لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


جنگ کبھی کسی مسئلے کو حل نہیں کرتی Share
  Posted On Thursday, September 29, 2016
  سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد سے کشمیر کی وادی مسلسل سلگ رہی ہے اور سو سے زائد شہریوں کو فائرنگ کا نشانہ بناڈالنے ک دہشتگردی ابھی تک تھمی نہیں ہے اور پیلیٹ گنز کے ذریعے احتجاج کرنے والے شہریوں کو نابینا کرنے کی وحشت پہ تو خود بھارت میں کئی حلقوں میں آوازیں بلند ہوتی سنائی دے رہی ہیں اس سنگین صورتحال میں بلاشبہ 23 ستمبر کو وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جو خطاب کیا وہ انکی جانب اس مد میں قوم کی طرف سے نکلنے والا وہ پرانا قرضہ تھا کہ جو انہوں نے قوم کو کافی حد تک لوٹا دیا ہے - انہوں نے وہاں قومی احساسات کی بھرپور نمائندگی کی اور اقوام عالم کے روبرو تاریخی حقائق کی برملا یاد دہانی کا فریضہ احسن طور پہ ادا کیا ہے جس پہ یقیننا" انکی توصیف کی جانی چاہیئے ۔۔۔ لیکن جہاں میں نے انکی ستائش کی بات کی ہے وہیں انہیں یہ کہنا ضروریسمجھتا ہوں کہ کشمیر کے حوالے سے انکی بلیغ و شاندار تقریر ہی کا فی نہیں ہے کیونکہ اب انہیں اس مسئلے کے حوالے حکومتی حکمت عملی میں بھی اہم تبدیلیاں کرنی ہونگی اس ضمن میں 2 اہم تجاویز درج ذیل ہیں

سب سےپہلے تو پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کی سربراہی پہ کسی ایسے 'فل ٹائم 'شخص کو فائز کیا جائے جو سفارت و مذاکرات کاری کا وسیع تجربہ رکھتا ہو اور جو اس تقرری کے بعد اپنے عہدے کی تمام مدت میں ملکی سیاست اور دیگر امور سے کوئی لینا دینا نہ رکھے اور وہ اپنا پورا وقت اس اہم کام پہ صرف کرسکے اور بہت یکسوئی سے اس جانب اپنی پوری توانائیاں بروئے کار لاسکے ۔۔۔ فی الوقت تو اس کمیٹی کی کارکردگی محض صفر ہے کیونکہ اسکی سربراہی پہ ایک طویل عرصے سے مولانا فضل الرحمان متمکن چلے آرہے کہ جنکے پاس اپنی جماعتی سیاست اور دینی سرگرمیوں سے شاز ہی کوئی وقت فارغ بچتا ہو - درحقیقت انکے زمانے میں تو یہ کمیٹی محض نمائشی اور علامتی سی چیز بن کے رہ گئی ہے کیونکہ موصوف اس عہدے کی استحقاقی مراعات لینے کے سوا اس کاذ کے لیئے کبھی سنجیدگی سے کچھ کرتے نہیں دکھائی دیئے اور یہ واضح رہے کہ اس عہدے کو وفاقی وزیر کے مساوی حیثیت دی گئی ہے اور مولانا برسہا برس سے وزراء کی کالونی میں اسی باعث مقیم چلے آتے ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ وزیراعظم کبھی اس کمیٹی کی صفر کارکردگی پہ انکا احتساب کرنے کی ذرا ہمت نہ جٹا سکے - نوبت یہ ہے کہ دور کوئی بھی ہو ، مولانا ہر حکومت کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور اپنی کشمیر کمیٹی کی سربراہی برقرار رکھنے میں کامران ہوجاتے ہیں ۔۔۔ اب پہلے قدم کے طور پہ تو کشمیر کمیٹی کی فعالیت ضروری ہے اور اسک لیئے اسکی سربراہی کو نمائشی کے بجائے حقیقی متحرک ذمہ داری میں تبدیل کرنا لازمی ہے اور مناسب وقفوں سے اسکی کارکردگی سخت جانچ ہوتی رہنی چاہیئے

دوسری اہم بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفیروں کو بھی کشمیر کاز سے موثر طور پہ جوڑا جائے اور وہ جس ملک میں تعینات ہوں وہاں انہیں علاوہ دیگر امور کے اس معاشرے کے موثر طبقوں میں اس کاز کی بابت آگہی پیدا کرنے کا ٹاسک بھی سونپا جائے اور وہ وہاں مختلف ایسی تقریبات و اجتماعات بھی منعقد کرتے رہیں کہ جن میں اس تنازع کی تاریخی بنیادوں کو کھول کر بیان کیا جائے اور اس سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بھارتی حکومت کے وعدوں‌ کی روشنی میں کشمیر کے مسئلے کی مناسب طور پہ وضاحت کی گئی ہو اور کشمیر پہ بھارت کے 68 برس قبل کیئے گئے غاصبانہ قبضے کے بعد سے وہاں جاری بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے واقعات کی تفصیل بتائی جائے - دیکھا یہ گیا کہ عام طور پہ انسانی فطرت میں ظلم کی برداشت نہیں ہے اور اگر ہمارے سفراء حضرات کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی سے غیر ممالک کے عوام کو موثر طور پہ آگاہ کرنے میں کامیاب رہے تو اس سے پیدا ہونے والے رائے عامہ کے دباؤ کو وہاں کی حکومتیں بھی کسی طور نظر انداز نہ کرسکیں گی- اور ہر بین الاقوامی فورم پہ اس مسئلے کو اٹھانے اور پھر کئی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کا کام کسی حد تک آسان ہوسکے گا-

آخر میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ مودی سرکار چونکہ عوام کی خوشحالی و ترقی کے اپنے دعوؤں میں ابتک ناکام چلی آرہی ہے جسکے سبب اسے کئی ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں مسلسل ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے چنانچہ وہ جان بوجھ کر ایک ایسی جنگی صورتحال پیدا کرنا چاہتی ہے کہ جس میں وہ بھارتی قوم کو جذباتی طور پہ بلیک میل کرکے 2018 میں ہونے والے الیکشنوں‌ کے نتائج کو اپنے حق میں بہتر بناسکے لیکن پاکستان کو اس ٹریپ میں پھنسنے سے باز رہنا چاہیئے اور اپنی ساری توانائی بین الاقوامی رابطوں‌ کے اس خلاء کو پرکرنے میں لگا چاہیئے جو برسہابرس سے کشمیر کمیٹی کی وقت گنوانے اور کچھ نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور ہرممکن بین الاقوامی رابطوں اور ہرسطح پہ بہترین سفارتکاری کے ذریعے وہ ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کرنی چاہییئں کہ جسکے ذریعے بھارت کو ایک بار اس امر پہ مجبور کیا جاسکے کہ وہ بین الاقوامی نگرانی میں اس مسئلے کے حل پہ راضی ہوجائے تاکہ اس دیرینہ مسئلے کا پائیدار حل نکل سکے اور اس خطے کے باشندے جنگی ماحول سے باہرآکر باہم امن و آشتی کی فضاء میں سانس لے سکیں اور یوں اپنی تمامتر توجہ تعمیرو ترقی کی جانب مرکوز کرسکیں ۔۔۔

 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy