لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
معصوم شہیدوں کا لہو اتحاد قوم کا نقیب بن گیا
.....سید عارف مصطفیٰ.......
جن جن لوگوں کو خواہ وہ تعداد میں کتنے ہی کم نہ رہ گئے ہوں ، طالبان سے اک ذرا بھی ہمدردی تھی تو وہ 16 دسمبر کے واقعے کے بعد اپنی حمایت کا ادنیٰ سا جواز بھی بالکل کھوبیٹھے۔ دور کیوں جاؤں خود اپنے بارے میں اعتراف کیوں نہ کروں کہ خود اپنے دل کے کسی نا کسی گوشے میں ان لوگوں کیلئے کسی حد تک نرمی رکھتا رہا ہوں،،، ان لوگوں کے اقدامات کیلئے اپنے ہی طور پہ صفائیاں دیتا رہا ہوں ،،، گویا کسی حد تک انکی اونگی بونگی وکالت کرتا رہا ہوں لیکن اپنی سفاکانہ حرکتوں کے باعث بتدریج گزشتہ 3 برس میں یہ لوگ میرے ہر لولے لنگڑے دفاع کے قابل بھی نہ رہ گئے اور انکی جہالتوں، خباثتوں اور کمینگیوں کے حق میں بولنا ممکن ہی نہ رہا ۔۔ اور اب میں بلا امتیاز ہرطرح کے طالبان کو برابر کا قصوروار سمجھتا ہوں کیونکہ جب ان میں سے چند درندہ صفت بکاؤ لوگ اپنی بربریت کے نئے نئے ریکارڈ قائم کرتے جارہے تھے تو ان میں سے کوئی معتدل گروہ انکے ہاتھ توڑنے کیلئے محض اسلئے آگے نہیں بڑھا کہ اس سے دنیا کو انکے درمیان محاز آرائی کا تاثر ملے گا،،، اور انکی طاقت کو نقصان پہنچے گا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہوتا گیا کہ یہ لوگ تقریباً 24 گروہوں میں تقسیم ہوچکے ہیں کہ جن میں 3 گروپ نسبتاً بڑے ہیں اور ان گروپوں میں سے بیشتر غیرملکی طاقتوں کے پیرول پہ کام کررہے ہیں۔۔۔ کیونکہ انٹیلی جینس معلومات تو ایسا بتا ہی رہی تھیں خود ان میں سے جو لوگ مارے جارہے تھے ان میں سے کئی کے قبضے سے شراب غیرملکی لٹریچر اور کرنسی بھی بڑی مقدار میں برآمد ہوئی اور ان میں سے چند کی تو ختنہ بھی نہ ہوئی تھی، ان لوگوں نے پاکستان کی معدنیات کی کانوں پہ قبضہ کرکے ان سے قیمتی پتھروں کی فروخت کے ذریعے بھی کروڑوں ڈالرز کمائے اور اس پیسے کے بل پہ بڑی تعداد میں مفلس و نادار لوگوں کے گھروں کی کفالت کا ذمہ لے کر انکی اولادوں کو دین متین کی تعلیمات دینے کے نام پہ اپنے ساتھ ملالیا اور انکے لئے ایسی تربیت گاہیں اور مدرسے قائم کیے کہ جہاں انکے غلط نظریات کے دفاع میں لڑنے اور مرنے مانے پر جنت کی چابیاں تھمانے کی گارنٹیاں فراہم کی جاتی تھیں۔
کوئی بھی نکتہ نظر خواہ مثبت ہو یا منفی، اسکی خاطر جان دینا کوئی آسان کام ہرگز نہیں ہوتا،،، لہٰذا باآسانی کہا جاسکتا ہے کہ وہ ناخواندہ یا کم پڑھےلکھے لوگ جو ان درندوں کے ہتھے چڑھے اور خود کو ملنے والے غلط اہداف کو پانے کیلئے جنہوں نے اپنی جانیں دینے سے بھی گریز نہ کیا وہ یقیناً بڑے جزباتی اور انتہا پسند مزاجوں کے حامل رہے ہونگے اور جنکی اس کیفیت کو بھانپ کر ان شاطر بھیڑیوں نے انہیں اپنے گھناؤنے منفی مقاصد کیلئے بڑی منصوبہ بندی سے استعمال کیا ، مجھے پورا یقین ہے کہ ایسے جذباتی افراد مثبت مقصد کی خاطر بھی اپنی جانیں یونہی قربان کرسکتے ہونگے بلکہ ایسا کرتے ہوئے انہیں نہایت مکاری سے یہ پختہ یقین دلادیا گیا ہوگا کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں، وہ انتہائی مثبت کام ہے اور ایک (نام نہاد) ارفع نصب العین کی خاطر ہے۔ یہ نادار اور انتہاپسند مزاجوں والے افراد بدقسمتی سے ان وحشی درندوں کے ہاتھ لگ کر مذہب کی غلط تشریحات کے بل پہ اپنی دنیا و عاقبت ہی برباد کربیٹھے۔
غیرملکی طاقتوں کی پشت پناہی سے کھیلاجانے والا یہ کھیل اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے اور یہ رب العزت کی مشیت ہے کہ بعض اوقات وہ خرابی میں سے بھی اچھائی کے پہلو ابھار دیتا ہے اور 16 دسمبر کے اس سانحے سے بھی یہی کچھ ہوا ہے، ساری قوم کی آنکھیں پوری طرح سے کھل گئیں ہیں اور اب ملت پاکستان کا ہر فرد بلا تمیز رنگ و نسل، بنا امتیاز فرقہ و علاقہ ان وحشی درندوں کے خلاف اب یک آواز و یک رائے ہوگیا ہے،،، آپس میں لڑتے بھڑتے سیاستدانوں نے بھی سر جوڑ لیا ہے، 17 دسمبر کی پشاور میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس اسی حقیقت کی عکاس تھی کہ جہاں سبھی یکساں طور پہ گریہ کناں دیکھے گئے اور ہر ایک کے لبوں پہ اب یہی صدا تھی کہ بس اب بہت ہوچکی، اب ان درندوں کے لئے کسی معافی کی کوئی گنجائش باقی نہیں اور یہ اچھے طالبان اور برے طالبان والا ڈرامہ بھی اب ختم۔ یہ سب وحشی ہیں اور وحشی ایک ہی طرح کے برتاؤ کے مستحق ہوتے ہیں اور ہمیں بیرونی دنیا کو بھی بتانا ہے کہ یہ لوگ اسلام کے نام پہ جو ظلم ڈھاتے رہے ہیں اس کا اسلام سے مطلق کوئی تعلق نہیں اور اس مرحلے پہ اب تمام مکاتب فکر کے جملہ علماء کو بھی متفقہ اعلامیہ جاری کرنا ہوگا کہ اسلام ایک تہذیب یافتہ معاشرے کی تشکیل کرتا ہے اور ایسے درندوں کی اس میں موجودگی اک پل کیلئے بھی برداشت نہیں کی جاسکتی۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 0 ) احباب کو بھیجئے
جیلوں کی سیکیورٹی سخت کی جائے
پشاور میں قیامت صغریٰ
یہ کیا بات ہوئی، تیل کی قیمتوں کی کمی کے باوجود مہنگائی کا عذاب جوں کا توں
جیو کی خواتین رپورٹرز سے پی ٹی آئی کی مسلسل بدسلوکی
ملالہ کیلئے نوبل امن انعام اور سوشل میڈیا
 
عمران خان، ذرا ٹھہریں، نوشتہء دیوار تو پڑھ لیں
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 41 )
پشاور میں قیامت صغریٰ
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 28 )
جیو کی خواتین رپورٹرز سے پی ٹی آئی کی مسلسل بدسلوکی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 17 )
اور لاش مل گئی!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 13 )
سرکاری کالجوں میں بس اک تعلیم نہیں، باقی تو سب کچھ میسر ہے!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  جیلوں کی سیکیورٹی سخت کی جائے   
.....سید شہزاد عالم......
وزیر اعظم نواز شریف نے دہشت گردوں کیلئے سزائے موت پر عائد پابندی ختم کردی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے جسے بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔ دہشت گردوں کا نیٹ ورک اس قدر طاقتور ہو گیا تھا کہ انسداد
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (1)

 

  پشاور میں قیامت صغریٰ   
.........جویریہ صدیق.........
پشاور میں 16دسمبر کی صبح کتنی ہی ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کو اٹھایا ہوگا کہ بیٹا اٹھ جاؤ ہاتھ منہ دھو لو، میں ناشتہ بنا رہی ہوں اور کتنے ہی بچوں نے نرم گرم بستر کو چھوڑنے سے انکار کیا ہوگا۔ سردیوں کی صبح اٹھنا کتنا مشکل ہوتا
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (28)

 

  یہ کیا بات ہوئی، تیل کی قیمتوں کی کمی کے باوجود مہنگائی کا عذاب جوں کا توں   
......سیدعارف مصطفیٰ.....
عالمی کساد بازاری اس وقت اپنے عروج پہ ہے، تیل برآمد کرنے والی بڑی بڑی معیشتوں کی حالت خراب ہے اور اسکا مظہر وہ سست پڑجانے والا صنعتی و پیداواری عمل ہے کہ جس کےسبب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دھڑام سے منہ کے بل آگری ہیں۔
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (7)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy