لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


لاؤ ہم خود ہی نشیمن کو جلا دیتے ہیں! Share
  Posted On Tuesday, June 19, 2012
  ……سید شہزاد عالم……
پنجاب کے کئی شہروں میں بدترین لوڈ شیڈنگ کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہیں۔ موسم گرما اپنے عروج پر ہے اور حکومت کی تمام تر کوتاہی، بدانتظامی ، عدم دلچسپی اور پر لے درجے کی نا اہلی کے باعث بجلی کا بحران اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث اب عوام شدید مایوسی اور اشتعال کے عالم میں سڑکوں پر حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور ملک میں رائج کلچر کے عین مطابق یہ مظاہرے پر تشدد صورت اختیار کر گئے ہیں۔ اب تک کئی قیمتی جانیں ان مظاہروں کے دوران جاں بحق ہو چکی ہیں اور کروڑوں روپے کی نجی اور سرکاری املاک نذر آتش ہو چکی ہیں۔
اس جمہوری دور میں ہم متعدد بار دیکھ چکے ہیں کہ جب بھی عوام اپنے مطالبات لئے سڑکوں پر آتی ہے مرکزی اور صوبائی حکومتیں فوراً ایک دوسرے کی مدد کو پہنچتی ہیں ۔۔ کس طرح؟۔۔۔۔ مرکز میں پی پی کی حکومت اور پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی شروع کر تے ہیں اور ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ مظاہرے پر تشدد رخ اختیار کرلیں اور پھر انتظامی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے عوام کی آواز کو دبا دیا جائے۔ مصیبت کے ماروں کے خلاف ہی مقدمے بن جائیں اور ان ہی کو زندان میں ڈال دیا جائے اور ان کی رہائی کے لئے رشوت کا بازار گرم کردیا جائے یعنی ہر صورت میں عوام کو ہی نچوڑ دیا جائے۔
بجلی کے بحران کے لئے مرکزی حکومت صوبائی حکومت کو اور صوبائی حکومت وفاق کو اس کا ذمہ دار ٹھہراکر عوام کی آنکھوں میں جی بھر کے دھول جھونکتے ہیں۔ عوام کے لئے بجلی اب کوئی اشیائے تعیش نہیں رہی بلکہ اب عوام کے معاش اور روٹی روزی کا انحصار بجلی کی فراہمی سے مشروط ہے۔ بجلی کی عدم فراہمی سے چھوٹے چھوٹے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں ، دکانوں اور صنعتوں کو تالے لگ چکے ہیں۔ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی بجلی کے بحران سے نمٹنے میں حکومت کی عدم دلچسپی سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ملک اور عوام کے مقدر کے لئے اندھیروں کا انتخاب کر لیا ہے ۔ ملک کی معاشی تباہی میں پہلے کون سی کسر باقی تھی کہ اب عوام کے لئے بھی مارو یا مر جاؤ والی صورت پیدا ہوتی جارہی ہے۔ بجٹ گزرے ابھی مہینہ بھی نہیں ہوا کہ بلند و بانگ دعوے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ عوام کو سنہرے سپنے دکھانے والے اب عوام کا گلا گھونٹنے پر لگ گئے ہیں۔ اب تو صورتحال ایسی ہو گئی ہے کہ
کیا ضرورت ہے رفیق برق کو یہ زحمت ہو
لاؤ ہم خود ہی نشیمن کو جلا دیتے ہیں


 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (34)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

محمد کلیم فاروقی، امریکا…گو کہ احتجاج کی جو شکل ہے نا مناسب ہے اس کے باوجود حکمرانوں کے کان پر جوں نہیں رینگتی، ایسے میں عوام شاید اقبال کے اس شعر پر عمل کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں کہ جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشئہ گندم کو جلادو اور پھر احتجاج کا یہ طریقہ احتجاج پاکستان کی حکمراں جماعت کا ہی وضع کردہ ہے جو محترمہ کی شہادت پر آج سے زیادہ شدت سے اپنایا گیا تھا، حکمرانوں نے قوم پر قرضوں کا حجم دگنا کر دیا کاش ان قرضوں کا ایک چھوٹا سا حصہ اس مسئلے کے حل پر لگا دیا جاتا تو آج یہ حالت نہ ہوتی اور نہ معیشت اور بے روزگاری اس انتہا تک پہنچتی لیکن یہ بے حال عوام تو اتنا بھی نہیں جانتے کہ وہ قرضے آخر گئے کہاں؟
 
محمد کليم فاروقي - شکاگو Posted on: Tuesday, June 19, 2012

Muhammad Ijaz , Pakistani theek kar rahy hain k wo MPA ko gharon se nikal k mar rahy hain aik din ye PM aur aiwan-e-sadar main b ghus jain gay ab to un ki izzat mehfooz hai phr awam tang aa k in ki izzaton ka b pata ni kia hall krain gay KHUDA k liyay bazz a jao wrna sb syasi leadron ki gardanain sre aam bazaron main awam katy g.
 
muhammad ijaz Posted on: Tuesday, June 19, 2012

M Asif Zulifiqar , Lodhran...........loadshedding ka best solution FIX Bill HAi Hamary Han Public Sy Ly kr Govt tk Sb Chor Hian
 
M Asif Zulifiqar Posted on: Tuesday, June 19, 2012

Amjad Ali Baam, Lahore......jisam ka agr koi hissa khrab ho jai to us ko kat kar allg nahi kia jata balky us ka elaaj kia jata hai aaj hamary mulk ko bhi elaaj ki zarurat ha na k us ko jalaya jai or zakhmi kia jai.hum sab ko mil kar Pakistan ko dobara bnana hai, Allah ki madd se. Ameen
 
amjad ali baam Posted on: Tuesday, June 19, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | Next
Page 3 of 3


کپتانی کا تاج آفریدی کے سر پر!
سعید اجمل کی معطلی اور سوشل میڈیا
تانيا تحريکی کی دہائی
چینی صدر کا دورہ ملتوی ،سوشل میڈیا پر ردعمل
آزادی انقلاب مارچ اور صحافی
 
تانيا تحريکی کی دہائی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 41 )
چینی صدر کا دورہ ملتوی ،سوشل میڈیا پر ردعمل
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 32 )
انقلابی مون سون
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 30 )
لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا تجھے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 26 )
مذاکرات کاموقع ضائع نہ کریں!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 21 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy