لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


وفاقی بجٹ 2012 ء کیسا ہو! Share
……سید شہزاد عالم……
وفاقی بجٹ 2012 ء کی آمد آمد ہے اور ملک کے مختلف طبقات کی جانب سے بجٹ تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ موجودہ تباہ حال معاشی صورتحال میں متوازن اور عوام دوست بجٹ پیش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن ملک کو درپیش مشکل صورتحال اور عوام کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے حکومت کو ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات کا ازسر نو تعین کرنا ہو گا۔ اس بار متحدہ قومی موومنٹ نے بھی ایک شیڈو بجٹ پیش کر کے عمدہ اور قابل تقلیدمثال پیش کی ہے۔
الیکشن بھی سر پر ہیں، چنانچہ حکومت کی بھرپور کوشش ہو گی کہ ایسا عوامی بجٹ پیش کیا جائے جس سے آئندہ الیکشن میں اسے بھرپور فائدہ ہو لیکن یہ خدشات بھی اپنی جگہ موجود ہیں کہ کہیں حکومت عوامی بجٹ کے چکر میں ایسے غیر حقیقت پسندانہ اقدامات نہ کر گزرے جس سے وقتی طور پر تو واہ واہ ہو جائے لیکن آئندہ آنے والے مہینوں میں اس کے بھیانک نتائج دیکھنے کو ملیں۔
یہ حقیقت تو سب پر عیاں ہے کہ ماضی کی تمام حکومتوں کی غلط ترجیحات، غیر حقیقی معاشی پالیسیاں، امداد اور قرضوں پر انحصار اور ہوش ربا کرپشن نے ملکی معیشت کو تباہی کے کنارے پر پہنچادیا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور دہشت گردی نے عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مہنگائی، لوڈشیڈنگ، دہشت گردی اور بیروزگاری کے عفریت کو قابو میں کرنے کے لئے حکومت اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرے اور وسائل میں اضافے اور آمدنی پیدا کرنے والا بجٹ پیش کیا جائے۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت فوری عمل کرے ، ماہرین کے مطابق لگ بھگ 19ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت سسٹم میں موجود ہے ،حکومت صرف سرکولر ڈیبٹ کا مسئلہ حل کرے، لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں بیچنے سے بہتر ہے اپنے لوگوں کے ہاتھ بیچ دیا جائے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے، ان کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے حکومت ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کرے۔ ریونیو میں اضافے کے لیے وسائل میں اضافہ کیا جائے حکومت اپنے اخراجات کم کرے کرپشن پر قابو پائے،خودانحصاری کی طرف جایا جائے اور نئے ٹیکس دہندگان تلاش کیے جائیں۔
اس بار بجٹ میں تعلیم،صحت اور سوشل سیکٹر کو مطمئن کرنا بے حد ضروری ہے۔ کاروباری ماحول کی بحالی کے لئے امن و امان پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ اگر مقامی صنعت کار سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تو غیر ملکی سرمایہ کار کہاں سے آئیں گے اور کیوں آئیں گے ؟ بھتہ مافیا سے تاجروں کو ہر قیمت پرنجات دلائی جائے۔ بڑے بڑے جاگیرداروں پر زرعی ٹیکس عائد کیا جائے ۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں کو کم کرانے کے لئے حکومت نچلی سطح پر موثر اقدامات کرے اور منافع خوروں کی سیاسی سرپرستی کا خاتمہ کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
چین ہمیں اپنی منڈیوں تک رسائی دینے کے لئے تیار ہے تو ہمیں اس سے فوری اور بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔پیداواری لاگت میں اضافے سے صنعتیں بند ہورہی ہیں، ٹیکسائل سیکٹر کی ہزاروں صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور دوسرے ممالک منتقل ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ شفاف نجکاری کے ذریعے خسارے والے اداے نجی سیکٹر کو دیے جائیں، نئے انڈسٹریل زونز بنائیں جائیں۔ ہڑتال کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اگر ورکرز نے ہڑتال کرنی بھی ہو تو صرف انڈسٹری کی حد تک ہو، شہر کو بند نہ کیا جائے اور نہ ہی سڑکوں پر ٹائر جلا کر اور جلاؤ گھیراؤ کر کے امن و امان خراب کیا جائے۔
چند برسوں میں مہنگائی میں چھ سو فی صد اضافہ ہوا لیکن اس کی نسبت تنخواہیں بہت کم بڑھائی گئیں۔ مزدور کی کم از کم تنخواہ 15ہزار روپے ہونی چاہیے۔سات ہزار روپے تنخواہ بھی مزدور کو نہیں دی جارہی،حکومت اپنے اعلان پر عمل درآمد کرائے، جبکہ نجی اداروں میں بھی تنخواہوں میں اضافے کو مہنگائی کے تناسب سے ممکن بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔
معزز قارئین! بجٹ براہ راست آپ کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے ، اس اہم موقع پر آپ کی تجاویز اور تبصرے شاید حکمرانوں کی نظروں سے گزر جائے۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 52 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


عاصم خالد، ہری پور…سیاسی بجٹ ہو گا
 
عاصم خالد Posted on: Monday, May 28, 2012


Farooq, Gambat........Salam hey pakistani hakumat ko.
 
Farooq Posted on: Monday, May 28, 2012


Muhammad Naeem Akhtar, Italy........Allaha tala is qaum ko achi qaum banaye tab hi kuchh ho ga. warna jesi qaum wesa sab kuchh.
 
Muhammad Naeem Akhtar Posted on: Monday, May 28, 2012


Rao Kanwar, Islamabad........hakumaat saal baar mein eetna loan le leti hia ussy aada karny k liyay awaam par tax laga deti hai,apny kharchy pury karny k liyay awaam ko pees rahi hai kuch apny akhrajaat kam nhe karti aik mna k pass corola car hai ,aisa kyu hai es ko koi puchny wala koi nhe hai ,yeh log kise ki nhe maanty adalat ki bhe nhe maanty ,or pher kehty hein marshalaw laag geya ,khud kaam aisa kartey hein tou lagy ga.
 
rao kanwar Posted on: Monday, May 28, 2012


سلطان محمد,نوشہرہ........جناب بجٹ تو روزانہ ہی آتا ہے۔ روز روز اشیاء کی قیمیتیں بڑھ جاتی ہیں۔ سب سے پہلے تو کم از کم تمام اشیاء تیل اور پیٹرول کی قیمیتیں 2007 جیسی لے آئے تو بھی غریب گزارہ کر لے گا۔ نہیں تو زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہو تا جا رہاہے۔ ملک میں یہ افرا تفری اور چوری ذاکہ کی وارداتیں بھی اس مہنگائی کی وجہ سے ہیں۔ حکومت اس طرف توجہ ہی ںہیں دے رہی۔
 
سلطان محمد Posted on: Monday, May 28, 2012


سلمان احمد، لاہور…حکومت سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی، آئندہ بجٹ عوام کیلئے مزید مشکلات لے کر آئے گا۔
 
Salman Ahmed Posted on: Monday, May 28, 2012


جنید خان، کراچی…بجٹ پیش کرتے وقت غریب عوام کو مشکلات کو ضرور مدنظر رکھا جانا چاہئے، مہنگائی کے سبب غریبوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔
 
Junaid Khan Posted on: Monday, May 28, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | Next
Page 4 of 4


سگریٹ نوشی سے انکار کا دن
تھر کا المیہ اورارباب اختیارکی غفلت‎
"دل ہے کہ مانتا نہیں...!"
متوان غذا صحت مند زندگی کی ضامن
شاہینوں کے بلے خوب گرجے، خوب برسے
 
انقلاب کا جھانسہ اورسادہ لوح عوام
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 36 )
انقلاب کا فرار
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 21 )
گورا رنگ ہی کیوں؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 19 )
"دل ہے کہ مانتا نہیں...!"
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 17 )
سراج الحق صاحب کی بھاگ دوڑ ۔۔۔ کھایا نا پیا گلاس توڑا بارہ آنے ۔۔
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 14 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy