقدمات بروقت نہیں سنے گئے اور نہ ہی فیصلے آئے تاخیر سے لوگوں کو فرسٹریشن ہوئی جو بالآخر کرپشن کا باعث بنتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ماتحت عدلیہ میں اب بھی بہت کرپشن ہے کئی مجرموں کو سزا نہیں دی گئی ان تمام چیزوں کے پیچھے کیا وجوہات ہیں اور اس کا حل کیا ہے عدلیہ میں کرپشن ختم کرنے کے لئے کیا طریقہ کار بنایا گیا کتنے افراد کو فارغ کیا گیا عدلیہ نے اپنے لئے ڈسپلن میرٹ اور قوانین کا کیا معیار رکھا عدلیہ اپنے طور پر کیا کر سکتی ہے اور کن معاملات میں حکومت اور دوسرے اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے لوگ کہتے ہیں کہ وکیل کرنے کی بجائے جج کو خرید لو پاکستان میں یہ عام بات ہے کہ یا تو طاقتور لوگ خود کرپشن کرتے ہیں یا ان کے اردگرد والے لوگ ان کے نام پر کرپشن کرتے ہیں ہمیں بیماری پیدا کرنے والی جڑوں کو پکڑنا ہو گا ہمارے معاشرے میں ایسا خاص کیا ہے جو اثرانداز ہو رہا ہے ہم کہاں غلط جا رہے ہیں کیا وجہ ہے کہ ہر طرف کرپشن ہے کیا وجہ ہے کہ حکومتی رہنما میڈیا کی طرف سے کرپشن کے الزامات پر بے شرمی سے کہتے ہیں کہ اپوزیشن بھی یہی کر رہی ہے یا کہتے ہیں کہ میڈیا فوج یا دیگر اداروں کی کرپشن کی بات کیوں نہیں کرتا ہم ہر کسی پر سازش کا الزام لگا دیتے ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ حقیقت کا سامنا کریں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ قوم اور انسانیت کی خدمت کرنے والے نامور لوگ مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو خود کو ضائع کر دیتے ہیں جس کی کئی مثالیں ہماری تاریخ میں ہیں۔ قائداعظم کی بیٹی نے ایک غیر مسلم سے شاد ی کی اس وجہ سے اس نے اسے چھوڑ دیا۔ عظیم جدید فلاسفر کارلی مارکس خود اپنی بیٹی کو نہ بچاسکا۔ وہ علاج نہ ہونے پر مر گئی۔ چیف جسٹس خود بھی انصاف کی فراہمی میں بڑے مصروف ہیں اور اپنے بچوں ، خاندان کیلئے کافی وقت نہ نکال سکے لیکن وہ ارسلان کے کاموں کے سلسلے میں ذمہ دار قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ یہ تلخ سچ ہے کہ رشوت پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط بنا چکی ہے کوئی بھی رابطوں کے بغیر اپنا کام نہیں کرا سکتا۔ پاکستان میں ہر کوئی اس حقیقت کو جانتا ہے اور قبول کرتا ہے اگر آپ کسی ایسے شخص سے پوچھیں جو پولیس، کسٹم، انکم ٹیکس، ماتحت عدلیہ اور دیگر حکومتی اداروں میں کام کرانا چاہتا ہے تو وہ شکایت کرے گا کہ قانونی طور پر کام کرانا بہت مشکل ہے۔ یہ ہمارے لئے اچنبھے کی بات نہیں کہ پاکستان میں بیشتر کمپنیوں نے رشوت کیلئے اپنے بجٹ مختص کئے ہیں یقیناً یہ شرمناک بات ہے۔ ملک ریاض نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے ذریعے وہ کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے یہی راستہ چنا، ان کے سامنے دو راستے تھے یا تو رشوت کے ذریعے ارسلان کو خریدیں یا اپنا کاروبار تباہ کر لیں جیسا کہ قرآن پاک سے واضح ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے کوئی دوسرانہیں۔ سورة المائدہ کی 30 ویں آیت میں فرمایا گیا کہ حضرت آدم ? کے ایک بیٹے کے ہاتھوں دوسرے کا قتل اس کی خود غرضی کی وجہ سے ہوا۔ یزید کی طرف سے حضرت امام حسین ? اور اہل بیت پر مظالم کے ذمہ دار یزید کے والد حضرت معاویہ نہیں تھے۔ حضرت عمر کی اپنی بیماری کے دوران اپنے بچوں کے بارے میں وصیت کیلئے مسلمہ بن عبدالمالک سے مشاورت بہت اہم ہے۔ حضرت مسلمہ بن عبدالمالک نے ان سے درخواست کی کہ اپنے بچوں کے حق میں وصیت لکھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کیلئے وہ ریاست چھوڑ کر جا رہے ہیں جس میں ان کیلئے کچھ نہیں اور یہ بہتر ہے کہ آپ وصیت میں ان کیلئے چھوڑ دیں۔ حضرت عمر نے جواب دیا کہ ان کا والی اور واصی اللہ ہے اور ان کے بیٹے اللہ سے ڈرتے ہیں۔ وہ ان کے لئے دوسرے راستے تلاش کریں گے اور اگر وہ گناہ کریں گے تو میں وصیت میں ان کے لئے کچھ نہیں چھوڑں گا۔قرآن پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو ہر طرح سے آزماتا ہے وہ اسے دولت سے بھی آزماتا ہے اور اولاد سے بھی۔ کہتے ہے کہ دولت اور اولاد آزمائش بھی ، فتنہ بھی ہے اور رحمت بھی ہے۔

اسلام آباد (طارق بٹ) قابل مثال چیف جسٹس افتخار چودھری کے بیٹے ارسلان ایک بڑی کرپشن میں ملوث ہونے پر ملک کے ہر گھر میں اپنے بیٹوں کو برائیوں سے بچانے کیلئے والد کی بنیادی ذمہ داریوں مجبوریوں اور فرائض پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ یقینا یہی وہ وقت ہے کہ ذہین بیٹوں، بھتیجوں، بھائیوں قریبی خاندانی افراد اور قریبی رشتوں والے دوستوں کے کاموں کے بارے میں ان کی جانچ پڑتال کی جائے بہت سے ایسے بیٹے، بھتیجے، بھائی ، خاندانی ممبرز اور دوست ایسے ہیں جو بدقسمتی سے کرپشن میں ملوث ہیں۔ یقینا اس وقت معاشرہ بہت حد تک کرپشن اور کم اخلاقی معاملات کی طرف جا رہا ہے جو گزشتہ 5 سالوں میں بڑھی ہے۔ کرپشن زندگی میں ہرطرف نظر آ رہی ہے لیکن اگر کوئی بیٹا کرپشن یا فراڈ میں ملوث ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا باپ برا ہے۔ قدرتی جواب ہے کہ نہیں اور نہیں ہونا چاہیے۔ ایسی کئی مثالیں اسلامی تاریخ میں پائی جاتی ہیں۔ حضرت نوع علیہ السلام کا بیٹا ان کی بات نہیں سنتا تھا، اعتماد نہیں کرتا تھا اور آخری دن تک سیلاب کے بارے میں بھی اپنے باپ کی بات نہ مانتا رہا،کیا اس سے باپ قصور وار ثابت ہوتا ہے یقینا نہیں۔ اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی ظالم تھیں لیکن کیا اس کا الزام حضرت لوط کو دیا جا سکتا ہے بالکل نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدین بتوں کی پوجا کرتے تھے لیکن کیا ان کے بیٹوں کو اس کا الزام دیا جا سکتا ہے نہیں لیکن جب بیٹے آزاد انہ طور پر زندگی گزاریں اور بڑے ہوں تو یہ باپ کیلئے کافی مشکل ہوتا ہے کہ ان کی رہنمائی کریں یا پڑھائیں یا اپنی خواہشات کے مطابق تربیت دیں۔ بیشتر ممالک میں جب لڑے اور لڑکیاں 18 سال تک پہنچتے ہیں تو والدین کو ان کو سوال کرنے یا رہنمائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ایک امریکی یونیورسٹی نے حال ہی میں ایک پاکستانی باپ کو بتایا کہ وہ اس کے زیر تعلیم بچے کی پراگریس رپورٹ اس کے دستخط ہونے تک باپ کو نہیں بھیج سکتے، باپ نے احتجاج کیا لیکن بے سود رہا۔ اب یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کس وقت اور کہاں والدین پر ان کے بچوں کے رویے پر الزام دیا جا سکتا ہے اس سوالات کے جواب میں ہماری ثقافتی حدود، نفسیات، قانون اور مذہب کی کیا حدود ہیں۔ قوم کی ایک غالب اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ چیف جسٹس اس معاملے میں بے قصور ہیں ان کا سابقہ ریکارڈ اور کردار اور عدالتی کیریئر بار بار اس بات کو شفاف بناتا ہے کہ وہ ایسے شخص ہیں جو خریدے نہیں جا سکتے ہیں ان کو مشرف سے بھی کوئی مشکلات نہ ہوئیں انہوں نے قوم کو سکھایا کہ کس طرح انکار کیا جاتا ہے لیکن چیف جسٹس کا تمام محبت کے باوجود احتساب اور اس سے متعلق کئی سوالات پوچھے جا سکتے ہیں ازخود نوٹس کے آغاز میں ہی چیف جٹس نے قرآن پاک کی قسم کھا کر کہا کہ وہ ارسلان کے کاروبار سے متعلق نہیں جانتے۔ ارسلان کی دوسری شادی حال ہی میں لاہور میں ہوئی ہے، پہلی میں طلائی ہو گئی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صرف 3 سال قبل ایف آئی اے میں نوکری ڈھونڈنے والا کئی کنسٹرکشن، انجینئرنگ اور ٹیلی کام کمپنی (400 ملازمین) کا مالک کیسے بن گیا۔ اس کے اپنے اکاوٴنٹس کے مطابق اس کی کمپنیاں 90 کروڑ کی ہیں کوئی ایمانداری سے یقین کرتا ہے کہ چیف جسٹس نے غصے سے کیا کہا لیکن اب بھی یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ کیوں، ایک باپ اپنے بڑے بیٹے کے بڑھتے کاروبار اور دوسری سرگرمیوں پر گہری نظر نہ رکھ سکا۔ عدالتی سماعت میں چیف جسٹس زوروشور سے احتساب، میرٹ اور اخلاقیات پر زور دیتے ہیں جو قرآن و سنت کے مطابق ہیں لیکن وہ اپنے خاندان کے مقدمے میں اپنے گھر میں ان پر سختی سے عمل کرانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کیا ایسا نہیں چیف جسٹس نے قوم کیلئے کئی مثالیں قائم کیں اس لئے ان سے محبت کرنے میں کوئی شک نہیں لیکن ہم پوچھتے ہیں تمام والدین سے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور منافع بخش سودوں کے بارے میں جاننے کے بارے میں غلطی کیوں کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ چیف جسٹس نے کرپشن کے خلاف بے خوف اقدامات کئے۔ لاپتہ افراد اور سماجی ناانصافیوں کیخلاف کام کیا۔ ایک دن میں 18 گھنٹے کام کیا لیکن کوئی بھی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ کیا وہ ایک زیادہ بہتر نظر رکھنے والا باپ نہیں بن سکتے تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے کیوں نہ پوچھا کہ اس نے اتنی بڑی دولت کہاں سے حاصل کرلی۔ جب چیف جسٹس عدالت میں سینکڑوں افراد کے مقدمات سن سکتے ہیں تو آدھے اسلام آباد میں پھیلی ان کے بیٹے کی شہرت کے بارے میں خبروں سے لاعلم کیسے رہے۔ یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے چیف جسٹس کی وجہ سے خود کو 100 فیصد امپروو کیا۔ جج اس سے پہلے کبھی اتنے آزاد نہ تھے کبھی سٹیٹس کو کے اتنے خلاف نہ تھے۔ ان میں حکومتی اپوزیشن، فوجی، تاجر اور بیرونی دباوٴ بھی شامل تھا۔ مختصر وقت میں ایک شاندار تاریخ لکھی گئی تاہم عدلیہ سے بڑی محبت کے باوجود وقت آگیا ہے کہ اس کے شارٹ کمنگ اور گیپس کو پر کیا جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ عدالت میں ججز مکمل نہیں ہیں اور اب اس میں مقدمات کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں یہ حقیقت ہے کہ مقدمات بروقت نہیں سنے گئے اور نہ ہی فیصلے آئے تاخیر سے لوگوں کو فرسٹریشن ہوئی جو بالآخر کرپشن کا باعث بنتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ماتحت عدلیہ میں اب بھی بہت کرپشن ہے کئی مجرموں کو سزا نہیں دی گئی ان تمام چیزوں کے پیچھے کیا وجوہات ہیں اور اس کا حل کیا ہے عدلیہ میں کرپشن ختم کرنے کے لئے کیا طریقہ کار بنایا گیا کتنے افراد کو فارغ کیا گیا عدلیہ نے اپنے لئے ڈسپلن میرٹ اور قوانین کا کیا معیار رکھا عدلیہ اپنے طور پر کیا کر سکتی ہے اور کن معاملات میں حکومت اور دوسرے اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے لوگ کہتے ہیں کہ وکیل کرنے کی بجائے جج کو خرید لو پاکستان میں یہ عام بات ہے کہ یا تو طاقتور لوگ خود کرپشن کرتے ہیں یا ان کے اردگرد والے لوگ ان کے نام پر کرپشن کرتے ہیں ہمیں بیماری پیدا کرنے والی جڑوں کو پکڑنا ہو گا ہمارے معاشرے میں ایسا خاص کیا ہے جو اثرانداز ہو رہا ہے ہم کہاں غلط جا رہے ہیں کیا وجہ ہے کہ ہر طرف کرپشن ہے کیا وجہ ہے کہ حکومتی رہنما میڈیا کی طرف سے کرپشن کے الزامات پر بے شرمی سے کہتے ہیں کہ اپوزیشن بھی یہی کر رہی ہے یا کہتے ہیں کہ میڈیا فوج یا دیگر اداروں کی کرپشن کی بات کیوں نہیں کرتا ہم ہر کسی پر سازش کا الزام لگا دیتے ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ حقیقت کا سامنا کریں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ قوم اور انسانیت کی خدمت کرنے والے نامور لوگ مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو خود کو ضائع کر دیتے ہیں جس کی کئی مثالیں ہماری تاریخ میں ہیں۔ قائداعظم کی بیٹی نے ایک غیر مسلم سے شاد ی کی اس وجہ سے اس نے اسے چھوڑ دیا۔ عظیم جدید فلاسفر کارلی مارکس خود اپنی بیٹی کو نہ بچاسکا۔ وہ علاج نہ ہونے پر مر گئی۔ چیف جسٹس خود بھی انصاف کی فراہمی میں بڑے مصروف ہیں اور اپنے بچوں ، خاندان کیلئے کافی وقت نہ نکال سکے لیکن وہ ارسلان کے کاموں کے سلسلے میں ذمہ دار قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ یہ تلخ سچ ہے کہ رشوت پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط بنا چکی ہے کوئی بھی رابطوں کے بغیر اپنا کام نہیں کرا سکتا۔ پاکستان میں ہر کوئی اس حقیقت کو جانتا ہے اور قبول کرتا ہے اگر آپ کسی ایسے شخص سے پوچھیں جو پولیس، کسٹم، انکم ٹیکس، ماتحت عدلیہ اور دیگر حکومتی اداروں میں کام کرانا چاہتا ہے تو وہ شکایت کرے گا کہ قانونی طور پر کام کرانا بہت مشکل ہے۔ یہ ہمارے لئے اچنبھے کی بات نہیں کہ پاکستان میں بیشتر کمپنیوں نے رشوت کیلئے اپنے بجٹ مختص کئے ہیں یقیناً یہ شرمناک بات ہے۔ ملک ریاض نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے ذریعے وہ کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے یہی راستہ چنا، ان کے سامنے دو راستے تھے یا تو رشوت کے ذریعے ارسلان کو خریدیں یا اپنا کاروبار تباہ کر لیں جیسا کہ قرآن پاک سے واضح ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے کوئی دوسرانہیں۔ سورة المائدہ کی 30 ویں آیت میں فرمایا گیا کہ حضرت آدم ? کے ایک بیٹے کے ہاتھوں دوسرے کا قتل اس کی خود غرضی کی وجہ سے ہوا۔ یزید کی طرف سے حضرت امام حسین ? اور اہل بیت پر مظالم کے ذمہ دار یزید کے والد حضرت معاویہ نہیں تھے۔ حضرت عمر کی اپنی بیماری کے دوران اپنے بچوں کے بارے میں وصیت کیلئے مسلمہ بن عبدالمالک سے مشاورت بہت اہم ہے۔ حضرت مسلمہ بن عبدالمالک نے ان سے درخواست کی کہ اپنے بچوں کے حق میں وصیت لکھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کیلئے وہ ریاست چھوڑ کر جا رہے ہیں جس میں ان کیلئے کچھ نہیں اور یہ بہتر ہے کہ آپ وصیت میں ان کیلئے چھوڑ دیں۔ حضرت عمر نے جواب دیا کہ ان کا والی اور واصی اللہ ہے اور ان کے بیٹے اللہ سے ڈرتے ہیں۔ وہ ان کے لئے دوسرے راستے تلاش کریں گے اور اگر وہ گناہ کریں گے تو میں وصیت میں ان کے لئے کچھ نہیں چھوڑں گا۔قرآن پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو ہر طرح سے آزماتا ہے وہ اسے دولت سے بھی آزماتا ہے اور اولاد سے بھی۔ کہتے ہے کہ دولت اور اولاد آزمائش بھی ، فتنہ بھی ہے اور رحمت بھی ہے۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 109 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


Muhammad Ibrar, Abu Dhahi........chief sahab ko mara buhat buhat salaam,mare bhio hamare syisadan ne aj jis raste par chal nekle hai wo pakistan ki tabahi ka rasata hai aur hamare chief sahab ne is ko control kia hua hai warna ye loog pakistan ko bechne wale hai kionk in logo ka future pakistan se nahi bal ke america aur bartania se hai.
 
Muhammad Ibrar Posted on: Sunday, July 08, 2012


فضل عالم، کراچی…چیف جسٹس بے قصور ہیں لیکن اگر ارسلان افتخار نے کوئی جرم کیا ہے تو سزا ملنی چاہئے۔
 
فضل عا لم Posted on: Saturday, July 07, 2012


Aman Ullah, Bahrai Town...........Arsalan Iftikhar ki ghalti ki wajah sey Chief Justice Sb ko ye masla pesh aaya warna mal mal kay kapro py dagh dorr sy nazar ata hy.
 
aman ullah Posted on: Sunday, July 01, 2012


احسن خان، میانوالی…میرے سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس اور ان کا بیٹنا شریف انسان ہیں، یہ سب سازش ہے۔
 
Ahsan khan Posted on: Saturday, June 30, 2012


Shafiq Chohan, Kasur.............janab arslan aak boht acha insan hai malik riaz in ko badnam karna chahta hai yaa inshala kabi kamyaab nahi ho saky ga.
 
shafiq chohan Posted on: Saturday, June 30, 2012


تاج، اسلام آباد…ارسلان افتخار کے وکیل نے نیب کو نوٹس بھی بھیجا ہے جو دھمکی آمیز اور توہین عدالت بھی ہے،
 
taj Posted on: Saturday, June 30, 2012


Maqsood Ahmed Rana, Oman...........Salam chief sahab App 1 Great Insaan ho Pls apne bete ki cruption ko hide mat karna.
 
maqsood ahmed rana Posted on: Saturday, June 30, 2012


وقاص، لاہور…والدین کو خبر رکھنی چاہئے کہ ان کے بچے کیا کررہے ہیں، اور وہ کس طرح کمارہے ہیں، باپ کو اپنی فیملی کے ہر نشیب و فراز کی خبر ہونی چاہئے۔
 
Waqqas Posted on: Saturday, June 30, 2012


سید علی، امریکا…اگر چیف جسٹس کے بیٹے نے غلط کام کیا ہے تو اسے سزا ضرور ملنی چاہئے۔
 
syed ali Posted on: Thursday, June 28, 2012


ARMGHAN AHMED , SHOR KOT CANTT...........GEO IFTIKHAR CH, RAHI BAT BETAY KI WO PANAY KAM KA ZUMDA KHUD HAI .
 
ARMGHAN AHMED Posted on: Thursday, June 28, 2012


TARIQ HUSSAIN SAEEDI , KHANPUR.......AGR GILANI KA BETA GUNAH KAREY TO GILANI KASOOR WAR HAIN, AGR ZARDARI KA BETA GUNAH KARY TU ZARDARI KASOOR WAR HAIN LEKIN JAB BAT AYE CHIEF JUSTICE KI TO DOHRA MIYAR KIUN.
 
TARIQ HUSSAIN SAEEDI Posted on: Thursday, June 28, 2012


توصیف، ملائیشیا…چیف جسٹس پاکستان کی تاریخ کے جرات مند ترین شخص ہیں، جہاں تک ان کے بیٹے کا تعلق ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں، اگر جرم ثابت ہوجائے تو اسے سزا دی جائے۔ موجودہ حکمران کرپٹ ترین ہیں۔
 
tauseef Posted on: Wednesday, June 27, 2012


Shoaib Cheema, Faisalabad.........akhar chief justice be insan hain. ap nay baray khobsoorat aur chemoflaged tareekay chief justice par criticise kia hai. ap chief justice ki history utha kar dekh lo. pervaiz musharaf nay be irslan k zariay he chief justic par ilzam lagaya tha k iftakhr chuaudhary nay apnay batay k number lagway han.ab malik riaz k sath b asa he hua ha.
 
shoaib cheema Posted on: Tuesday, June 26, 2012


Muhammmad Qasim Notkani , Badin................Arslan aek zimmedar baap ka beta hai aisa ho hi nahein sakta.yeh chief justice or jamhuriat k khilaaf saazish hai.
 
Muhammmad Qasim Notkani Posted on: Tuesday, June 26, 2012


Anwal ul Haq, Pir Mahal..............Arslan nein rishwat nahein li balkeh yeh aik propaganda hay.
 
anwarul ul haq Posted on: Tuesday, June 26, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | Next
Page 1 of 8


لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا تجھے
میرا کی ہی سن لیں!
مذاکرات کاموقع ضائع نہ کریں!
سول نافرمانی اور سوشل میڈیا
سول نافرمانی تحریک!!!
 
واقعی کچھ ہونے والا ہے۔۔۔۔؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 35 )
شاباش! سعیدہ وارثی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 31 )
سول نافرمانی تحریک!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 27 )
وزیراعظم عمران خان یا طاہرالقادری؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 26 )
لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا تجھے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 20 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy