لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


بجٹ آ گیا ہے ... بجٹ ا ٓ گیا ہے Share
……فاضل جمیلی……وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے موجودہ اتحادی حکومت کا پانچواں سالانہ بجٹ پیش کردیا ہے۔ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پانچواں بجٹ پیش کرنے میں کامیاب ہونے والی یہ پہلی حکومت ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جمہوری پاکستان کے لیے یقینی طور پر یہ ایک اہم سنگ ِ میل ہے ۔جہاں تک بجٹ میں عوام کوکسی قسم کا ریلیف ملنے کا سوال ہے تو گذشتہ ہر بجٹ کی طرح اس مرتبہ بھی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔ بجٹ سے ایک دن قبل البتہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے کسی حد تک عام آدمی کی اشک شوئی کرنے کی کوشش کی گئی ۔بجٹ تقریر کے دوران پہلی مرتبہ اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی کے دوران ہاتھا پائی بھی دیکھنے کو ملی ۔جس کی وجہ سے وزیر خزانہ کو اپنی تقریر مختصر کرنا پڑی۔حکومت اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کو بھی اگلے سال عام انتخابات میں جانا ہے ۔لہذا ہر ایک کو عوام الناس کو اپنی اپنی کارکردگی دکھانا ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نوازشریف کی مسلم لیگ جو کچھ عرصہ پہلے تک فرینڈلی اپوزیشن بنی ہوئی تھی اب حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے رہنماؤں کے لہجوں میں تلخی بڑھ رہی ہے اور ہر محاذ پر حکومت سے دست و گریبان ہونے کو تیار دکھائی دیتی ہے۔نیوز چینلز کی زبان میں بات کی جائے تو دونوں اطراف کے ارکان ریٹنگ کے چکر میں جمہوری و اخلاقی اور آئینی اقدار کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔

بجٹ تقریر میں وزیرخزانہ نے یہ نوید بھی سنائی ہے کہ آئی ایم ایف کو سو ارب ڈالر لوٹا دیے گئے ہیں۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی وجہ سے 35 لاکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچا۔تنخواہوں اور پنشن میں بیس فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا۔بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل استعمال کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ایک خوشخبری یہ بھی سنائی گئی ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کو ایڈوانس اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ میں تبدیل کر دیا جائے گا اور وزیراعظم ایک چھوٹے گھر میں منتقل ہو جائیں گے۔دیکھنا یہ ہے کہ جو بجٹ تجاویز پیش کی گئی ہیں اور جو وعدے کیے ہیں ان پر عملدرآمد کے نتیجے میں عوام الناس کو کسی قسم کا ریلیف میسر آتا ہے کہ نہیں ۔بجلی مہنگی ہو رہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب الگ سے ہے ۔ بے روزگاری اور مہنگائی ایسے عفریت ہیں جو نوجوان نسل کو مایوسی کی گہری کھائی میں دھکیل رہے ہیں۔ تعلیم کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم کرنے اور خود انحصاری کی راہ اپنانے کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں دیا گیا ۔حکومت ہو یا اپوزیشن خوش کن نعرے لگا کر اور سہانے خواب دکھا کر الیکشن تو جیت سکتی ہیں لیکن ملک و قوم کی حقیقی نمائندگی کا اعتبار اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتیں جب تک عام لوگوں کو تعلیم نہیں ملے گی ۔ روزگار نہیں ملے گااور عزت ِ نفس کے ساتھ زندگی کرنے کا معیار نہ ملے گا۔

بجٹ آ گیا ہے ، بجٹ آگیا ہے ۔۔۔لیے پھر نئی ایک لٹھ آ گیا ہے ۔۔۔کسی کو توقع سے بڑھ کر ملا ہے ۔۔۔کسی کی امیدوں سے گھٹ آ گیا ہے۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 61 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


Arif Sajjad Khan, Karachi..........budget ka naam bdunaam kr dia gia hy.
 
Arif Sajjad Khan Posted on: Monday, June 25, 2012


Shabbir Bajwa, Narowal........bajat mai mujh jesy aam admi ko kuch nahi mila.
 
shabbir bajwah Posted on: Thursday, June 21, 2012


Saima, Karachi...........awam hi pagal he jo is hokomat ko bardash kar rahi hai.
 
saima Posted on: Tuesday, June 19, 2012


RANA MUHAMMAD IMRAN , Kot Mithan.........ye budget nahi awam ki durgat ha durgat.
 
RANA MUHAMMAD IMRAN Posted on: Friday, June 15, 2012


Zawar Abdul Ghafoor Abbasi, Sobhodero.......aik kay baad aik hukumraan aae ga laikin rizk hum ko Allah hi say milta rahega.
 
zawar abdul ghafoor abbasi Posted on: Thursday, June 14, 2012


Ali, Pakistan.........naa-manzoor, naa-manzoor.
 
ali Posted on: Wednesday, June 13, 2012


محمود اقبال، اسلام آباد…بجٹ میں غریب عوام کیلئے کچھ نہیں۔
 
mahmood iqbal Posted on: Wednesday, June 13, 2012


Salman, Wah Cantt......Pakistan mein khuchh sasta nahein ho sakta srif mehenga hi hoga.
 
salman Posted on: Monday, June 11, 2012


رضوان، کراچی…حکومت سے ایسے ہی بجٹ کی توقع تھی۔
 
RIZWAN Posted on: Monday, June 11, 2012


علی غفار، کلر سیداں…حکومت ہر شعبے میں ناکام ہوچکی ہے۔
 
adil ghaffar Posted on: Monday, June 11, 2012


کاشف رحمان، لاہور…کوئی بھی بجٹ عوام کی ضروریات کے مطابق نہیں، چاہے وہ وفاقی ہو یا صوبائی۔ ہمارے سیاست دانوں کو اپنے مفادات کے علاوہ بھی کچھ سوچنا چاہئے۔ بیشتر سیاست دان کرپٹ ہیں اور انہیں ملک اور عوام کی مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں۔
 
Kashif Rehman Posted on: Sunday, June 10, 2012


TAHIR NAZ ANSARI , PARIS............YEH BUGET AWAM DUSHMAN HE ....SAB KUCH LAFZON KA HER PHER HE.........
 
TAHIR NAZ ANSARI Posted on: Saturday, June 09, 2012


Ahsan Farooq, Hyderabad........Kya karein Is hukomat k lye hum? Jab hum loog hi Yakjheti ka Muzaahira Nahin kar rahay hein. Aapas mein logoon ki jaanein le rahay hein Khoon KHaraba Kar rahay hein tau Kaisay Hum Hukomat Ka Samna kar saktte hein ? Jo Ameer hai Woh Ameer Tar hota jaraha hai .. AUr JO Gareeb Hai Woh Gareeb se Gareeb horaha hai.. Agar Hum Log Sub mil Kar 1 Awaaz buland kar k Saath dein Tau yeh GOVERNMENT apne Ghutne Teek Deegi Bus Sub ka Saath Hona Chaiyeh... !AGer Saath hein tau Aao Sub ka Saath do.
 
Ahsan Farooq Posted on: Saturday, June 09, 2012


Muhamaad Ali, UAE.........nojwanoon k leye hkoomt ne kon say mwaqe deye han k wo kuch kam kr skeen un ki afradi quwat ka istamal khaan ho ga rozgar k mwaqe b peda naheen kiye gaye.
 
muhamaad ali Posted on: Friday, June 08, 2012


Adeel, Karachi.........Koi Faida Nai Garib Garib Hi Ray Ga.
 
Adeel Posted on: Friday, June 08, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | Next
Page 1 of 5


ورلڈ پولیو ڈے
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
اب مستحکم فیصلے ہی پاکستانی کرکٹ کو بچاسکتے ہیں
ہاتھ دھونے کا عالمی دن
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 33 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy