لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


ملنے دو۔۔۔ایک خواب جو شرمندہ ء تعبیر ہوسکتا ہے Share
  Posted On Monday, July 19, 2010
  جنگ گروپ اور ٹائمز آف انڈیا نے” امن کی آشا“ کے تحت ”ملنے دو“ مہم کا آغاز کیا ہے۔اس مہم کے ذریعے دونوں ملکوں کی حکومتوں کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ نہ صرف ویزے کے حصول میں درپیش مشکلات کو دور کیا جائے بلکہ پولیس رپورٹنگ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے شہریوں کو اپنی مرضی سے مختلف شہروں میں جانے کی اجازت دی جائے۔علاوہ ازیں جہاں سے جائیں وہیں سے واپسی کی شرط بھی ختم ہونی چاہیے۔واضح رہے کہ انڈیا اور پاکستان سے سفر کرنے والوں پرپابندی ہوتی ہے کہ جس مقام سے وہ ملک میں داخل ہوں۔اسی مقام سے واپس بھی جائیں۔ساتھ ساتھ سفر کا ذریعہ بھی تبدیل نہ ہو۔یعنی بس تو بس، ٹرین تو ٹرین،ہوائی جہاز تو ہوائی جہاز۔اسی طرح انڈیا اور پاکستان سے سفر کرنے والوں کو صرف مخصوص شہروں کے لیے ویزے دیے جاتے ہیں۔ایسا کیوں نہیں کہ دونوں ممالک کے لوگ پورے ملک میں ایک دوسرے کا استقبال کریں۔ویسے بھی ویزاشہروں کے لیے پورے ملک کے لیے ہوتا ہے۔اگر کوئی شہری پاکستان سے انڈیا یا انڈیا سے پاکستان کے سفر کی تیاری کرے تو پہلا اسٹاپ ہی پولیس اسٹیشن ہوتا ہے۔دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا۔تو پھر انڈیا اور پاکستان میں ایسا کیوں ہے۔کیا ایک دوسرے کے شہریوں کو پولیس رپورٹنگ کے تکلیف دہ عمل سے نجات نہیں مل سکتی۔اسی طرح ٹورازم کی ممانعت بھی نہیں ہونی چاہیے۔کسی بھی ملک میں زیادہ آمد سیاحوں کی ہوتی ہے۔لیکن ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے لیے ایسا نہیں ہے۔اگر آپ سیاح ہیں تو آپ کو ویزا نہیں مل سکتا۔کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاحتی ویزا نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔تصور کیجئے اس دن کا جب ہمارے دروازے اور دل ایک دوسرے کے لیے کھلے ہوں گے۔جب تمام رکاوٹیں مٹ چکی ہوں گی۔اور لڑائی جھگڑے کے بجائے آپس میں بات چیت ہوگی۔تجارت و سیاحت کا سلسلہ ہو گا۔بے جا پابندیاں نہیں رہیں گی۔اور دنیا دیکھے گی کہ دو پڑوسی امن و محبت کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (63)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

-ایم اعجاز، ساہیوال،کیا بھارتی میڈیا بھی اس مہم سے متاثر ہورہا ہے، نہیں بلکہ وہ تو ہمارے ملکی معاملات مین مداخلت کر رہا ہے، وہ کہاں ملنا چاہتا ہے، ہم ہی ہیں جو اپنی توانائی صرف کر رہے ہیں، جس کا نتیجہ نہیں نکلے گا،
 
M.Eajaz Posted on: Tuesday, October 26, 2010

-ایم طارق، آئرلینڈ، امن کی آشا بہت اچھی خواہش ہے بھارت کو چاہیئے کہ وہ اپنی افواج وہاں یعنی کشمیر سے نکالدے، تب ہی امن کی خواہش پوری ہوسکتی ہے۔ ویسے بھی ملک کی اکثریت امن چاہتی ہے
 
M tariq Posted on: Tuesday, September 21, 2010

-محمد نبیل سلطان، حسن ابدال، کیا پاکستان کا وجود میں آنا غلط تھا۔ جہاں لاکھوں لوگوں نے اپنا خون بہایا ۔ اس لئے پاکستان کو الگ کیا تھا کہ یہان لوگ سکون سے رہ سکیں، آزادی کیوںحاصل کی تھی کبھی سوچا ہے، آج جس امن کی بات کی جارہی ہے کیا بھارت ایسا کرے گا،؟ نا ممکن ہے، آپ اس سے تجارت اور محبت کی باتیں کر رہے ہو جس پاکستان دو لخت کیا، کچھ تو ہوش کے ناخن لیں، بھارت ہمیں دھوکہ ہی دے گا، ہم کیوں نہیں سمجھتے ہیں؟
 
MUHAMMAD NABEEL SULTAN Posted on: Wednesday, July 28, 2010

-انیس طیبہ، ملایشیاء، میرے خیال مین پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہی امن کی بحالی میں مددگار ہوسکتے ہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ ملنے دو مہم میں بھارتی و پاکستانی دوستی بہت کار آمد ہوسکتی ہے ۔ کیونکہ یہاں بھی جن سے بات ہوتی ہے وہ بھی یہی چاہتے ہیں،
 
انیس طیبہ Posted on: Wednesday, July 28, 2010

-جواد بیگ، جدہ، ملنے دو مہم پاک بھارت تعلقات میں ایک نیا موڑ کہا جاسکتا ہے،اگر اس پر عمل ہو تو ممکن ہے کہ تعلقات میں بہتری آسکتی ہے، کیونکہ عوام کے جذبات اسی نوعیت کے ہوتے ہین، امن کی آشاء کے زیر سایہ ایسا ہونا چاہیئے
 
MRZA JAWAD BEG Posted on: Wednesday, July 28, 2010

-حسنین خان، لاہور،عوام کو عوا سے ملنے دو والی تحریک دوستی کو ترغیب دینے والی مہم ہے پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں کو اس پہ ہمدردی سے غور کرنا چاہیئے سات ہی ویزا کی سہولتیں بھی نرم کرنی چاہیئیں۔
 
Husnain Khan Posted on: Wednesday, July 28, 2010

-سعدیہ، لاہور، میں بھی یہ سمجھتی ہوں کہ تعلقات میں بہتری اسی طرح ممکن ہے، کہ ایک دوسرے سے عوام کو ملنے دیا جائے۔ ملنے سے روکنا دشمنی بڑھانے کے مترادف ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیئے،
 
sadia Posted on: Wednesday, July 28, 2010

-معراج علی، کولمبیا، پاک بھارت کشیدگی صرف اسی صورت میں ختم کی جاسکتی ہے جب وہاں کے سیاستدان عوام کی خواہشات کو پیش نظر رکھیں، اور دوستی کے قدم بڑھائیں، اور عوام کو ملنے دیں
 
mairaj ali Posted on: Tuesday, July 27, 2010

-محمد ضیاء، مسقط، ہم بھارت کے ساتھ دوستی کرنے میں اتنے جذباتی کیوں ہورہے ہیں؟، جو بھی گروپ اس سلسلہ میں کام کر رہا ہے کیا وہ نہیں جانتے کہ بھارت ہمارے ملک میں دہشت گردی کررہا ہے وہ تو ہم سے مخلص نہیں ہے،بھارت میں جو کچھ ہورا ہے کیا وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہے ممبئی کا واقعہ وہاں ٹرینوں پہ حملوں کا الزام ہم ڈال دیا جاتا ہے، ہمیں اس موقع پر سچے پاکستانی ہونے کا ثبوت دینا چاہیئے۔
 
Muhammad Zia Posted on: Tuesday, July 27, 2010

-سبین ضیاء، دمام، سعودی عربیہ، بھارت اور پاکستان کو دوستی کی راہ اپنانی چاہیئے، ملنے دو مہم اس طرف ایک اشارہ ہے، امید ہے کہ ہمارے حکمران اس پہ غور کرین گے، ثانیہ مرزا اور شعیب کی شادی اس کی بہترین مثال اور عملی نمونہ ہے،
 
سبین ضیاء Posted on: Tuesday, July 27, 2010

-مسکین، لاہور، سیاست چھوڑ کے کچھ انسانیت کی طرف بھی توجہ دینی چاہیئے کیوں پاکستانی اور بھاتی عوام کو ملنے سے روکا جارہا ہےَ؟ انہیں ملنے دیا جائے، قریب ہو کر سمجھنے کا موقع دیا جائے ۔ سیاسی لڑائی عوام کے مفاد میں نہیں ہے،
 
miskeen Posted on: Tuesday, July 27, 2010

-آمنہ عتیق، کراچی، میں سمجھتی ہوں کہ بھارت اورپاکستان کو بھی سوچنا چاہیئےکہ وہ اپنے عوام کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں، انہیں سیاست کی نذر کیوں کر رہے ہیں، عوامی سطح پر انہیں آزادی سے ملنے دیا جائے، میں ملنے دو مہم کی تائید کرتی ہوں
 
amna_atiq Posted on: Tuesday, July 27, 2010

-شاہینہ اعجاز، لاہور۔ واقعی پاکستان اور بھارت کے عوام کو ایک دوسرے سے ملتے رہنا چاہیئے۔ عوام ایک دوسرے سے قریب آسکتے ہیں، ملنا چاہتے ہیں، حکومتوں کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیئے سیاست کو ایک طرف رکھ دینا ہی بہتر ہے
 
شاہینہ اعجاز Posted on: Monday, July 26, 2010

-منور خان، کراچی، ملنے دو مہم چلانے والو کس دنیا میں رہتے ہو، یہ بھارت کبھی بھی ہمارا دوست نہیں ہوسکتا، تم کیوں اتنے خوار ہو رہے ہو؟ پاکستان پہلے اپنا گھر تو ٹھیک کرلے؟
 
Munawwar Kan Posted on: Monday, July 26, 2010

-فیروز خان، لاہور۔میں سمجھتا ہوں کہ پاک بھارت تعلقات اپنی جگہ، لیکن اس کا نشانہ عوام کو نہیں بننا چاہیئے، ایک دوسرے سے ملتے رہنا ہی اچھی روایت ہے، اسے برقرار رہنا چاہیئے اس سلسلہ میں ملنے دو مہم ہی تعلقات بہتر بنانے میں مددگار ہوگی،
 
firoz Kan Posted on: Monday, July 26, 2010
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | Next
Page 1 of 5


’گو بابا گو‘ سے ’گو وٹو گو‘ تک!!
اب مستحکم فیصلے ہی پاکستانی کرکٹ کو بچاسکتے ہیں
ہاتھ دھونے کا عالمی دن
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
 
قربانی سے پہلے قربانی۔۔۔۔فلم فلاپ!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 33 )
ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
بے ترتیبی ہی اب ترتیب ہوئی جاتی ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 5 )
ہاتھ دھونے کا عالمی دن
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 4 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy