لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


رمضان المبارک میں منافع خوری عروج پر! Share
  Posted On Monday, July 23, 2012
  ……سید شہزاد عالم……
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی کا طوفان برپا ہوگیا ہے جس کے سامنے غریب عوام بے بس و لاچارنظر آ رہی ہے ۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں منافع خوروں کا راج قائم ہے جو کھلم کھلا سرکاری احکامات کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ پھل اور سبزی فروش اس بات کا رونا روتے ہیں کہ ایک تو انہیں منڈی سے مال دگنے ریٹ پر مل رہا ہے اور دوسری طرف ہر طرح کے بھتہ خوروں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے جس کے باعث سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فروخت ممکن نہیں رہتی۔ بھتہ نہ دیں تو مارکیٹ میں ٹھیلا کھڑا کرنا ممکن نہیں جبکہ مار پیٹ کا سامنا الگ ہوتا ہے۔ پولیس ان کی مدد سے قاصر ہوتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت کو خود قیمتیں کنٹرول کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور اس کے تمام اقدامات نیم دلانہ ہی ہوتے ہیں کیونکہ منافع خوروں کی لابیوں کے ساتھ اس کے میل کھاتے سیاسی مفادات منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔
رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی ملک بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں ۔ اصولی طور پر رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہونی چاہئے تاکہ اس بابرکت مہینے میں غریب عوام کو ریلیف مل سکے لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر کھانے پینے کی اشیاء پر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے کم آمدنی اور تنخواہ دارعوام تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں اور ان کی نظریں نہ چاہتے ہوئے بھی حکومت کی طرف اٹھتی ہیں کہ وہ انہیں مہنگائی کے بم سے بچانے کے لئے کوئی اقدامات کرے۔
پہلا قدم تویہی ہو سکتا ہے کہ اصل منڈی میں قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ پرائس کمیٹیاں صرف مارکیٹوں میں چھاپے مار کر چھوٹے خوانچہ فروشوں اور پتھاریداروں کو دکھاوے کا جرمانہ کر کے اپنے فرض سے سبکدوش نظر آتی ہیں لیکن مسئلے کی جڑ کو کاٹنے سے صرف نظر کرتی ہیں۔ فریز کئے ہوئے گلے سڑے فروٹ مہنگے داموں فروخت کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ اب ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ عوام ازخود مہنگی اشیاء کا استعمال ترک کر دیں یا کم کر دیں تا کہ منافع خوروں کو قیمتیں کم کرنے پر مجبور کیا جاسکے یا عوام صارفین کمیٹیاں بنا کر بھرپور احتجاج کریں اور بے حس حکومت کو مہنگائی کم کرنے کے لئے نتیجہ خیز اقدامات پر مجبور کریں۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صارفین کمیٹیاں سول سوسائٹی اور میڈیا کی مدد سے عدلیہ کا سہارا لیں تا کہ عدلیہ کے احکامات صوبائی سطح پر حکومتوں کو ناجائز منافع خوری کے خلاف موثر اقدامات پر مجبور کر سکیں۔۔۔ اس دیرپا اور سنگین مسئلے کے حل کے لئے آپ بھی اپنے خیالات اور مشاہدات سے آگاہ کریں ۔۔۔! shahzad.janggroup@gmail.com
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (58)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

Omer Mukhtar, Peshawar.............assalamualeikum.. According to hadees: jo qaum Allah ki nafarmani karegi os par ALLAH zalim aur be-reham hukumraan musalat karega.. sub humari bad-aamali ka nateja hy?
 
OMER MUKHTAR Posted on: Tuesday, July 24, 2012

Reenu Anjum, Islamabd.........dosrey islami mumalik me ramzan me zarorat ke cheezon ki kematain kam ho jati hain ..aftar k waqt bohat achi wali khajoor dukandar rozadaron ko muft detey hain..humara mulk bana tu islam k nam per hai per ak kam bhi islam k asolon k mutabiq nahi hota..humarey mulk me beshumaar aisey log hain jo bohat se cheezon k taste tak na nawaqf hon gey..jin ko ak waqt ka khana meyasser nahi TV shows me un ko italian pizza banane ke tarqib sikhae jati hai..mai samjhti hon k hum sub ko un ashya ka istamal bilkul tark kar dena chayeh jo mehengi hon.per hum kuchh din to shor kartey hain phir usi rate per samjhota kar letey hain..ALLAH in monafakhoron ko sharm or ehsas-e-gonha ata karey or in k dilon ko narm karey takey wo un insanon k liyeh soch sakain jo apni mehdod amdani k waja se apne bachon ki jaiz khuwahish ko bhi pora karne se ajiz hotey hain.
 
reenu anjum Posted on: Tuesday, July 24, 2012

Khattak KaKa, Dubai.............jab kabhi islami doneya may islam k helaf koi ghalath harkath kare.tho hamare pakistani emaandar fawran torh porh jalosain shoro kartha hay.keyonke ham apne aap ko arbon say zeyada pake muslim boltey hay.edar arab mamalik may ramadan may sab kaane peenay k ashya sasti ho jati hay.awar har ghar ma qesam qesam khaane tayar hotey hay. awar masjedon ko baijtey hay. amir gharib sab kha latey hay.rahmaton ka maheena edar hota hay. pakistan ma to hartali bhaayeyon nay azaab banaya hay.gharib log etne pareshaan hay. k sochte hay. ye rozey rakne chhorh dein. lanat ho ham hartali musalmano par.
 
Khattak ka ka Posted on: Tuesday, July 24, 2012

Khuda Gharat kary is government ko. Roti kapra aur makan ka nara laganay wali is government nay tu awam say roti kapra aur makan chheen lenay ka paka irada kia hua hay. balkeh chheen he tu lia hay.
 
sohail Posted on: Tuesday, July 24, 2012

محمد شیر حیدری، سعودی عرب…اسلام مکمل نظام حیات ہے مگر ہم اس کے برعکس چل رہے ہیں ہمارے ملک میں جنگل کا قانون ہے اور ہماری قوم نے جن کو منتخب کیا وہی ڈاکو اور لٹیرے ہیں اب فریاد کس سے کریں۔ اے مالک و مولا ہمارے حکمرانوں کے دل میں اپنا خوف پیدا فرما، ہمارے حکمرانوں نے تو غریبوں کا جینا دوبھر کر رکہا ہے اگر ان کے نصیب میں ہدایت نہیں تو کوئی اچھا حاکم عطا فرما اور ان کو عبرت کا نشان بنا دے۔
 
MUHAMMAD SHER HAIDRI Posted on: Monday, July 23, 2012

Kamran, Karachi............Mehangaee abhee orr baray gee kiyun kay 4 ghantay main dukaan khaalee ho jaatee hay, ghareeb admee bayshak cheez na khareeday, opar sey hakomat chahtee hay pakistan ki abaadee 90 karor ho jaaey.
 
kamran Posted on: Monday, July 23, 2012

خالد انکل، امریکا…بجٹ اور رمضان کی آمد کے ساتھ مہنگائی کا طوفان برپا ہونا اب ایک ریت بن گی ہے، سونے پر سہاگہ بھتہ خوری بھی اس کا ایک سبب ہے، یہ وہ جن ہے جو کسی بوتل میں بند ہوتا نظر نہیں آتا، کچھ دیرعوام شور مچاتی ہے پھر تھک ہار کے مہنگائی کی چکی کے پاٹ میں پسنے کو تیار ہو جاتی ہے۔
 
خالد انکل Posted on: Monday, July 23, 2012

معیزالدین، منڈی بہاؤالدین…مہنگائی کے حوالے سے منڈی بہاؤالدین میں دلچسپ واقعہ پیش آیا،مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے برائلر گوشت کی قیمت 245روپے مقرر کی گئی اور سستے رمضان بازار میں بھی ایسی ہی کچھ قیمت رہی، لیکن ایک چکن فروش نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے برائلر گوشت220روپے فی کلو فروخت کرنا شروع کردیا اور اسے رمضان احترام کی قیمت چکانی پڑی،انتظامیہ حرکت میں آگئی اور اسے مقرر کردہ نرخوں سے کم قیمت پر فروخت کرنے پر اس کا ترازو،ناپ تول کا پیمانہ اور معیار چیک کرنے کے لیے چھاپہ مارا اوربے گناہ پایا،اگلے ہی روزاپنی سبکی مٹانے کی خاطر اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر جیل کی نذر کردیا ،مرغی فروش کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ منافع لینے کے لیے کم گاہک بھگتانے کے بجائے رمضان کے احترام میں کم منافع لے کر زیادہ سے زیادہ مرغی فروخت کررہا تھا، تاکہ گاہکوں کی جیب پر بوجھ بھی نہ بنے اور زیادہ فروخت سے اس کی کمائی کی شرح بھی برقرار رہے۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ کو اس مرغی فروش کی حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی نہ کہ اس کے خلاف کاروائی کی۔ بہر حال مہنگائی کے فروغ میں انتظامیہ بھی شامل ہے۔
 
معیز الدین Posted on: Monday, July 23, 2012

Ahmed, Islamabad..........Yeh hukumat awam ko marna chahti he orr koi kam hi nahin he is hukumat ko hum karain bi to kya karain ghareeb awam kis ko kahe bas ek hi aas laga baithain hn ke Imran khan ki hukumat ae to kuch ho warna hum to muft main maarey jaenge.
 
Ahmed Posted on: Monday, July 23, 2012

اظہر اقبال، آزاد کشمیر…اس کی بڑی وجہ بدعنوان حکومت حکومت ہے۔
 
azhar iqbal Posted on: Monday, July 23, 2012

MUHAMMAD WAQAS MALIK , KARACHI............KARACHI MAIN HAR JAGA LOOT MAR HAI HAR CHEEZ KE PRICE BARH GYE HAI KUN KEH MEDIA WALE IS PER GOVERMENT SE SWAL NAHI POCHTE KUN JO KARACHI KE JO KARTA DHARTA HAIN KHAOMS HAIN KUN .AJJ AHLYANE KARCAHI KA KHYAL UN KO NAHI ATA
 
MUHAMMAD WAQAS MALIK Posted on: Monday, July 23, 2012

Zahid Khan, Dubai............khaaney peeney ki ashya ki qeematein kam karna to naa-mumkin hai but ehtejaaj karney sey kuch hosakta hai.
 
zahid khan Posted on: Monday, July 23, 2012

Saadat, Gujranwala........assalam o alekum.sir main gujranwala main rehta hoon.yahan per 1 ramzan se loadshedding intni zeyada hai ke light 24 ghante main sirf 6 ghante aati hai.chhote chhote bachon ne roza rakha hota hai.garmi wese hi bohat hai.sochein bijli nahi hoti to bacho per kiya guzarti ho gi.or khas tor per namaz or sehri,iftari main light nahi hoti.ALLAH iss hukumat se humein nijat de.
 
saadat Posted on: Monday, July 23, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | Next
Page 4 of 4


صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی
بچوں کو جنسی تشدد سے بچائیں
کپتانی کا تاج آفریدی کے سر پر!
سعید اجمل کی معطلی اور سوشل میڈیا
تانيا تحريکی کی دہائی
 
عمران خان،اب آپ کو پلان ’بی‘ کا انتظار ہے؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 64 )
تانيا تحريکی کی دہائی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 56 )
چینی صدر کا دورہ ملتوی ،سوشل میڈیا پر ردعمل
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 38 )
بچوں کو جنسی تشدد سے بچائیں
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 31 )
کپتانی کا تاج آفریدی کے سر پر!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 28 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy