……سید شہزاد عالم…… جب سے پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور پاکستان نے امریکہ کے خلاف افغانستان کے حوالے سے ایک واضح موقف اختیار کیا ہے اور نیٹو سپلائی بند کی ہے، مزید یہ کہ پاکستان علاقائی قوتوں خصوصا روس اور ایران کے ساتھ اقتصادی اور معاشی تعاون کے امکانات تلاش کر رہا ہے جس میں اسے چین کی حمایت بھی حاصل ہے، پاکستان ایک بار پھر امریکی نشانے کی زد میں آتا دکھائی دے رہا ہے اور محسوس یہی ہورہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے خلاف بلوچستان میں انسانی اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ایک مضبوط کیس کی تیاری میں مصروف ہے۔ امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی نے پاکستانی فورسز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں اور کہا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے مارو اور ٹھکانے لگاؤ آپریشن کیاجارہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ پاکستانی فورسز یہ کام امریکی ہتھیاروں کی مدد سے کر رہا ہے۔ ایک امریک رکن کانگریس نے کہا کہ بلوچستان شورش زدہ علاقہ ہے جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، لیکن اسٹراٹیجک لحاظ سے بہت اہم علاقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو بھی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔رکن کانگریس کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس پہلی کڑی ہے،اس قسم کے مزید اجلاس منعقدکیے جائیں گے۔ دوسری طرف ا امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بلوچستان کے معاملے پر امریکا کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔ ا مریکا نے آزاد بلوچستان کے مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریق پاکستان کے اندر رہتے ہوئے اپنے اختلافات پرامن طریقے سے دور کریں۔ خارجہ امور سے متعلق مختلف معاملات کانگریس کی کمیٹیوں میں زیر بحث آتے رہتے ہیں لیکن یہ تاثر نہیں لیا جانا چاہئے کہ ان سے امریکی حکومت بھی متفق ہو۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان کے معاملے پر خارجہ امور کمیٹی کا جو اجلاس ہوا وہ اس سے آگاہ ہیں لیکن محکمہ خارجہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اس میں محکمہ خارجہ کی طرف سے کسی نے شرکت کی۔ امریکی ترجمان کی وضاحت اپنی جگہ لیکن یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں اس کمیٹی کے خیالات و سفارشات امریکی حکومت کی پالیسی بن جائے اور کوئی پاکستان مخالف بل کانگریس میں پیش ہو جائے چنانچہ امریکی کانگریس میں جاری ایسی سرگرمیوں سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کا تعلق پاکستان کے ایک انتہائی حساس معاملے سے ہے۔ہم پاکستان کے پالیسی سازوں اور ارباب اختیار سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ بلوچستان کے معاملے کو جلد از جلدپر امن طریقے سے حل کیا جائے اوربلوچستان کی عوام کی محرومیوں پر چاہے وہ سیاسی ہوں یا معاشی یا سماجی ہوں فوری توجہ دی جائے۔ امریکی خارجی امور کمیٹی کی سرگرمیوں کو خطرے کی گھنٹی سمجھا جائے اورکم سے کم وقت میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہوئے اصلاح و احوال کی کوششیں کی جائیں اور پاکستانی عوام کو ان تمام معاملات سے آگاہ رکھا جائے۔
……عبدالماجد بھٹی…… اسٹار بیٹسمین یونس خان کے لئے متحدہ عرب امارات کے میدان کئی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔انہی گراونڈز میں انہیں خوشیاں بھی ملیں اور غم بھی،یونس خان من موجی کرکٹر ہیں۔اگر ان کا دل چاہے تو گھنٹوں کھلے سمندر میں مچھلی کا شکار کرتے ہیں۔مرضی ہوتو کرکٹ سے
.......سید شہزاد عالم........ پاکستان کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کی ٹیم کو تیسرے ٹیسٹ میچ میں شکست سے نہ صرف ہمکنار کیا بلکہ وائٹ واش کرکے ایک نئی تاریخ بھی رقم کردی اور یہ کارنامہ انجام دینے والی پہلی ایشیائی ٹیم بن گئی۔ متحدہ عرب امارات آنے سے قبل انگلینڈ نے ایسے
عام طور پر سماجی تبدیلی سے مراد سماجی اور معاشی نظام کی تبدیلی ہوتا ہے۔ ہر نظام میں کسی نہ کسی حد تک ناہمواری ہوتی ہے۔ جب ناہمواری ناقابل برداشت ہو جائے تو عوام تبدیلی کے لئے آواز بلند کرتے ہیں۔ ہمارا موجودہ معاشرہ بوسیدہ اور جمود کا شکار ہوچکا
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited Privacy Policy