لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


اب کے ہم بچھڑے تو شاید… Share
  Posted On Wednesday, June 13, 2012
  ……شفیق احمد……

موسیقی کے گھرانے کلاونت سے تعلق رکھنے والے شہنشاہِ غزل مہدی حسن کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، وہ بذاتِ خود اس پہچان کے مالک تھے، جس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ملی اور فلمی نغمات کو گا کر یادگار بنایا، تاہم غزل کی گائیکی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان کے پرستاروں کا ماننا ہے کہ اگر وہ فلم میں نہ بھی گاتے تو اتنی ہی شہرت کی بلندی پر ہوتے، جتنی غزل گائیکی پرتھے۔ان کی غزلوں”گُلوں میں رنگ بھرے“ اور ”یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے“ کو فلموں میں بھی شامل کیا گیا۔انہوں نے فیض احمد فیض اور احمد فراز جیسے بڑے شعراء کی شاعری کواپنی آواز کا رنگ دے کر چار چاند لگا دیے۔

ایک مرتبہ خاں صاحب، نیپال کے شاہ بریندرا کے دربار میں نغمہ سرا تھے کہ اپنے ایک گیت ’زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں‘ کی ایک لائن بھول گئے تو شاہ بریندرا اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور اس گیت کی وہ لائن گا کر حاضرین کو حیرت زدہ کردیا۔ اس واقعے سے مہدی حسن کی مقبولیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

بھارت کی ممتاز لیجینڈری گلوکارہ لتا منگیشکر نے تو یہ کہہ کر انہیں خراج تحسین پیش کیا کہ ” ان کے گلے میں تو بھگوان بولتا ہے“۔ ایک اور موقع پر لتا جی نے کہا کہ وہ اپنے دن کا آغاز مہدی حسن کی غزل گا کر کرتی ہوں۔ان کے انتقال پر لتا نے اس ملال کا اظہار بھی کیا ہے کہ خان صاحب کے ساتھ کوئی گیت نہ گا نے کا انہیں بے حد افسوس ہے۔

ان جیسا گلوکار پورے برصغیر میں نہیں ہے۔ خانصاحب کے مداحوں اور پرستاروں میں دلیپ کمار، کشور کمار، جگجیت سنگھ، ہری ہرن جیسے فنکار بھی شامل ہیں جو خود اپنے اپنے شعبوں میں لیجینڈ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

شہنشاہِ غزل علالت کے باعث اپنی عمرکے آخری چند برس میں کچھ نہیں گا پائے، تاہم انہوں نے جو کچھ گا دیا وہ صدیوں کے لیے کافی ہے اور ہر آنے والے گلوکارکے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

ایک اندازے کے مطابق مہدی حسن نے چون ہزار سے زائد فلمی، غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں اوراپنے وقت کے عظیم موسیقاروں کے ساتھ کام کیا جن میں استاد نیاز حسین شامی، پنڈت غلام قادر (برادر مہدی حسن) ، ماسٹر عنایت حسین، خواجہ خورشید انور، رشید عطرے، نثار بزمی اور محسن رضا شامل ہیں۔

مہدی حسن کے انتقال سے پاکستان میں غزل گائیکی کا ایک باب ختم ہوگیا، دنیا بھر میں اپنے فن سے داد پانے والے گلوکار نے اپنے آخری ایام بستر علالت پر گزارے اور طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (50)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

عمیر، کراچی…مہدی حسن بہترین گلوکار تھے۔
 
omair Posted on: Tuesday, June 19, 2012

خالد جاوید، سعودی عرب…اللہ تعالی نے فرمایا ہے کل نفس زائقة الموت ،جو آیا اس نے جانا بھی ہے،مگر کچھ کولوگوں کو اللہ نے ایسی خوبیوں سے نوازاہے وہ جا نے کے بعد بھی صدیوں اپنے آپ کو منواتے رہیں گے۔ مہدی حسن بھی پا ک و ہند کا ایک بڑا نا م جس نے فن موسیقی میں ایک تا ریخ رقم کردی ہے غزل ہو یا ملی و فلمی نغمے اورگانے ، اپنی آواز کالوہا منوایا۔ بے شک خا ن صاحب ہما رے ملک کا ایک ایسا اثا ثہ تھے بلکہ فن موسیقی کے انسا ئیکلوپیڈیا کا درجہ رکھنے والی شخصیت جس کی کمی شاید کبھی پوری نہ ہوسکے، جب کوئی پیا ر سے بلائے گا تم کو ایک شخص یا د آیگا، سو برس کی زندگی میں ایک پل تو اگر کرلے کوئی اچھا عمل تجھکو دنیا میں ملے گا اس کا پھل۔ایسے نہ جانے کتنے دل کو چھونے والے گا نے۔ اللہ مہدی حسن کو جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر دے۔
 
khalid jawed Posted on: Monday, June 18, 2012

دیپک ثانیہ،کراچی…کوئی بھی ان کی گائی ہوئی غزلوں کو فراموش نہیں کرسکتا۔
 
Deepak Saniya Posted on: Monday, June 18, 2012

بشریٰ احمد، کینیڈا…مہدی حسن عظیم گلوکار تھے، ان کی آواز میں جو مٹھاس تھی ہم اس میں کھو جاتے تھے، ان کا کوئی ثانی نہیں۔
 
bushra ahmed Posted on: Sunday, June 17, 2012

ریاض شیخ، کینیڈا…مہدی حسن کی وفات عظیم نقصان ہے، ہم ایک ایک کرکے عظیم شخصیات سے محروم ہورہے ہیں جیسے معین اختر اور مہدی حسن وغیرہ۔ ان فنکاروں کا خلاء کبھی پرنہیں ہوسکے گا۔
 
Riaz Sheikh Posted on: Sunday, June 17, 2012

علی، صوابی…مہدی حسن ایک عظیم گلوکار تھے، وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ میری درخواست ہے کہ تمام پاکستان ان کی مغفرت کیلئے دعا کریں۔
 
Ali Posted on: Sunday, June 17, 2012

Syed Mukhtar Hamdani , Saudi Arabia.................Mehdi Hassan Khan Sahab ghazal gaeki aur filmi ganon mein aek alag maqam kay hamil gulookar thay, ALLAH TA'ALA ne Khan Sahab ko nayab aur khoobsurat awaz se nawaza tha,ghazal-e-mosiqi ki duniya mein Khan Sahab jesa shakhs ab kabhi nahi aaye ga. ALLAH Khan Sahab ko maghfirat ata farmaye.AAMEEN
 
Syed Mukhtar Hamdani Posted on: Sunday, June 17, 2012

IJAZ AHMAD MALIK , Jhang...........Allah unn ki maghfarat karey. Bahut azeem insaan thay.
 
IJAZ AHMAD MALIK Posted on: Sunday, June 17, 2012

Muhammad Farhan , Karachi...........Mehdi Hassan Khan Sahab ghazal gaeki aur filmi ganon mein aek alag maqam ki aehmiat ke hamil gulookar thay, ALLAH TA'ALA ne Khan Sahab ko nayab aur khoobsurat awaz se nawaza tha,ghazal-e-mosiqi ki duniya mein Khan Sahab jesa shakhs ab kabhi nahi aaye ga. ALLAH Khan Sahab ko maghfirat ata farmaye.AAMEEN
 
Muhammad Farhan Posted on: Saturday, June 16, 2012

Imtiaz Hussain, Kuwait......khan sab ka saani nahein.
 
imtiaz hussain Posted on: Saturday, June 16, 2012

Sana, Karachi..........Allah mehdi hassan sb ki maghfarat kare (amin)
 
sana Posted on: Saturday, June 16, 2012

Ahtsham, Karachi..........mehdi hassan bohat bare gulukar the allah un ko janat main jaga de (amin) un jesa or gulukar duniya main nai hy.
 
ahtsham Posted on: Saturday, June 16, 2012

Muhammad Ayoob Mengal , Shikarpur...............Khabar Parh Kar Bhut Afsos Houa k Bare Sagheer ke is Choti k Fankar ki Zindagi Ka Baab Band Hogaya or us Se Ziyada Dukh is Mulk ke hukmrano par hoa k woh is azeem fankar ki kadar nahi ki or akhri wakt muflisi or lachari men guzar di ye is mulk k logon ki aadat hogae he k jab hayat to kadar nahi jab wafat phir kadar pata nahi kyon yahan ke hukumran aese azeem fankaron ke leye kuch nahi kartay.
 
Muhammad Ayoob Mengal Posted on: Friday, June 15, 2012

علی اکبر ,حویلی لکھا........اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مہدی حسن ایک اعلی پائے کے گلو کار تھے مگر ان کی اس طرح قدر نہیں کی گئی جیسے ایک ٹیلنٹ کی جانی چاہیے تھی ۔ان کی علالت کے دوران آئے روز اخباروں اور ٹی وی چینلز پر یہ دیککھنے کو ملتا تھا کہ ان کو علاج کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے مگر حکومت پاکستان نے ان کی طرف توجہ نہ دی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عوام اور حکومت آہستہ آہستہ ان لوگوں کو کھو رہی ہے جنہوں نے اس ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کیا ۔
 
علی اکبر Posted on: Friday, June 15, 2012

احمد حسن، ٹورنٹو…یہ وطن تمہارا ہے…تم ہوپاسبان اس کے مہدی حسن کے گائے اس ملی نغمے میں جو کہا گیا ہے ہمیں اس پر عمل کرنا چاہئے اور یہی ان کو سب سے اچھا خراج عقیدت ہوگا۔
 
Ahmed Hassan Posted on: Friday, June 15, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | Next
Page 2 of 4


اردو زبان کا نفاذ،ایک اہم قومی و آئینی ضرورت
’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
اب مستحکم فیصلے ہی پاکستانی کرکٹ کو بچاسکتے ہیں
ہاتھ دھونے کا عالمی دن
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 33 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
اردو زبان کا نفاذ،ایک اہم قومی و آئینی ضرورت
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy