لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


شاباش جماعت اسلامی Share
  Posted On Monday, January 02, 2017
  سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ امت مسلمہ کی درماندگی اپنے عروج پہ ہے ۔۔۔ چہار دانگ عالم میں یہاں وہاں ہر طرف بےکسی کی ایسی ایسی تصویریں سر رہگزر نمائش کے لیئے سجی ہیں کہ گویا بقول شاعر ۔۔۔ چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری ۔۔۔۔ ہر طرف مسلمان لٹ رہے ہیں پٹ رہے ہیں اور برباد ہورہے ہیں صرف گزشتہ 3 دہائیوں ہی کی بات کریں تو کبھی بوسنیا چیچنیا اور کرویئیشا میں مسلمانوں پہ قہر ٹوٹا تو کبھی برما میں ظلم کی نئی دساتانیں رقم ہوئیں اور دیکھتےہی دکھتے کشمیر کی وادیاں ایک بار پھر لہو رنگ کردی گئیں ۔۔ عراق کے 6 لاکھ مظلوم شہداء کا خون ابھی سوکھنے بھی نہ پایا تھا کہ لیبیا مصر ، یمن اور شام میں ظلم کی آندھیاں چلنے لگیں - سچ تو یہ ہے کہ عراق ، فلسطین ۔ مصر اور کشمیرصرف امت مسلمہ ہی نہیں سارے عالمی ضمیر کے سینے پہ رستے ہوئے زخم بن گئے ہیں لیکن عالمی سطح پہ کوئی بھی مستقل و دیرپا حاجت روائی تو کیا وقتی طور پہ مرہم گیرنے اور لیپنے کو بھی کوئی تیار نہیں ۔۔۔۔ بس اک ذرا سی خیر کی خبر شام کے شہر حلب سے ملی ہے کہ جہاں سے متحارب گروپوں اور روس و ترکی وغیرہ کے مابین محصور شہریوں کے انخلاء کا ایک معاہدہ زیرعمل ہے لیکن چونکہ اس سے امریکہ کو باہر رکھا گیا ہے لہٰذا اسکی خاطر خواہ سلامتی اور پاسداری بھی یقینی نہیں

یہ بات بھی اپنی جگہ ایک منہ چڑاتی حقیقت ہے کہ حلب کا معاہدہ شام کے بہت بڑے مسئلے کا حل نہیں صرف اسکے ایک جزو یا ایک پہلو سے متعلق عبوری نوعیت کی ریلیف ہے جبکہ شام تو سارے کا سارا آگ اور خون کے کھیل میں جل رہا ہے اور لہو نہا رہا ہے ۔۔۔ کون کس سے اور کیوں لڑ ہا ہے یہ تصویر کبھی صاف طور پہ واضح نہیں ہونے پاتی سوائے اس ایک روشن حقیقت کے ، کہ بشارالاسد کی اقلیتی حکومت کبھی کی

عوامی تائید کھوچکی ہے لیکن مقامی و عالمی طاقتوں کی سازشوں کا مہرہ بنی ہوئی ہے اور بھاری فضائی و زمینی جارحیت کےذریعے اپنے ہی شہریوں کو کچلنے اور اپنے ہی ملک کو فتح کرنے کی نئی تاریخ رقم کررہی ہے -ایسے میں عالم اسلام میں ہرطرف سناٹا ہے اگر کچھ ہے تو بس ریگستانوں میں تلور اور شبستانوں میں شباب کے چکور کے شکار ہی کا زناٹا ہے - ان مسائل پہ غور کرنے والے مسلم رہنماء اب تک سوئے پڑے ہیں لیکن کبھی جاگ جاتے ہیں تو کہیں ذرا دیر کو اکٹھے ہوکے بے معنی قراردوں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں ۔۔۔ یہاں پاکستان میں تو اس سے بھی بدتر صورتحال ہے اور حکمرانوں سے لیکر پارلیمنٹ اور سیاستدان سبھی منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہیں تاہم اتوار یکم جنوری کو نئے سال کے آغازکے موقع پہ جماعت اسلامی نے اس سردمہری کی کچھ نہ کچھ تلافی کرنے کی کوشش بہرحال کی ہے اور کراچی کی وسیع و عریض شاہراہ قائدین پہ ' امت رسول مارچ' کے ذریعے یہ واضح کردیا ہے کہ اہل پاکستان اپنے شامی و عراقی اور برما کے مظلوم بھائیوں کو بھولے نہیں ہیں

اس امت رسول مارچ میں شاہراہ قائدین پہ عوام کی کثیرتعداد امنڈ آئی اور ہرطرف سر ہی سر نظر آرہے تھے - اس مارچ میں بوڑھے اور نوجوان ہی نہیں ، عورتیں اور بچے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے - افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی دیگر سیاسی و دینی جماعتوں کو ضمیر کی اس صدا پہ لبیک کہنے کی نہ صرف پہلے توفیق نہ ہوسکی بلکہ وہ محض سیاسی و جماعتی حسد کے زیراثر اس فقید المثال مارچ کا حصہ بھی نہ بن سکے لیکن بہرحال یہ کریڈٹ جماعت اسلامی کو ضرور دیا جانا چاہیئے کہ اس نے امت مسلمہ کےاس درد کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ عوامی سطح پہ قومی و عوامی جذبات کی بروقت نمائندگی کی ،،، لہٰذا یہ کہنا عین قرین انصاف ہوگا کہ ویل ڈن ۔۔۔ شاباش جماعت اسلامی ،،،

 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy