لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
جویریہ صدیق ۔۔۔ پہلے جب لوگ سیر و تفریح پر نکلا کرتے تھے تو یہ چیک کرتے تھے کہ گاڑی ٹھیک ہے پیٹرول مناسب مقدار میں موجود ہے، کھانے پینے کی اشیاء رکھ لی ہیں ۔جاتے وقت بازار سے کیمرے میں فلم کا رول ڈلوایا جاتا تھا اور تیس سے پینتیس تصاویر پورے ٹرپ کے لئے کافی ہوتی تھیں ۔جن لوگوں کے پاس کیمرہ نہیں ہوتا تھا وہ تفریحی مقامات پر فوٹو گرافرز سے تصاویر بنوایا کرتے تھے جو اس ہی وقت تصاویر دھلواکر سیاحوں کو دے دیتے تھے۔

پھر ٹیکنالوجی میں جدت آئی ڈیجیٹل کیمرے آئے اس کے بعد فونز میں کیمرے آنا شروع ہوگئے جس نے فوٹوگرافی کو عام صارفین کے لئے بہت آسان بنادیا۔سستے سے سستے فون میں بہترین کیمرہ موجود ہے جس سے اعلی کوالٹی کی تصاویر کھینچی جاتی ہیں۔2009 کے بعد سے فیس بک پاکستان میں بہت زیادہ مقبول ہوئی۔اس میں موجود فیچرز انسان کو خودبخود مجبور کرتے ہیں کہ تصاویر یا ویڈیوز اپ لوڈ کی جائیں ۔پہلے یہ کام مشکل تھا تصاویر کھینچی انہیں پرنٹ کریا جائے پھر سکین کرکے کمپیوٹر سے اپ لوڈ کیا۔

پر سمارٹ فونز نے یہ کام بہت آسان کردیا تصاویر کھینچی اور فون پر موجود فیس بک ایپ پر سیکنڈز میں اپ لوڈ کردی۔فیس بک کے بعد ٹویٹر،انسٹاگرام،وٹس ایپ اور سنیپ چیٹ نے بھی صارفین کو بڑی تعداد میں اپنی طرف راغب کیا۔اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ بہت سے لوگ صبح کی اپ ڈیٹ فیس بک پر پوسٹ کرتے ہیں دوپہر کی انسٹاگرام اور شام کی مصروفیات کا احوال ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہیں ۔

چونکہ یہ تمام ایپس تصاویر اور ویڈیوز کو بہت آسانی سے اپ لوڈ کردیتی ہیں اور فری سٹوریج سپیس بھی ہیں تو ان ایپس نے تمام ہی صارفین کو خوبصورت تصاویر اور انوکھی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کی ایک دوڑ میں لگا دیا ہے۔کچھ صارفین مختلف قدرتی مناظر کی تصاویر بھی لگاتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ اپنی تصاویر لگاتے ہیں تاکہ ان کے فیس بک فرینڈز اور ٹویٹر انسٹاگرام پر فالورز ان کی سرگرمیوں سے واقف رہیں اور ان کو سراہیں ۔

اس ہی تصاویر کی دوڑ نے سیلفی کو جنم دیا موبائل ہاتھ میں لیا فرنٹ کیمرہ اوپن کیا اور سینکڑوں تصاویر لی ڈالی ۔انہیں ایپس نے مختلف فلٹرز بھی متعارف کروارکھے ہیں ۔جنہیں استعمال کرکے صارفین اپنی تصاویر کو مزید نکھار کر اپ لوڈ کرتے ہیں اور ان کے فیس بک فرینڈز اور فالورز تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں ۔ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سب ہی اس ہیجان میں مبتلا کردیا۔باتھ رومز میں،کچن میں،بستر پر سے ،کھانا کھاتے ہوئے،گاڑی چلاتے ہوئے،خریداری کرتے ہوئے یہاں تک نیکی کرتے ہوئے بھی سلیفز کھینچ لی جاتی ہیں ۔

سیلفی کا یہ بڑھتا ہوا رجحان معاشرے میں بہت سے سانحات کو جنم دئے رہا ہے۔فیس بک ٹویٹر انسٹاگرام پر سب اچھا لگنے کی خواہش میں لوگ اپنے آپ کو خطرے میں بھی ڈالنے سے گریز نہیں کرتے ۔پہلے ایسے واقعات کی خبریں دیگر ممالک سے آتی تھیں کہ سانپ کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے آدمی کو سانپ نے کاٹ لیا تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل ۔ شہد کی مکھیوں کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے چہرے پر مکھیوں نے کاٹ لیا تصویر لینے والا ہسپتال پہنچ گیا ۔

پر اب یہ واقعات پاکستان میں بھی بڑھتے جارہے ہیں ۔دو افسوسناک واقعات میں پانچ افرادموت کےمنہ میں چلےگئے۔وجہ صرف سیلفی ٹہری۔اپنے ٹرپ کو یادگار بنانے کے لئے تصاویر لینا اچھی بات ہے یہ زندگی بھر کی یادیں ہوتی ہیں لیکن اس کے لئے زندگی ہی داو پر لگا دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔جب ہمارے بیشتر تفریحی مقامات پر لائف گارڈز کی سہولت موجود ہی نہیں تو جو تیراکی نہیں جانتے وہ پانی کے قریب کیوں جاتے ہیں۔

راول ڈیم،سملی ڈیم اور خان پور ڈیم میں کشتی رانی کی اور جیٹ سکینگ کی اجازت دے رکھی ہے مجھے اکثر سیاحوں کو اس طرح بنا حفاظتی انتظامات کے تفریح کرتا دیکھ اور تصاویر بناتا دیکھ خوف آتا ہے۔

خاص طور پر نئ نسل میں سیلیفی کا رجحان بہت زیادہ یے۔دن میں پانچ سے چھ تصاویر تو وہ ضرور پوسٹ کرتے ہیں ۔جس کا مقصد خودنمائی ہے اور اپنے لئے کچھ لائکس اور کمنٹس سمیٹنا ہے۔پوسٹ کریں تصاویر لیکن ایک ہی زاویہ میں بیس بیس پچیس تصاویر پھر ان پر فلٹر لگانا کتنا وقت کا ضیاع ہے۔مختلف تفریحی مقامات پر بھی تصاویر لیتے ہوئے پھر انہیں فلٹر کرکے فیس بک پر اپ لوڈکرتے ہوئے لوگ ان حفاظتی حدوں کو عبور کرجاتے ہیں جوکہ انتظامیہ نے سیاحوں کے لئے مقرر کررکھی ہیں۔جس کے باعث حادثات جنم لیتے ہیں ۔

سیلفی کے جنون کو کوئی اور نہیں ہر شخص خود ہی کم کرسکتا ہے۔کسی جگہ پر گھومتے ہوئے اسے فون کی نہیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں ۔تصاویر لیں لیکن خود کو خطرے میں ڈالے بنا۔کھانا خود کھائیں انسٹاگرام پر فالورز کو نہیں بھی معلوم ہوا کہ آپ نے کیا کھایا تب بھی کھانے کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوگا۔انٹرنیٹ کا استعمال صرف ضرورت کے وقت کریں ۔اپنے اردگرد دیکھیں کہ ہر وقت فون نیٹ اور سلفیز کے جنون نےآپ کو اپنے پیاروں سے کتنا دور کردیا ہے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Twitter @javerias



 
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 0 ) احباب کو بھیجئے
سسکتی پاکستانیت اور بھارتی پروپیگنڈہ
ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار ۔۔۔
مزے برسات کے۔۔۔
عوام کےدل بہتر کارکردگی سے ہی جیتے جاسکتے ہیں
ایدھی صاحب اب بھی زندہ رہ سکتے ہیں ۔۔۔؟؟
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  سسکتی پاکستانیت اور بھارتی پروپیگنڈہ   
محمد زابر سعید بدر.... موجودہ دور ابلاغ عامہ کا ہے اور اس کے تصورات اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ بیس سال پہلے کے ذرائع ابلاغ کا تصور بھی اب عجیب سا لگتا ہے‘ بے شمار ٹیلی ویژن چینل‘ لاتعداد ریڈیو سٹیشن‘ انٹرنیٹ کا اب ایک ہتھیلی میں سما
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  سسکتی پاکستانیت اور بھارتی پروپیگنڈہ   
محمد زابر سعید بدر.... موجودہ دور ابلاغ عامہ کا ہے اور اس کے تصورات اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ بیس سال پہلے کے ذرائع ابلاغ کا تصور بھی اب عجیب سا لگتا ہے‘ بے شمار ٹیلی ویژن چینل‘ لاتعداد ریڈیو سٹیشن‘ انٹرنیٹ کا اب ایک ہتھیلی میں سما
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار ۔۔۔   
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ ہندوستان سے آئے میرے بھارتی مہمان کا منہ حیرت سے کھلا تھا اور آنکھیں پھٹی پھٹی سی تھیں ، وہ 10 اگست کی رات میرے بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل پہ ناظم آباد سے اپنے ایک اور رشتہ دار سے ملنے شہر کے
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy