لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
ہوشیار ،،، رمضان آرہا ہے ،،،!
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ اک ہی چیز کتنے لوگوں کے لیئے کتنی الگ الگ شناختیں رکھتی ہے،،، شاعر پھول دیکھے تو لطافت و نکہت کا خزینہ جانے عاشق کو اس میں محبوب کا چہرہ دکھائی دے ، گلفروش کے لیئے اس میں آمدنی کے امکانات چھپے ہیں جبکہ حکیم کے لیئے وہ صرف گلقند کا خام مال ہے اور بس ،،، اسی طرح کسی ایک چیز سے متعلق ان مختلف قسم کے معانی اور طرز احساس کا دامن بہت وسیع ہے ،،، حتٰی کہ ہمارے معاشرے میں تو ماہ رمضان بھی مختلف لوگوں کے لیئے مختلف معانی لیئے ہوئے معلوم ہوتا ہے اور اسکے مفاہیم کی وسعت کی لپیٹ میں ماہ مقدس بھی کئی رنگوں میں جلوہ گر ہوتا ہے ۔۔۔ نیکو کاروں کے لیئے یہ رحمت برکت اور مغفرت کا مہینہ ہے اور روزہ خوروں اور دنیا داروں کے لیئے یہ کڑی پابندیوں کا مہینہ ہے ،،، لیکن اسکا انتظار جو طبقے سال بھر اور بڑی شدت سے کرتے ہیں وہ یا تو اہل تقویٰ ہیں‌ کہ اس میں عبادت کا اجر و ثواب کئی گنا زیادہ ہے اور یا پھر اہل تجارت کہ اس ہی سیزن میں میں وہ لوگوں کی جیبوں سے زیادہ سے زیادہ مال جھڑواسکتے ہیں کیونکہ معاشرے کا ہر طبقہ افطار و سحر کے انتظامات اور پھر عید منانے کے لیئے اپنی بساط کے مطابق زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے پہ تل جاتا ہے ،،، یہ الگ بات ہے کہ اب بھی بہت سے لوگوں کے بس میں محض روزہ رکھنا ہی ہے ، افطار کے لیئے اہتمام کرنا انکے لیئے ممکن نہیں سو جو بھی سستی چیز ہاتھ لگے اسی سے روزہ کھول لیتے ہیں ایسے حالات میں عید کی خریداری تو انکے لیئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم ہرگز نہیں

لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ہم لوگ بڑی شدت سے روایت پرست ہیں اور برسہا برس سے اپنی اپنی ڈگر پہ رواں رہتے دکھائی دیتے ہیں اسی لیئے ہر برس رمضان کے موقع پہ حکومت مہنگائی پہ کڑی نظر رکھنے سے متعلق بیان بازی نہیں بھولتی اور تاجر ناجائز منافع خوری کو نہیں بھولتے ،،، ہردور میں اور ہر برس بڑی پابندی سے رمضان سے قبل یہ حکومتی عزم دہرایا جاتا ہے کہ "رمضان میں مہنگائی کو بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائیگی " لیکن چونکہ اس سے یہ اجازت لینے کوئی بھی نہیں آتا چنانچہ اسکی دانست میں تاجروں کی جانب سے گرانی ہوجانے کی وہ مطلق ذمہ دار نہیں دوسری طرف تاجر طبقہ بھی صارفین کی جیبیں جھڑوالینے کی اپنی روایت بڑی پابندی سے نبھائے جاتا ہے گویا ادھر اللہ میاں رمضان کا چاند دکھاتا ہے ادھر وہ خریداروں کو دن میں تارے دکھانے کا اہتمام کرلیتے ہیں ،،، لیکن ایک مسئلہ تو بہت گھمبیر ہے اور کسی طور قابل نظر اندازی نہیں کہ ہر برس رمضان میں اشیائے ضرورت اور اجناس کی بڑھی ہوئی قیمتیں ملکی آبادی کے سب سے بڑے حصے یعنی نچلے اور زیریں متوسط طبقے میں کہرام بپا کردیتی ہیں اور رمضان انکے لیئے خوشیوں کی سوغات کے بجائے قرضوں اور تفکرات کے انبار لیئے آتا ہے ،،، بازاروں میں متعدد ایسے مفلوک الحال لوگ اپنے اہلخانہ کے ساتھ تھکے ماندے گھسٹتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ وہ کوئی سستی سی چیز ڈھونڈنے کے لیئے بازار کے کئی کئی پھیرے لگا کر ہلکان ہوجاتے ہیں ۔۔۔ ان دنوں یہ منظرنامہ تو معمول کا حصہ ہی بن جاتا ہے کہ کسی من پسند چیز پہ بچے لپک رہے ہیں اور ماں باپ اپنے ضد کرتے معصوم بچوں کو کبھی پچکار کر تو کبھی دھمکا کر او دھکیل کر آگے سے آگے کھینچے لیئے جاتے ہیں ،،، اور نجانے کتنے ہی گھر ایسے ہیں کہ جہاں غربت کچھ یوں بال کھولے سو رہی ہے کہ آنگنوں میں عید اترتی ہی نہیں ۔۔

لیکن اسکے برعکس وہ اہل مغرب کہ زیادہ تر کافر کہلاتے ہیں انکے یہاں یہ معاملہ بالکل برعکس ہے ،،، انکے تہوار کے رنگوں سے سبھی طبقے یکساں لطف اٹھاتے ہیں کیونکہ انکی خوشیوں کے ان مواقع پہ اشیائے صرف کی قیمتیں معمول سے بھی کم ہوجاتی ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ وہاں کے غریب غرباء تو اپنے مذہبی تہواروں کے سیزن کا بڑی شدت انتظار کرتے ہیں کیونکہ اس موقع پہ انہیں قیمتوں میں کمی کے سبب اگلے کئی ماہ تک کی خریداریاں کرنے اور کفایت کرنے کے بھرپور مواقع میسر آجاتے ہیں ،،، گویا وہاں یہ تہوار اپنے پسماندہ طبقات کے لیئے واقعی مسرت و شادمانی کا پیغام لے کر آتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں ہر تہوار پہ نجانے کتنوں ہی کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور پھر یہ بیچارگی اپنا اثر دکھاتی ہے اور انہی تہواروں کے دنوں میں کتنے ہی بدحال لوگ اپنے پیاروں کی آنکھوں میں جھلکتی محرومیوں کی تاب نہ لاکر یا تو خودکشی کربیٹھتے ہیں یا پھر نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں ۔۔۔ یہ سب تماشا برسہا برس سے لگا ہوا ہے اور نجانے کبتک جاری رہے گا کیونکہ فی الوقت تو کوئی تبدیلی دور تک نظر نہیں آتی ،،، اب پھر رمضان سر پہ ہے اور اک بار پھر لگتا یہی ہے کہ پرانی روایت پھر سے دہرائی جائے گی ،،، حکومت یونہی بیانات کے جام پلاتی رہے گی اور ذخیرہ اندوز تاجر و دکاندار عوام کی کھال اتارنے کے لیئے یونہی ان پہ ٹوٹ پڑینگے اور انہیں بھنبھوڑ ڈالیں گے ،، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کبتک ہوتا رہے گا اور اسکا سدباب کب کیا جائےگا ،، کیا اس وقت تک کہ جب تک انقلاب فرانس کی مانند عوام محلات کی فصیلیں نہ گرادیں ،، لیکن اس وقت تک ان ارباب اختیار کے لیئے بہت دیر ہوچکی ہو گی ،،، بہتر یہ ہے کہ ابھی سے عوام کے درد کا احساس کرلیا جائے تاکہ سر پہ آتے رمضان کے ثمرات اور پھر عید کی خوشیوں کے رنگ معاشرے میں ہر طبقے تک پہنچ سکیں--

 
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 0 ) احباب کو بھیجئے
افغانستان کو انگور اڈہ چوکی کی چپ چاپ حوالگی
پیپلزپارٹی نے عمران خان کو ماموں بنا دیا
کیا وہ تاریک راہوں میں مارے گئے
امتحان نہیں ، اشتہار اُردو میں
مہنگائی کا علاج اور وہ بھی یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے ،،،؟
 
پیپلزپارٹی نے عمران خان کو ماموں بنا دیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 3 )
مہنگائی کا علاج اور وہ بھی یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے ،،،؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 )
کیا وہ تاریک راہوں میں مارے گئے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  افغانستان کو انگور اڈہ چوکی کی چپ چاپ حوالگی   
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ بے نیازی حد سے گزری ، بندہ پرور کب تلک ،،، حکومت نے ایک اہم نہایت انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کابینہ تک کو اعتماد میں لیینا مناسب نہیں ،،،

کتنی دلچسپ مگر ستم ظریفانہ بات ہے ،،، کہ کسی ملک کا وزیر داخلہ داخلہ اپنے ملک
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  افغانستان کو انگور اڈہ چوکی کی چپ چاپ حوالگی   
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ بے نیازی حد سے گزری ، بندہ پرور کب تلک ،،، حکومت نے ایک اہم نہایت انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کابینہ تک کو اعتماد میں لیینا مناسب نہیں ،،،

کتنی دلچسپ مگر ستم ظریفانہ بات ہے ،،، کہ کسی ملک کا وزیر داخلہ داخلہ اپنے ملک
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  کرپشن ۔۔عوام کا مصنوعی احساس محرومی   
عاقب علی ۔۔۔ کیا پاکستان میں کرپشن نہیں ؟،کیامیڈیا اور پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں صرف شور مچا کر کرپشن کو نعرے کی شکل دے رہی ہیں؟، معاشرتی افراط و تفرط اور عوام کا احساس محرومی مصنوعی ہے؟ ، کیا ملک میں بے روز گاری ،مہنگائی،اقربا پروری کا راج
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy