لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


بچے خود کشی کیوں کرنے لگے؟ Share
  Posted On Wednesday, May 30, 2012
  ……شفیق احمد……کس گھر میں بچے نہیں اور کہاں بچوں کو خراب کارکردگی پر ڈانٹا ڈپٹا نہیں جاتا، ماں باپ سے بہتر کسی بچے کا خیرخواہ کوئی اور ہوسکتا ہے؟ہر ماں باپ اپنی اولاد کو خود سے آگے دیکھنا چاہتے ہیں، مگر تمام والدین یہ بات اپنے بچوں کو صحیح طرح سمجھا نہیں پاتے، اس لیے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرح ماں باپ کی تربیت کیلئے ہمارے یہاں کوئی ادارہ جو موجود نہیں، اس کام کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لائے تھے وہی کافی تھی مگر سب اس راہ سے کوسوں دور ہیں، اس حوالے سے اساتذہ بھی اپنی ذمے داریاں مکمل طور پر ادا نہیں کررہے، تعلیم جو مذہبی فریضہ ہے محض تجارت بن گیا ہے اور تجارت کے ساتھ تاجر جو کرتے ہیں وہی طرزسرکاری اور نجی تعلیمی ادار وں کے اساتذہ و انتظامیہ کا تعلیم کے ساتھ ہے۔
اور ہوا یوں کہ ہر نیوز چینل پر ایک بچے کی خود سوزی کو بھرپور کوریج دی گئی، شہ سرخیوں کا حصہ بنایا گیا، کئی دن تک چلایا گیا، نتیجہ، مزید ایک بچے کی خودکشی، اس کے بعد شروعات ہوگئی۔
اس صورت حال میں یہ بات بھی بھلادی گئی کہ ماضی میں عراقی سابق صدرصدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو بار بار دکھانے کے نتیجے میں ایک بچے نے اس کی نقل کرتے ہوئے اپنے آپ کو پھانسی لگا لی تھی۔ گھروں میں معصوم بچے ہر بات سے متاثر ہوتے ہیں، وہ وہی کرتے ہیں جو ان کے بڑے کرتے ہیں اور اب ان کے بڑوں میں ’ٹیلی ویژن‘ کا کردار بھی بے حد اہم ہے جسے تقریباً ہر گھر میں بچوں کے حوالے کردیا گیا ہے، بلکہ ایسے بھی گھرانے ہیں جہاں ٹیلی ویژن بچوں کے کمروں میں رکھوا دیا گیا ہے، یہ وقت ہے کہ ماں باپ فیصلہ کریں کہ انہیں کیا دکھانا ہے اور کیا نہیں،چاہے انہیں جتنی بھی دیگر مصروفیات درپیش ہوں۔ اس کے ساتھ میڈیا بھی اپنے لئے اس حوالے سے ضابطہ اخلاق نہ صرف ترتیب دے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (93)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

Hanif, Karachi........media ko aisi news bilkul nahi dikhani chaiye.
 
Hanif Posted on: Wednesday, May 30, 2012

Adnan Tabish, Karachi........bachon ki khukashyon main azafay ka sabab media bhi hoskata hai. Magar is sislay ko roknay kay liay tehqiqqat bhi ki jain. aur wajohhat talash ki jain. kahan kudkushi kay bahanay inhain qatal to nahi kia jara.
 
adnan tabish Posted on: Wednesday, May 30, 2012

خالد، کراچی…والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے رجحان کو سمجھیں اور ان کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کریں، والدین بچوں کو ریس کا گھوڑا بننے پر مجبور نہ کریں۔
 
khalid Posted on: Wednesday, May 30, 2012
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | Next
Page 7 of 7


لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا تجھے
میرا کی ہی سن لیں!
مذاکرات کاموقع ضائع نہ کریں!
سول نافرمانی اور سوشل میڈیا
سول نافرمانی تحریک!!!
 
واقعی کچھ ہونے والا ہے۔۔۔۔؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 35 )
شاباش! سعیدہ وارثی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 31 )
سول نافرمانی تحریک!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 27 )
وزیراعظم عمران خان یا طاہرالقادری؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 26 )
لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا تجھے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 20 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy