لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


کوئٹہ کا سانحہ کئی سوال چھوڑ گیا Share
  Posted On Thursday, November 03, 2016
  جویریہ صدیق ۔۔۔۔ رات دس بجے کا وقت تھا بیشتر کیڈٹ پولیس ٹریننگ سینٹر سریاب روڈ کوئٹہ میں اس وقت آرام کہہ رہے تھے ۔ کچھ آنے والے مستقبل کے خواب دیکھ رہے تھے کہ پولیس کی وردی پہن کر جب وہ ڈیوٹی پر نکلیں گے تو ماں باپ کا سینہ فخر سے چوڑا ہوجائے گا ۔کچھ محو خواب اپنے معاشی حالات کو بدلتا ہو دیکھ رہے ہیں ہوں گے۔کچھ کی آنکھیں شاید نیند سے دور ہوں اور وہ اپنی اس خوابوں کی شہزادی کی تصور میں لارہے ہوں گے جن کی نسبت ان کے ساتھ حال ہی میں جوڑی گئی تھی۔

لیکن اس خاموش اور سرد رات کی صبح شاید کبھی نہیں ہونی تھی ۔جو آنکھیں مستقبل کے سہانے خواب دیکھ رہی تھیں اچانک شور افراتفری اور گولیوں کی آواز سے جاگ گئیں ۔قوم کے مستقبل ان بیٹوں کی حفاظت پر جو سنتری مقرر تھا وہ کتنی دیر جدید اسلحے سے لیس دہشتگردوں کا مقابلہ کرتا ۔جیسے ہی وہ شہید ہوا دہشتگرد ٹریننگ سینٹر کی کچی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوگئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی ۔اس وقت نوجوان کیڈٹس اپنی جان بچانے کے لئے جدوجہد کرنے لگے ۔لیکن اسلحہ نا ہونے کے باعث وہ اس کوشش میں کامیاب ناہو پائے ۔

ماں باپ کے خواب ارمان محنت بہنوں بھائیوں کی دعائیں سب رائیگاں چلی گئی اور دہشتگردوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے قوم کے بیٹوں گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔پندرہ منٹ کے اندر اندر ایف سی اور فوجی اہلکار مدد کے لئے پہنچے لیکن قوم کے وہ بیٹے جنہوں نے مستقبل میں اس وطن کی حفاظت کا ذمہ لینا تھا دم توڑ چکے تھے اور سینکڑوں زخمی تھے ۔دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع ہوا۔

پاک فوج کے کپتان روح اللہ جوکہ لائٹ کمانڈو بٹالین سے تعلق رکھتے تھے ۔انہوں نے جرات اور دلیری کے ساتھ کیڈٹس کی جان بچائی اور جب ان کی نظر خود کش حملہ آور پر پڑی ۔تو دیگر کیڈٹس کو وہاں سے جانے کا کہہ کر خود یکدم اس خود کش حملہ آور سے لپٹ گئے ۔زور دار دھماکہ ہوا اور وطن کے اس جان باز بیٹے نے اپنی جان قربان کرکے کیڈٹس کی جان بچا لی ۔ غازی نائب صوبیدار محمد علی اور سپاہی ساجد نے بھی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کے نرغے سے بحفاظت 400 کیڈٹس کو باہر نکالا ۔تاہم

خود کش دھماکے میں صوبیدار محمد علی زخمی ہوکر اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہوگئےاور سپاہی ساجدنے جام شہادت نوش کیا ۔

62 افراد نے اس سانحے میں جام شہادت نوش کیا اور ایک سو بیس سے زائد زخمی ہیں ۔اس دہشتگردی کے واقعے کے بعد بھی وہ ہوا جو ہوتا ہے کچھ لیڈران کوئٹہ پہنچ گئے فوٹو شوٹ ہوئے ۔کچھ نے ٹویٹ پر کام چلایا ۔کچھ نے پریس ریلیز جاری کردی۔ سوگ کا اعلان وغیرہ وغیرہ اور پھر لمبی خاموشی ۔کیا ہے حل ہے صرف ہمارے ملک کے بڑوں کے پاس دہشتگردی کے نبٹنے کا صرف یہ حل ہے۔مذمتی بیان میٹنگز امدادی اعلانات پھر سب کچھ بھول کر وہ روٹین کے کام ۔

یہ سانحہ بہت سے سوالوں کو جنم دے رہا ہے ۔اگر ان کاروائی کے پیچھے را این ڈی ایس یا لشکر جھنگوی تو بتائیں نا ان کے سہولت کار کون ہیں ۔یہاں کے مقامی لوگوں کے تعاون کے بنا غیر ملکی یہ سب نہیں کرسکتے ۔کہاں ہیں دہشتگردوں کے سہولت کار کون پکڑے گا انہیں کون سزا دے گا انہیں ۔دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے چار سو کیڈٹس کو دوبارہ کیوں بلایا گیا جب پاسنگ آوٹ کے بعد کیڈٹس رخصت ہو جاتے ہیں تو انہیں دوبارہ کیوں بلایا گیا ۔پولیس کا ایک بجٹ مختص ہے لیکن ٹریننگ سینٹر کے حالات دیکھ کر تو ایسا نہیں لگتا کہ وہ بجٹ کبھی یہاں استعمال ہوا ہو۔

یہ سانحہ پولیس کے اعلی حکام اور صوبائی حکومت کی جانب انگلیاں اٹھاتا ہے۔

ہر سانحے کے بعد مذمت اعلانات پھر خاموشی اور پھر کسی نئے سانحے کے بعد یہ ہی الفاظ دوبارہ دہرائے جاتے ہیں ۔لیکن آج تک کسی نے اپنی ذمہ داری قبول کرکے استعفی نہیں دیا۔پروٹوکول کے جلوس میں جانے والے لیڈران کو عوام دیکھ کر یہ تو سوچتے ہوں گے اگر صرف تین چار سیکورٹی والے ان کے بچوں کی حفاظت کے لئے بھی مامور ہوتے تو شاید یہ سانحہ ہوتا ہی نہیں ۔

لیکن ہمارے اعلی ایوانوں میں بیٹھے بڑے لوگ سانحات سے کچھ سیکھتے نہیں۔ان کے اونچے محلات میں اس ماں کے رونے کی آواز نہیں پہنچتی جس نے چند دن بعد بیٹے کے سہرے کے پھول سجانے تھے ۔شاید بلٹ پروف گاڑیوں کے شیشوں سے اس بوڑھے باپ کی جھکی اور ٹوٹی ہوئی کمر نظر نہیں جس سے اسکا بڑھاپے کا سہارا اس کا پیارا بیٹا چھین لیا گیا ۔

اب تو ویسے بھی اسلام آباد سرکار اپوزیشن کے ساتھ نبرد آزما ہے تو ملک کے 62 شہید بیٹے کیسے یاد آئیں گے ۔فوج تو اپنے شہدا کو بہت عزت و احترام دیتی ہیں ۔لیکن پولیس کے شہدا کو عزت و تکریم کو کون دے گا کیا یہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا فرض نہیں کہ وہ پولیس کے شہید کیڈٹس کے لواحقین کی داد رسی کریں۔اس واقعے کی تحقیقات کریں کہ کس طرح تین دہشتگرد پولیس سینٹر تک پہنچے۔لیکن ایسا کہاں ہوتا ہے یہاں اب شاید یہ شہدا اگلی برسی پر ہی یاد آئیں گے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Twitter @javerias



 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy