لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
یہ فیصلہ ہے کہ ہر شہر، ہر نگر کو بچا کے دم لیں گے
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ کراچی میں 26 جون کو 3 گھنٹے تک جاری رہنے والے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے دو ٹوک انداز میں دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک کراچی آپریشن کے جاری رہنے کے اعلان کو دہرایا اور کہا کہ اس ہدف کو ہر قیمت پہ حاصل کیا جائے گا - یوں دہشتگردوں کو حتمی شکست دینے کے عزم کا ایک بار پھر بھرپور اعادہ ہوا ہے کیونکہ جنرل راحیل شریف نے عروس البلاد کو تین دہائی قبل کے زمانے کا امن لوٹانے کا تہیہ کرلیا ہے اور اگر شہر کے سب اسٹیک ہولڈروں نے تعاون کیا تو اس ہدف کا حصول ناممکن بھی نہیں

بلاشبہ اس اہم اجلاس کی ضرورت کافی دن سے محسوس کی جا رہی تھی کیونکہ کراچی میں امن و امان کی صورت ایک بار پھر روبہ زوال ہوچلی ہے اور اس حوالے سے ہفتہء رفتہ میں تو امن و امان کا بگاڑ بہت زیادہ بڑھ گیا جس سے ایک بار پھر عروس البلاد اندھیروں کے نرغے میں جاتا محسوس ہو رہا تھا ،،، اغواء ، قتل اور جلاؤ گھیراؤ کی جو وارداتیں پہلےبہت کم ہو چلی تھیں ، اب جیسے انہوں نے پھر سے سر ابھار لیا ہے ،،، اسٹریٹ کرائمز تو پہلے بھی کم نہ ہوئے تھے لیکن اب تو نوبت یہ ہوئی کہ کراچی میں پہلے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے جواںسال صاحبزادے اویس علی شاہ کو دن دیہاڑے اغواء کیا گیا اور پھر دو روز بعد معروف قوال امجد صابری برسر عام بھری شاہراہ پہ نامعلوم قاتلوں کی فائرنگ کا نشانہ بنکر اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔۔۔ اور اسکے اگلے ہی روز شہر کے تین کاروباری مقامات پہ آتشزنی کی پراسرار وارداتوں کی اطلاعات ملیں کہ جن میں تخریب کاروں کے ہاتھوں کروڑہا روپے مالیت کا سامان و اسباب جلا کے خاکستر کر دیا گیا ۔۔۔ ان سارے واقعات میں امجد صابری کا قتل تو گویا ایک تازیانہ ثابت ہوا ہے کیونکہ وہ ایک ایسے شخص کا قتل ہے کہ جس کے کسی سے اختلافات نہ تھے اور نہ ہی کسی سے کوئی دشمنی تھی اور انکا عظیم الشان جلوس جنازہ انکی بے پناہ مقبولیت کا بھرپور ثبوت دیتا نظر آیا

ان پے درپے ہائی پروفائل جرائم کی وارداتوں کے بعد سے شہر کراچی ایک بار پھر شدید خوف و ہراس کی لپیٹ میں آچکا ہے اور اہل شہر خود کو قطعی غیر محفوظ سمجھنے اور تخریب کاروں و قاتلوں کے رحم و کرم پہ لاچار کردیئے گئے محسوس کر رہے تھے - کراچی آپریشن بھی تھکاوٹ کا شکار ہوتا محسوس ہورہا تھا اور شہری یہ دیکھ رہے تھے کہ ویسے تو ہرطرف کڑکتی یونیفارمیں اور کھڑکتے ہتھیار بھی کم نظر نہیں آتے اور قانون نافذ کرنے والے ادروں کے اہلکاروں سے لدے ٹرک جیپیں اور بکتربند گاڑیاں بھی شہر کے منظرنامے کا گویا مستقل حصہ ہی بن گئے ہیں لیکن جرائم کا ویسے قلع قمع نہیں ہوا جیسی کے توقع تھی اور حکام کی طرف سے جس کی بابت بڑھ چڑھ کے دعوے کیئے تھے - اس حالیہ خصوصی اجلاس سے یقینناً کراچی آپریشن میں وہ تازگی اور قوت آسکے گی کہ جو اشد مطلوب تھی اور خصوصاً یہ بات بڑی اہم ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی مانند کراچی آپریشن میں بھی دہشتگردوں اور مجرموں کے ساتھ ساتھ انکے سہولت کاروں کے انسداد کی بھی واضح ہدایت کی گئی - گویا امن امان کے لیے سوچ و بچار اور فصلوں کے حوالے سے یہ اجلاس ناگزیر تھا لیکن اسکے حقیقی فوائد کے سامنے آئے بغیر اسکی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا

آخر میں یہ عرض کرنا لازمی سمجھتا ہوں کہ کراچی میں آپریشن کی کامیابی اور امن کے قیام کی ضمن میں پولیس کے کردار پہ توجہ دینا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ اسکے بغیر آپریشن کے مثبت نتائج حاصل کرنا کبھی ممکن نہ ہوگا - مبینہ طور پہ زیادہ تر پولیس اہلکار سیاسی بھرتیوں اور رشوت کے بل پہ اپنی نوکریاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور شہر میں جرائم کے خاتمے کے بجائے ان میں اضافے اور مجرموں و دہشتگردوں کی سرپرستی کو ضروری سمجھتے ہیں کہ جس سے انکی آمدنی میں روز افزوں اضافہ ممکن ہوتا ہے - اس افسوسناک صورتحال کی وجہ سے پولیس کے محکمے میں انقلابی تبدیلیاں لانے اور مجرموں‌کی سرپستی کرنے والوں کی زبردست چھٹائیاں کرنے کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ رینجرز بالآخر مجرم پکڑ کے باقی قانونی کارروائی کے لیئے پولیس کی تحویل میں دیدیتی ہے اور وہاں غلط تفتیش اور چالان میں جان بوجھ کے کیئے جانے والے سقم و نقائص کے باعث مجرموں کی بھاری اکثریت عدالتوں سے چھوٹ جاتی ہے- اب وقت آگیا ہے کہ پولیس کو سیاسی کارکنوں سے پاک کیا جائے اور لائق و محنتی افراد کے تقرر کے علاوہ تمام معاوضے و مراعات کے بڑے حصے کو نتائج کے حصول سے منسلک کردیا جائے اور اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے کہ سرفروش و بہادر اور فرض شناس اہلکاروں کو اچھی کارکردگی پہ خاطر خواہ خطیر انعامات دیئے جائیں اور ساتھ ہی پولیس کے فنڈز کو ہڑپ کرنے والے افسران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور گزشتہ دنوں ایک آڈٹ رپورٹ میں کی گئی نشاندہی کے مطابق گزشتہ 3 برسوں کے دوران سندھ پولیس کےفنڈزمیں ہونے والی پونے 3 ارب روپے کی خرد برد کے ذمہ دارن کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے

کیونکہ اس پہ کوئی پکڑ دھکڑ یا پیش رفت تاحال سامنے نہیں آسکی ہے اور قومی خزانے کو اس قدر سخت نقصان پہنچانے والے مجرمین کی سرکوبی کے بغیر پولیس کے محکمے کی اصلاح قطعی ناممکن ہے.  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 0 ) احباب کو بھیجئے
چلتے ہو تو بازار کو چلیئے
یوم باب الاسلام کے کئی اہم پہلو
کیا عدلیہ میں اردو کے نفاذ کی ضرورت نہیں ۔۔۔؟؟
تتلی کی طرح منڈلاتا محمد علی
افغانستان کو انگور اڈہ چوکی کی چپ چاپ حوالگی
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  چلتے ہو تو بازار کو چلیئے   
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ بازار جانا ہمارے تابش بھائی کو ہمیشہ سے بہت مرغوب رہا ہے، پہلے کبھی کبھی ہم بھی ساتھ لگ لیتے تھے ،لیکن وہ تو چونکہ بہت پہنچے ہوئے ہیں اس لیئے اکثر ہی وہاں پہنچے رہتے ہیں اور جب کبھی ہم اکیلے بھی گئے تو وہ
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  چلتے ہو تو بازار کو چلیئے   
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ بازار جانا ہمارے تابش بھائی کو ہمیشہ سے بہت مرغوب رہا ہے، پہلے کبھی کبھی ہم بھی ساتھ لگ لیتے تھے ،لیکن وہ تو چونکہ بہت پہنچے ہوئے ہیں اس لیئے اکثر ہی وہاں پہنچے رہتے ہیں اور جب کبھی ہم اکیلے بھی گئے تو وہ
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  تتلی کی طرح منڈلاتا محمد علی   
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ لیجینڈ باکسر محمدعلی بھی ابدی سفر پہ روانہ ہوئے ،،، اس منزل کی طرف کہ جہاں بالآخر سبھی کو جانا ہے لیکن وہ دنیا کے ان چند لوگوں میں سے تھے کہ جنہوں نے شہرت کی تمامتر بلندیوں کو چھوا اور دنیا کے بیشتر لوگوں کے
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy