لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


ترک صدر کے سامنے بھی تماشا Share
  Posted On Thursday, November 17, 2016
  سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ نہیں معلوم کہ عمران خان نے یہ کیوں ٹھان رکھی ہے کہ وہ ہر قیمت پہ سب سے منفرد نظر آئیں گے چاہے انکے اس شوق کی قیمت کچھ ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔ اب یہ پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی اسی قسم کی'بالک ہٹ' قسم کی ادا معلوم ہوتا ہے ۔۔۔ گزشتہ ماہ کے اوائل میں پھارتی دھمکیوں اور سرحدی خلاف وزیوں کے سنگین معاملات کے تناظر جیسے اہم قومی معاملے پہ بھی پارلیمنٹ کا جو مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرکے تو انہوں نے ساری قوم کو ہی چونکا کے رکھ دیا تھا اور ہر درد مند اور محب وطن فرد کو انکے اس فیصلے سے بہت مایوسی بلکہ تکلیف پہنچی تھی کہ جو اہم قومی معاملات کو کسی طور کسی بھی طرح کی سیاست کی بھینٹ چڑھتے دیکھنے کی تاب تک نہیں رکھتا - یاد رہے کہ جب مذکورہ اجلاس طلب کیا گیا تھا تو بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پہ شدید فائرنگ و وحشیانہ گولہ باری سے سرحد کے اس پار پاکستانی علاقے میں متعدد ہلاکتیں ہوچکی تھیں لیکن پی ٹی آئی کے چیئرمین اپنی ضد اور اناء کے گنبد ہی میں بند ہوکے رہ گئے

ماہ اکتوبر میں منعقدہ پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ما سوا تحریک انصاف ، مکمل یکجان ہوکے شامل ہوئیں اور بھارتی جارحیت کے مقابل اپنے تمام اختلافات پیچھے کرکے یک آواز ہونے کا عملی ثبوت دیا لیکن اس آواز کو بین الاقوامی سطح پہ پوری قوم کی متفقہ رائے باور کرانا بہت دشوار ہوا اور اسے عالمی برادری میں وہ قرار واقعی اہمیت نہ مل سکی کہ جو اسے ملنی ناگزیر تھی کیونکہ اس میں ملک کی دوسری بڑی جماعت کی آواز شامل نہ تھی - اس بائیکاٹ سے قوم کو تو کیا فائدہ پہنچتا الٹا اس سے ہمارے دائمی حریف یعنی بھارت ہی کو زبردست فائدہ پہنچا کیونکہ بین الاقوامی سطح پہ وطن عزیز کا ایک اہم قومی کاز بری طرح سے متاثر ہوا اور بلاشبہ ،عصر حاضر کے دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں کسی سیاسی جماعت کی جانب سے اہم قومی معاملات سے کھلواڑ کی یہ اپنی نوعیت کی بدترین مثال تھی- اس پہ عوام میں بھی بہت مایوسی پھیلی اور بہتیرے لوگ پی ٹی آئی سے ناراض ہوتے دیکھے اور سنے گئے اور یوں لگ رہا تھا کہ اس وسیع پیمانے کہ پھیلی خفگی کے پیش نظر ابکے پی ٹی آئی کی جانب سے ایسا کوئی غلط فیصلہ سامنے نہیں آسکے گا لیکن ایسا کہنے اور سوچنے والے شاید عمران خان کی سوچ اور نفسیات کا ادراک کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے

عمران خان نے ایک بار پھر جبکہ قوم کی یکجہتی کے اظہار کا ایک اہم موقع درپیش ہے ایک اور غلط فیصلہ کر ڈالا ہے اور ترک صدر کی آمد کے موقع پہ انکے خطاب کے لیئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا ہے اور اس طرح کے انتہائی افسوسناک فیصلوں کے تسلسل نے تو انکی فیصلہ کرنے کی صلاحیت پہ کئی بڑے سوالیہ نشانات لگا دیئے ہیں اور بہت سے لوگ اب برملا یہ پوچھنے لگے ہیں کہ آخر انکے فیصلوں کی بنیاد ذاتی غصے ، کدورت اور سطحی جذباتیت کے سوا اور کیا ہے ۔۔۔ کیونکہ جہانتک انکے اس موقف کا تعلق ہے کہ نواز شریف ایک بدعنوان وزیراعظم ہین تو انکے ہوتے کسی ایسے اجلاس میں شرکت نہیں کی جاسکتی تو کوئی بتائے کہ کیا دنیا بھر کی بڑی بڑی شخصیات اور تنظیموں نے اپنی جمہوری یا انقلابی جدوجہد کے دوران کیا ایسے لوگوں کے ساتھ بئیٹھنے بات کرنے سے کبھی انکار کیا ہے یا یہ نہیں تو انہوں نے ایسے کسی فرد کے ساتھ کسی بڑے اجتماعی معاملے پہ سر جوڑ کے بیٹھنے سے اجتناب کیا ہے اور یہ بھی نہیں تو کیا کبھی ایسے لوگوں کی موجودگی والے کسی اجلاس میں شرکت تک سے گریز کی انتہا پسندی اختیار کی ہے ،،، کیا خود ہماری تحریک آزادی کے سبھی اہم رہنماؤں بشمول قائد اعظم ، کبھی ہندوستان کے فرنگی حکمرانوں سے مذاکرات اور بات چیت کا اس وجہ سے کبھی بائیکاٹ کیا تھا کہ وہ تو ناجائز طور ہندوستان پہ قابض ہوئے ہیں اور بہت فرندان وطن کے خون سے ہاتھ رنگےہیں لہٰذا انکی حکومت بھی سراسر ناجائز اور ظالم ہے کہ جس سے کوئی بات ہی نہیں ہوسکتی ۔۔۔!!

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ پی ٹی آئی میں پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کی حقیقت کیا ہے اور ہیئت اجتماعی کس چڑیا کا نام ہے ۔۔۔ کیونکہ ماضی کئی ایسے فیصلے دیکھنے میں آئے ہیں کہ جنکی خود پی ٹی آئی میں ہر سطح پہ زبردست مخالفت موجود تھی جیساکہ ابھی گزشتہ ماہ پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کے فیصلے کو پارٹی کے کئی بڑے نامور رہنماؤں کی تائید میسر نہ تھی بلکہ انہوں نے اس اقدام کے اٹھائے جانے سے قبل اسکی شدید مخالفت کی تھی لیکن کسی کی نہ چلی اور ابھی بھی ترک صدر والے اجلاس میں شرکت کے معاملے پہ بھی کچھ ایسا ہی ماحول بنا حتیٰ کہ نوبت یہ آئی کہ عمران خان کا ساتھ دینے والے بہت کم رہ گئے تو انہوں نے کمال نخوت سےیہ فرمادیا کہ اگر آپ سارے لوگ بھی اس اجلاس میں شرکت کی حمایت کریں تب بھی پارٹی مشترکہ اجلاس میں نہیں جائے گی ۔۔۔ یوں اب سب پہ واضح ہوچلا ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسی اورکچھ بھی نہیں محض ایک فرد کی یعن عمران خان کی ذاتی ضد اور ہٹ دھرمی ہی پارٹی پالیسی ہے اور انہیں اس سے روکنے والا کوئی بھی نہیں ہے اور یوں پی ٹی آئی کو اپنی تباہی کے لیئے کسی بیرونی دشمن کی کوئی ضرورت نہیں اسکے چیئرمین ہی اس مقصد کے لیئے کافی سے زیادہ ہیں



 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy