لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


بش کو جوتے پڑگئے ! Share
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عراق کے الوداعی دورے پر آئے امریکی صدر بش نے وزیر اعظم نور المالکی کے ہمراہ بغداد میں واقع ان کے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران اس وقت صورتحال مضحکہ خیز ہوگئی جب ایک عراقی صحافی نے صدر بش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا”کتے یہ الوداعی بوسہ ہے“۔ اس کے بعد اس صحافی نے اپنا ایک جوتا اتارتے ہوئے بش کی جانب پھینکا ، صدر بش نے مہارت سے جوتا لگنے سے پہلے ہی اپنا سر جھکا دیا اور اپنے آپ کو بچالیا۔دوسرا جوتا امریکی پرچم کو لگا۔ سیکیورٹی اہلکار اس صحافی کو گھسیٹتے ہوئے کو اس جگہ سے لے گئے۔ اس موقع پر صدر بش نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم اس نے ایسا کیوں کیا، جوتا10نمبر کا تھا، مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

آپ کے خیال میں کیاصحافی کا یہ عمل عراقی عوام کی طرف سے صدر بش کے خلاف غصے کا اظہار نہیں تھا ؟ اس واقعہ پر آپ کیا کہیں گے ؟  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 314 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


-مہوش ، کراچی، یہ جوتے بش کے لئے ناکافی ہے کاش یہ رتبہ مجھے حاصل ہوتا کہ میں اسے خود جاکر مارتی، خیر جو ہوا اچھا ہوا،
 
mehwish Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-مہوش ، کراچی، یہ جوتے بش کے لئے ناکافی ہے کاش یہ رتبہ مجھے حاصل ہوتا کہ میں اسے خود جاکر مارتی، خیر جو ہوا اچھا ہوا،
 
mehwish Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-سید معین الدین، کراچی، واہ کیا بات ہے کہ ایک مرد مومن نے بش کو جوتا ماردیا،کاش یہ جوتا اس کے منہ پہ لگتا بات ہی کچھ اور ہوتی، واہ مبارکباد اس صحافی کو جس نے یہ کام کردکھلایا اللہ اس کی مدد کرے،
 
syed moin uddin Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-سید معین الدین، کراچی، واہ کیا بات ہے کہ ایک مرد مومن نے بش کو جوتا ماردیا،کاش یہ جوتا اس کے منہ پہ لگتا بات ہی کچھ اور ہوتی، واہ مبارکباد اس صحافی کو جس نے یہ کام کردکھلایا اللہ اس کی مدد کرے،
 
syed moin uddin Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-محمد سہیل، لاہور، میرے خیال میں یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہی؁ تھا، تاکہ اس کے دور میں حکمران کا منہ کالا کیا جاسکے۔
 
muhammad sohail Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-محمد سہیل، لاہور، میرے خیال میں یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہی؁ تھا، تاکہ اس کے دور میں حکمران کا منہ کالا کیا جاسکے۔
 
muhammad sohail Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-محمد عابد قادری، کراچی،بش کو جوتا مارنے والا صحافی ایک عظیم آدمی ہے اسے ایوارڈ دینا چاہیئے کیونکہ اس نے ایک جراتمندانہ کام کیا ہے وہ لائق تحسین ہے
 
muhammad abid qadri Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-محمد عابد قادری، کراچی،بش کو جوتا مارنے والا صحافی ایک عظیم آدمی ہے اسے ایوارڈ دینا چاہیئے کیونکہ اس نے ایک جراتمندانہ کام کیا ہے وہ لائق تحسین ہے
 
muhammad abid qadri Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-سیف خان ۔ لندن، بہت خوب کام کیا ہے
 
sef khan Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-سیف خان ۔ لندن، بہت خوب کام کیا ہے
 
sef khan Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-نوید ، لاہور ۔ہمیں جوتا مارنے والا دن یاد رہے گا، بہت اچھا ہوا بش زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ تمام مسلمانوں کی طرف سے جوتے مارنے والے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں
 
naveed Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-نوید ، لاہور ۔ہمیں جوتا مارنے والا دن یاد رہے گا، بہت اچھا ہوا بش زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ تمام مسلمانوں کی طرف سے جوتے مارنے والے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں
 
naveed Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-خالد خان۔ کراچی۔ یہ بہت اچھا ہوا کہ بش کو جوتے پڑگئے
 
KHALID KHAN Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-خالد خان۔ کراچی۔ یہ بہت اچھا ہوا کہ بش کو جوتے پڑگئے
 
KHALID KHAN Posted on: Wednesday, December 17, 2008


-محمد وسیم خان۔ کراچی اس شخض نے حقیقت میں عوام کے دل جیت لئے عراقی عوام کے احتجاج کو جوتا مارے اس کے منہ پہ ماردیا، جوتا مارنا ذلیل کرنے کے مترادف ہے، جان سے مارنے سے یہ مقصدحاصل نہیں ہوتا،
 
MUHAMMAD WASEEM KHAN Posted on: Wednesday, December 17, 2008
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | Next
Page 7 of 21


کرپشن ۔۔عوام کا مصنوعی احساس محرومی
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند
یہ توفیق دوسروں کو کیوں نہیں ؟
پنامالیکس ۔۔۔ خطرے کی گھنٹی ؟
کلچر کیا ہے ؟
 
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 )
کیا آپ کو انگریزی آتی ہے ؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 )
یہ توفیق دوسروں کو کیوں نہیں ؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy