لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں رہا؟ Share
……سید شہزاد عالم……
ایک طرف ہم دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کھیلنے کے لئے محفوظ ملک ہے اور غیر ملکی ٹیمیں بلا خوف و خطر آ کر پاکستان میں کرکٹ کھیلیں لیکن دوسری طرف ہمارے حالات یہ ہیں کہ دہشت گرد جب چاہیں جیسے چاہیں کہیں بھی جاکر اپنی مذموم کاروائیوں سے ہمارے حفاظتی اقدامات کا منہ چڑاتے ہیں۔ وہ جب چاہیں جیل توڑ کر اپنے ساتھیوں کو چھڑا کر لے جاتے ہیں، جب چاہتے ہیں پولیس اور آرمڈ فورسز پر حملہ کر تے ہیں، کسی بھی بس اسٹینڈ پر دھماکہ کر دیتے ہیں، ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکہ کر دیتے ہیں۔ ملٹری بیس پر حملہ کر دیتے ہیں۔ عدالتوں کے باہر پیشی پر پولیس کے سامنے اپنے ساتھی چھڑا کر لے جاتے ہیں، کسی بھی شخص کو کہیں سے بھی اغوا کر کے لے جاتے ہیں۔ کسی بھی کار اور بس کو روک کر جسے چاہیں خون میں نہلا دیتے ہیں، دن دھاڑے بینکوں سے کیمروں کے سامنے لاکھوں روپے لوٹ کربا آسانی فرار ہو جاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بسوں اور کوچز میں روز کے سفر کرنے والوں کو بھی سر عام مسلح افراد جب چاہیں لوٹ کر بلا خوف و خطرفرار ہو جاتے ہیں۔ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر فائرنگ کرنے والوں کو ہم ابھی تک نشان عبرت نہیں بنا سکے تو پھر دنیا ہمارے دعووں پر کیوں یقین کرے؟ ۔۔ جب ہم خود مرنے کے لئے ہمہ وقت تیار اور دستیاب ہیں تو دوسرے کیوں مرنے کے لئے ہمارے ہاں آئیں؟ سخت سیکیورٹی میں ایک میچ یا ایک ٹورنامنٹ کرانے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ خطرات ہمارے سروں پر ہر وقت منڈلا رہے ہوتے ہیں۔ ریاست گذشتہ ایک عشرے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے لیکن ہمارے حکمرانوں نے اپنی گلیاں، سڑکیں اور شاہراہیں محفوظ کرنے کی کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کیں۔ پکڑے جانے والے دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانے میں ہچکچاہٹ دکھائی جاتی ہے، انہیں رہائی تک مل جاتی ہے اور وہ سر عام دندناتے پھرتے ہیں۔ پولیس کوحالات کے تقاضوں کے مطابق تربیت نہیں دی گئی، کوئی تیکنیکی سہولتیں مہیا نہیں کی گئیں۔ دہشت گردی کے واقعات کی تحقیق کے لئے بھی کوئی جدید تربیتی نظام وضع نہیں کیا جاسکا۔ ہر دہشت گردی کے واقعے کے بعد ایک افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔ زخمیوں کا اسپتال میں کیا حال ہوتا ہے دنیا اس سے بھی واقف ہے۔ ہم آنکھیں بند کرکے خود کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن دنیا بہرحال ہمارے سارے حالات اور حرکتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ جب دنیا یہ دیکھتی ہے کہ خود ہمارے سرمایہ کار اپنے ملک سے خراب حالات کے باعث دوسرے ممالک میں آباد ہو رہے ہیں تو ان کے سرمایہ کار کیوں اپنا سرمایہ لے کر پاکستان آئیں؟ جب پولیس اور دیگر اداروں میں دہشت گردوں کی حمایت موجود ہو اور وہ ان میں سرایت کر چکے ہوں تو اصلاحِ احوال کون کرے گا؟ یہ کام جن کی ذمہ داری ہے وہ ریت کے اندر سر دیئے وقت گزاری کر رہے ہیں۔ کج فہمیاں اور نالائقیاں اپنے عروج پر ہیں۔ یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں رہا۔ سڑک پر سفر سے لے کر ریلوے سے سفر سے لے کر ہوائی سفر تک کچھ بھی قابل اعتماد نہیں رہا۔ جب ہم خود اپنے ساتھ دشمنی اور ساری دنیا سے لڑنے پر آمادہ ہوں تو کوئی ہماری مدد کیسے کرے اور کیوں کرے؟ ۔۔۔ کیا ہمارے پاس اس پر غور کرنے کی مہلت بھی باقی ہے؟  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 45 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


Muhammad Imran, Sahiwal........main aapki bat say agree hon pakistan main abi cricket mumkin nahi.
 
MUHAMMAD IMRAN Posted on: Friday, May 25, 2012


خان شعیب، راولپنڈی…حالات بہتر ہوسکتے ہیں، اگر عوام سدھر جائیں، ایک دوسرے کا حق نہ کھائیں، اپنے ارد گرد نظر رکھیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور ظالموں کا ساتھ نہ دیں تو۔
 
khanshoaib Posted on: Thursday, May 24, 2012


Abdul Ghani, Karachi............Hukumran hi nahi hum awam b zamedar hain,Allah uss qoum ki halat nahi badalti jab tak uss ko kayal na ho apne halat badalne ka.
 
Abdul Ghani Posted on: Thursday, May 24, 2012


جیا صابر، کراچی…پاکستان جب سے آزاد ہوا ہے ہر کوئی اس ملک سے فائدہ تو اٹھانا چاہتا ہے مگر اسے کوئی فائدہ اپنی ذات سے نہیں پہنچانا چاہتا، اللہ تعالیٰ اس ملک کی حفاظت فرمائیں(آمین)
 
jia sabir Posted on: Wednesday, May 23, 2012


افتخار سلہری، سیالکوٹ…جیسے ہم، ویسے ہمارے حکمراں، جب تک ہم انفرادی طور پر نہیں بدلیں گے، سکھ نہیں مل سکتا، اپنا قبلہ درست کرلیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
 
iftkhar sullehry Posted on: Tuesday, May 22, 2012


Asghar, Abu Dhabi...........Sirf Pakistan hi nai, aur bhi bohat se mulqoan mei aise hi halaat hain. Hamm phir bhi bohat ache halaat mai hain, aur bhi behtari aa sakti hai agar Pakistan ko koi achha hukumran mil jaae.
 
Asghar Posted on: Monday, May 21, 2012


Sajjad, Gujrat.......Sab Kuch theek ho jaye Ager Hum loog Apny rights kay lie ek ho jaein tu ... otherwise esi tara duway dety rehy gy apny hukmaranoo ko ....
 
sajjad Posted on: Thursday, May 17, 2012


Syed Ather Ali , Karachi..........jab tak zaat, paat, qoumiyat, firqa wariyat waghera se hat ker aik Pakistani Qoum ki hasiyat se sochna nie shru kia jaye ga mulk bad se bad ter hota chala gaye ga. saray criminals zaat, qoumiyat waghera ki chhatri (umbrella) ke neechay panaah haasil kertay hn.
 
Syed Ather Ali Posted on: Monday, May 14, 2012


شیرازقریشی، کراچی…ہمارے ملک میں سیاسی شخصیات کے چہرے بالکل واضح ہو چکے ہیں، اگر اب بھی ہم نے جان بوجھ کریا ذاتی مفادات کو مدنظررکھ کرغلط لوگوں کا ساتھ دیا تو اس بات میں کوئی شک نہیں آپ اپنی منزل کی طرف دو قدم بڑھیں گے لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ منزل آپ سے چار قدم آگے چلی جائے گی، فیصلہ آپ خود کریں لیکن اس ملک کے مفاد میں ہی فیصلہ کریں۔
 
sheeraz qureshi Posted on: Monday, May 14, 2012


علی، آسٹریلیا…میں انڈیا میں پیدا ہوا ہوں، لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیشہ پاکستان کو سپورٹ کرتا ہوں اور میری یہی خواہش رہی کہ پاکستان ڈھیر ترقی کرے تاکہ ڈھیروں لوگ وہاں انویسٹ کریں، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان اور انڈیا ہمسایہ ملک ہیں اور بہت گہرا رشتہ ہے ان کا آپس میں اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، لیکن دونوں ملک یہ مانتے نہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے کتنے لوگ مرتے ہیں، لیکن پاکستان نے آج تک کوئی ترقی نیہں کی انڈیا کی نسبت، کیونکہ انڈیا میں دوسرے ملکوں سے لوگ آتے ہیں اور انویسٹ کرتے ہیں، گورنمنٹ ان کو پوری سہولت دیتی یے۔ اسی لیے وہ آگے بڑھ رہا ہے اور پاکستان وہیں کھڑا ہے، سب سے پہلے ہمیں دہشت گردوں کو ختم کرنا ہے، پاکستان کی گورنمنت مضبوط نہیں ہے اور قانون نام کی توکوئی چیز ہی نہیں، انڈیا میں لاکھوں کی تعداد میں فارنر آتے ہیں بزنس کے لیے بھی اور گھومنے بھی اور لوگ محفوظ بھی رہتے ہیں، میرے خیال میں عمران خان کو وزیراعظم ہنا چاہئے، تب شاید پاکستان کچھ ترقی کرے، چار چیزیں اگر پاکستان میں ہر انسان خود کو محفوظ محسوس کرے کسی بھی وقت اور کہی بھی، اور قانون سب کیلئے برابر ہوں چاہے وہ وزیراعظم اور صدر ہی کیوں نہ ہو، اگر کسی بھی پارلینٹ ممبر پر کوئی الزام ہو تو اسے فوراً اپنی سیٹ چھوڑ دینی چاہئے، لوڈ شیڈنگ ختم ہونی چاہئے، تبھی ملک ترقی کرے گا۔
 
Ali Posted on: Sunday, May 13, 2012


A.Kareem Mazari, Abbottabad.......awam kay jasay Amal hongay wasy hukumran milangay..Allah hum sub ko naik karday humari madadgar ho..Ameem
 
A.Kareem Mazari Posted on: Saturday, May 12, 2012


Azhar Abbas, Jhang.......Jahan sader se le kr chaprasi tk sb chor hon ge wahan aisa hi ho ga. barbadi e gulshan k lia bs aik hi ullo kafi tha har shakh pe ullo betha hai injam e gulstan kia ho ga
 
azhar abbas Posted on: Thursday, May 10, 2012


SAKIALI, LAHORE......ISS HAKUMAT KO JANA CHAHIYAY BOHAT PASSA OR AWAM KO KHA CHUKI HAI, MAUJOODA HUKUMRAANON KAY SAATH JO SULOOK KIYA JAAEY KAM HAI.
 
SAKIALI_ Posted on: Tuesday, May 08, 2012


Amir Shahzad, Sargodha........bilkull theek hay yeh hamri badkismaty hay aur bhala kiya naam dain iss ko.
 
amir shahzad Posted on: Tuesday, May 08, 2012


MOHAMEED, KOHAT.......JAB TAK HAMAREY MULK KI AWAAM POLITICIANS KAY BAREY MAI SAHEE FAISLA NAHI KAREY GI KUCH SAHI NAHI HO SAKTA .KIYUN KEH SUB SAY BARI KHARAABI HAMAREY POLITICIANS MAI HAI.
 
MOHAMEED Posted on: Sunday, May 06, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | Next
Page 1 of 3


انقلاب کا جھانسہ اورسادہ لوح عوام
’دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا‘
گورا رنگ ہی کیوں؟
ورلڈ پولیو ڈے
ایبولا جان لیوا مرض
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 34 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 12 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy