لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


قانون کی عملداری پر عدم اعتماد؟ Share
  Posted On Thursday, August 23, 2012
  ……سید شہزاد عالم……
ٹنڈوآدم میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص کا قتل ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ ملک کی عوام کا قانون کی عملداری پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے۔ واقعہ کی جو تفصیلات ملی ہیں ان کے مطابق تین افراد ایک عورت کو ایک مکان میں مبینہ طور پر برے ارادے سے لے گئے تھے جس کی اطلاع آس پاس کے لوگوں کو ملی تو انہوں نے گیٹ پر باہر سے تالا ڈال دیا اور ان تینوں کو باہر آنے کو کیا۔ ان تینوں افراد نے اپنے ساتھیوں کو فون پر مدد کا کہا جنہوں نے وقوعہ پر پہنچ کر مشتعل لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائر کئے جس سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ اس پر مشتعل ہجوم نے مکان میں داخل ہو کر ایک شخص کو باہر گھسیٹ کر لا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر ڈالا اور اس کے دو ساتھیوں کو شدید زخمی کر دیا۔ اگرچہ پولیس نے اپنی تفتیش شروع کردی ہے لیکن اس واقعہ سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ لوگوں کا قانون پر سے اعتماد کم ہوتا جارہا ہے۔ ملزم کو پکڑنے کے بعد قانون کے حوالے کرنے کے بجائے خود سزا دینے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے کیونکہ عوام کا یہی خیال ہوتا ہے کہ پولیس کے حوالے کرنے کے بعد ملزمان مک مکا کرکے دوبارہ جرم کے لئے آزاد ہو کر عوام کی نظروں سے سامنے دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ امر قانون کے رکھوالوں اور قانون سازوں کے لئے غور و فکر کا سامان مہیا کرتا ہے۔ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ملک کے مختلف علاقوں میں رونما ہوتے رہے ہیں۔ بعض جگہوں پر تو ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلانے کے واقعات بھی دیکھنے کو ملے اور بعض واقعات میں تو پولیس نے خاموش تماشائی کا کردار بھی ادا کیا۔ جب کسی معاشرے میں قانون کی بالادستی کمزور پڑ جائے تو وہ معاشرہ جنگل کی شکل اختیار کرلیتا ہے ، تہذیب، تمدن اور انسانی اقدار خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اگر معاشرے کے افراد خود قانون کو ہاتھ میں لینے لگیں تو پھر انصاف کے تقاضے کیونکر پورے ہو سکیں گے؟ حقائق کیسے منظر عام پر آسکیں گی؟ معاشرے کو رہنے کے قابل رہنے کے لئے بے حد ضروری ہے کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور ساتھ ہی قانون کے رکھوالوں کو یہ بات مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ قانون کی عملداری برقرار رکھنا ان کی اولین ذمہ داری ہے، اگر انہوں نے اپنے افعال سے عوام الناس کا بچا کھچا اعتماد بھی کھو دیا تو پھر ان کے لئے کام کی انجام دہی انتہائی مشکل ہو جائیگی۔اس کے ساتھ ہی عوام کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ایسے رویے اور درندگی کا مظاہرہ قانون کو کمزور کرنے اور ملزمان کو طاقتور بنانے کے مترادف ہے۔ ملزم کوسزا دینا ہرگز ان کا کام نہیں ہے۔اس کام کے لئے انہیں ہر صورت قانون کا ہی راستہ اختیار کرنا ہو گا اور قانون کی مدد کرنی ہوگی ۔
shahzad.janggroup@gmail.com
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (16)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

ایم ذیشان قریشی، کراچی…ایسے واقعات کی اصل وجہ حکومت کی غفلت ہے، ہماری پولیس، سیاستدان کرپٹ ہیں، ان جرائم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔
 
M.Zeeshan Qurashi Posted on: Sunday, September 02, 2012

Sara, Karachi........Asal Masla yeh hai keh Pakistan mein Kanoon nahi hai, agar hoga to shayad sirf Islamabad mein hoga. Aur ab jab Qanoon he nahi hai to to kaunsa idara aur kaunsi hukoomat. Sab theek kia logon ney, kyunki yeh kaali bherein to kudh mujrimon key muhafiz hain.
 
sara Posted on: Wednesday, August 29, 2012

Muhammad Jamshed , Karachi..........kia kahon ye sab kuch parhnay k baad kia chief justice sb k liye ye koi nai bat ha k hamari police Intehai currupt ha 20 20 rupe main bik jati ha. hamari police rehri walay tak se to 10 se 20 rupey leti to kahan se kanoon ki amaldari per yaqeen hoga ab haqeeqat me waqat agaya ha k ham sb infiradi toor per khud ehtesabi karain
 
Muhammad Jamshed Posted on: Tuesday, August 28, 2012

محمد فاروق، اسلام آباد…قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینا انتہائی افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے۔اس کی بنیادی وجہ عوام کا حکومت اور اداروں پر بداعتمادی کا اظہارہے۔
 
محمد فاروق Posted on: Sunday, August 26, 2012

Khattak Kaka, UAE..........Had afsoos agar mulk may bad nazmi la qanoonyat agar Suprem court na uske nishan dahi ki.tho govt action es lei laitha hay.k raaz kol na jai.wana khud govt minitries curruption k elawa koi kaam kartha nahi.aisa lagtha hay.k mulk khatham karne ka teka leya howa hay..
 
Khattak ka ka Posted on: Sunday, August 26, 2012

راشد چوہدری، امریکا…کسی معاشرے میں لاقانونیت راتوں رات جنم اور نہ ہی ختم ہو سکتی ہے ہم ٹھیک جا رہے تھے لیکن پے در پے مارشل لاء لگنے سے لاقانونیت نے جنم لیا اب یہ اژدھا اتنا بڑا ہو چکاہے کہ آسانی سے مرنے والا نہیں اس کار ناخیر میں کسی نہ کسی طرح ہم سب شریک تھے کوئی مذہب کے نام پہ کوئی سیاست کے نام پر اب ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ عوام کے پاس ووٹ کا ہتھیارہے اسے استعمال کریں اور آئندہ صحیح نمائندوں کا انتخاب کرنے کی کوشش کریں شاید مسائل کا حل نکل آئے۔
 
Rashid Chaudhry Posted on: Sunday, August 26, 2012

KAMRAN, KARACHI..........HAMARI AISI HARKATIAN JAREE RAHIAN .GIAN
 
kamran Posted on: Sunday, August 26, 2012

Muhammad Irfan Chaani , Lahore..........jb insaf ki farahmi mi insaaf k taqazon ko mad-e-nazar na rakha jai , tab logon ki nizam-e-insaaf sy aitamad uth jata hy. hamary mulk mi qanoon hath mi leeny ki waja bhi qanoon k itlaq mi adam insaaf hy.
 
Muhammad Irfan Chaani Posted on: Saturday, August 25, 2012

Haider, South Africa...........agr africa mieh police waly kisi ko arraest karty hain to koi reshwat koi sefarsh nahi chalti
 
haider Posted on: Saturday, August 25, 2012

Mukhlis Rahi, Karachi........Andhair nagri choupat raj. Jaisay awam waisay hukumran.
 
Mukhlis Rahi Posted on: Friday, August 24, 2012

محمد کلیم فاروقی، امریکا…آج ہی ٹی وی پرخبر ہے کہ کراچی میں ایک چھاپے کے دوران ایک پولس والا ٹارگٹ کلر پکڑا گیا ہے جبکہ ماضی میں اکثر ایسے ڈاکو اور لٹیرے بھی پکڑے گئے ہیں جو پولس والے نکلے تو رقم لے کر ملزمان کو چھوڑنا تو ایسی بات ہے جس کو شاید محکمہ اپنا حق سمجھتا ہے۔ ہم آخر پاکستان میں اپنی عمر کا بڑا حصہ رہے ہیں اور اب یہاں رہتے ہیں اور دونوں ملکوں کی پولس کا موازنہ کریں تو پاکستانی پولیس کا تصور ہی کان پکڑنے اور استغفار پڑھنے پر مجبور کردیتا ہے۔
 
محمد کليم فاروقي - شکا کو Posted on: Friday, August 24, 2012

Qaum ko rush Laganay ka behad shok hay ap apni koi cheez road par phaink dian 18 karor Bashaor awam jama ho jae gee.
 
kamran Posted on: Thursday, August 23, 2012

خالد انکل، امریکا…بعض واقعات میں خود قانون کے رکھوالے ملوث پائے گئے اور عوام نے طیش میں آکر سزا بھی دی اگر اس قسم کے واقعات کی ایک دفعہ عوام کے سامنے ایسے لوگوں کو عبترناک سزا دی جائے تو عوام کا قانون پر اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔
 
خالد انکل Posted on: Thursday, August 23, 2012

فرحان، تہران…ہم سب کرپٹ ہیں، کوئی پسند نہیں کرتا کہ کوئی اچھا آدمی کسی ادارے میں کام کرے۔ پولیس کیا کرے؟ اگر کسی کو پکڑ لے تو سیاسی کال آجاتی ہے تو کبھی پتہ چلتا ہے یہ خود بڑے صاحب کا رشتہ دار ہے۔ پاکستان سے باہر جانے کے بعد پتہ چلتا ہے پولیس سے بڑا کوئی DON کوئی نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کسی مجرم کی سفارش کے لئے کسی کا نہ تو فون آتا ہے نہ کسی کی ہمت ہوتی ہے پولیس والے کو ڈرانے کی جب ہمارے اوپر والے ٹھیک ہوجائیں گے تو نیچے والے خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے۔
 
فرحان Posted on: Thursday, August 23, 2012

محمد ادریس خان، راولپنڈی…ٹنڈو آدم خان کا واقعہ ہمارے قانون نافذ کرنے والوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ پورے نظام پر ہی عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ دراصل جس کسی چیز کو ہم نظام کہہ رہے ہیں وہ نظام کہیں ہے ہی نہیں۔ بقول شاعر: 'ہر چند کہیں کہ ہے پر نہیں ہے'. کی سی کفیت ہے لوگوں کا قانون کو ہاتھ میں لینا اور مجرمان کو تشدد کا نشانہ بنانا قانونی نظام سے مکمل طور پر مایوسی کا اظہار ہے اس عمل پر تنقید کرنے والے یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ جو عمل وہ چاروں خاتون و حضرات انجام دے رہے تھے اس تشدد سے کہیں زیادہ گھناؤنا اور قبیح تھا اس طرح کے عمل کی آزادی دراصل پورے معاشرے کی تباہی ہے۔ تشدد سے تو ایک آدمی کی جان گئی جسے ایک اسلامی مملکت کے قانون کے مطابق اس سے زیادہ عبرتناک سزا (رجم) ہونی تھی اور جو تین بچ گئے ہیں ان کو بھی ہونی چاہئے لیکن دیکھنا ہے کہ ان کو کیا سزا ہو گی، اگر بعد علاج معالجہ ان کو قانون کے مطابق سزا مل جانے تو توقع کی جانی چاہئے کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہونگے لیکن جیسا کہ ہوتا کچھ دنوں بعد جب بات دب جائے گی تو ان کو بھی چھوڑ دیا جائے گا جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، ہمارے قانون نافذ کرنے والے نہ صرف سب سے زیادہ کرپٹ ہیں بلکہ خود بڑے مجرم ہے جن کے کچھ جرائم کی کہانیاں روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں مگر آج تک کسی کو سزی بھی ہوئی ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ہماراعدالتی نظام فرسودہ اورسست ہونے کے ساتھ کرپشن میں بھی باقی اداروں سے پیچھے نہیں ہے نئی عدلیہ کی بحالی کے بعد اعلی عدالتوں کی حد تک کافی کوشش ہورہی ہے کہ عدالتی نظام کو بہتر کیا جائے خاص طور پر مقدمات کا فوری فیصلہ کیا جائے مگر ہماری اس قوم میں ایک سے ایک نکتہ آفریں چھپا ہوا ہے اور مقدمات کو طول دے کر انصاف کے حصول کو بیکار کر دیا جاتا ہے۔
 
Mohammad Idris Khan Posted on: Thursday, August 23, 2012
Prev | 1 | 2 | Next
Page 1 of 2


’دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا‘
گورا رنگ ہی کیوں؟
ورلڈ پولیو ڈے
ایبولا جان لیوا مرض
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 34 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 12 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy