عام انتخابات اپنی تکمیل کو پہنچے ۔نیا پاکستان تو معرضِ وجود میں نہیں آیا البتہ دو بار وزیراعظم کے منصب پر فائز رہنے والے نوازشریف کو تیسری باری ملنے کے امکانات پیدا ہو چکے ہیں ۔عمران خان کے سونامی کی لپیٹ میں نون لیگ تو نہیں آئی لیکن زرداری صاحب کی پیپلزپارٹی اور اسفندیارولی کی عوامی نیشنل پارٹی کی بساط لپٹتی چلی گئی ہے۔نون لیگ اگرچہ اپنی نشستوں کے اعتبار سے تمام پارٹیوں سے آگے ہے لیکن بلاشرکت ِ غیرے مرکزی حکومت بنانااس کے لیے اتنا آسان بھی نہیں ہو گا ۔ یقینی طور پر اسے حکومت سازی کے لیے اتحادیوں کی ضرورت پڑے گی۔ عمران خان کسی صورت میں بھی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے ۔ایم کیوایم کو نوازشریف اپنے ساتھ ملانا پسند نہیں کریں گے ۔زرداری صاحب خواہش کے باوجود نئی حکومت میں پیپلزپارٹی کو حصہ دار نہیں بنا پائیں گے ۔لگتا یہی ہے کہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان اورمسلم لیگ فنکشنل ہی نون لیگ کے فطری اتحادی ثابت ہوں گے اور باقی ماندہ عدد پورے کرنے کے لیے نوازشریف کو کئی ایک سمجھوتے کرنے پڑیں گے ۔اگر عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف اپوزیشن میں بیٹھتی ہے اور پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم بھی اپوزیشن نشستوں پر براجمان ہوتی ہیں تو پھر آنے والی حکومت کو یقینی طور انتہائی مضبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس کے علاوہ نوازشریف کی مرکزی حکومت کو صوبائی حکومتوں کی طرف سے بھی مختلف معاملات میں سخت مزاحمت کا سامنا ہو گا ۔جیسے پنجاب میں شہباز شریف وزیراعلیٰ کی حیثیت سے زرداری کو صدر نہیں مانتے تھے اور ان کا استقبال نہیں کرتے تھے اسی طرح ہو سکتا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کا وزیراعلیٰ نوازشریف کو وزیراعظم ماننے سے انکار کردے۔خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کا وزیراعلیٰ ، وزیراعظم کا خیرمقدم نہ کرے۔ اگر اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو نوازشریف کے لیے مرکزی حکومت کو چلانا اور صوبوں کو کسی ایک نقطے پر متحد رکھنا انتہائی مشکل ہو گا ۔اس کے ساتھ ساتھ انہیں ملک میں جاری دہشت گردی ، بے روزگاری، بجلی کے بحران جیسے مسائل سے بھی نمٹنا ہو گا بصورت دیگر چوہدری شجاعت حسین کے بقول اگلے پانچ سال کے دوران ہر سال وزیراعظم تبدیل ہو گا ۔نوازشریف نے اس کے علاوہ الیکشن مہم کے دوران بہت سے وعدے بھی کیے ہیں جن کو ایفا کرنا بھی ان کی اولیں ذمہ داری ہو گی ۔لیکن سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا نون لیگ بیساکھیوں کے بغیر حکومت بنا پائے گی ؟
…سید شہزاد عالم… تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان لاہور کے ایک جلسے میں اسٹیج پر چڑھتے ہوئے ایک گارڈ کے توازن کھونے کے باعث لفٹر سے سترہ فٹ کی بلندی سے نیچے گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ انتخابی مہم ختم ہونے سے دو روز پہلے پیش آنے والا
...ثروت رضوی...ملک خداداد پاکستان میں خدا خدا کرکے انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان ہوا تو جہاں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اتریں وہیں چند مسائل بھی منہ کھولے اپنے حل کے منتظر نظر آئے۔ انہی ناگزیر مسائل میں سے ایک مسئلہ بیرن ملک مقیم
…محمد رفیق مانگٹ… یہ کیسا موت کا رقص ہے، ہر آنکھ اشک بار، ہر دل غم زدہ ہے، مرنے والے کو نہیں پتہ اسے کیوں مارا گیا، اب تودرندوں سے نہیں انسانوں سے خوف آتا ہے۔ سریلے ترانوں کے خالق کہاں ہیں جو یہ کہتے تھے کہ ریاست ہوگی ماں کے
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited Privacy Policy