لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


کیا علامہ اقبال کو'اقبال سیالکوٹی' تک محدود کیا جارہا ہے ،،؟ Share
  Posted On Thursday, November 10, 2016
  سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ ایک مسئلہ تو بد قسمتی سے یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بہت بڑی شخصیت سمجھے جانے کا پیمانہ یہ ہے کہ آیا اسکی تاریخ پیدائش یا تاریخ وفات پہ قوم تعطیل منا پاتی ہے یا نہیں ،،، اور دوسرا معاملہ یہ بھی ہے کہ ترقی پزیر اقوام کیلیئے زیادہ تعطیلات اپنے اندر یہ کھلا پیغام لیئے ہوئے ہوتی ہیں 'غربت بڑھاؤ، مانگ مانگ کے کھاؤ' تاہم ان سب باتوں کے باوجود ترقی یافتہ ممالک سمیت ہر ملک میں 2 یا تین شخصیات ایسی شمار ہوتی ہیں جو مشترکہ قومی افتخار اور قومی وحدت و استحکام کی علامت ہوتی ہیں انکے یوم پیدائش یا یوم وفات میں سے کسی ایک پہ قومی تعطیل کی جاتی ہے جس سے اس ہستی کی یاد قوم کے حافظے سے دائم جڑی رہتی ہے اور اسکے پیغام کی مہک ہمیشہ تازہ رہتی ہے- اور اسی وجہ سے وقت کی اہمیت کو سب سے زیادہ اہمیت دینے والے یہ ترقی یافتہ معاشرے بھی اپنے چند قومی ہیروز کو یہ تعطیلی اہمیت دیکر انکو کبھی فراموش نہیں ہونے دیتے - لیکن یہاں اب حکیم الامت حضرت علامہ اقبال جیسی بلند قامت شخصیت کی یوم ولادت کو بھی بطور ایک تعطیل کے ترک کرنے کا اقدام کیا گیا ہے کہ جسے اہل فکر ونظر نے نہایت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے- جبکہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے اسکولوں و کالجز کی سطح تک یہ تعطیل جاری رکھ کر بھی ایک احسن کام کیا ہے جسکی تعریف کی جانی چاہیئے

تعطیلات کے حوالے سے جہانتک بات کی جائے اپے وطن عزیز کی تو یہاں کے بیشتر تنخواہ دار باسیوں کا مزاج ہمیشہ سے ہڑتالی بھی ہے اور تعطیلی بھی ،،، طلباء سے لیکر ،اعلیٰ ملازمتوں والے سرکاری و پرائیویٹ ملازمین تک اکثر نے ہر نئے سال کے آغاز سے قبل ہی اسکے نئے نکورے کلینڈر پہ قومی تعطیلات والے دنوں پہ پرمسرت دائرے لگالیئے ہوتے ہیں اور اگر کوئی قومی تہوار یا عام تعطیل کا دن انکی چھٹی سے ٹکرا جائے تو پھر انکی جھنجھلاہٹ دیدنی ہوتی ہے اور بعضےتو اس دن متبادل چھٹی ملنے کا حق نہ ملنے کو اپنی بدنصیبی اور کئی ایک اپنے بنیادی حقوق کی پامالی گردانتے ہیں- سرکاری اداروں کا تو یہ حال ہے کہ وہاں جب ہفتے کی ایک چھٹی کو 2 چھٹیوں میں بدلنے کی نوبت آئی تو یار لوگوں نے اسے انکے کام نہ کرنے کے دنوں میں ایک دن کم ہوجانے سے تعبیر کیا ،،، اور عملاً اس سے کوئی فرق پڑا بھی نہیں ،،، البتہ اچھی بات یہ ہوئی کہ عوام کو ہر ہفتے میں ایک مزید دن ان اداروں کے دھکے کھانے اور جوتیاں چٹخانے سے نجات مل گئی ،،، ویسے کارکردگی کے اعتبار سے جانچا جائے تو اکثر سرکاری ملازمین کی کارکردگی سال میں اتنے ہی دن کام کرنے کی نظر آتی ہے کہ جتنی قومی تعطیلات کی گنتی ہے -

اس ہڑتالی و تعطیلی معاشرے میں پیدا ہوجانا خود علامہ اقبال جیسی بیدار مغز اور متحرک و سرگرم شخصیت کیلیئے یقینناً کسی سانحے سے کم نہ تھا کیونکہ وہ خوابوں و خیالوں میں گم رہنے اور گم رکھنے والے شاعر نہیں تھے بلکہ اپنے آفاقی و انقلابی پیغام سے غافل اور سوئی ہوئی قوم کے ذہن و قلوب کو گرمادینے اور خودی کے پیغام کے ذریعے آمادہ عمل کردینے والی عظیم ہستی تھے- بحیثیت شاعر بھی اگر انکی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو وہ غیرمعمولی مقام عظمت پہ فائز تھے، وہ اردو کے علاوہ فارسی شاعری کا بھی بہت بڑا نام ہیں کیونکہ انکی شاعری کے 11 مجموعوں میں سے چار اردو میں ہیں اور سات مجموعے فارسی میں ہیں اور ایران میں انہیں قومی شاعر کا درجہ ملا ہوا ہے اور ڈاکٹر علی شریعتی نے اقبالیات پہ غیرمعمولی تحقیقی کام کرکے اقبال کو اس خطہ میں زندہ و جاوید کردیا ہے- جہانتک فنی لحاظ سے اردو شاعری میں اقبال کے مقام کا تعلق ہے تو یہاں بھی وہ نہایت بلند رتبے کے حامل ہیں اور انہیں وہ پہلا شاعر کہا جاتا ہے کہ جنہوں نے مقصدی شاعری میں بھی شعری حسن کو ماند نہیں پڑنے دیا اور بال جبریل کی غزلیات نے تو اردو کی مقصدی شاعری کی رفعت کو جمالیاتی لحاظ سے آسمان تک پہنچادیا ہے - ماہرین فن نے انکے اردو مجموعہ ہائے کلام بانگ درا ، ضرب کلیم ، بال جبریل اور ارمغان حجاز کو بجا طور پہ اردو شاعری کا زریں سرمایہ قرار دیا ہے

لیکن علامہ اقبال کی ذات محض ایک شاعرہونے تک محدود نہیں رہے انہوں نے ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ فلسفے میں بھی بہت نام پیدا کیا اور 1905 میں میونخ سے اسی مد میں پی ایچ ڈی کی ڈگری جس مقالے ( development of metaphysics in persia یعنی ایران میں فلسفہء الہٰیات کا ارتقاء ) پہ حاصل کی وہ اپنی قدروقیمت کے لحاظ سے آج بھی اسلامی طرز فکر کی عجمی رخ سے تاریخی تفہیم میں غیرمعمولی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے ، وہ ایک بہترین وکیل بھی تھے اور اگر جسٹس شادی لال مخالفت پہ تلے نہ رہتے تو انہیں لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنائے جانے کا مرحلہ بھی آگیا تھا- بطور کیل انہوں نے غازی عملدین شہید اور مسجد شہید گنج کے تاریخی مقدمات بھی لڑے تھے - انہوں نے عملی سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا اور آل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی قائدین میں نمایاں طور پہ گنے گئے وہ قائداعظم کے بہترین دوستوں میں شمار ہوتے تھے اورقائد اعظم ان سے اہم امور پہ مشاورت کیا کرتے تھے اور کئی بار لاہور آکر ان سے ملاقات بھی کی۔۔ قائد اعظم سے انکی خط و کتابت stray reflections کے نام سے شائع ہوکر جدوجہد آزادی کی تاریخ کا اہم حصہ بن چکی ہے - آپ نہ صرف مرکزی پارلیمانی بورڈ کا حصہ بنے بلکہ کئی اہم سیاسی تحریکوں میں بھی بھرپور شرکت کی -

علامہ اقبال یوں تو ہر لحاظ سے گنے چنے چند مصلحین قوم میں شامل ہیں لیکن انکی شخصیت کا ایک بالکل منفرد اور نمایاں ترین پہلو یہ ہے کہ وہ مفکر پاکستان بھی ہیں کیونکہ انہی کو یہ تاریخی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے 1930 میں مسلم لیگ کے الہ آباد میں منعقدہ اجلاس میں بحیثیت صدر اجلاس وہ تاریخی صدارتی تقریر کی کہ جس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے لیئے اسکے جغرافیئے میں ہی الگ مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔۔۔ تاریخ میں اسے خطبہء الہ آباد کے نام سے جانا جاتا ہے ۔۔۔ علاوہ اور دیگر اہم پہلوؤں کے علامہ اقبال کی شخصیت کا یہ پہلو انہیں اس خطے میں قائد اعظم کے بعد دوسرا بلند ترین فرد اور نہایت اہم محسن قوم کے طور پہ نمایاں کرتا ہے اور اس لحاظ سے بجا طور حضرت علامہ اقبال کی ہستی اس لائق ہے کہ اسکے نام اور پیغام کو زندہ رکھا جائے اور اس زود فراموش قوم کے حافظے میں انکے کارنامے اور انکی یادیں اجاگر کرنے اور انہیں تروتازہ رکھنے کیلیئے لازمی ہے کہ انکے یوم پیدائش کو قومی تعطیل کا درجہ دیئے رکھا جائے ورنہ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت علامہ کا آفاقی پیغام بتدریج نئی نسل ذہنوں سے محو ہوتا جائے اور یہ عظیم اور آفاقی اہمیت کی شخصیت مستقبل میں پورے پاکستان بلکہ سارے عالم اسلام کی متاع فخر کے مقام سے گھٹ کر تنگنائے لاہور یا سیالکوٹ کی بلدیاتی حدود تک محدود ہوکر رہ جائے-

 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy