لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
ایبولا جان لیوا مرض
.......جویریہ صدیق.......
ایبولا وائرس اب تک دنیا بھر میں ساڑھے چار ہزار لوگوں کی جان لے چکا ہے۔سب سے زیادہ متاثر ملکوں میں لائبیریا،سیرالیون،نائیجیریا اور گنی شامل ہیں اور یہ تمام ممالک براعظم افریقہ میں واقع ہیں۔جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے یہ بیماری دوسرے ممالک میں بھی پھیل رہی ہے۔سب سے زیادہ خطرات ان ممالک کو ہیں جن کی سرحدیں ان تین ممالک کےساتھ ملتی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق جمہوریہ کانگو،گبون،جنوبی سوڈان،ایوری کوسٹ،یوگینڈامیں بھی یہ بیماری پھیل گی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی خطرے کی زد میں جو حال ہی میں ان ممالک کا دورہ کرکے آئے ہیں۔

ایبولا وائرس جسے عام طور پر ای وی ڈی کہا جاتا ہے اس وائریس کی وجہ سے انسان بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یہ بخار اتنا شدید ہوتا ہے کہ جان لیوا ثابت ہوتاہے۔سب پہلے ایبولا کیس1976ء میں افریقہ میں سامنا آیا ۔ جمہوریہ کانگو کے دریائے ایبولا کے نام پر اس وائرس کا نام رکھا گیا۔ایبولا بخار پانچ طرح کے ایبولا وائرس سے ہوتا ہے۔ان میں سے چار وائرس انسانوں اور جانوروں دونوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور پانچواں وائرس صرف جانوروں کو نشانہ بناتا ہے۔

یہ وائریس جانوروں کی وجہ سے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ایبولا متاثرہ بندروں،چمگادڑوں،بن مانسوں اور کانٹوں والے جانور سیہ کے خون،فضلات،اعضاء اور دیگر رطوبتوں کے باعث یہ انسانوں میں پھیلتا ہے۔اس کے بعد انسان ہی ا سے دیگر انسانوں میں پھیلاتے ہیں۔اگر متاثرہ انسان کا خون،رطوبت کسی صحت مند انسان کو لگ جائے تو اس سے دوسرے انسان کو بھی خطرہ لاحق ہوجاتاہے۔اس کا شکار طبی عملہ بھی ہو جاتا ہے جوکہ علاج کے دوران مریض کے سب سے قریب ہوتے ہیں۔یہ بات غلط ہے کہ ایبولا ہوا، پانی اور کھانے کے ذریعے سے بھی پھیل سکتا ہے۔ابیولا صرف اس ہی وقت ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، اگر متاثرہ انسان کا خون یا کسی طرح کی بھی رطوبت، صحت مند انسان کے اندر چلی جائے۔اس کے علاوہ متاثرہ انسان کا فضلہ،تھوک،نطفہ،پسینے کے ذریعے سے بھی ایبولاپھیلتا ہے۔ اگر متاثرہ مریض نومولود بچے کی ماں ہے تو اس کے دودھ میں بھی ایبولا کے جراثیم شامل ہوجاتے ہیں اس لیے ماں بچے کو خود سے الگ کر لیے اور دودھ نا پلائے۔

ایبولا وائرس کا شکار ہونے کے بعد علامتیں آٹھ سے بیس دن میں ظاہرہوجاتی ہیں۔اس بیماری کی ابتدائی علامتوں میں بخار،کمزوری،درد،اسہال،الٹیاں،معدے میں درد،خارش اور آنکھوں کا سرخ ہونا شامل ہے اگر علاج پر توجہ نا دی جائے تو مزید علامتیں جو سامنے آتی ہیں ،ان میں سینے میں درد،زخم،گلے کی خرابی،سانس لینے اور کچھ بھی نگلنے میں تکلیف،جگر ،گردوں کی خرابی اور جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنا شروع ہوجانا شامل ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک ایبولا بخار کے لیے نا ہی کوئی ویکسن تیار ہوئی ہے اور نا ہی کوئی طریقہ علاج دریافت ہوا ہے،لیکن اگر مریض کو ابتدائی مراحل میں اسپتال داخل کردیا جائے تو درد، بخار، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ نمکیات،ریڈ بلڈ سیل ،پلیٹلٹس دیئے جاتے ہیں۔تاکہ انسان کے اندرونی نمکیات اور سرخ خلیوں کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔بہت سے لوگ شفاء یاب بھی ہوجاتے ہیں لیکن انہیں آگے آنے والے دنوں میں بہت سی دیگر بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں جوڑوں کا درد،جلدی بیماریاں اور آنکھوں کی بیماریاں شامل ہیں۔اس بیماری کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اور محفوظ بھی رہا جاسکتا ہے۔سب سے پہلے تو یہ کوشش کی جائے کے جانوروں سے دور رہا جائے جن میں بندر بن مانس،چمگادڑیں شامل ہیں۔اگر جانوروں کی دیکھ بھال مقصود ہو تو ہاتھوں پر دستانے پہن کر کام کیا جائے۔جانوروں کا گوشت کھاتے وقت اچھی طرح پکا لیں کبھی بھی کچا گوشت نا کھائیں۔

اگر ایبولا کا مرض کسی انسان کو لاحق ہوجائے تو اس کا علاج یا تیمارداری کرتے وقت خود کو مکمل ڈھانپ لیا جایے،لانگ بوٹس پہنیں، ہاتھوں پر دستانے ہوں، آنکھوں پر مخصوص چشمہ،منہ پر ماسک لازمی پہن لیں۔مریض کے خون اور رطوبت سے ہر ممکن طور پر بچیں۔مریض کے زیر استعمال آلات اور اشیا کو تلف کردیں۔اس کے بعد ہاتھ لازمی صابن سے دھوئیں۔اگر متاثرہ شخص انتقال کرجائے تو اس کی تدفین میں بھی خاص احتیاط برتی جائے۔یہ بات خطرے کی گھنٹی ہے کہ نامکمل حفاظتی اقدامات کی وجہ سے دو طبی کارکن اس مرض کا شکار ہوکر جانبر نا ہوسکے۔

پوری دنیا میں اس بیماری کی وجہ سے مختلف قسم کے شکوک وشہبات اور خوف میں مبتلا ہے۔دنیا بھر میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد نو ہزار تک پہنچ گی ہے ۔جن میں سے اب تک چار ہزارچارسوترانوے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔امریکا میں بھی ایک ہلاکت اس مرض کے باعث ہوچکی ہے اور اس مریض کا علاج کرنے والی نرس بھی ایبولا کا شکار ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص لائبیریا سے واپس آیا تھا۔ اس بیماری میں بچنے کے امکانات صرف پچاس فیصد ہیں۔اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت اس بیماری سے لڑنے کے عطیات کی اپیل کررہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کو بھی تنبیہ کر رہے ہیں کہ ایبولا سے متاثر ممالک کا سفر کرنے سے گریز کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈوں پر مسافروں کا طبی معائنہ کیا جائے خاص طور پر جو متاثرہ ممالک سے واپس آئے ہو انہیں اکیس دن زیر معائنہ رکھا جائے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وائرس جلد ہی پاکستان بھی پہنچ جائے گا کیونکہ پاکستان کے فوجی دستے امن مشن پر افریقی ممالک میں تعینات ہیں، ان کی واپسی سے پاکستان اس وائرس کی زد میں آسکتا ہے۔ لیکن پاکستان محکمہ صحت کے مطابق اس بیماری سے پاکستان کو خطرہ نہیں ہے کیونکہ متاثرہ ممالک سے بہت ہی کم مسافر پاکستان آتے ہیں۔پاک فوج کے جو دستے اس وقت متاثرہ افریقی ممالک میں موجود ہیں ان کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ انتظامات کردئیے گیے ہیں۔وزیر مملکت براے صحت سائرہ افضل تارڑ کے مطابق ایئرپورٹس پر خصوصی کائونٹرز قائم کردیے گیے ہیں۔

حکومتی دعوے ایک طرف لیکن پاکستان میں صحت کے شبعے کے حالات ناگفتہ بہ ہیں ۔اسی لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ اس مرض کو پاکستان میں آنے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے ہوںگے،جن میں قرنطینہ،علاج،اسکریننگ بہت اہم ہیں۔اس کے ساتھ صرف ایئرپورٹ ہی نہیں بندرگاہوں اور سرحدوں پر بھی ایبولا اسکریننگ کا انتظامات ہونا چاہئے۔ تاکہ پاکستان کو ایبولا جیسے مہلک مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias

javeria.siddique@janggroup.com.pk​  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 ) احباب کو بھیجئے
گورا رنگ ہی کیوں؟
ورلڈ پولیو ڈے
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
اب مستحکم فیصلے ہی پاکستانی کرکٹ کو بچاسکتے ہیں
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 33 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  گورا رنگ ہی کیوں؟   
.......جویریہ صدیق.......

اگر ٹی وی پر رنگ گورا کرنے کے اشتہارات دیکھے جائیں تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ کا رنگ گورا نہیں ہے تو دنیا کی کسی بھی کامیابی پر آپ کا حق ہی نہیں۔ اگر آپ کا رنگ گندمی، سانولا، بھورا یا کالا
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  ورلڈ پولیو ڈے   
......غزالہ پروین زید......
زندگی کے حالات و واقعات اور سیاست پر بہت بات ہو گئی ۔ اور ان موضوعات پر آپ جب چاہیں قلم اٹھا لیں،لیکن آج میں نے سوچا کہ بات کی جائے صحت کی سیاست کی آخر پتہ تو چلے کہ یہ جسم ہمارے ساتھ کیا سیاست کھیل رہاہے۔

انسان
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت   
.......سید عارف مصطفیٰ......
بہت دنوں کے بعد اک بڑی اچھی خبر سامنے آئی ہے، خبر بھی کیا ہے اک طرح کا اعتراف حقیقت ہے جو قومی ہم آہنگی و فہم کی مد میں اردو زبان کی وسعت و ہم گیری کی بابت کیا گیا ہے، اور یہ خبر آئی ہے عدالتی
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (5)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy