لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


کچھ بھی کہ دینا اس قدر آسان بھی کیوں ہو۔۔۔ Share
  Posted On Wednesday, October 26, 2016
  سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ راولپنڈی ایکسپریس کہلانے والے ماضی کے فاسٹ بالر شعیب اختر اپنی طوفانی بالنگ سے جتنے مشہور ہوئے اس سے بھی کہیں زیادہ وہ اب اپنے طوفانی تبصروں اور بیانات سے شہرت حاصل کررہے ہیں ۔۔۔ اور ابکے انہوں نے ایک نیا پینڈورہ بکس کھول کے سبھی کو چونکا دیا ہے انکا کہنا ہے کہ " 1996 کا سال میچ فکسنگ کا بدترین زمانہ تھا" انکا یہ بیان اسے قضیئے کے اختتام کے فوری بعد سامنے آیا ہے کہ جو گزشتہ دنوں جاوید میانداد اور شاہد آفریدی کے درمیان پیدا ہوا تھا جس کا باعث انکے ایک دوسرے کے خلاف دیئے گئے بیانات تھے لیکن کچھ دنوں کی کھچ کھچ کے بعد بالآخر آفریدی اور میانداد نے باہم ملاقات کرکے ایکدوسرے کو گلے لگا کے اور مٹھائی کھلاکے اس تنازع کو مثبت انداز میں ختم کردیا تھا اور بات عدالت کے سامنے لے جائے جانے کی نوبت نہیں آئی تھی کیونکہ پہلے اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوچکی تھیں کہ آفریدی نے اپنے وکیل سے مشاورت کرلی ہے اور جلد ہی وہ میاداد کو قانونی نوٹس بھیجنے والے ہیں ۔۔۔

شعیب کا یہ بیان کس قدر صحیح یا کس قدر غلط ہے یقینی طور پہ اس کا فیصلہ تو اس ضمن میں بامعنی تحقیق و تفتیش سے ہی معلوم ہوسکے گا اور یقینی طور پہ قابل بھروسہ و بامعنی تفتیش صرف باضابطہ طور پہ با اختیار لوگوں کے ہاتھوں ہی ممکن بھی ہوگی - لیکن انکے اس طوفانی بیان سے ابھی چند روز قبل میانداد نے میچ فکسنگ کی بابت جو الزام آفریدی پہ لگایا تھا کیا اسے بھی یونہی جانے دیا جانا چاہیئے کیونکہ وہ الزام تو قطعی طورپہ غیر مبہم تھا اورمیانداد نے اس بیان میں یہ تک کہا تھا کہ " میں نے خود کئی بار آفریدی کو میچ فکسنگ کرتے ہوئے پکڑا تھا " اور وہ اپنے اس الزام کی صداقت ثابت کرنے کی ضمن میں یہانتک چلے گئے تھے کہ " آفریدی میں ہمت ہے تو وہ اپنے اہلخانہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کر یہ کہدے کہ یہ الزام غلط ہے " لیکن ہوا یہ کہ آفریدی نے ایسا کرنے کے بجائے چپ چاپ میانداد سے ملاقات کرکے ان سے صلح صفائی کرلی اور میانداد نے بھی ایسے یہ سب بیان لپیٹ لیا جیسے کے کوئی بات ہی نہ ہو ،،، حالانکہ انکا میچ فکسنگ والا الزام ہر اعتبار سے نہایت سنگین ہے اور اسکی باقاعدہ تحقیق کی جانی لازمی ہے ۔۔۔ کیونکہ یہ کوئی بچکانہ بات ہرگز نہیں اور اب یہ معاملہ صرف ان دو کھلاڑیوں کے مابین ایک تنازع ہی نہیں رہا ہے کیونکہ اس کا تعلق پاکستان کے بین الاقوامی امیج سے بھی ہے ۔۔۔

بات صاف ہے کہ اگر تو جاوید میانداد نے شاہد آفریدی پہ یہ میچ فکسنگ کا گھناؤنا الزام بس 'یونہی' لگادیا تھا تو پھر انہیں جھوٹا الزام لگانے کی باقاعدہ سزا ملنی چاہیئے اور اگر یہ الزام درست ہے تو آفریدی کے خلاف باضابطہ طور پہ سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیئے کیونکہ یہ معاملہ اب ان دو کھلاڑیوں کے مابین نہیں رہا اور یہ تو بین الاقوامی میڈیا پہ نشر ہوکے پاکستان کی ساکھ سے منسلک ہوچکا ہے اور اسے ان دو کھلاڑیوں کی باہمی صلح مندی پہ ختم کرنے کا مطلب تو نئی خطرناک راہیں کھول دینے کا ہوگا اور اس سے تو آئندہ کے لیئے کسی بھی کھلاڑی کو کسی بھی دوسرے کھلاڑی کے خلاف کبھی بھی اور کچھ بھی کہ دینے یا الزام لگا ڈالنے کا کھلا لائسنس مل جائے گا اور دوسرے یہ بھی ہوگا کہ اگر واقعی کسی کھلاڑی نے ایسے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہوا ہوگا تو اس پہ الزام لگا کے اور پھر صلح کے نام پہ ممکنہ طور پہ مطلوبہ مفادات و نتائج حاصل کرکے سب بھلادینے کی ایک نئی حکمت عملی باقاعدہ شکل اختیار کرلے گی ،، اس معاملے کو یونہی جانے دینے کے مضر اثرات یہ نکلیں گے کہ ماضی کے نیکنام کرکٹر کی ساکھ بھی مشکوک کی جاسکے گی اور پاکستان کی کرکٹ کے بین الاقوامی میدانوں میں حاصل کردہ کامیابیوں کو بھی گہنایا جاسکے گا- لہٰذہ اس سے قطع نظر کے شعیب اختر صحیح کہ رہا ہے یا غلط لیکن اب اس میچ فکسنکے الزامات والے معاملے کو قرار واقعی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیئے

 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy