لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع Share
  Posted On Thursday, December 08, 2016
  سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ عدالت عظمیٰ کا نفاز اردو سے متعلق تاریخی فیصلہ بھی بیورو کریسی اور اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کو توڑنے میں ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ملک میں اردو کو 69 برس کی افسوسناک تاخیر کے بعد 2015 میں مکمل طور پہ نافذ کرنے اور دفتری و سرکاری زبان بنانے کا جو فیصلہ سپریم کورٹ نے سنایا تھا اس پہ ابھی تک مطلق عملدرآمد نہیں کیا جاسکا ہے اورنوبت یہ ہے کہ سرکاری دفتروں میں اردو کے رائج کرنے کے حکم کو ناکام کرنے کے لیئےجو بڑا ہتھکنڈہ اختیار کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تاحال سرکاری ملازمتوں کے سب سے بڑے امتحان یعنی سی ایس ایس میں امیدواروں کو قومی زبان اردو بطور میڈیئم یا تحریر و اظہار کی زبان کے طور پہ اختیار کرنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی ہے جبکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے قومی زبان کے نفازکا فیصلہ آنے کے بعد سے یہ سی ایس ایس کا دوسرا امتحان ہے جو فروری 2017 میں منعقد ہونے والا ہے اور جسکی مد میں گزشتہ ماہ اکتوبر میں جو اشتہار تمام اہم قومی اخبارات میں شائع کرایا گیا تھا اس میں حسب سابق انگریزی ہی کو بطور واحد میڈیئم برقرار رکھا گیا ہے

درحقیقت گزشتہ ماہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اپنے سی ایس ایس کے امتحانات کے اشتہار میں انگریزی کے ساتھ ساتھ قومی زبان اردو کو بطور ذریعہ اظہار بنانے سے صاف انکار کی راہ اپناکے سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کا بھرپور مذاق اڑایا ہے کہ جو اس نے چیف جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں گزشتہ برس 8 ستمبر کو دیا تھا اور جس کی رو سے حکومت کو اردو کوملک کی سرکاری زبان بنانے کے آئینی تقاضے کو پورا کرنے کا اہم حکم جاری کیا گیا تھا اور 1973 کے متفقہ آئین کی اس مد میں 42 برس سے جاری سنگین خلاف ورزی کے باوجود عملدرآمد کے لیئے مزید 3 ماہ کا وقت بھی دیدیا گیا تھا- بات بالکل واضح ہے کہ جب اردو کو سرکاری ملازمت کے امتحان کی زبان ہی نہیں بننے دیا جائیگا تو پھر انگلش سے عقیدت رکھنے والے یہ ذہنی غلام سرکاری افسران اردو میں سرکاری کام کاج بھی کیونکر کرنے لگے لیکن سوال یہ ہے کہ اس موقع پہ کہاں ہیں وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی جو دو ماہ قبل 8 ستمبر کو لاہور میں ہونے والی نفاذ اردو کانفرنس میں اردو کو مقابلے کے امتحان میں بطور ذریعہ اظہار شامل کرنے کا عزم صمیم دکھا رہے تھے اور کہاں گئے انکے دکھائے گئے وہ پر فریب سپنے ۔۔۔۔ اور کہاں گئی قومی زبان تحریک کی اس ضمن میں سرکاری حکام و وزراء سے وابستہ خوش فہمیاں ۔۔۔ کیوں نہیں وہ انہیں کھینچ کےعدالت میں لے کے آتے ،،،،

اس سلسلے میں اہل فکر و نظر اور ممتاز قانون دان خصوصاً سب سے پہلے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین نوید اکرم چیمہ کو کیوں عدالتی کٹہرے میں طلب نہیں کرواتے کہ جنہوں نے نہ صرف اپنے محکمے میں اردو کو کہیں گھسنے نہیں دیا بلکہ بطور سربراہ محکمہ ، اردو کو مقابلے کے امتحان سے اس برس بھی دور ہی رکھا جبکہ اب تو عدالتی فیصلہ آنے کے بعد یہ سے یہ امتحان دوسری بار منعقد ہونے جارہا ہے ۔۔۔ میں تو ان موصوف سے ایک برس قبل گزشتہ برس 5 نومبر کو انکے دفتر میں جاکے ملا تھا لیکن اس وقت موصوف کا یہ کہنا تھا کہ ابھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے دو ہی ماہ ہوئے ہیں اور اگلے برس کے لیئے امتحان کا اعلان کیا جا چکا ہے اور اب تو اس سے اگلے امتحان ہی میں یہ کام ہوسکے گا تاہم موصوف نے صاف طور پہ یہ فرمادیا تھا کہ " لیکن ہم سسٹم میں تبدیلی کے بغیر ایسا کچھ نہیں کرینگے" ،،،، جس پہ میں نے اس 'نکتہء حکیمانہ' کی صراحت چاہی تو فرمانے لگے کہ "جب تک ایسا کرنے کے لیئے ہمیں خودوزیراعظم نہیں کہدیتے،ہم اپنے طور پہ اردو کو مقابلے کے امتحان میں ذریعہ اظہار نہیں بنا سکتے" انکی اس بات پہ میں نے انہیں وہیں واضح کردیا تھا کہ "جناب آپ کا ادارہ ایک آزاد و بااختیار آئینی ادارہ ہے اور آپ اسکے باضابطہ سربراہ ہیں اور اس حیثیت میں سپریم کورٹ کے احکامات کی براہ راست احکامات کی تعمیل کے پابند ہیں اور اپکی یہ لیت و لعل سراسر توہین عدالت ہے اور اس پہ آپکو عدالت میں کھینچا جاسکتا ہے" ۔۔۔۔

اس موقع پہ ان دونوں وفاقی وزراء یعنی سعد رفیق اور پرویز رشید ( جو اب سابق ہوچکے ہیں تاہم حکومتی مشینری کا اب بھی اہم حصہ ہیں ) سے بھی یہ استفسار کیا جانا چاہیئے کہ یکم نومبر کو ہونے والی میڈیا کانفرنس میں تو آپ نے اردو کی محبت کی بڑی لن ترانیاں سنائی تھیں ، لیکن اب وہ کمیشن کی اس واضح خلاف ورزی پہ منہ میں گھنگھنیاں ڈالے کیوں بیٹھے ہیں ۔۔۔ ان دونوں حضرات سے میری مڈبھیڑ قومی زبان تحریک کی یکم نومبر 2015 کی میڈیا کانفرنس میں برسرعام ہوئی تھی کیونکہ وہاں میں نے انکی اردو کی محبت میں کی جانے والی میٹھی میٹھی باتوں کے جواب میں ان سے کہا تھا کہ وہ اگر اردو کے نفاذ کے معاملے میں واقعی مخلص ہیں تو ابھی یہاں وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے واشگاف انداز میں یہ یقین دہانی کرائیں کہ حکومت عدالت عظمیٰ کے نفاز اردو کے تاریخی فیصلے کے خلاف اپیل میں نہیں جائیگی ۔۔۔ جس پہ زچ ہوکے سعد رفیق نے یہ کہا تھا کہ آپ بات کا بتنگڑ بنا رہے ہیں اور ایسی کوئی بات ہی نہیں کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں جا رہی ہے ۔۔۔ لیکن جلد ہی وہ وقت بھی آگیا کے میرا یہ خدشہ بالکل درست ثابت ہوا اور حکومت نے اس پہ نظر ثانی کی اپیل کرڈالی ۔۔۔ میرے دو وفاقی وزراء سے سرکشانہ سوال قومی زبان تحریک کے سربراہ ظفر ّزیز آزاد کو سخت ناپسند آئے اور اس روز میڈیا کانفرنس ختم ہونے کے بعد تنظیم کے اندرونی جائزہ اجلاس میں انہوں نے میری خبر لینے کی کوشش کی کہ معزز مہمانوں کے ساتھ یہ احتجاجی رویہ نامناسب تھا ۔۔۔ لیکن میں نے انہیں دو ٹوک انداز میں یہ واضح کردیا تھا کہ قومی مفادات اور قومی امنگوں کے رستے میں ذاتی تعلقات اور مناصب و عہدوں کی کوئی حیثیت نہیں اور سچ بات کہنے سے یہ مطلق پرواہ نہیں کی جانی چاہیئے کہ کون 'بڑا' خوش ہوتا ہے اور کون ناراض ۔۔۔

لیکن لاہور کی اس مذکورہ میڈیا کانفرنس میں کی گئی میری اس 'گستاخی' کی سزا مل کے رہی اور مجھے قومی زبان تحریک سے فارغ کردیا گیا جس پہ میں نے اپنے کارواں کو ایک نسبتاً تبدیل شدہ نام 'نفاز قومی زبان تحریک کے نام سے پھر سے گرم سفر کردیا۔۔۔ اس وقت نفازاردو کے بارے میں قائم زیادہ تر تنظیموں کا حال اور عالم یہ ہے کہ اگر کوئی حکومتی 'بڑا' کہیں اردو میں تقریر کر ڈالے تو انکی کی جانب سے ترنت مبارک سلامت کا غلغلہ مچادیا جاتا ہے اور ہر جانب مبارکبادی و ستائش کے ایس ایم ایس پیغامات بھیجنے کا تانتا باندھ دیا جاتا ہے لیکن حکومتی وعدوں کے برعکس اقدامات اور اردو کے نفاز سے یکسر گریز پہ احتجاج تو درکنار کسی جانب سے کبھی کوئی مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا جاتا۔۔۔ اس جانب سے مایوس ہوکر اب لے دے کے واشقان اردو کی تمامتر امید کوکب اقبال ایڈوکیٹ ہی سے ہے کہ جن سے میں تین چار ماہ سے یہ درخواست کررہا ہوں کہ وہ تمام اہم اداروں اور محکموں کے سربراہان پہ توہین عدالت کا مقدمہ کریں اور اس سلسلے میں آغاز فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے کریں کہ جہاں قوم کے اصل حکمران ڈھونڈھے جانے کا عمل سرانجام دیا جاتا ہے اور یہی وہ جگہ ہے کہ جو اشرافیہ کو ریڑھ کی ہڈی فراہم کرتی ہے اور اگر اس جگہ پہ قومی مقاصد کی نمو و آبیاری کا حقیقی انتظام کرنے اور اردو کے نافذ کرنے کا اہتمام کرلیا گیا تو پھر سارے پاکستانی معاشرے میں اردو کے نفاذ کو یقیننی بننے سے کوئی بھی نہ روک سکے گا

آخر میں میں یہ اہم نشاندہی کرنا بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اردو کے عدم نفاز سے ملک میں قائم ایسے سرکاری کالج اور یونیورسٹیاں جن میں اردو میں تعلیم دی جاتی ہے ( جیسا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی و اسلام آباد میں )، تو حکومت ان اداروں کے طلباء کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل رہی ہے کیونکہ ان اداروں کے طلبا جس زبان یعنی اردو میں تعلیم پارہے ہیں انہیں جب اسی زبان میں آگے بڑھنے سے روکا جارہا ہے تو ان امتحانات کا ہونا نہ ہونا انکے لیئے قطعی بے معنی بنادیا گیا ہے اور وہ سی ایس ایس کے امتحانات میں ہر لحاظ سے قابل ہونے کے باوجود کانونٹ کالجوں کے طلباء کی رواں انگریزی میں مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں

اور یوں انکی ڈگریوں کی توقیر اور اہمیت پہبھی متعدد سوالیہ نشانات لگایئے گئے ہیں جبکہ ہونا تو یہچاہیئے کہ ملک میں اردو کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیئے نہ صرف مقابلے کے مذکورہ امتحانات میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی برابر کی جگہ دی جائے بلکہ اردو میں تعلیم پانے والے ان طلباء کو وفاقی ملازمتوں میں دس سے پندرہ فیصد کوٹہ بھی دیا جائے - ہم سمجھتے ہیں کہ اس اقدام سے اردو میں تعلیم حاصل کرنے کا ذوق بھی بڑھ سکے گا اور ملک کو مستقبل میں ایسی بیورو کریسی میسر آسکے گی کہ جو پسماندہ طبقات کی آواز سن بھی سکے گی اور سمجھ بھی سکے گی اور یوں طبقاتی نظام کا تسلط ختم ہوسکے گا

 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy