|
| بجٹ آگیا ۔عوام کو کچھ ملا کہ نہیں ؟ |
بجٹ آگیا ہے۔ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ دالوں ، چاول اور چینی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔وزیر مملکت برائے خزانہ عمرایوب نے قومی اسمبلی میں 2007-2008 ء کا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو گیارہ ارب روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔پانچ سال کے دوران ایک کروڑ سے زائد افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔مٹی کے تیل ، ڈیزل اور کھاد پر111 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے بجٹ کو مراعات یافتہ طبقے کے چنگل سے نکال کر غریب عوام کا بجٹ بنا دیا ہے۔عوام کو مہنگائی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔عمرایوب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان ایک خوشحال ملک بن گیا ہے۔مزدوروں کے لیے کم ازکم تنخواہ 4600 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا پاکستانی قوم آج دنیا میں فخر سے سر اٹھا کر چل سکتی ہے۔ہم غربت سے نجات حاصل کر رہے ہیں۔کشکول اٹھا کر جگہ جگہ مانگنے والے نہیں رہے۔اب ہم دوسروں کی مدد کر رہے ہیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ کی تقریر دل پذیر کو دیکھا جائے تو لگتا ہے پاکستانی قوم کو اپنے خوابوں کی تعبیر مل گئی ہے۔ لیکن جیسے ہم اس تقریر کے سحر سے باہر آتے ہیں ۔ خوابوں کی تعبیر ہمیشہ الٹی نظر آتی ہے۔ ٹیکسوں کی مد میں اتنا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے کہ سر اٹھا کر چلنے کی کوشش کرنے والوں کی کمر ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ |
 |
 |
عثمان اکبر، لندن، برطانیہ۔۔۔۔۔۔جب تک فوجی حکومت موجود ہے ایسا ہی بجٹ آئے گا۔حکومت کو ہٹانے کے لیے ہم سب نے مل کر کوشش نہیں کی تو اسی طرح گدھے کی طرح لٹکتے رہیں گے۔ |
| |
usman akbar |
 |
 |
 |
 |
 |
جمیل احمد، میلبورن، سڈنی۔۔۔۔۔۔یہ ایک اچھا انداز ہے بجٹ کی توجیح کرنے کا۔ویر ی گڈ۔ |
| |
jamil ahmed |
 |
 |
 |
 |
 |
عذیرارشد خان، سڈنی، آسٹریلیا۔۔۔۔۔۔میرے خیال میں اس سال کا بجٹ ترقیاتی اخراجات کے حوالے سے اچھا ہے۔دولت کی منصفانہ تقسیم ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ |
| |
Uzair Arshad Khan |
 |
 |
 |
 |
 |
محمد حنیف، تونسہ شریف، پاکستان۔۔۔۔۔۔۔کسی کو کچھ ملے نہ ملے ہمارے حکمرانوں کی سہولتوں میں اضافہ ضرور ہو گا۔ اور غریب عوام کو مہنگائی کو تحفہ ملے گا۔ |
| |
muhammad amin |
 |
 |
 |
 |
 |
فرہادحسین،پشاور، پاکستان۔۔۔۔۔۔۔سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تو پندرہ فیصد بڑھا دی گئی ہیں۔ جو سرکاری ملازم نہیں ہیں ان کا بھی کوئی پرسان حال ہے کہ نہیں۔ |
| |
farhad hussain |
 |
 |
 |
 |
 |
ندیم صدیقی، کراچی،پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔جی ہاں ۔بجٹ سے عوام کو ایک سبق ضرور ملا ہے کہ پھر کبھی بجٹ کا انتظار مت کرنا۔ |
| |
Nadeem Siddiqui |
 |
 |
 |
 |
 |
صديقي-شنگھاي-چين--عوام کو پھلے کبھي کچھ ملا جو اب ملے گا?---ھاں صدر صاحب کو تمغھ ضرور ملا ھے کھ ان کے زير سايھ حکومت نے پانچواں بجٹ پيش کر کے ريکارڈ توڑ دیا۔ |
| |
Siddiqui |
 |
 |
 |
 |
 |
عمران بٹ، کراچی،پاکستان۔۔۔۔۔۔عوام کو ہمیشہ کی طرح امید ملی ہے ۔ البتہ کم سے کم تنخواہ کا خوب ڈھنڈورا پیٹا جار ہا ہے۔ تنخواہ تو آپ سال میں ایک بار بڑھا کر بھول جائیں گے ۔ خدا جانے آٹے دال کا بھاو کتنا بڑھے گا بار بار۔ |
| |
Imran Butt |
 |
 |
 |
 |
 |
شبیر، کراچی،پاکستان۔۔۔۔۔۔یہ ایک شرمناک بجٹ ہے۔ |
| |
Shabir |
 |
 |
 |
 |
 |
عمربٹ، لندن، برطانیہ۔۔۔۔۔۔۔۔حکومت کہتی ہے کہ پانچ ہزار یوٹیلٹی اسٹورز بنائے جائیں گے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کا عام بازاروں میں کوئی کردار نہیں بنتا۔؟ |
| |
aamirbutt |
 |
 |
 |
 |
 |
اعجاز احمد، سوئیڈن۔۔۔۔۔۔۔۔کیا عمرایوب صاحب ہمیں یہ بتانا پسند کریں گے کہ منی بجٹ کب آرہا ہے؟اور مزدوروں کے باقی چار سو روپے کہاں گئے؟ کیا آپ چھیالیس سو میں گزارا کرسکتے ہیں؟ |
| |
Aijaz Ahmed |
 |
 |
 |
 |
 |
محمد علی جاوید، کراچی،پاکستان۔۔۔۔۔۔۔یہ الیکشن کا سال ہے۔حکومت نے خیالی وسائل کی بنیاد پر بجٹ بنایا ہے۔ |
| |
mohammed alijawaid |
 |
 |
 |
 |
 |
علی، آسٹریا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بجٹ عوام کے ساتھ کسی فراڈ سے کم نہیں ہے۔ |
| |
ali |
 |
 |
 |
 |
 |
محمد مجاہد، لاہور،پاکستان۔۔۔۔۔۔حیرت ہو تی ہے کہ یہ لوگ ایوان میں کتنے ڈھیٹ بن کر بجٹ کی تقریر کر تے اور سنتے ہیں۔ اپنی ناکامیوں کو کس طرح کامیابیوں میں بیان کرتے ہیں۔ ان کو یہ نظر نہیں ایا کہ بجٹ سے محض تین دن پہلے ضرورت کی ہر چیز کی قیمت میں بلا جواز اضافہ ہوا۔ اور انہوں نے دو روپے تین روپے قیمتیں تم کر کے بڑا کارنامہ انجام دیا۔ میرا بس چلے تو ان کا گریبان پکڑ کر ان سے پوچھو کہ کیا یہ لوگ اندھے ہیں۔ یا عوام کو بیوقوف سمجھتے ہیں |
| |
محمد مجاہد |
 |
 |
 |
 |
 |
صبورلطیف، دمام، سعودی عرب۔۔۔۔۔۔مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ سب لوگ ایک خاص دن کے لیے یہ بحث کرتے ہیں کہ بجٹ کیسا آیا حالانکہ ہمارے ملک میں تو سارا سال روزانہ بجٹ آتا ہے۔عام آدمی کو تو روزانہ نیی قیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس صورتحال کے لیے غالب کا ایک شعر عرض ہے۔
بجٹ کا ایک دن معین ہے........نیند کیوں سال بھر نہیں آتی
ویسے ہر سال کی طرح اس سال بھی غریب آدمی کے لیے کچھ نھیں۔ |
| |
صبو ر لطیف |
 |
 |
 |
Prev | 1 | 2 | 3 | Next Page 1 of 3
|
|