لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


وردی کے نشے میں انسانیت کی تذلیل Share
  Posted On Monday, August 06, 2012
  ……سید شہزاد عالم ……
خیرپور کے علاقے میں پولیس کے چند اہلکاروں نے ایک مرد اور عورت کے ساتھ جو سلوک کیا اس کی تفصیل انتہائی شرمناک ہے۔ وقوعہ سے انہیں بے لباس کر کے علاقے میں موبائل کے ساتھ گھماتے ہوئے تھانے لانا انسانیت سوز ہے۔ مبینہ جرم کی تفصیلات اور حقائق چاہے کچھ بھی ہوں، یہ بات طے ہے کہ پولیس کا فعلغیرقانونی اور غیر اخلاقی تھا۔ پولیس کہلاتی ہے قانون کی رکھوالی لیکن اس نے اڑا ڈالی قانون کی دھجیاں، اور کر دیا عام لوگوں کا پولیس پر سے اعتماد متزلزل، جو پہلے ہی قابل رشک نہ تھا۔ پولیس کو ہر گز سزا دینے کا حق نہیں کہ یہ کام صرف اور صرف مجاز عدالت کو ہی حاصل ہے۔ پولیس نے اپنے اختیارات سے نہ صرف تجاوز کیا بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ وردی کا نشہ سر چڑھ کر بولا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ پولیس کے محکمے میں لاکھوں خامیاں ہیں، سب جانتے ہیں کہ یہ محکمہ سر سے پیر تک رشوت اور بدعنوانی کے دلدل میں ڈوبا ہوا ہے، سب جانتے ہیں کہ تھانے بکتے ہیں، ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ تھانوں میں آبادی کے لحاظ سے نفری کم ہوتی ہے، ہم یہ بھی جانتے ہیں تھانے میں پینے کا پانی کیسا ہوتا ہے، عملے کے لئے کھانے کا کیا انتظام ہوتا ہے، اسٹیشنری کا کیا بندوبست ہوتا ہے، فرنیچر کیسا ہوتا ہے، باتھ روم کیسے ہو تے ہیں، اور تو اور مجرموں کے جدید اسلحے کے سامنے ان کے پاس کیسا اسلحہ ہوتا ہے یہ سب ہی دیکھتے ہیں۔ مادی وسائل کی کمی یا ان سے محرومی اپنی جگہ لیکن ایک اہم سوال پولیس کی تربیت اور ان کی اخلاقی حالت کے بارے میں بھی اٹھتا ہے کہ اپنے بنیادی فرائض کی ادائیگی کے لئے ان کی تربیت کا کیسا معیار ہے؟ اور ان افسران کی ذہنی سطح اور کام کرنے کی استعداد کی جانچ کا کیا طریقہ ہے؟ بنیادی اخلاقی معیار کیسا ہے؟ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پولیس فورس کی تربیت اور فرائض کی ادائیگی کے لئے ضروری تربیت کا فقدان ہے۔ اپنے کام کو سمجھنا اسے پایہء تکمیل تک پہنچانا اور جرم کی بیخ کنی کرنا ، لگتا ہے اب ان کی تربیت کا حصہ نہیں رہا۔ یہ بھی کہنا درست ہے کہ اس طرح کے واقعات اکثر دور دراز علاقوں کے تھانوں میں پیش آتے رہے ہیں لیکن یہ علاقہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کا اپنا علاقہ ہے یہاں اس طرح کا عملہ متعین ہو گا تو باقی علاقوں کا کیا حال ہوگا؟ اگر میڈیا اس واقعے کو منظر عام پر نہیں لاتا تو نہ جانے کتنے واقعات کی طرح اس واقعہ کی بھی کسی کو خبر نہ ہوتی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر وہ مرد اور عورت عدالت سے بے گناہ ثابت ہوئے تو ان کی اس بے عزتی کا ازالہ کیسے ہوگا؟
[email protected]
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (81)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

Adnan Dani, Sialkot.........kia inn police walo ko saza denay se un logo ki izzat wapis aa sakti hai. baat jazbat ki nai hai yehi salook kisi k sath b ho sakta hai tab kia karain gay. baat in ko saza denay se khatam nahi ho gi . Our system needs to be change from grass root level.
 
adnan dani Posted on: Wednesday, August 08, 2012

Arshad Mehmood, Cyprus..........salam.janab police ki yeh bhout dirty harket thi..for example agher un loogo ne gunah kiya bi tha tu police un ko pakkar ker court mein hazir kerti.court un ko saza deti.police ne apne force use ki.yeh app ki baat theek hi.wardi ka nisha.police ko bi saza deni chaye jo hamare law mein hi.thanx
 
arshed mehmood Posted on: Wednesday, August 08, 2012

علی اسد، راولپنڈی…ایسے تمام پولیس اہلکاروں کو سرعام پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے تاکہ دوسرے اہلکاروں کو اس سے سبق حاصل ہو اور کوئی ایسی حرکت دوبارہ نہ کرسکے۔
 
Ali Asad Posted on: Tuesday, August 07, 2012

Ali Mohammad, Karachi.........pakistan ki police aur hukmaran corrupt hain. warna humare pakistan jesa mulk kush naseebo ko hi milta hai agar log samjhein is bat ko.
 
Ali mohammadi Posted on: Tuesday, August 07, 2012

MUHAMMAD BUX RAJAR , KHIPRO.........AKSAR POLICE WALON KO YAHAN SIFARISHON SE BHARTI KIA JATA HAI BUHT SARE POLICE OFFICERS UNPARH HOTE HAIN KISI BHI IDARA KO AP UNPARH LOGON K SUPRD KARENGE TU YEHI NAHI BUHOT KUCH HOTA RAHEGA,
 
MUHAMMAD BUX RAJAR Posted on: Tuesday, August 07, 2012

عمران، لاہور…اگر دونوں گناہ گار بھی ہوں تو بھی یہ سلوک کسی بھی قانون کے تحت جائز ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ تھانہ انچارج اور ملوث پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کے افسر کی موجودگی میں وہ ہی سلوک کیا جانا چاہئے جو انہوں نے کیا ہے، لیکن پاکستان میں قانون اور سزا تو صرف کمزور کے لیے ہے صاحب اختیار (جس بھی حیثیت میں ہوں) اس سے مبرا ہیں۔ اس تناظر میں تو صرف اللہ سبحان تعالیٰ سے ہی درخواست کی جا سکتی ہے۔
 
Imran Posted on: Tuesday, August 07, 2012

شاہد، قطر…اگر انہوں نے کوئی جرم کیا بھی ہے تو پولیس ایسا سلوک کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ پولیس کا کام صرف ملزم کو پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں لانا ہے، خود سزا دینا نہیں۔
 
shahid Posted on: Tuesday, August 07, 2012

چوہدری وحید، سیالکوٹ…ان پولیس اہلکاروں کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا چاہئے، اس واقعے سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے، ان اہلکاروں کو ایسی سزا دی جائے جو دوسروں کیلئے باعث عبرت ہو۔
 
Chaudary Waheed Posted on: Tuesday, August 07, 2012

Noor Wali Khan, Rawalpindi...........esey police walo ko sare aam pansi dena chahiye
 
noor wali khan Posted on: Tuesday, August 07, 2012

مخلص راہی، کراچی…جس خطہ کے حکمران سےلے کر عوام تک بد عنوان ہوں وہاں جو نہ ہو جائے کچھ عجب نہیں۔ یہی یہاں کا کلچر ہے۔
 
Mukhlis Rahi Posted on: Tuesday, August 07, 2012

Khalid Jawed, Saudi Arabia............police ke log agar sudhar jaen to mulk me 80% juraem khtum hojaen magar ye aik khuwab hay use ky wajah ye wadera, jagirdarana krapt nizam pakistan ko azad howe 63 sal hogae haen magar awam zahny tor par aaj tak in waderoon or jagirdaron ke shikenjoon me qaed haen khas kar dahy abadiy police to hae hey in ky tabae.
 
khalid jawed Posted on: Tuesday, August 07, 2012

Ahsan Gondal, Mandi Bahauddin..........in ko saza milny chaye aur sab k samny.
 
Ahsan gondal Posted on: Tuesday, August 07, 2012

ممتاز شہباز، گجرات…یہ انتہائی شرمناک واقعہ ہے، سیاست زدہ پولیس کے ہوتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام ممکن نہیں۔
 
Muhammad Shahbaz Posted on: Tuesday, August 07, 2012

گل خان، اسلام آباد…پاکستان پولیس دنیا کی کرپٹ ترین پولیس ہے۔
 
Gul Khan Posted on: Tuesday, August 07, 2012

میر ناصر خان بجارانی، رحیم یار خان…سندھ پولیس میں بہت اچھے اچھے افسران ہیں، میری درخواست ہے کہ اس ڈسٹرکٹ میں ایسے افسران کا تقرر کیا جائے۔
 
Mir Nasir Khan Bijarany Posted on: Tuesday, August 07, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | Next
Page 4 of 6


سگریٹ نوشی سے انکار کا دن
تھر کا المیہ اورارباب اختیارکی غفلت‎
"دل ہے کہ مانتا نہیں...!"
متوان غذا صحت مند زندگی کی ضامن
شاہینوں کے بلے خوب گرجے، خوب برسے
 
انقلاب کا جھانسہ اورسادہ لوح عوام
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 39 )
انقلاب کا فرار
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 22 )
"دل ہے کہ مانتا نہیں...!"
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 22 )
سراج الحق صاحب کی بھاگ دوڑ ۔۔۔ کھایا نا پیا گلاس توڑا بارہ آنے ۔۔
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 15 )
شاہینوں کے بلے خوب گرجے، خوب برسے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy