لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


عمران خان نے قومی اتفاق رائے کا ایک اہم موقع ضائع کردیا Share
  Posted On Saturday, October 15, 2016
  سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ جس کا خدشہ تھا وہی بات ہوئی ،،، عمران خان اور انکی جماعت کی جانب سے بدھ کو منعقدہ پارلیمنٹ کے مشترکا اجلاس کے بائیکاٹ نے بالآخر بھارتی میڈیا کو یہ کہنے کا بھر پور موقع فراہم کر ہی دیا کہ کشمیر کے مسئلے پاکستانی حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پہ نہیں ہیں اور گویا اس حوالے سے جب پاکستانی قوم کے نمائندے ہی یکسو نہیں ہیں تو اسکی جانب سے آنے والے مطالبات کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہے ۔۔۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ خانصاحب اسے اپنی عمدہ سیاسی چال باور کرتے نہیں تھک رہے اور انکے خاص الخاص حمایتی اسے انکی سیاسی بصیرت کا ثبوت قرار دینے میں ہلکان ہوئے جارہے ہیں ۔۔۔ لیکن کیا اس سے واقعی حقائق بدل جائینگے ۔۔۔ اور اس بائیکاٹ سے متحد و یکسو قوم ہونے کے تاثر کی جو شدید نفی ہوئی ہے اس سے پیدا شدہ نقصان عظیم کی تلافی ہو جائیگی ۔۔۔؟؟ یقینناً نہیں اور مزید خدشہ یہ ہے کہ اسکی وجہ سے ہونے والا نقصان خدا نخواستہ وطن عزیز اور پاکستانی قوم کے اصولی موقف کی ساکھ کو عالمی برادری میں اب کسی اور بڑے بحران سے بھی دو چار کرسکتا ہے-

منگل 4 ستمبر کی رات شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں پی ٹی آئی کے عمران اسماعیل ایک عجب بے بسی کے عالم میں دکھائی دیئے تھے ۔۔۔ معاملہ ہی ایسا تھا ،،، قومی غیرت کے بڑے بڑے دعووں کے برعکس پی ٹی آئی کے انتہائی شرمناک اور قومی غیرت کے منافی پہ مبنی یوٹرن والے اس فیصلے کا دفاع کرنا ہرگز آسان نہ تھا کہ بھارت کی دھمکیوں کے تناظر میں بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پی ٹی آئی شرکت نہیں کرے گی ۔۔۔ گو انہوں نے چرب زبانی بھی کافی دکھائی اور مکر و فریب کے بل پہ جیسے تیسے بے تکے اور بے سر پیر کے جوابات بھی دیئے لیکن بدحواسی تھی کہ ہر طرف سے جھلکے پڑ رہی تھی ۔۔۔ وہ صاف اور دو ٹوک انداز میں اس سوال کا کو ئی مسکت جواب نہیں دے سکے کہ انکی پارٹی اور اسکے قائد پارلیمنٹ کے اس اہم مشترکہ اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کرینگے کہ جس کا مقصد وحید ہی بھارت کو اور ساری دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ قومی سلامتی و دفاع کے نام پہ ساری قوم اور اسکے نمائندے متحد اور یک سو ہیں ۔۔۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ محض 4 روز قبل ہی جیو نیوز کے پروگرام میں شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ ٹیلیفون پہ بات کرتے ہوئے عمران خان نے اس پختہ عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اس معاملے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بالضرور شرکت کرینگے ۔۔۔۔ یہ انکی کہ مکرنیوں او قلابازیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ انکے مقرر کردہ و بعد ازاں برخواست کردہ الیکشن ٹریبونل کے دوسرے رکن یوسف گبول بھی انکا ساتھ چھوڑ گئے ہیں حالانکہ جسٹس وجیہ کی معطلی کے باوجود انہوں نے ابتک کسی نہ کسی طرح عمران خان سے تعلق استوار کیئے رکھا تھا لیکن گزشتہ دنوں نے مجھ سمیت اپنے کئی دوستوں کو ایک تفصیلی ایس ایم ایس کے ذریعے پی ٹی آئی سے اپنی 19 سالہ رفاقت ترک کرنے کی بابت آگاہ کیا- انکے اس پیغام کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ عمران خان سے قطعی مایوس ہوچکے ہیں اور اب ایسا نہیں سمجھتے کہ خان ملک میں کسی مثبت تبدیلی لانے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ اب انکے دائیں بائیں کھڑے زیادہ تر رہنما وہ ہیں کہ جو خود ہی کرپشن میں گلے گلے ڈوبے ہوئے ہیں-

جہاں تک بات ہے پی ٹی آئی کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کے فیصلے کی ، تو بظاہر اس فیصلے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ رائے ونڈ کے شاندار جلسے نے عمران خان کے دماغ میں ایسی ہوا بھر دی ہے کہ اب وہ حکومت کو کسی خاطر میں نہیں لانا چاہتے اور اس فضاء کو بنائے رکھنے کے لیئے کسی ایسے ادنیٰ سے مفاہمانہ تاثر کو بھی جگہ دینا نہیں چاہتے کہ انکے حکومت سے فاصلے اب کم ہورہے ہیں اور خواہ اسکی کوئی بھی قیمت ہو ،،، اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں کسی جانب سے ایسا اشارہ ملا ہو کہ جسکی تعبیر وہ یوں کر رہے ہیں کہ ایک ذرا سا زور لگالیں تو وزارت عظمیٰ کا منصب ملنا بس دنوں کی بات ہے ۔۔۔اس سےقبل انہوں نے وزیراعظم کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں خود شرکت کرنا گوارا نہیں کیا تھا کیونکہ وہ وزیراعظم کو انکے منصب کے مطابق اہمیت دینے سے مکمل اجتناب کرنا چاہتے ہیں -اور وزیر اعظم کی حیثیت کو کمتر باور کرانے کیلیئے وہ یہی کچھ کرسکتے تھے ۔۔۔ لیکن انکے دل و دماغ پہ یقینناً بجلی گر گئی ہوگی کہ جب انہیں یہ خبر ملی ہوگی کہ اے پی سی میں بھیجے گئے انکے نائبین خصوصآً انکے بعد پارٹی میں سب سے بڑے منصب پہ فائز یعنی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے مقابلے میں نواز شریف کے ساتھ غیر معمولی اخلاق اور گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جس سے عمران خان کے ذہن میں یقینناً خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہونگی کیونکہ یہ خبریں اڑتی اڑتی انکے کانوں تک بھی یقینناً ضرور پہنچی ہونگی کہ مسلسل کئی ضمنی انتخابات میں میں پی ٹی آئی کی شکست نے شاہ محمود کو سخت پریشان و متفکر کر رکھا ہے اور اس مایوس کن صورتحال پہ وہ اپنے نجی حلقے میں متعدد بار شدید بے اطمینانی کا اظہار کرتے پائے گئے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ وہ ایک بار پھر رائے ونڈ جا پہنچنے اور اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ کرنے کی تدبیریں کرنے والے ہیں

عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نہ جاکر یہ ثابت کردیا ہے کہ انہیں عظیم قومی مقاصد سے نہیں بس کسی نہ کسی طرح 'ناراض ہیرو' کا تاثر برقرار رکھنے اور کسی نہ کسی طرح وزارت عظمیٰ کے منصب کے حصول ہی سے دلچسپی ہے - انکا حالیہ افسوسناک بائیکاٹ کا اقدام اس لیئے اور بھی ناقابل دفاع ہوگا کہ گزشتہ دو ڈھائی برسوں میں انکے متعدد اقدامات نے پارٹی کو اخلاقی بحران سے دوچار کیا ہوا ہے اور متعدد بار انکے غلط فیصلوں نے پارٹی کو سخت خفت سے دوچار کیا ہے ۔۔۔ یہاں مناسب یہ ہے کہ ایک نظر ان حقائق پہ بھی ڈالتے چلیں

انٹرا پارٹی الیکشن میں ملک گیر دھاندلیوں شکایات ملنے پہ جیسے تیسے الیکشن ٹریبونل بنانا لیکن پھر اسکو خود ہی فارغ کردینا کیونکہ جسٹس وجیہ اور انکے ساتھی یوسف گبول نے 87 سماعتوں کے بعد جن چار افراد کو انٹرا پارٹی الیکشن میں دھندلی کا مجرم قرار دیا تھا اور پارٹی سے فارغ کرنے کی سزا سنائی تھی ( یعنی علیم خان، جہانگیر ترین، نادر لغاری اور پرویز خٹک ) وہ عمران خان کے نہایت قریبی ساتھی شمار کیئے جاتے ہیں اور ان میں سے 2 کو تو از راہ تففن انکی اے ٹی ایم مشینیں بھی کہا جاتا ہے اور عمران خان نے بجائے انہین سزائیں دینے کے، الیکشن ٹریبونل کو ہی سبکدوش کردیا تھا اور جسٹس وجیہ کی پارٹی رکنیت معطل کر ڈالی تھی-

دوبرس قبل لاہور کے بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کی بدترین شکست کی جانچ اور ٹکٹوں کی خریدو فروخت کے الزامات تحقیقت کے لیئے عمران نے ایک 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی اسکاڈ تشکیل دی تھی لیکن جب اس نے متفقہ طور پہ یہ فیصلہ دیا کہ پارٹی کے ٹکٹوں کی خرید و فروخت کا بڑا مجرم علیم خان ہے تو خان نے اسے بھی بیک بینی و دو گوش چلتا کردیا تھا

پارٹی کے دوسرے الیکشن کے لیئے تسنیم نورانی کا چناؤ کسی اور نے نہیں خود عمران خان نے کیا تھا لیکن جب انہوں نے بھی الیکشن میں کئی معاملات میں مداخلت پہ اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو پھر انکے ساتھ اس قدر تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا گیا کہ وہ اپنے سب ساتھیوں کے ساتھ مستعفی ہونے پہ مجبور ہوگئےتھے

کچھ ایسا ہی رویہ بریگیڈیئر(ر) حامد خان کے ساتھ اس وقت اختیار کیا گیا کہ جب انہوں نے صوبہ کے پی کے کے احتساب کمیشن کے سربراہ کی حیثیت کمیشن کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے پہ سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا کیونکہ انکی تحقیقات اس مرحلے میں داخل ہوچکی تھیں کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے سنگین بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے کئی واضح ثبوت سامنے آگئے تھے اور اس مرحلے پہ انہیں اس قدر دق کیا گیا اور انکے دائرہء عمل کو اس قدر محدود کرنے کی کوشش کی گئی کہ بالآخر تنگ آکر وہ بھی استعفیٰ دے بیٹھے

2014 میں پنجاب میں بالخصوص اور دیگر صوبوں میں بالعموم بہت شدید سیلاب آجانے کے باوجود پی ٹی آئی نے اسلام آباد کے اپنے ڈی چوک والے دھرنے کو ختم کرنے سے صاف انکار کردیا تھا اور یوں ملک بھر کے عوام کو یہ تاثر ملا تھا کہ پی ٹی آئی کو عوام کی حالت سے نہیں اپنی سیاست سے ہی غرض ہے-

بلاشبہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی سمت ساری قوم کی نظریں مرکوز تھیں‌ اور یہ سب پاکستانی سیاسی جماعتوں کی بصیرت اور حب الوطنی کا ایک اہم موقع بن گیا تھا لہٰذا ایسے موقع پہ خواہ کسی بھی وجہ سے ہی سہی پی ٹیی آئی کا اس اجلاس سے دور ہونا اسکے لیئے یقینناً سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگیا ہے اور اس معاملے پہ پاکستانی قوم اب انکی کسی بھی تاویل کو شاید ہی ہضم کرپائے گی کیونکہ بھارت کا معاملہ ایسا ہے کہ اس سے متعلق ہر بات پہ یہ پاکستانی قوم کا ردعمل نہایت حساسیت کا حامل ہوتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان برسوں سے کھیلے گئے کرکٹ اور ہاکی میچز میں پایا جانے والا جنگی جوش و خروش اسکی واضح مثالیں ہیں ۔۔۔ اسکے کئی رہنماء تو پہلے ہی گزشتہ کئی ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی مسلسل ہزیمتوں سے سخت پریشان ہیں اور اب وہ یہ سمجھ چکے ہیں کہ انکے پاس وقت بہت کم ہے کیونکہ الیکشن میں محض ڈیڑھ سال ہی رہ گیا ہے اور اب انہیں اپنا سیاسی مستقبل محفوظ کرنے کے لیئے کوئی نہ کوئی بڑا قدم اٹھانا ہی ہوگا اور ایسے میں یہ عجیب اقدام پارٹی میں بڑی توڑ پھوڑ کا سبب بن سکتا ہے اور انکی اس افسوسناک حرکت سے ہوتا یہ نظر آرہا ہے کہ وہ طویل عرصے بعد نظر آنے والےایک بڑے جلسے یعنی رائے ونڈ کے جلسے کے سیاسی ثمرات بھی کھو بیٹھیں گے اورانکے وہ چاہنے والے جو ان سے بھی زیادہ اس وطن سے پیار کرتے ہیں ان پہ عمران خان کا یہ یو ٹرن یقینی طور پہ بجلی بنکے گرا ہوگا کیونکہ وہ سب تو انکے پیچھے چل ہی اس لیئے پڑے تھے کہ انہیں وطن میں استحکام و تبدیلی لانے کی سب سے بڑی علامت باور کرتے تھے اور حوالے سے وطن عزیز کی بہتری کی تمامتر امیدیں ان موصوف سے وابستہ کر بیٹھے تھے ۔۔



 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy