لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
سینیٹ انتخابات کا پیمانہ ، اصول یا وصول؟
......سید عارف مصطفیٰ.....
دنیا کو اپنی کارکردگی سے یک بیک حیران کردینے کیلئے پاکستانی کرکٹ ٹیم خواہ مخواہ ہی مشہور ہے جبکہ یہ صلاحیت تو ہمارے چند سیاستدانوں میں بھی بدرجہ اتم ہے ۔ آخر مثبت اقدار اور اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی یوں مخالفت کرنا بلکہ ڈٹ جانا کیا کسی اور ایسے معاشرے میں کہیں اور ممکن ہے کہ جسے جمہوری کہلانے کا بھی شوق ہو اور جو خود پر اخلاقی اقدار کی پاسداری کا لیبل بھی چسپاں کیئے پھرے ،،،! سینیٹ کے انتخابات کے سلسلے میں پی پی پی اور جے یو آئی کی جانب سے شو آف ہینڈ کی مخالفت کا معاملہ بھی کچھ اسی ذیل میں آتا ہے ۔۔۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ یہ زمانہ اب پہلے والا نہیں اور زمانے کی قوت بھی معمولی نہیں کیونکہ اسکی قسم تو رب کائنات نے بھی کھائی ہے اور صاف صاف بیان کیا ہے کہ انسان خسارے میں ہے۔۔۔ مگر کچھ لوگ ہیں جو کہ اپنے عمل سے اس حقیقت سے نظریں چراتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ وہ زمانہ جو پاکستانی عوام کیلئے زمانہء حال ہے، اب بھی چند اہل سیاست کیلئے زمانہء ماضی بنا ہوا ہے اور وہ گویا 90 کی دہائی کے یوٹوپیا میں جی رہے ہیں اور وہی پہلی کی سی چالاکیوں اور عیاریوں کو ہی اپنی سیاست کی اساس بنائے ہوئے ہیں جبکہ میڈیا کی چوکسی کے اس دور میں ماضی کے رابے میں زندہ رہنا اور پرانی شاطری سے لوگوں کو بیوقوف بناتے رہنا ناممکن نہیں تو اب حد درجہ مشکل ضرور ہوگیا ہے۔

سینیٹ کے الیکشن کے مرحلے کے آغاز ہی میں ایک بار پھر عوام کے سامنے ایسے ہی چند تلخ اور مکروہ حقائق برہنہ ہوکر سامنے آئے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں ایک 22 ویں آئینی ترمیم کی صورت ایک ایسے عمدہ اور اصولی اقدام کی مخالفت کی جسارت بھی دیکھنے اور سننے میں آرہی ہے کہ جو کسی طور بھی کسی مہذب و جمہوری معاشرے کے کسی رکن کے ہرگز شایان نہیں ،،، وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی یہ قدم جب ہی اٹھانا گوارا کیا کہ جب انکے حالیہ دورہء بلوچستان میں انہیں وہاں اپنی جماعت کے ارکان صوبائی اسمبلی میں سے بیشتر کی فروختگی کی ناقابل تردید شہادتیں ملیں اور ان ارکان نے اپنے دام کم لگنے کے خوف سے وزیراعظم کے طلب کردہ اجلاس ہی میں شرکت سے گریز کیا۔۔۔ بہر طور جیسے بھی سہی یا تحریک انصاف کے مطالبے پر ہی سہی، انہیں اس مسئلے کا دائمی و دیانتدارانہ حل نکالنے پہ مجبور ہونا ہی پڑا ،،، لیکن اس موقع پہ زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اسکی مخالفت کیئے جانے میں بھی کوئی اچنبھا نہیں۔

کوئی جے یو آئی کے امیر حضرت مولانا فضل الرحمان سے اور پی پی پی کے امیرالامراء ( بہتوں کے نزدیک لفظی نہیں معنوی اعتبار سے بھی ) سے یہ پوچھے کہ سینیٹ الیکشن میں ارکان اسمبلی کی کھلے بندوں اپنی رائے دینے میں آخر ایسی کونسی برائی مضمر ہے ، سوائے اسکے کہ نہ صرف انفرادی طور پہ ضمیر بیچنا ناممکن ہو جائے گا بلکہ جماعتی سطح پہ کم نشستیں رکھنے کے باوجود اپنی پارلیمانی اوقات سے کہیں زیادہ بڑے مفادات بٹورنےوالے مولانا فضل الرحمان صاحب جیسے’قائدین‘ کا دیرینہ دھندا بھی یکسر چوپٹ ہو جائے گا۔ اور اس بار تو زرداری صاحب کی نیا میں بھی مسافر بہت قلیل ہیں ، کون نہیں جانتا کہ زرداری صاحب کے دور حکومت میں تو بھاؤ تاؤ معاشی آرٹ کا درجہ حاصل کرگیا تھا۔۔ اب اگر انکا اقتدار انکی پارٹی اور صوبہ سندھ تک محدود بھی ہے تو اس آرٹ کے کچھ نا کچھ جلوے تو اب بھی جھلکتے رہنا ایسا کوئی حیران کن امر نہیں۔۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اب یہی مرحلہ تو انکی جوڑ توڑ کی کرشماتی صلاحیتوں کے امتحان کا اصل وقت ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں کی پاکستانی سیاست پہ معمولی سی نظر رکھنے والے ہرفرد کو یہ حقیقت بخوبی معلوم ہے کہ کسی اصولی معاملے پہ کوئی الٹی قلابازی کھا جانا نہ تو مولانا فضل الرحمان کیلئے کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی جناب زرداری کیلئے ، بلکہ یہ دونوں حضرات تو اس میدان ہی کے’اصل مرد‘ شمار کیئے جاتے ہیں، ہر دو نے اے آر ڈی، یو ڈی ایف اور بعد کے سیاسی معاملات میں اپنے یہ ہنر خوب خوب آزمائے ہیں اور مشرفی دور میں تو اس فن کو درجہء کمال تک پہنچادیا تھا ۔ پرویز مشرف کو وردی میں دوبارہ صدر منتخب کروانے کیلئے شاید اتنی مشقت چوہدری برادران نے بھی نہیں کی ہوگی جتنی مولانا فضل الرحمان کو کرنی پڑی تھی اور متحدہ مجلس عمل کو اپنے اغراض و مقاد کا اسیر محض بناکر رکھ دینے کی اس شاطری سے عاجز ہوکر ہی قاضی حسین احمد بالآخر ان سے اپنی راہیں الگ کرنے پہ مجبور ہوگئے تھے، اسی طرح پاکستان واپسی اور انتخابی دوڑ میں شام ہونے کیلئے اور اپنے مالی بدعنوانی کے کیسز کے خاتمے کیلئے زرداری صاحب نے ڈکٹیر کی بارگاہ سے این آر او جیسے سیاہ قانون کو منظور کرواکے اپنی ،مفاہمانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا تھا۔

البتہ اس اعتبار سے مولانا کو زرداری صاحب پہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ ایک نہایت مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک ایسے انتہائی اصول پرست سیاستدان یعنی مولانا مفتی محمود کے فرزند ہیں کہ جس نے ملکی سیاست میں اپنی راست فکری سے بہت بلند مقام حاصل کیا تھا اور بہت سے لوگوں کی رائے میں مولانا سیاست میں اپنے اسی بلند مرتبہ خاندانی پس منظر کے فوائد سمیٹتے رہے ہیں لیکن انہوں نے اپنی طرز سیاست کو قطعی برعکس خطوط پہ استوار کیئے رکھا ہے ، انکے پاس اور دنیا بھر میں ان جیسی طرز فکر کے حامل افراد کے پلے انکے ہر غلط عمل کی کوئی نا کوئی توجیہہ ضرور موجود ہوتی ہے اور انہیں اسکی کبھی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ اس سے کتنے لوگ اتفاق کرینگے،،، اب اسی کو دیکھ لیجئے کہ کیا یہ مقام سینہ چاک کرنے اور سر پیٹنے کا نہیں کہ ممبران کی خرید و فروخت روکنے کیلئے خفیہ رائے دہی کی جگہ برملا شو آف ہینڈ جیسے مثبت اور صائب اقدام کی مخالفت کیلئے آصف علی زرداری نے دلیل یہ دی ہے کہ یہ وقت اس کام کیلئے موزوں نہیں ہے رہے ، کوئی جاکے ان موصوف سے یہ پوچھے کہ نکاح کی بات بارات کے موقع پہ نہیں ہوگی تو پھر کب ہوگی اور سینیٹ کے الیکشن کے موقع پر اسکے معاملات میں شفافیت لانے کے اقدام کیلئے اس سے زیادہ موزوں وقت بھلا اور کونسا ہوگا۔ رہے مولانا فضل الرحمان تو وہ تو اس مد میں اور بھی آگے بڑھ گئے اور انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک خاص جماعت کی جانب سے آنے والے ایجنڈے کی حمایت نہیں کرسکتے، مزید توجیہ یہ عطا کی کہ اس سے ارکان کی کمزوری ثابت ہوتی ہے اور انکی وفاداری پہ حرف آتا ہے، ہے نا دھاڑیں مار مار کر ہنسنے اور ٹھٹھے مار مار کر رونے کی بات ۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ زرداری صاحب کی مانند مولانا کی جماعت میں بھی انکا اشارہء ابرو ہی جماعتی ضابطے کا درجہ رکھتا ہے اور یہ امکانات قطعی معدوم ہیں کہ کوئی ’گستاخ‘ رکن ، جمعیت میں کسی سطح پہ پنپ جائے،،، اسکے لیئے زیادہ سے زیادہ یہی ممکن ہے کہ مولانا عصمت اللہ کی طرح الگ دھڑا بنا کر بیٹھ رہے، اسی خاص’نظم و ضبط‘ کے باعث پی پی پی کی طرح جمعیت علمائے اسلام بھی ایسے حاشیہ نشینوں سے بھری پڑی ہے کہ جو مولانا فضل الرحمان کی من مانی تشریحات ، کہ مکرنیوں اور قلابازیوں کو انکی سیاسی بصیرت قرار دیتےنہیں تھکتے ،،،خواہ افغانستان کو بھیجے جانے والے ڈیزل کے پرمٹوں کا معاملہ ہو، یا 6 ہزار ایکڑ فوجی اراضی لیز پہ دبوچ لینے کا اسکینڈل ، یا انکے وزیر ہاؤسنگ کاکڑ پر لگائے جانے والے بھاری مالی بدعنوانی کے الزامات، یا بدترین کنبہ پروری کی مثالیں ، انکے دامن پہ متعدد بار ایسے کئی داغ لگتے رہے ہیں لیکن انہوں نے انکی کبھی پرواہ نہیں کی اور وہ بڑے اطمینان سے اپنی حکمت عملی پہ عملدرآمد جاری رکھتے ہیں۔

اب بھی جبکہ 22 ویں آئینی ترمیم کی صورت میں سیاسی وفاداریوں کی خرید و فروخت کے انسداد کا مناسب بندوبست کیا جارہا ہے تو مولانا اور حضرت زرداری اس کے نتیجے میں اپنی چودہراہٹ کو خطرے میں پڑتے دیکھ کر تلملا رہےہیں اور بےاصولی کو اصول بنائے رکھنے کے اپنے پرانے طرز عمل پہ نظر ثانی کرنے کیلئے ذرا بھی تیار نہیں ، اس ضمن میں یوں تو ان تمام جماعتوں کا موقف لائق ستائش ہے کہ جنہوں نے اس ترمیم کی حمایت کا کھل کر اعلان کیا ہے مثلاً جماعت اسلامی ، ایم کیو ایم اور اے این پی وغیرہ لیکن سب سے زیادہ قابل تحسین طرز عمل تحریک انصاف کی جانب سے دیکھنے میں آیا کہ جو اس اقدام کی حمایت میں اس ناقابل یقین حد تک آگے جاتی نظر آئی کہ اسکی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو وہ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں واپس آکر بھی اپنا کردار نبھانے کو تیار ہے۔

میرا خیال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اس جذبے کی ازحد پزیرائی کی جانی چاہئے اور حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے اس مثبت تعاون کا بھرپور خیرمقدم کیا جانا چاہئے۔ ادھر میڈیا، قانونی حلقوں اور سول سوسائٹی کے سرکردہ اصحاب کو بھی اس ضمن میں اہل سیاست اور ارباب پارلیمنٹ کیلئے ایک پریشر گروپ کے طور پہ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اس جائز آئینی ترمیم ( جو کہ وقت کی ضرورت ہے ) کو منظور کرونے کیلئے ہرممکن کوشش کرنی ہوگی تاکہ سینیٹ ہی سے سہی مگر اس غلیظ اور بدبودار ہارس ٹریڈنگ کی لعنت کا خاتمہ کرنے کی کوئی تو شروعات کی جاسکے۔

ایک امکان یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ دونوں قائدین اس مخالفت کی آڑ میں خود کو منانے کی قیمت کے طور پہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے مناصب کا حصول چاہتے ہیں گویا یہ وہی پرانا کھیل ہے جو یہ حضرات گزشتہ کئی برسوں سے کھیلتے چلے آئے ہیں، تاہم مولانا فضل الرحمان اور زرداری صاحب کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اب یہ دس بیس سال پرانا والا زمانہ نہیں،،،اس دور نو میں عوام بھی غافل نہیں اور میڈیا بھی بیحد مستعد ہے لہٰذا انہیں بھی اب اپنی سوچ اور طرز عمل کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا ورنہ ماضی قریب میں انہیں انتخابی میدان میں عوام کے ہاتھوں متعدد جگہ مسترد کیئے جانے کی شکل میں جو صدمے اٹھانے پڑے ہیں انکی رفتار اب مزید تیز تر ہوجائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر انکے اطوار نہ بدلے تو سلطانیء جمہور کے اس نئے دور میں مستقبل قریب میں انکے نام سیاسی سلیٹ ہی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیئے جائیں۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 0 ) احباب کو بھیجئے
شاہینوں کی جیت اور سوشل میڈیا
قومی ٹیم پہلی جیت کی منتظر
اسحاق امین شہید
آسامیاں خالی ہیں، فوری اپلائی کریں!
شیر دل اور بہادر شہید عباس علی
 
سلام ان قوموں کوجو جستجو کرتی ہیں
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 13 )
پاک انڈیا ٹاکرا،جانے کب آئیگاوہ دن؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
ویلنٹائین ڈے یا مسئلہ کشمیر؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کے بابوں کو کہیے ۔۔۔ بائے بائے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 10 )
شیر دل اور بہادر شہید عباس علی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 9 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  شاہینوں کی جیت اور سوشل میڈیا   
..... جویریہ صدیق......
آخرکار شاہینوں نے ورلڈ کپ کرکٹ میں پہلی فتح حاصل کر ہی لی۔
قومی کرکٹ ٹیم کی پہلے دو ورلڈ کپ میچز میں کارکردگی نے قوم کو مایوس کردیا تھا اور پاکستان زمبابوے میچ سے بھی امید بہت کم تھی۔ شائقین نے صبح میچ دیکھنا شروع کیا
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (1)

 

  اسحاق امین شہید   
..... جویریہ صدیق.....
آرمی پبلک اسکول کا ایک اور پھول مرجھا گیا۔میاں اسحاق امین اپنے بھائی میاں عامر امین کے ساتھ معمول کے مطابق آرمی پبلک سکول و کالج ورسک روڈ کےلیے روانہ ہوا۔16دسمبر کو دونوں ہی بھائیوں کا پرچہ تھا۔اسحاق سیکنڈ ائیر پری میڈیکل اور میاں عامر سیکنڈ ائیر پری
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (3)

 

  آسامیاں خالی ہیں، فوری اپلائی کریں!   
.....سید شہزاد عالم......
مشکلات میں گھری ایک مشہور و معروف کرکٹ ٹیم کو آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ میں رنز بنانے کے لئے کھلاڑی درکار ہیں۔ امیدواروں کا تعلق اس ٹیم کے ملک سے ہونا ضروری ہے۔ عمر کی کوئی حد نہیں لیکن پچھلے ورلڈ کپ میں حصہ
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (8)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy