لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
نفاذ اردو اور تکمیل پاکستان
.....سید عارف مصطفیٰ.....
ہماری قومی زندگی میں 75ویں بار یوم قرارداد پاکستان آیا اور گزر گیا ، لیکن ریاست پاکستان بن جانے اور آزادی کے67 برس ہوچکنے کے بعد بھی کئی اہم امور کی تکمیل کا دور دور تک پتا نہیں ، بد نصیب قومی زبان اردو کا معاملہ بھی یہی ہے، قائد اعظم علیہ الرحمتہ نے اسکی اہمیت کو اتنی شدت س محسوس کیا تھا کہ 21 مارچ 1948 کو ڈھاکا کے جلسہ عام میں واشگاف الفاظ میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ پاکستان کی قومی و سرکاری زبان صرف اردو ہوگی۔ لیکن وہ دن اور اسکے اہم اعلان کو اسکے بعد تو جیسے یکسر بھلا دیا گیا، بلکہ مختلف طریقوں اور بہانوں سے ہماری بیوروکریسی نے اسے کھینچ کھدیڑ کر کھڈے لائن ہی لگا دیا اور اب اس غریب اردو زبان کی حالت اس قابل رحم بزرگ کی سی ہے کہ جسکو چومتے چاٹتے تو سبھی ہیں لیکن جسکی سنتا اور مانتا کوئی نہیں ۔

دنیا بھر کی وہ قومیں جو آج ترقی کے بام عروج پہ کھڑی ہیں انکے اندرونی نظام کو ٹٹولیں تو وہاں ہر سطح پہ انکی قومی زبانوں کا راج پائینگے اور اکثر میں تو انگریزی ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گی ۔ حتیٰ کہ سری لنکا جیسا چھوٹا ملک کہ جہاں کی قومی زبان سنہالی دنیا میں 100 ویں درجے میں بھی نہیں شمار ہوتی، وہاں بھی اعلیٰ تعلیم تک کا انتظام انکی زبان میں متوازی طور پہ موجود ہے۔ لیکن ذرا یہاں ہماری قومی زبان کی وقعت کو تو دیکھئے کہ جو زبان دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں میں تیسرے نمبر پہ ہے، اسکا خود اس ملک میں کیا مقام بناکر رکھدیا گیا ہے، سارے ملک کے تعلیمی نظام ہی نہیں دفتری و عدالتی نظام تک پہ انگریزی مکمل طور پہ قابض ہے، جو اسکول اردو میڈیم ہیں وہ تو گویا پلمبر ، میکینک اور الیکٹریشین پیدا کرنے کے ادارے ہیں ۔ یہاں گلی محلے کے اندر کھولے گئے 4-5 کمروں والے نام نہاد انگلش میڈیم اسکول بھی اسی ذمرے میں آتے ہیں کیونکہ وہاں بھی انگریزی کے نام پہ ایک ایسی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے کہ جو نہ تو انگریزی کہی جاسکتی ہے اور نہ ہی جسے اردو سمجھا جاسکتا ہے ، ایسے اسکول دفتروں کیلئے کلرک اور اسسٹنٹ فراہم کرنے کا فریضہ بڑی خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔ اشرافیہ کیلئےتو الگ ہی نوعیت کی تعلیم کا انتظام ہے اور وہاں اردو زبان میں کھانسنا بھی داخل از نامعقولیات ہے اور مستوجب سزا ہے۔

دنیا بھر کے انسانی نفسیات کے ماہرین کا اتفاق اس بات پہ ہے کہ کسی فرد کی فطری ذہنی نشوونما کسی بھی غیرزبان کی نسبت اسکی اپنی مادری و قومی زبان ہی میں زیادہ بہتر طور پہ ہوسکتی ہے اور اسکی عملی صلاحیتوں کا بہترین سطح پہ اظہار بھی اسی حوالے سے ہوسکتا ہے، لیکن یہاں ہم اپنی مملکت خداداد میں گھوڑے کے آگے گاڑی باندھے بیٹھے ہیں۔ انگریزی کی اہمیت سے انکار نہیں اور اسے بین الاقوامی رابطے کی حد تک سیکھے جانے میں کوئی حرج بھی نہیں لیکن اس سے زیادہ پہ اصرار کی وجہ سراسر وہ احساس کمتری ہے کہ جو انگریز کی پونے دوسو سالہ غلامی کی عطا ہے۔ اب نوبت یہ آگئی ہے کہ مختلف ٹی وی چینلوں پہ ہونے والی بہت سی ایوارڈز کی تقریبات اور اہم لوگوں کے انٹرویوز میں اردو کے نام پہ70،80 فیصد کی حد تک انگریزی ہی بولی جارہی ہوتی ہے، اسی سبب عام افراد کی زبان پہ بھی اسکا برا اثر پڑ رہا ہے اور اردو کا استعمال پڑھے لکھے طبقے میں تو بالخصوص معدوم ہوتا چلاجارہا ہے اور اگر اس صورتحال کی اصلاح نہ کی گئی تو اگلی نسل تک اردو اور زوال کا شکار ہوجائیگی۔

مروجہ آئین پاکستان میں اس زبان کو بطور قومی و سرکاری زبان بنانے کا عہد و اعلان صاف صاف طور پہ کیا گیا تھا تاہم اردو کو اصطلاحات و مترادفات کی ضمن میں انگریزی کی سطح تک لانے اور بتدریج نفاز کیلئے 15 برس کا تحفظ دیا گیا تھا اور یہ مدت 1988 میں ختم ہوچکی ، اس دوران مقتدرہ قومی زبان کا ادارہ اپنے ذمے لگائے گئے تمام اہم امور سے بھی فارغ ہوچکی ، لیکن اردو کے نفاذ کا خواب ہنوز شرمندہء تعبیر ہے ۔ اسی صورتحال پہ غور کرنے کیلئے 28 مارچ کو راولپنڈی آرٹس کونسل میں تحریک نفاذ اردو کی جانب سے ایک نہایت اہم قومی کنونشن بھی منعقد کیا جارہا ہے کہ جس میں اردو کو بطور قومی زبان نافز کرنے کے امور کا جائزہ لیا جائےگا اور ملک بھر سے اہم اکابرین و عاشقان اردو اس ضمن میں عملی اقدامات کیلئے غور و فکر کرکے اپنی سفارشات مرتب کرینگے۔ اس موقع پہ صرف کاغذی و لفظی سطح پہ ہی نہیں عملی سطح پہ بھی چند اقدامات زیر غور ہیں جن میں تمام شرکاء کا اس کنونشن کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس جانے کی ایک تجویز پہ بھی مشاورت ہورہی ہے جو کہ راقم نے جیو ٹی وی کے پروگرام انعام گھر میں ہفتہ 21 مارچ کی شب دی تھی اس تجویز کی رو سے ارکان پارلیمنٹ کو اس کنونشن میں منظور کیئے گئے’’قومی میثاق‘‘ سے آگاہ کیا جائے گا اور کھل کر دو ٹوک انداز میں ان سے دریافت کیا جائے گا کہ وہ اردو زبان کے نفاذ کے حوالے اسے اپنی قومی و آئینی ذمہ داری کو کب تک پورا کرینگے ، اور اس سلسلے میں انکے تائیدی دستخط بھی لیئے جائینگے۔ اب وہ مرحلہ آن پہنچا ہے کہ قومی زبان کے نفاذ کےحوالے سے مزید لیت ولعل سے کام نہ لیا جائے اور دو ٹوک انداز میں پارلیمنٹ میں منتخب ہونے سے یہ پوچھ ہی لیا جائے کہ آیا انہیں اردو بطور قومی زبان مطلوب ہے بھی کہ نہیں،،، اور نہیں تو کیوں نہیں ،،،کیونکہ نفاذ اردو کا معاملہ تو درحقیقت تکمیل پاکستان کی مانند ہے۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 ) احباب کو بھیجئے
اور بھارت نے ’’موقع‘‘ گنوا دیا
ٹیم گرین کی شکست اور سوشل میڈیا
عاشق رسولﷺ،غازی عبد القیوم
آسٹریلیا کوہراؤ، سیمی فائنل کا ٹکٹ پاؤ
سانحہ یوحنا آباداورمظاہرین کا ردعمل
 
زبردست پرفارمنس ، کرارا جواب
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 22 )
سانحہ یوحنا آباداورمظاہرین کا ردعمل
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 9 )
عاشق رسولﷺ،غازی عبد القیوم
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 9 )
امید کا دیا پھرروشن
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 8 )
ٹیم گرین کی شکست اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 8 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  اور بھارت نے ’’موقع‘‘ گنوا دیا   
......جویریہ صدیق......
بھارت کا سفر بھی ورلڈ کپ 2015ءمیں ختم ہوا۔دفاعی چیمپئن بھارت بہت ہی اعتماد اور غرور کے ساتھ میدان میں اترا تھا اور تمام ہی میچیز میں ناقابل تسخیر رہا۔ارے لیکن یہ کیا ہوا منزل کے اتنے قریب آکر قسمت کی دیوی ساتھ چھوڑ گئی اور بھارت ورلڈ کپ
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  ٹیم گرین کی شکست اور سوشل میڈیا   
.....جویریہ صدیق.....
اور پاکستان ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہوگیا۔یہ تو ٹیم کی کارکردگی سے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ کپ ہمارا نہیں ہے لیکن گذشتہ میچز میں کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی سے یہ لگا کہ شاید کوئی معجزہ ہوجائے اور یہ ورلڈ کپ ہمارے نام ٹھہرے لیکن افسوس
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (8)

 

  عاشق رسولﷺ،غازی عبد القیوم   
.....سید عارف مصطفیٰ.....
آج 19 مارچ ہے اور ٹھیک 80 برس قبل آج ہی کے دن ایک عاشق رسولﷺ، غازی عبدالقیوم نے ناموس رسالت پہ قربان ہوکر اور پھانسی کا پھندہ چوم کر عشق و عقیدت کے وہ چراغ جلائے تھے کہ جو تا ابد دن فروزاں رہیں گے۔

لیاری کراچی
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (9)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy