لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


وہ غریب شہر ہوں میں، جسے بے کسی نے مارا Share
  Posted On Tuesday, September 18, 2012
  ……سید شہزاد عالم……
سانحہ بلدیہ ٹاؤن کو لگ بھگ ایک ہفتہ گزر گیا۔ متاثرہ فیکٹری کے مالکان ضمانت قبل از گرفتاری کے بعد پولیس کی ”حفاظتی تحویل“ میں اپنے ”بیانات“ ریکارڈ کرارہے ہیں۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی صاحب مستعفی ہو کر جا چکے ہیں۔ جن اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے وہ اپنے بچاؤ کے راستوں کی تلاش میں ہیں۔ متاثرین کے لئے، بلکہ یہ لکھوں کہ زندہ درگور لوگوں کے لئے مالی امداد کا بھی اعلان ہوا ہے لیکن یہ امداد کہاں ہے؟ کچھ پتہ نہیں ۔ فیکٹری کی عمارت کو مخدوش قرار دے دیا گیا ہے اور سیل بھی کردی گئی ہے۔ حادثے میں بچ جانے والے اب بے روزگار ہیں۔ ان کی آنکھیں اداس و ویران، چہرے غم سے ستے ہوئے، دلوں میں بے شمار اندیشے اور تفکرات سراٹھائے ہوئے، بس اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے؟ ان کی بے کسی کا ذمہ دار کون ہے؟ امیر شہر کے غریب شہری تو تھے ہی انہیں غریب شہر کس نے کیا؟ وقت کا مرہم ان کی آنکھوں کے آنسو تو خشک کر دے گا لیکن ان کے دل میں اٹھنے والی کسک کیسے مٹے گی؟ ان کے اجڑے گھر اب کیسے آباد ہونگے؟ جس بچے کا باپ مرگیا اسے اب شفقت کہاں سے ملے گی؟ جس بچے کی ماں مر گئی اسے سینے سے کون لگائے گا؟ جس کا بھائی مر گیا اس کا بازو کون بنے گا؟ جس کا سہاگ اجڑ گیا اس کا مداوا کیسے ہوگا؟ کون ان کے بچوں کا سائبان ہوگا؟ ان کی زندگیوں میں اب رنگ کون بھرے گا؟ بچ جانے والے سب غریب لیکن سفید پوش گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن گھرانوں میں کوئی مرد نہیں رہا اس کے مکیں آنے والے وقت سے خوف زدہ ہیں۔ ابھی ان کے لب خاموش ہیں لیکن اگر انصاف نہیں ہوا تو یہ سانحہ ایک ایسی صورت اختیار کر سکتا ہے جو آنے والے وقت میں مختلف نوعیت کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ حکومتی ذمہ داروں کو ایسے گھرانوں کے لئے مستقل مالی امداد کا انتظام کرنا چاہئے جہاں کمانے والا نہیں رہا۔ بچ جانے والے مزدوروں کے لئے متبادل روزگار کا فوری انتظام کیا جائے۔ متاثرین کو صدمے سے باہر نکالنے کے لئے کونسلنگ کا سلسلہ فوری شروع کیا جائے تاکہ وہ کم سے کم وقت میں زندگی کے دھارے میں واپس آنے کے قابل ہو سکیں اور انہیں یہ احساس ہو کہ اس آفت میں وہ تنہا نہیں، معاشرے کے تمام لوگ ان کے دکھ میں شریک ہیں۔۔۔ کیا ایسا ہوگا؟ [email protected]
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (21)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

Niaz Ali, Usta Muhammad...........allah sub ko apni hifzuaman men rakhy. ameen
 
niaz ali Posted on: Monday, October 15, 2012

Rahib Raza, Karachi..........Hoga to bohat kuchh lekin karna paray ga , Khudbakhud to kch bhi nahi hoga. Allah bhi kisi qom ko us waqt tk kamyab nahi karta jb tk usay apni kamyabi or salamti ki fikr na ho.
 
Rahib Raza Posted on: Sunday, October 14, 2012

Rizwan Sadiq, Lahore.............Bhai yeh first time naheen hua, Kise ko kuch naheen milay ga, Buhat jald sab khamosh hu jaein gay orr moamla khatam.
 
Rizwan SAdiq Posted on: Thursday, October 11, 2012

Faisal Shahzad, UAE...........Allah Sb Ke madad farmay(ameen)
 
Faisal shahzad Posted on: Monday, October 08, 2012

Mussarat Hassan, Saudi Arabia..........yaha khuch ni hoga wqt guzarta jaye ga logo k lie ek khani bn jaye ga jn pr guzri hy un ka koi pochny wala ni hy allaha raham kary hamary mulk pr ameen.
 
mussarat hassan Posted on: Sunday, October 07, 2012

Ali Haider, KpK...........gareb ky sat sara sar zulam or ziati ho rahe hy . q na wo mna hy mnp .ppp.npa jis plate sy be talok hy wo sab apny lieay lagy howay hy .or hamara jo sadar sahb hy wo ey logo sy be bala zalim hy.
 
ALI HAIDER Posted on: Wednesday, October 03, 2012

Faria Iqbal, Malaysia.........Allah Pak Mery Mulk aur mery Sheher ko in Zalim aur Safaak Siayatdano ki siayat se nijaat de,Zalimon ne apne mufaad k liye kitny hi khandano ki zindagi barbaad ker di. Allah Pak Marhomeen k Lawahiqeen ko Saber e Tahamul or jine ka hosla ata farmaye.Ehmak siayatdano ko Mulk aur oski azaadi ki Qadar nahi.Mulk ki jarain khokli ker k na jane ye kahan panah lainge.
 
Faria IqbaI, Posted on: Wednesday, October 03, 2012

ایم جے لون، بڈگام، کشمیر…بہت ہی اچھا کالم ہے، اللہ کرے زور قلم اور ذیا دہ۔ ۔
 
ا یم جے لون Posted on: Saturday, September 29, 2012

محمد عامر، کراچی…معاشرے کے تمام لوگ ان کے دکھ میں شریک ہیں۔۔۔ کیا ایسا ہوگا
 
Muhammad Aamir Posted on: Thursday, September 27, 2012

رباب، پشاور…ان کی آنکھیں اداس و ویران، چہرے غم سے ستے ہوئے، دلوں میں بے شمار اندیشے اور تفکرات سراٹھائے ہوئے، بس اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے؟ معاشرے کے تمام لوگ ان کے دکھ میں شریک ہیں۔۔
 
rubab Posted on: Wednesday, September 26, 2012

ابوسفیان، کراچی…کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بس میرے عزیز بھائیو! یہ سب اللہ کی طرف سے ہمیں اور جن بھائیوں اور بہنوں کو اللہ نے آزمایا ہے اس پر صبر کرنا چاہیے باقی ان ظالموں کا فیصلہ خود اللہ کرے گا اور ان غریبوں کا سہارا بھی اللہ عزوجل ، ان بچوں کو سنبھالنے والا بھی اللہ عزوجل ، ان اجڑے گھروں کو دوبارہ اجاگر کرنے والا بھی اللہ عزوجل ہمیں ان کے لیے دعائیں اور جو مدد ہو سکے وہ کریں ۔۔
 
abu sufyan Posted on: Tuesday, September 25, 2012

Khurram, Karachi...........bass bhi karo zalimo allaha ko kiy jawab do ge.
 
khurram Posted on: Sunday, September 23, 2012

خالد جاوید، سعودی عرب…کرا چی کے سا تھ زیا دتی ہر دور میں ہو تی رہی ہے کچھ اگر زخموں پر مر ہم رکھا گیا وہ پرویز مشرف کے دور حکو مت میں، اس کے بعد کیا ہو رہا ہے وہ سب کے سا منے ہے جب تک یہا ں کا نظا م یہاں سے جیتے ہوئے نما ئندوں کو نہیں دیا جا ئیگا، یہ ما را ما ری کا سلسلہ کبھی بھی ختم نہیں ہو گا کیو نکہ ان سیا ستدانوں کی سوچ ہے ما رو اور حکو مت کرو۔
 
khalid jawed Posted on: Sunday, September 23, 2012

Dr. Rana, Hyderabad...........mera sirf aik hi sawal hy k itni janay under khatray main theen to army or navy ko call kerna chaheya tha.ek caterrpiller sy tamam dewarain tori jani chaheyi theen sawal to sub sy hy laikin intezameyan ny keya keya aik kherki tor ky wahan sy under jany ki koshish kerty ray rescue k style he nazer ni aya,.tamman grils ab bi lagi hoi hain jo us wakt torni chaheyi theen.jinhon ny oper sy jump keya hy gril tor k to rescue waly keya kertty rahy,UN TRAIND CAMELS ki terhan.itny advance dore main mobile sub koch hony k 300 log jul k mar gay .
 
DR.RANA Posted on: Saturday, September 22, 2012

Adeel Ahmed, Karachi............Ap bhai Yakeen bhi nai kar sakty k is Khofnak Hadsy mea jo log luqma-e- ajal bany han un k gharo pr kia bit rhi ha or aik family to aisi bhi hay ji ka aik hi ghar k 7 afrad jin mea 6 ladis or aik boy shamil hay jal kr Shaheed ho gya allah pak un sab ko Sabar-e-Jamil ata farmay...
 
ADEEL AHMED Posted on: Friday, September 21, 2012
Prev | 1 | 2 | Next
Page 1 of 2


جیلوں کی سیکیورٹی سخت کی جائے
پشاور میں قیامت صغریٰ
یہ کیا بات ہوئی، تیل کی قیمتوں کی کمی کے باوجود مہنگائی کا عذاب جوں کا توں
جیو کی خواتین رپورٹرز سے پی ٹی آئی کی مسلسل بدسلوکی
ملالہ کیلئے نوبل امن انعام اور سوشل میڈیا
 
عمران خان، ذرا ٹھہریں، نوشتہء دیوار تو پڑھ لیں
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 41 )
پشاور میں قیامت صغریٰ
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 28 )
جیو کی خواتین رپورٹرز سے پی ٹی آئی کی مسلسل بدسلوکی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 17 )
اور لاش مل گئی!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 13 )
سرکاری کالجوں میں بس اک تعلیم نہیں، باقی تو سب کچھ میسر ہے!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy