لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
مذاق اڑاتےاڑاتے ہم خود مذاق بن گئے
......اشعر زیدی......
بات تلخ ہے مگر ہے سچ ،،،، ہم نے اپنے بنگالی بھائیوں کو نہ کبھی صحیح طرح عزت دی،،،،نہ ان کے حقوق ادا کئے،،،،اور نہ ہی اپنے برابر سمجھا،،،بلکہ ہمیشہ ان کا مذاق اڑایا،،،،

اس حقیقت میں تو کوئی شک کیا ہی نہیں جاسکتا کہ بنگالی ،،پاکستان سے نہ صرف محبت کرتے ہیں ،،،بلکہ پاکستان کی تشکیل میں ان بڑا ہاتھ تھا،،،تحریک پاکستان مین خواجہ ناظم الدین اور حسین شہید سہروردی جیسے نامور بنگالی رہنمائوں نے کلیدی کردار ادا کیا ،،،،، لیکن اس محبت ،،قربانی اور وفاداری کے باجودکیا مغربی پاکستان اپنے مشرقی بھائیوں کو ان کے حقوق دینے کےلئے تیار تھا،،،شاید نہیں۔

ہم نے شاید بنگالیوں کی کسی کو چیز کو بھی نہیں سراہا ،،،زبان کو تو ہم نے پس پشت رکھ ہی دیا تھا،،ان کے آداب ، تہذیب اور ثقافت کو نہ ہم نے کبھی سراہا ،،اور نہ ہی اپنانے کی کوشش کی ،،،ہاں دشمن کہلانے والے بھارت کی ہمیں ہر ادا بھاتی ہے۔

بھارتی فلم اسٹارز کے پوسٹرز ہم اپنی دیواروں پر لگاتے ہیں،،،ان کے اداکاروں کے لباس دیکھ کر یہاں فیشن ٹرینڈز بنتے ہیں،،، ہم شادی بیاہ میں بھارتی دھنوں پررقص کرتے ہیں ،،،وہ ہمیں اپنی آئی پی ایل میں لفٹ نہیں کراتے ،،،لیکن اگر یہی بھارتی کرکٹر پاکستان آجائیں ،،،تو ان کے ساتھ تصویریں کھنچوانے کےلئے ہاتھا پائی کی نوبت آجاتی ہے۔

لیکن بنگالی بھائیوں سے ہم دس فٹ دور ہی رہنا پسند کرتے ہیں،،،ہے نہ عجیب بات ؟؟؟

الغرض ،،، ہم نے بنگالیوں کی زبان سے لے کر ان کی ہر چیز کو مذاق بنایا اور مذاق اڑایا ،،،،

کہیں کوئی بنگالی مل جائے تو سب سے پہلے اس کے لہجے کا مذاق اڑایا جاتا ہے ،،،تم بنگولی ہے کیا ،،،ذہن میں ایک خاکہ محفوظ کرلیا ہے کہ بنگالی صرف ٹوپی ،،بنیان اور لنگی ہی پہن کر گھوم سکتا ہے،،،، بنگالی صرف مچھلی چاول کھا سکتا ہے،،، مچھلیا ں اور قمام والے پان ہی بیچ سکتاہے ،،، اوربہت ہوا تو کسی ہوٹل میں باورچی لگ جائے گا،،،،،،،

ہم نے ان کی کرنسی کو بھی ایک مذاق بنا دیا ،،،کسی کو حقیر نگاہ سے دیکھنا ہو،،،تو منہ پھٹ ہو کر کہہ دو کہ تم ٹکے ٹکے کے محتاج ہو ،،،،،یعنی تمہاری اوقات تو ٹکے کی بھی نہیں ،،،،ہم نے ان کے رہائشی علاقوں کو بھی پاڑا بنا دیا،، ،،، بنگالی پاڑا،،،،،

ہم مذاق اڑانے اور کم تر سمجھنے کی عادت کے ہاتھوں غلام بنے رہے ،،،جبکہ اسی دوران ہمارے پڑوسی،، ہمارے بنگالی بھائی آہستہ آہستہ اپنی محنت ،،پلاننگ اور حب الوطنی سے اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے گئے ،،،،،،

آج کا بنگلہ دیش،،،تیسری دنیا کا ملک ہونے کے باجود گیارہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیت ہے کہ خراب حالات ،،،بجلی کے بحران ،،، اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پاکستانی ٹیکسٹائل کا بڑا حصہ بنگلہ دیش شفٹ ہوچکا ہے ،،،اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئےبنگلہ دیش آج دنیا میں ٹیکسٹائل کا دوسرا بڑا ایکسپورٹر ہے،جس کی درآمدات کا حجم 27 بلین ڈالرز ہے،،، آج دنیا کے بڑے بڑے رٹیلرز جیسے کہ والمارٹ ،،ٹیسکو اور ٹارگٹ میں ،،میڈ ان بنگلہ دیش ہر جگہ نظر آتا ہے،،،،جبکہ میڈ ان پاکستان تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا۔

تعلیمی میدان میں بھی بنگلہ دیش کی پیش رفت قابل ستائش ہے،،،،2014 کے بجٹ میں بنگلہ دیش نے اپنی اکانومی کا 4اعشاریہ19 فیصد تعلیم پر خرچ کیا ،،،جبکہ پاکستان بمشکل 2 فیصد ہی خرچ کرپایا۔

کل تک جس ٹکے کا مذا ق اڑاتے تھے ،،،آج وہی عالمی مارکیٹ میں خود کو تندرست کرکے ہمارا منہ چڑا رہا ہے ،،،،آج ایک ڈالر کے آپ کو پاکستانی 102 روپے ملتے ہیں ،،،جبکہ اسی ایک ڈالر کو بھنا کر آپ کو 78 ٹکا ملیں گے۔

موازنہ اور بھی چیزوں میں کیا جاسکتا ہے لیکن بات طویل ہوجائے گی ،اس تجزیے کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ بنگلہ دیش میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں،،، وہاں مسائل کے انبار ہیں لیکن قوم اور حکومت میں اس مسائل کو سلجھانے کی ایک نیت اور جستجو دونوں نظر آتی ہے۔

بس ایک چیز رہ گئی تھی ،،،جس پر ہم ان سے فخریہ آگے تھے،،،،اور وہ تھی کرکٹ،،،لیکن اس میں بھی ہلکے پھلکے جھٹکے ملتے رہے ،،،،،ون ڈے کرکٹ میں پہلی نمایاں کامیابی بھی ہم نے انہیں دی ،،جب 1999 کے ورلڈ کپ میں نوٹنگہم میں کھیلے گئے میچ میں امین الاسلام بنگلہ دیش کی لوک کہانیوں کا حصہ بن گئے۔

لیکن طوفان نے اپنی آمد کا اعلان کردیا تھا،،،بس ہم کسی نہ کسی طرح ان سے بچتے رہے ،،،،2012 کے ایشیا کپ فائنل میں سرفراز احمد اور اعزازچیمہ نے بچالیا ،،،،پھر 2014 کے کپ میں آفریدی کے بلے کی چنگاری نے ،،،بنگالی تماشائیوں کو خاموش کرادیا۔

لیکن اس بار بنگالی سائیکلون اس شدت سے پاکستانی کرکٹ سے ٹکرایا کہ اس کے قلعے کی کمزور دیواریں پاش پاش ہوگئی ۔

جب بنگلہ دیش 2012 کا ایشیا کپ ہارا تھا،،تو وزیر اعظم حسینہ واجد پاکستان کو وننگ ٹرافی دیئے بغیر میدان سے چلی گئیں تھی،،،،،لیکن صرف تین سال بعد ان کے ٹائیگرز نے اپنی وزیر اعظم اور عوام دونوں کا دل جیت لیا۔

اپنی خامیوں پر پردہ ڈال کر ہم ان کا مذاق اڑاتے رہے ،،،،،جبکہ انہوں نے اپنے حالات کی تبدیلی کا راستہ ،،محنت اور پلاننگ میں تلاش کیا ،،،،نتیجہ آج وہ مزے لے کر مچھلی ،،جھینگے اور چاول کھا رہے ہیں،،،اور ہم خوار۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 8 ) احباب کو بھیجئے
اصل شناختی کارڈ ساتھ رکھوں یا نہیں؟
’سیو دی شفقت‘اورسائبرکرائم
شہید ملت لیاقت علی خان کےقتل کا راز
پرانے دشمن، نئی سیریز
اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشوارے
 
این اے246میں سیاسی سرگرمیاں
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 13 )
اصل شناختی کارڈ ساتھ رکھوں یا نہیں؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 9 )
اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشوارے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 8 )
مذاق اڑاتےاڑاتے ہم خود مذاق بن گئے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 8 )
’گستاخ سوشل میڈیا اوربیوقوف ہم‘
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  اصل شناختی کارڈ ساتھ رکھوں یا نہیں؟   
......نعمان یونس......
ترجمان سندھ رینجرز کے حالیہ بیان میں کراچی کے شہریوں کو ہر وقت اصل شناختی کارڈ اپنے ہمراہ رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ رینجرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کی کاپی قابل قبول نہیں ہوگی اور اگر کسی کے پاس اصل شناختی کارڈ
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (9)

 

  ’سیو دی شفقت‘اورسائبرکرائم   
.....جویریہ صدیق.....
سوشل میڈیا پر اکثر بے تکے ٹرینڈز دیکھنے کو ملتے ہیں ان کو بنانے والوں میں سے اکثر سیاسی جماعتوں کہ پے رول پر ہیں جن کا کام ہی صبح سے شام تک مدمقابل افراد پر کیچڑ اچھالنا ہے۔اس ہر طرح سوشل میڈیا پر ایک اور طبقہ بھی ہے
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (2)

 

  شہید ملت لیاقت علی خان کےقتل کا راز   
......سیدعارف مصطفیٰ......
بالآخر اس خونی داستان پہ سے پردہ اٹھ ہی گیا کہ جس نے 16 اکتوبر 1951 کو کمپنی باغ راولپنڈی میں جنم لیا تھا اور یہ داستان تھی پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت کی کہ جنہیں وہاں جلسے
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (5)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy