|
| ہلیری کلنٹن کادورہ پاکستان |
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران صدر آصف علی زرداری ،وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے علاوہ سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کے دورہ پاکستان سے پاک امریکا تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکا پاکستانی حکومت اور انٹلیجنس اداروں کی مدد سے اس حکمت عملی پر کام کر رہا ہے کہ جو طالبان القاعدہ کے نظریات سے متفق نہیں، انہیں الگ کیا جائے، افغانستان میں لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کی وسیع حکمت عملی کے تحت اس بات کا اندازہ کرنا ضروری ہے کہ طالبان کے کون سے گروپ سیاسی دھارے میں آنا چاہتے ہیں۔ہلیری کلنٹن نے کہا امریکاکو پاکستانی جمہوری حکومت اورپاک فوج پر پورا اعتماد ہے اوروہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم اسے اسلحے کی کسی بھی طرح کے پھیلاؤ پر تشویش ہے۔ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ ہماری معلومات کے مطابق سرحد کے دونوں اطراف ایسے لوگ ہیں جو ان انتہا پسندوں کے دباوٴ میں ہیں جب کہ وہ القاعدہ کے نظریا ت کے حامی نہیں ہیں۔کلنٹن کا کہنا تھا کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستانی عوام کی خواہشات اور ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد دینا ہے۔ کیری لوگر بل کے حوالے سے ابھرنے والے اس تاثر پر کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز پر امریکی اعتماد میں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بعض غلط اطلاعات موجود رہی ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے۔ اس سوال پر کہ بلوچستان میں بھارت کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کے حوالے سے امریکی انٹیلی جنس معلومات کیا کہتی ہیں،ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا وہ انٹیلی جنس معاملات پربات نہیں کرتیں۔
کیری لوگر بل پر امریکی وضاحت پاکستانی عوام کو مطمئن کرسکے گی؟
امریکی وزیر خارجہ کے دورے سے پاک امریکاتعلقات کا نیا دور شروع ہوگا؟
ہلیری کلنٹن کے دورے پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔ |
 |
 |
طاہر بشیر، سعودی عرب، خدا کے لئے پاکستان عوام پر رحم کریں، انہیں خوش باش اور سکون کی زندگی گذارنے دیں، امریکیوں کےاس بارے میں سوچنا چاہیئے ہماری حکومت کو ان پالیسیوں پر عمل کرنا چاہیئے جو عوامی مفاد کے حق میں ہو، |
| |
Tahir Bashir |
 |
 |
 |
 |
 |
-سہیل، لاہور، امریکہ اپنی ڈبل پالیسی رکھتا ہے خاص طور پہ مسلم ممالک کے ساتھ،پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات امریکہ اپنی مرضی سے رکھنا ہی اپنی پالیسی سمجھتا ہے، جبکہ بھارت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کچھ اور ہوتی ہے وہ پاکستان کے خلاف معاندانہ نظریہ رکھتے ہین اس لئے کامیاب ہیں، پاکستان کو سمجھنا چاہیئے کہ امریکہ انہیں بے وقوف بنارہا ہے |
| |
Sohail |
 |
 |
 |
 |
 |
-سید نثار احمد، کراچی،ہیلری کلنٹن کا دورہ اپنی افغانستان میں دفاعی پوزیشن کو بہتر بنانا تھا،اور کچھ معلومات لینی تھیں،وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہی یا نہیں، لیکن پاکستان میں ہمارے سیاستدانوں کی اضطرابی کیفیت دیکھنے والی تھی، |
| |
Syed Nisar ahmed |
 |
 |
 |
 |
 |
-افتخار باچہ،مردان، ہماری حکومت کیری لوگر بل پر عوام کو مطمئن نہ کرسکی،حکومت کو اس بل کو پارلیمنٹ میں لانا چاہیئے تھی، لیکن اب اس کا کیا فائدہ۔ ۔امریکی ایوان نمائندگان اسے منظور کرچکی ہے، اور ہم بے کار بحث کر رہے ہیں، |
| |
Iftikhar Bacha |
 |
 |
 |
 |
 |
-ایم یعقوب، شیخوپورہ امریکی حکمرانوں کے دورہ کا مقصد ہمارے حکمرانون کو خوش کرنا تھا، وہ اپنی منصوبہ بندی کا جائزہ لینا تھا۔ عوام اور پاکستان کے مفاد سے ۃت کر حکمران اپنے اقتدار کا سوچتے ہیں، |
| |
m.yaqoob |
 |
 |
 |
 |
 |
-نجیب الرحمن، کراچی، ہنری کلنٹب کبھی تولہ کبھی ماشہ ان کا رویہ کوئی حیران کن نہیں تھا ان کیحکومت نے جو مشن دیا تھا اس کا جائزہ لینے آئیں تھیں،یہ امریکن دپلومیسی کا حصہ تھی، ہمارے رہنما خوش ہوگئے کہ ان پر توجہ دی جارہی ہے، بہت سی باتون کا جواب نہ دے کر اپنی سیاسی حکمت عملی دکھلانا مقصد تھی، |
| |
نجیب الرحمٰن |
 |
 |
 |
 |
 |
-جاوید حسن خٹک، راس الخیمہ، امریکی صرف امریکی مفاد کے لئے سوچتے ہیں امریکی عوام کو حقائق سے لا علم نہیں رکھنا چاہتے، ایک ہم ہیں اور ہمارے لیڈرز جو کہ مختلف رائے رکھتے ہیں،انہیں عوام یا پاکستان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، جب تک ہم ایک قوم کی حیثیت سے نہیں کھڑے ہوں گے ہم کسی بھی چیلنج کا مقابلہ نہیں کرسکتے، |
| |
Javed Hassan Khattak |
 |
 |
 |
 |
 |
-عمران۔ لاہور، وہ پاکستانی عوام کی سوچ کا اندازہ لگانے آئیں تھیں، وہ پاکستان کی پالیسیوں کو سمجھنا چاہتی تھیں انہیں اندازہ ہے کپ پاکستانی سیاستدانوں اور عوام کی سوچ میں گہرا فرق ہے، وپ پڑھے لکھے لوگون سے مل کر خوش نظر آئیں،کیونکہ ان کی نالج سیاستدانوں سے بہتر ہے، |
| |
imran |
 |
 |
 |
 |
 |
عمتر فاروق، لاہور۔ پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا ذمہ دار امریکہ ہے، |
| |
umer farooq |
 |
 |
 |
 |
 |
-چودھری رفیق،آزاد کشمیر،چھوٹی سی بات ہے کہ پاکستان کو یہاں تک پہنچانے والے امریکہ بھارت اور اسرائیل ہیں،سب پاکستانی اچھی طرح جانتے ہیں،ہیلری سے بہتر تو یہ تھا کہ اوبامہ یہان کا دورہ کرتے حقیقت حال سے واقف ہوتے،ہیلری کادقورہ ناکامی نظر آرہا ہے۔ |
| |
Chaudhary Muhammad Rafique |
 |
 |
 |
 |
 |
-عبدل لطیف خٹک، دوبئی،امریکہ کا مقصد پاکستان سے مزید مہلت حاصل کرنا ہے،ایک معمولی بات سے اندازہ لگانا چاہیئے کہ مشرف سابق صدر باہر لیکچر دے رہے ہیں،اور اس کی اجرت وصول کر رہے ہیں،کیا وہ اتنا بڑا دانشور ہے ؟ اس کا پاکستان سے کیا تعلق، لیکن ہمارے حکمران سمجھنے سے قاصر ہیں، |
| |
Abdul latif khattak |
 |
 |
 |
 |
 |
-ایم خان فاتح۔ ہم کسی کیری لوگر بل کو نہیں جانتے یہ سب حکومتی کرتا دھرتا لوگوں کے کام ہیں اس سے عوام کا کیا فائدہ،پاکستان کو بچانے کے لئے اس پر عمل نہیں کرنا چاہیئے |
| |
MKhan Fatih |
 |
 |
 |
 |
 |
-حسین کاظمی، اٹلی، پاکستانی عوام سادہ لوح ہیں،کسی بھی بات پر یقین کرلیتے ہین،ہنری کلنٹن کا دورہ ایک پرانی تاریخ ہے، جب مطلب ہوتا ہے امریکہ دوستی کی باتیں شروع کردیتا ہے مطلب نکالنے کے بعد وہ اصل روپ میں نظر آتا ہے،لیکن ہمارے حکمران سمجھ نہیں پارہے ہیں، |
| |
Hussain Kazmi |
 |
 |
 |
 |
 |
-علامہ، کراچی، ہمارے ملک میں روز روز زلزلہ کے جھٹکے اس خون ناحق کا نتیجہ ہے جو ہم بلا جواز بہارہے ہیں،ہنری کلنٹا کو بری امام لے جانے کی کی ضرورت تھی، یہی تو وہ لوگ ہیں جو ہمارے ملک کے دشمن ہین، |
| |
Allama |
 |
 |
 |
 |
 |
-وقاص، لندن، میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ کیا ہم لوگ ساٹھ سالو٘ سے یہ سبق نہیں سیکھ سکے ہیں کہ کون ہمیں بے وقوف بنا رہا ہےاس میں نہ امریکہ کا قصور ہے اور نہ بھارت کا،ہم کسی کی ایماء جو کر رہے ہین وہ سب غلط کررہے ہیں،دوست اور دشمنکی تمیز تو ہونی چاہیئے |
| |
waqas |
 |
 |
 |
Prev | 1 | 2 | 3 | Next Page 1 of 3
|
|