|
 |
 |
|
| |
اس وقت دنیا بھر میں جس مرض کی ہولناکی موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور ساری دنیا کے لوگ لرزہ براندام ہیں وہ عالمگیر مرض ایڈز ہے دنیا کا کوئی خطہ کوئی ملک اس مرض سے محفوظ نہیں ہے لیکن زیادہ تریورپی اور افریقی ممالک اس کا شکار ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگناءزیشن کے مطابق دنیا بھر میں چار کر وڑ بیس لاکھ سے زائد افراد ایڈز میںمبتلا ہیں صرف 2005ء میں اب تک تیس لاکھ افراد ایڈز سے ہلاک ہوچکے ہیں جن میں پانچ لاکھ سے زائدبچے ہیں۔جبکہ اقوام متحدہ کے ایچ آئی وی ایڈزپروگرام کی نئی ڈپٹی ڈائریکٹر' ڈےبورالینڈلے 'کے مطابق پاکستان میں ایڈز کی بیماری کا وباء کی صورت اختیار کرنے کاشدید خطرہ ہے۔بی بی سی کی ایک حالیہ سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے نشہ کرنے والوں میں سے 23فیصد ایچ آئی وی کا شکار پائے گئے جبکہ سات سال قبل ایسے ہی ایک سروے میں صرف ایک شخص اس وائرس کا شکار پایا گیا تھا ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وباء کا کراچی تک محدود رہنا ناممکن ہے کیونکہ بہت سے نشہ کرنےوالے کراچی آنے سے قبل ملک کے دیگر شہروں میں رہائش پذیرتھے اور وہاں بھی استعمال شدہ سرنج کے ذریعے نشہ کر چکے ہیں ۔
پاکستان میں عام افراد کو اس مرض کے بارے میں بہت کم آگاہی ہے حکومت پاکستان کے علاوہ میڈیکل،ہومیواور طبی اداروں ،یونانی، سماجی ورفاہی این جی اوزکی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اس مرض کے بارے میں بلاجھجھک عوام کو آگاہ کریں انہیں اس کے اسباب اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتائیں۔
تمام ترترقی کے باوجود موجودہ سائنس'کمپیوٹر اور ایٹم کے اس دور میں دنیا بھر کے جدید میڈیکل سائنس،ایلوپیتھک اور دیگر معالجین کے پاس ابھی تک اس مرض کاکوئی موثر علاج نہیں ہے اگرچہ طب مشرقی اسلامی کے پاس انسانی قوت مدافعت کو تقویت دینے والی بے شمار دوائیں موجود ہیں تاہم ایڈز کےوائرس کے خاتمے کے سلسلے میں ابھی اس فطری علاج کے معالجین بھی عاجز ہیں لیکن تحقیق کے دروازے بند نہیں۔حال ہی میں ایک تحقیق کے مطابق ایک خاص مشروم ''شی ٹیک ''اور لہسن سے ایڈز کے علاج میں کچھ پےش رفت ہوئی ہے یہ بات طے شدہ ہے کہ اس مرض کا علاج بھی اس فطری طب سے ہی وقوع پذیر ہوگا۔کیونکہ فرمان الٰہی ہے کہ دنیا میں کوئی مرض ایسی نہیں پیداکی گئی جس کا علاج نہ ہویہ علیحدہ بات ہے کہ انسانی عقل ابھی وہاں تک نہیں پہنچی فی الحال دنیابھر میں اس مرض کے علاج کے نام پر جو کچھ ہورہاہے وہ محض مختلف شکایات وعلامات کا روایتی علاج اورمریض کی عام دیکھ بھال اور حوصلہ افزائی ہے ۔پاکستان میں بھی ایڈز کے مریضوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ہمارے نوجوانوں کاحق ہے کہ وہ اس مرض کے بارے میں جانیں اس کے اسباب اور احتیاطی تدابیر سے بہرہ ورہوں ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں سے زندگی کی حقیقتوں کو چھپانانہیں چاہیے اسی صورت میں ہمارا اور پاکستان کا یہ مستقبل صحت مندمعاشرے کا باعث بنے گا۔
قاضی ایم اے خالد |
| |
|
| تبصرہ کریں ا حباب کو بھیجئے | تبصرے (2) |
| |
|
 |
 |
علی عمران ۔ لاہور ۔۔۔ اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت نسل آدم کو جو خطرات لاحق ہیں ان میں سے ایک بڑا خطرہ ایڈز ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے شعور کی آگاہی کو اتنا متنازع بنا دیا جاتا ہے کہ یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ کون سے ایشو پر بات کرنا غیر اسلامی ہے۔ ریاست اور سول سوساءیٹی کا یہ فرض ہے کہ وہ اس ایشو کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کریں اور جو لوگ اس مرض کا شکار ہو چکے ہیں انہیں عیاش اوربد قماش سمجھنے کی بجاءے ان کے علاج پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ |
| |
| Ali Imran |
Posted on: Friday, February 02, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
سید محمد کاشف علی عابدی، ابوظہبی ، امارات،،، پاکستان میں ایڈز کی بڑی وجہ بھارتی کلچر کو اپنانا ہے۔ لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں، انڈین میڈیا ایڈز کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ |
| |
| Syed Muhammad Kashif Ali Abidi |
Posted on: Monday, February 05, 2007 |
|
 |
 |
 |
Page 1 of 1
|
|