لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


نیٹو سپلائی بحالی ۔ آخر معمہ کیا ہے؟ Share
……سید شہزاد عالم……
شکاگو میں نیٹو کانفرنس کے اعلامیہ کے مطابق نیٹوممالک 2013میں افغانستان کی سیکیورٹی مقامی فورسزکے سپردکرنے پررضامندہو گئے جبکہ پاکستان سے سپلائی روٹ جلدازجلدبحال کرنیکامطالبہ کیا گیا ہے۔ پاکستان سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو فورسز کے حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات پر معافی اور معاوضہ کے مطالبے پر قائم ہے جبکہ امریکہ اس سے انکاری ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آ گئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے تاحال نیٹو سپلائی کا راستہ بند ہے۔
یہ بات صاف عیاں ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت سپلائی روٹ کھولنے کے حق میں ہے اور اس کی بندش سے پیدا ہونے والے مضمرات سے پوری طرح آگاہ ہے جبکہ پاکستان کے دوست ممالک بھی پاکستان کو یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ وقت ضائع کئے بغیر اس سپلائی کو بحال کر دیا جائے اور اپنی معاشی اور اقتصادی صورتحال کو بہتر کرنے پر توجہ دی جائے لیکن اب تک تو یہی نظر آتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اس اہم ترین معاملے پر باہمی تقسیم کا شکار ہیں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر ان کا زور زیادہ ہے۔ عسکری حلقے بھی ان تمام مضمرات سے بخوبی آگاہ دکھائی دیتے ہیں تاہم جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ معافی کا معاملہ ہی بظاہر رکاوٹ بن رہا ہے۔ اگر یہ اور دیگر معاملاتبخوبی حل نہیں ہو پاتے تو پاکستان کے لئے کئی خطرات منہ کھولے کھڑے ہیں مثلاً
۱۔ دہشت گردوں کا پیچھا کرنے کے بہانے سلالہ پوسٹ جیسے واقعات دہرائے جاسکتے ہیں، اور الٹا الزام بھی پاکستانی فورسز پر عائد کیا جائے گا۔
۲۔ پاکستانی فورسز پر بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزمات عائد کرکے بھرپور مہم چلائی جا سکتی ہے۔ جس کے لئے امریکہ میں ہوم ورک تیار ہے۔
۴۔ معاشی طور پر پاکستان کو جھکانے کے لئے بین الاقوامی پابندیاں بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔
۵۔ حافظ سعید اور ممبئی واقعات کا بہانہبنا کر پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر خطرات بڑھائے جا سکتے ہیں۔
دنیا ہمارے بارے میں کیا اور کیسا سوچ رہی ہے؟۔۔۔ کیا ہمارے قائدین ان تمام خطرات سے بے نیاز ہو کر اپنی موج مستی میں گم ہیں؟۔۔۔۔ عوام کو ان خطرات سے کیوں آگاہ نہیں کیا جارہا ہے؟۔۔۔ ہم بحیثیت قوم کیوں ان خطرات کے خلاف متحد نہیں ہو پارہے ہیں؟۔۔۔۔ نیٹو سپلائی بحال کی جائے یا نہ کی جائے ۔۔۔۔۔آپ بھی اس اہم ترین معاملے میں تبصرہ کر کے بحث میں شامل ہو سکتے ہیں۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 165 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


Barkat, Swat............kya nato sply kholne sey sarey masail hal ho jaein gey, kya usa aainda hamaarey liyay koi naya jangi mahaz nahein kholey ga.
 
barkat Posted on: Sunday, May 27, 2012


Abdul Shakoor, Nawabshah.........NATO supply kholnay kay mutaliq blog parh kar dukh huwa, hay kay hum wohi Qom hain jis ki bahaduri ki misal duniya main di jati hay. App hum sub ko yah pata nahin kay agar is qom ko etmad mein liya jaye to yeh qom pathar chaat kar bhi dushman ka muqabla kar sakti hay. Phir agar hamaray hukumran hi aisay hongay kay America ki threats main aayen gay to yah america kab sukoon say jeenay dey ga. Or sub say barh kar yeh kay hum musalman hain or musalman mar to sakta hay magar ALLAH kay siwa kisi or kay aagay jhuk nahin sakta. Is maamlay main hamaray aagay sub say bari misal IRAN ki hay jisay aaj tak America kya kar saka hay.
 
abdul shakoor Posted on: Sunday, May 27, 2012


کمال، کراچی…قومی غیرت کا تقاضا ہے کہ امریکا کے سامنے ڈٹ جائیں، ایران 25 سال سے امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے بات کرتا ہے،اس نے ترقی بھی کی، بھوک سے نہیں مرا۔ اس سنہری موقع پر امریکہ جیسے دوست سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے۔ ہمیں اپنے وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے۔کرپشن نہ ہو تو کسی چیز کی کمی نہیں، وطن عزیز میں۔ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہوجس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا بھکاری،بھیک مانگنا چھوڑے تو اس کی حالت بدل جاتی ہے ورنہ بھیک مانگتے مانگتے عمر تمام ہو جاتی ہے۔شکریہ
 
Kamal Posted on: Saturday, May 26, 2012


Muhammad Umar Zia, Burewala............Main is baray main yeah kehna chahun ga kay Pakistan kee hakumat ko pakistan kay difa kay liyay har mumkin koshish karni chahiyay. jo kay bilkul na qablay gor hai.hakumat main kuch aisay afrad hain jin koi just paisay ka lalach hai. yeah log paisay kay liyay kuch bhee karnay ko tayar hain. Rahi awam kee baat awam akhir kaya karay Mehngai, loadshedding , light ati nai or bill hazaron main . in cheezon nay awam ko damagi mareez bana diya. ta kay awam kuch karnay ka qabil hee na rahay. ab to sirf jan hee baqi hai wo bhee yeah hakumat lay sakti hai to lay lay.Balochistan kee awam ko un kay haqooq nai miltay us kee wajah wahan kee hakumat hai. or pakistan hakumat kee yeah na ehli hai ... ALLAH HAMI O NASIR. PAKISTAN PAINDA BAD
 
Muhammad Umar Zia Posted on: Saturday, May 26, 2012


Zain-ul-Arifeen, Lower Dir........apni mulki salimyat aur istihkam k kiya phonk phonk kar qadam uthana chahyia.
 
Zenul Arifeen Posted on: Saturday, May 26, 2012


Mukhlis Rahi, Karachi.........NATO ki pabendi Turkey nay bhi 1975 main apnay han lagae thi. Kia huwa 3 baras tak America tazabazab ka shikar raha. Aur bil akhir Turkey per say aslahay ki pabandi utha ya to Turkey nay NATO per say pabendi uthai. Aisa es leye keh wahan kay awam mukhlis logon ko vote day tay hain. Na unkay muntakhab rahnuma America say bheek mangna acha samajhtay hain tou America ki ankhon main ankhain dal-kar batain kartay hain.
 
Mukhlis Rahi Posted on: Friday, May 25, 2012


محمد عمار خان، چین…NATOسپلائی بحال ہو یا نہ ہو، امریکہ کا رویہ مثبت ہونے کی کوئی امید نہیں۔تو پھر اپنا خون بیچنے کی کیا ضرورت ہے؟ خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر ڈر کی خارجہ پالیسی اپنائی گئی تو بدمعاش ممالک ہمیشہ دھمکاتے رہیں گے۔قومی عزت کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں، چاہے اس میں امن ملے یا موت۔
 
محمد عمار خان Posted on: Friday, May 25, 2012


مونی، بنوں…اسلام علیکم ! میرے خیال میں تو اسے بالکل بحال نہ کیا جائے، تاکہ امریکہ افغانستان سے جلدازجلد چلا جائے اور یہی ایک طریقہ ہے اسے نکالنے کا۔ جس دن امریکہ چلا گیا توسمجھو کہ پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا اور افغانستان اور پاکستان دونوں میں امن شروع ہوگیا۔ امریکہ وہاں اسلحہ بارود ذخیرہ کررہاہے اور پھر یہی بارود اوراسلحہ پاکستان کے خلاف عنقریب استعمال کرے گا۔ امریکہ طالبان کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے یہاں ہے اوراسے یہاں سے ناکام بھیجنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ جو ایک اچھا قدم ہے۔ یااللہ میرے پیارے پاکستان کو اپنی حفیظ و امان میں رکھ، آمین
 
moony Posted on: Friday, May 25, 2012


Ayoub, Zahid and Asgar Gujar, Saudi Arabia.............nato supply bilkul bahal mahein karni chaye.
 
Ayoub and Zahid and Asgar Gujar and Posted on: Friday, May 25, 2012


Ifran Alam, Karachi.......Nahi kholni chaye ALLAH per bahrosa tu rakho mere bhaiyo
 
irfan alam Posted on: Friday, May 25, 2012


نوید انجم، فیصل آباد…نیٹو سپلائی کسی صورت بحال نہیں ہونی چاہئے، اگر ایسا ہوا تو پاکستانی عوام کو تقسیم کرنے کا باعث بنے گا۔
 
Naveed Anjum Posted on: Friday, May 25, 2012


Shahid, Korea...........apne jawaano ki shahadat ke zimmadaron se kissi khere ki umeed na karo.
 
shahid Posted on: Friday, May 25, 2012


عطاء الرحمان، لاہور…قومی غیرت کا تقاضا ہے کہ امریکا کے سامنے ڈٹ جائیں، ایران 25 سال سے امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے بات کرتا ہے،اس نے ترقی بھی کی، بھوک سے نہیں مرا۔ اس سنہری موقع پر امریکہ جیسے دوست سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے۔ ہمیں اپنے وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے۔کرپشن نہ ہو تو کسی چیز کی کمی نہیں، وطن عزیز میں۔ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہوجس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا بھکاری،بھیک مانگنا چھوڑے تو اس کی حالت بدل جاتی ہے ورنہ بھیک مانگتے مانگتے عمر تمام ہو جاتی ہے۔شکریہ
 
atta ur rehman Posted on: Thursday, May 24, 2012


NAVEED, PESHAWAR..........NATO KI SUPPLY KABI BI BAHAL NA KI JAI MOUT TU WASAI BI AIK DIN AANI HAI, TU DAILY MARNAI SAY BEHTAR SHADAT KI MOUT HAI AGER BAHAL HUY TU IS BAAR JO TABDILI PAKISTAN MAY AI GI WO DUNYA DAIKH LI GI.
 
naveed Posted on: Thursday, May 24, 2012


Azhar Thiraj, Lahore...........nato supply kisi soorat bahaal nahein honi chahiyay,agr aisa hua tu dehshat gardi brhey gi.
 
azhar thiraj Posted on: Thursday, May 24, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | Next
Page 6 of 11


اردو زبان کا نفاذ،ایک اہم قومی و آئینی ضرورت
’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
اب مستحکم فیصلے ہی پاکستانی کرکٹ کو بچاسکتے ہیں
ہاتھ دھونے کا عالمی دن
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 33 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
اردو زبان کا نفاذ،ایک اہم قومی و آئینی ضرورت
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy