لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


رہائشی علاقوں میں صنعتی سرگرمیاں! Share
  Posted On Tuesday, July 10, 2012
  ……سید شہزاد عالم……
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری ، نامناسب منصوبہ بندی اور متعلقہ حکام کی چشم پوشی کے سبب کئی رہائشی علاقوں میں چھوٹے پیمانے پرایسی کاروباری سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں جو وہاں کے رہائشیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ رہائشی علاقوں میں قائم گوشت، سبزی، پھل، جنرل اسٹور، بیکری ، دودھ اور کپڑے کی دکانیں تو عام لوگوں کے لئے سہولت کا باعث ہوتی ہیں لیکن اگر رہائشی گلیوں میں مکانات کرائے پر دئے جائیں یا گھروں میں دکانیں نکال کر وہاں پر آرا مشینیں لگا کر سارا دن لکڑیاں کاٹی جائیں تو ان مشینوں کا شور اور لکڑی کے ذرات وہاں کے دیگر رہائشیوں کے لئے ایک عذاب سے کم نہیں۔ اسی طرح مکانات کرائے پر لے کر یا خرید کر وہاں کیمیکلز ذخیرہ کئے جائیں تو یہ نہ صرف آس پاس رہنے والوں کی صحت سے کھیلنے کے مترادف ہے بلکہ کسی بھی وقت بھیانک حادثہ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ ایسے کئی حادثات ریکارڈ پر موجود ہیں جہاں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر ممنوعہ کیمیکلز یا آتش بازی کا سامان ذخیرہ کیا گیا تھا جس کی تباہی سے نہ صرف آس پاس کی املاک کو نقصان پہنچا بلکہ قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ اسی طرح رہائشی علاقوں میں موٹر گاڑیوں کی مرمت کی دکانیں بھی کثرت سے قائم ہیں اور عام لوگ ان سے چشم پوشی محض اس لئے کرتے ہیں کہ گھر کے پاس مرمت کی سہولت مہیا ہو جاتی ہے لیکن اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ موٹر گاڑیوں کا مسلسل شور ان کی ذہنی صحت کے لئے ایک مہلک زہر ہے جو آہستہ آہستہ انہیں اندر سے چاٹ لیتا ہے۔ ڈینٹنگ پینٹنگ کی دکانوں کا شور اور اسپرے میں استعمال ہونے والا کیمیکلز آس پاس موجود لوگوں کی آنکھوں اور پھیپڑوں اور اعصاب کے لئے انتہائی درجے نقصان دہ ہے۔ ایسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہاں دیگر افراد کی آمدورفت بھی شروع ہوجاتی ہے جس سے رہائشی افراد کی نہ صرف پرائیویسی متاثر ہوتی ہے بلکہ خواتین اور بچوں کے لئے بھی وہاں سے گزرنا ان کے لئے تکلیف دہ بن جاتا ہے۔ مقامی سطح پر یا تو موثر قوانین موجود نہیں ہیں اور اگر موجود بھی ہیں تو وہ سیاسی اثر رسوخ یا رشوت ستانی کے باعث غیر موثر ہو گئے ہیں۔ شہریوں کے حقوق اور ان کی صحت اور فلاح و بہبود کی کسی کو فکر نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی ایسی جگہ کا علم ہونے پر بجلی اور گیس کی فراہمی کا ادارہ فورا کاروائی کر کے اس جگہ کا ٹیرف رہائشی سے تجارتی کر دیتے ہیں تا کہ ان کی کمائی اپنی جگہ قائم رہے بلکہ بڑھے لیکن قوانین کی خلاف ورزی کا ان کو کوئی احساس نہیں۔ لوکل باڈیز کی غیر موجودگی شہریوں کے لئے جمہوری حکومت کا تحفہ ہے ۔ اب شہریوں کی فریاد سننے کے لئے کوئی ناظم ہے نہ کوئی کونسلر، چاہے شہری ذہنی اذیت سے دوچار ہوں، ان کی آنکھیں اور پھیپڑے متاثر ہوں، ان کی زندگیاں اور املاک مسلسل خطرے کی زد میں رہیں کسی کو پرواہ نہیں، افسوس معصوم شہریوں کی دادرسی کے لئے کوئی موجود نہیں۔
shahzad.janggroup@gmail.com
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (29)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

امجد علی خان، راولپنڈی…میں آپ کے بلاگ سے اتفاق کرتا ہوں، میں عمار پورہ میں رہتا ہوں اور یہاں بھی فرنیچر مافیا نے رہائشی علاقے میں یہی کچھ کیا ہوا ہے۔ اس علاقے میں بڑی تعداد میں آرا مشینیں، فرنیچر بنانے کی ورک شاپس کھلی ہوئی ہیں جبکہ کئی ملٹی اسٹوری ورک شاپس زیر تعمیر ہیں۔ میری وزیر اعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ اس پر فوری ایکشن لیں۔
 
Amjad Ali Khan Posted on: Tuesday, August 07, 2012

عمیررانا، کراچی…آپ نے بہت اچھابلاگ تحریر کیا ہے۔
 
umair rana Posted on: Sunday, August 05, 2012

محمد کامل، اسلام آباد…میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سنجیدہ نوعیت کا مسئلہ ہے، اسے ہر سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں لوکل کمیونٹی اور متحد ہوکر کوششیں کرنی چاہئیں۔
 
Muhammad Kamil Posted on: Friday, August 03, 2012

زبیر ملک، لاہور…اصل مسئلہ ہمارے سیاست دان ہیں جو ہمارے ماحول کو متاثر کررہے ہیں۔
 
Zubair Malik Posted on: Wednesday, August 01, 2012

Awais Tanveer, Rawalpindi.............Rihaishi ilakon main motor workshops kaim kar diey jatay hen. or phir wahan kay ghar khreed kar un main spare parts ki markets qaim kar di jati hen jis say wahan kay rehnay walon ka jeena mushkil ho jata hai. insan apnay ghar walon kay sath bahir nahi nikal sakta ghar say. lakin is sab kay bawjood intizami idaron par koi asar nahin parta.
 
Awais tanveer Posted on: Wednesday, July 25, 2012

Zeeshan, Burewala..........pakistan kay majooda halaat kharaab hai pakistan kay har idaray ko deemak kha rahee hai its mean hukumraan.
 
zeeshan Posted on: Wednesday, July 25, 2012

Hafiz Jamil, Lahore...........Is nasoor se poora Shalamar Town bhara para hai aur mazeed ye azab barhta hi ja raha hai. Arbab-e-Ikhtiar ko inform karne ke baad ulta hamein hi ganda hona para, kia kar sakte hain?
 
Hafiz Jamil Posted on: Tuesday, July 24, 2012

Muhammad Ejaz Rehman , Rahimyar Khan............Hukoomat khud bhi chor aor chor darwazy sy hukoomat main aai aor choron ko hi pasand krti hy un ka hi sath diti hy aur is hukoomat ka aik hi manshoor hy qaom ko looto khud bhi khao auor hamain bhi khilao jis ka jahan hath parrta hy loot kr lao chahy tax ki soorat ho ya.......
 
Muhammad Ejaz Rehman Posted on: Monday, July 23, 2012

REHAN, KARACHI............ALLAH USS QAUM KI HAALAT NAHI BADALTA JO ANPNI HAALAT NAHI BADLNA CHAHTI.
 
REHAN Posted on: Friday, July 20, 2012

Muhammad Yousaf , Lahore.............Mein Al-Noor Town, Lahore Cantt ki resident hun aor khud is laanat ka shikar hun aor Walton Board main shakiat karnay k bawjood maray sath wala godam khali karwana k bajay mujah thana jana par gya. Aajkal approach hi bari cheez ya.
 
Muhammad Yousaf Posted on: Thursday, July 19, 2012

M. Farhan Sheikh, Multan............ppp hukumat bilkul naqam ho gae hai, behtar yahi hai hukumat ghar chali jay.
 
M. Farhan sheikh Posted on: Wednesday, July 18, 2012

علی اکبر، کینیڈا…مجھے حیرت ہے کہ ہماری حکومت ہر چیز کو سائنسی بنیادوں پر پلان کیوں نہیں کرتی جبکہ تمام ماڈلز پر دنیا بھر میں عملدرآمد ہورہا ہے، ہمیں صرف اپنے ملک میں ان کی کاپی کرنی ہے، اگر ہمارے سیاست دانوں کا مفاد ہوتو وہ چند گھنٹوں میں بل پاس کرلیتے ہیں، لیکن غریب عوام گذشتہ 63 سال سے ان اشرافیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، اور اب تک کوئی ایسا قانون نہیں آیا جو عام لوگوں کیلئے فائدہ مند ہو۔
 
Ali Akbar Posted on: Wednesday, July 18, 2012

Muhammad Siddiq, UAE..............bus hum kia kar sakthay hay logo k dilo may khouf khuda hi nahi raha ALLAH say dua hay hamaray piyaray mulk ko achha bana day, ameen.
 
muhammad siddiq Posted on: Tuesday, July 17, 2012

محمد عرفان، لاہور…شہزاد عالم صاحب آپ نے ایک سنجیدہ ایشو پر توجہ مبذول کرائی ہے، میں خود اپنے پڑوس میں ایمبرائیڈری کی مشینوں کے باعث ہونے والے شور کا شکار رہا ہوں۔
 
Muhammad Irfan Posted on: Sunday, July 15, 2012

محمد شہزاد، الخبر،سعودی عرب…آج سے کچھ ماہ قبل فرسٹ انڈسٹریل ایریا میں ایک کیمیکل فیکٹری میں کسی فنی خرابی کی وجہ سے گیس کا اخراج شروع ہو گیا جس کی وجہ سے سعودی حکومت نے ایمر جنسی خاص طور پرا سکولوں میں چھٹی کروا دی اورپورے فرسٹ انڈسٹریل ایریا کو الدمام شہر سے دور دراز علاقے میں شفٹ کرنے کا پلان دے دیا ہے حالانکہ اس طرح کا واقعہ پچھلے سات سال میں، میں نے پہلی دفعہ سنا ہے پھر بھی جانی نقصان کے پیش نظر اتنا بڑا فیصلہ اتنی جلدی کر لیا اور دو سال پہلے کئی سائن بورڈبنانے والی کمپنیوں کی ورکشاپس کو تو شہر سے باہر شفٹ کرنے کا نوٹس جاری کردیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اور کئی ایسے فیصلے ہیں جو صرف جانی نقصان کو پیش نظر رکھتے ہوئے کئے گئے ہیں۔ لیکن پاکستان میں نہ مالی نقصان کی ذمہ دار حکومت بنتی ہے نہ جانی نقصان کی بلکہ یہ تو خود جانی نقصان پر چپ سادھ لیتی ہے ایسی حکومت سے آپ ہی توقع کر سکتے ہیں کہ کوئی اقدامات کرے گی، بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہو گا حکومت نے تو کئی جانوں کے نقصان کا تو خود ٹھیکہ لیا ہوا ہے مثلا نیٹو سپلائی، وار آن ٹیرر، جیلی دوائیاں، ہسپتال کا نظام، ڈاکٹری ہڑتالیں،گندگی اور بھی بہت کچھ۔۔
 
محمد شھزاد Posted on: Sunday, July 15, 2012
Prev | 1 | 2 | Next
Page 1 of 2


گورا رنگ ہی کیوں؟
ورلڈ پولیو ڈے
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
اب مستحکم فیصلے ہی پاکستانی کرکٹ کو بچاسکتے ہیں
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 33 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
اردوزبان کانفاذ:اہم قومی،آئینی ضرورت
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy