لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


شکست سے کوئی سبق سیکھے گا؟ Share
  Posted On Thursday, August 09, 2012
  ……سید شہزاد عالم……
لندن اولمپکس میں آسٹریلیا کے ہاتھوں پاکستان کی عبرتناک شکست کے بعد پاکستانی ہاکی ٹیم نہ صرف میڈل کی دوڑ سے باہر ہو گئی بلکہ کسی بھی کھیل میں میڈل حاصل کرنے کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔ اب ہاکی میں ساتویں یا آٹھویں پوزیشن ہی مقدر ہے۔ آسٹریلیا سے میچ جیتنے کی صورت میں سیمی فائنل کا ٹکٹ کنفرم ہو جاتا لیکن اس اہم ترین میچ میں ٹیم کی کارکردگی ایسی تھی جیسے انہیں سیمی فائنل کھیلنے سے کوئی دلچسپی نہ ہو۔ درحقیقت آسٹریلیا نے ہاکی کے میچ میں پاکستانی ٹیم کو ٹینس کا مزا چکھادیا۔ سات گو ل سے شکست اس سے پہلے کبھی نہ کھائی تھی۔ہاکی کے علاوہ دیگر کھیلوں میں بھی کھلاڑی ابتدائی راؤنڈ میں ہی شکست کھا کر مقابلوں سے باہر ہوتے رہے۔لندن اولمپکس ہم پاکستانیوں کے لئے انتہائی مایوس کن ثابت ہوئے۔ لیکن سچی بات تو یہ ہے جو بویا جاتا ہے، وہی کاٹا جاتا ہے۔پاکستان میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اس کے بعد یہی دن دیکھنے کو ملتا ہے۔ کھیلوں کی مینجمنٹ میں ایک سے بڑھ کے ایک نالائق بیٹھا ہے جس کی قابلیت محض سیاسی وابستگی یا کسی طاقتور شخص سے قرابت داری ہوتی ہے۔ اسپورٹس کے فنڈز کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔ نااہل انتظامیہ کو متعلقہ کھیل کی ابجد کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ قومی اور صوبائی سطح کے کھیلوں میں بد انتظامی اور افراتفری عروج پر ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ کے بجائے سفارش اور پیسے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ کھیلوں کے ذمہ داران ملک میں کھیلوں کے فروغ کے بجائے اس کی بربادی کا ساماں زیادہ کرتے ہیں۔ ملک میں مختلف کھیلوں میں جو بھی ٹیلنٹ سامنے آتا ہے وہ زیادہ تر خداداد ہوتا ہے، ذمہ داران کا اس میں کوئی کمال نہیں ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کسی کھیل میں ابتدائی ٹیلنٹ سامنے آنے کے بعد اس کھلاڑی کو اعلیٰ تربیت دلائی جائے، بیرون ملک تربیت کے لئے بھیجا جائے اور اس کی گرومنگ کی ہر ممکن کوشش کی جائے تاکہ وہ کھلاڑی بین الاقوامی معیار سے روشناس ہو، اور کسی بھی انٹر نیشنل ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے کے قابل ہو، لیکن ہوتا اس کے با لکل بر عکس ہے۔ ٹیلنٹ کی ہر ممکن حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اہل کھلاڑیوں کے بجائے سفارشی کھلاڑی ملک کی نمائندگی کرتے ہیں جن کی ناقص کارکردگی قوم کی بدنامی کا سبب بنتی ہے۔ دنیا کی دیگر اقوام کھیلوں میں اپنا معیار بلند سے بلند تر کر رہی ہیں۔ ان کے اور ہمارے کھلاڑیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ان کی عمومی جسمانی صحت، کھیل میں پختگی ، پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ اور ان کے پیچھے مضبوط مینجمنٹ کا وجود ہمارے لئے سیکھنے کا سبق ہے۔ بحیثیت قوم ہم آج کھیلوں سمیت اپنا کوئی بھی شعبہ صحیح سے چلانے کے قابل نہیں رہے۔ ہم میں اور دیگر اقوام کے درمیان فرق گہرے سے گہرا ہوتا جارہا ہے۔ لندن اولمپکس کے نتائج میں کیا ہمارے لئے کوئی سبق ہے یا حسب دستور ہم ساری ذمہ داری بدقسمتی پر ڈال کر ریت میں سر دبا کر کسی اگلے مقابلوں میں شکست کی تیاریوں میں مصروف ہو جائیں گے۔۔۔۔؟
shahzad.janggroup@gmail.com
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (39)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

منوج، یوکے…مجھے پاکستان سے پیار ہے لیکن پاکستان کے سیاست دان اس قابل نہیں۔
 
Majnoon Posted on: Sunday, August 12, 2012

Syada Reenu Anjum , Islamabad.........Hum ne aj tak apni kabhi kisi galti se koi sabaq nahi sikha. Yeh tu serf games hain hum tu un mamlat me bhi kabhi sabaq nahi sikhtey jin ka aser bara-e-rast humari zindagi per hota hai.hum bar bar un logon ko apna leader chuntay hain jin se hum ko kabhi koi faida nahi hoa .hum pher bhi sabaq nahi hasil kartey.hum pori Qum hi inhatat ka shekar hai tu pher gamez kesy taraqi kar sakti hain.
 
syada reenu anjum Posted on: Sunday, August 12, 2012

محمد شیر حیدری، سعودی عرب…اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے آپ کھیل کی بات کرتے ہیں لیکن بندہ غریب یہ کہتا ہے کہ ہماری پوری قوم کرپشن کی اور شفارش کی اور جرائم کی وجہ سے ناکام ہو چکی ہے ہر میدان اور ہر معاملے پر ہر جگہ ہم ذلیل ہو رہے ہیں، ہمارے پاس دنیا اور آخرت میں کامیاب اور عزت حاصل کرنے کا صرف ایک راستہ بچا ہے اور وہ ہے اللہ اور اس کے رسول کا راستہ، بد قسمتی سے ہم، ہماری عوام اور ہماری سیاسی پارٹیاں اپنانے کو تیار نہیں، جب تک ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب کو راضی نہیں کر لیتے تب تک ہم عزت نہیں پا سکتے اللہ پاک ہمیں راہ حق پر چلنے کی تو فیق دے۔ آمین
 
MUHAMMAD SHER HAIDRI Posted on: Saturday, August 11, 2012

Hashmat Khan, Pakistan......Pakistan ka Allah he waras he g ham kia kha skte he.
 
Hashmat khan Posted on: Saturday, August 11, 2012

Zain, Melbourne.........Mujhe samajh nahi ata, mein australia me rehta hun, or ajj tak mene nah k koi insaan circket kheltay howay dekha hai na koi dosra game road ya street per, jese pakistan mein hota hai, haar bumar ka.insaan wahan cirket, basketball etc khailta hai roads per.grounds per,.lakin big events mein ZERO ! Yahan aisa nahi hai, jin ko waqaie shoq hai games ka wo normal grounds mein nazar nahi aatay balkay sirf specific training centers me jatay hain jahan aik game k ilawa koi dosra game nahi seekhaya or khaila jata, is lie yahan k log.full training k saath samnay atay hain or games jeet tay hain, pakistan me jis din jahalat khatam hogi us din pakistan bhi jeetay ga !
 
zain Posted on: Saturday, August 11, 2012

محمود عادل، لندن…نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے اور انہیں معقول معاوضہ دیں، ایک وہ ہمارا سرفخر سے بلند کردیں گے۔
 
mehmood adil Posted on: Friday, August 10, 2012

Imtiaz Khan, Karachi...........Jab tak har shoobey main all pakistn basis per selection naheen hogi yeh hi haal rahe ga. Yeh taasub naheen fact he.
 
imtiaz khan Posted on: Friday, August 10, 2012

Hamza, Islamabad........jitney baray ohday per bathy hain sary na-ehel hain en ko paisa si pyar hai mulk sey nahein in ko allah hi sambaly.
 
hamza Posted on: Friday, August 10, 2012

Ahsan, Germany...........jab players europe atay hain to inhe weather conditioning kerwanay ka time nai hota jo ke bohat important hai.weather ki tabdeeli ki waja se yahan pe hamari team itni active aur chust nazar nai aati.,european countries apne weather sey wakif han.shikast ki aik waja weather bhi hai.
 
ahsan Posted on: Friday, August 10, 2012

راشد چوہدری، امریکا…کچھ عرصھ سے آپکے بلاگ پڑھ رھا ھوں لوگوں ميں شعور پيدا کرنا اچھي بات ھے مگرنقارخانےميں طوطي کي کون سنتا ھے ھمارے ھاں آوے کا آوا ھي خراب ھے اس معاشرے کي مکمل اصلاح کي ضرورت ھے اس کے علاوھ کچھ ممکن نھيں ميں نے زندگي کا کافي عرصھ وھاں گذاراھے پاکستاني ذھين اور محنتي لوگ ھيں مصائيب کا مقابلھ بھي صبر و تحمل سےکرتے ھيں مگر بدقسمتي سے ملک کو اچھي ليڈرشپ ميسرنھيں اور ھوبھي کيسے جب ھم خودانھيں تختءدار کي زينت بنا ديتے ھيں اب ھمارے پاس يھي آپشن ھےکھ برائيوں ميں سے کم برائي کا انتخاب کرليں-
 
Rashid Chaudhry Posted on: Friday, August 10, 2012

Muzammil Mahar, Sialkot............yeh haar jeet hamarey muqadar ki bat hai agar hamari kismat sath dey to hum kabhi b shikast sey dochar nhi ho sktey.
 
muzammil mahar Posted on: Friday, August 10, 2012

Nisar Ahmed, Kabul...........Afghanistan ne Bejing2008 me bhi tamgha haasil kiya tha or ab London2012 me bhi or Pakistan 1992 se le kar ab tak Olympic tamghe k liye taras raha he. Pakistan har shobe me nakaam ho raha he or ye sub bad intezaami ka nateeja he.
 
Nisar Ahmad Posted on: Friday, August 10, 2012

Mukhlis Rahi , Karachi.........Jinhain na yeh pata ho ke hubul-watni kia hoti hai. Jazbae esar ka pata na ho. Sirf maal banao maal. Aise logon say kuch ummid rakhna bay-kar hai.
 
Mukhlis Rahi Posted on: Thursday, August 09, 2012

Ayaz, Kohat.........pak ke team achi team hay kuch matmaìn hay ab bilkul naw kelari lanay chahi bilkul team change karnì chay.
 
ayaz Posted on: Thursday, August 09, 2012

چوہدری سلیم، کینیڈا…ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں بہتر منتظم کی ضرورت ہے۔
 
CH. SALEEM Posted on: Thursday, August 09, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | Next
Page 2 of 3


بچوں کو جنسی تشدد سے بچائیں
کپتانی کا تاج آفریدی کے سر پر!
سعید اجمل کی معطلی اور سوشل میڈیا
تانيا تحريکی کی دہائی
چینی صدر کا دورہ ملتوی ،سوشل میڈیا پر ردعمل
 
تانيا تحريکی کی دہائی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 53 )
چینی صدر کا دورہ ملتوی ،سوشل میڈیا پر ردعمل
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 32 )
انقلابی مون سون
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 30 )
لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا تجھے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 26 )
مذاکرات کاموقع ضائع نہ کریں!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 21 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy