لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


کیا ہم عید قرباں کو صاف ستھرے طریقے سے نہیں منا سکتے ۔۔؟؟ Share
  Posted On Saturday, September 10, 2016
  سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ ان دنوں ناصر کاظمی کا ایک مشہور شعر ذرا ترمیم سے بار بار پڑھنے کا بے طرح جی چاہ رہا ہے ۔۔۔

گلی گلی غلاظت مچی ہے ۔۔۔ پیارے رستہ دیکھ کے چل ۔۔۔ کیونکہ فی الوقت اس عروس البلاد کی نچلے اور متوسط طبقے کی شاید ہی کوئی ایسی گلی رہ گئی ہو کہ جہاں سے کوئی بھی گزرنے والا گوبر سے رپٹنے اور مینگنیوں سے پھسل جانے کا خطرہ مول لیئے بغیر گزر سکتا ہو ۔۔۔ عیدالاضحی کے دن نزدیک آتے آتے سارا شہر قربانی کے جانوروں کے فضلوں کے ڈھیر سے بھرتا چلا جاتا ہے اورکسی بھی سمت آنے جانے کے اندرونی رستے مسدود ہوتے چلے جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن صفائی کے نام پہ کوئی کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔۔۔ پھر جو گلیاں تنگ ہیں وہاں تو ہر طرف قربانی کے جانور رستہ روکے کھڑے نظر آتے ہیں اور بدبو و گندگی کے سبب سانس لینا بھی اک جرم سا بن جاتا ہے ،،، گزرنے والوں سے کہیں زیادہ وہاں رہنے والوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے ،،، پھر جب بقرعید آتی ہے تب تو یہ گندگی اک بڑے طوفان کی سی شکل اختیار کرلیتی ہے اور شام پڑتے ، ہر گلی میں ذبح کیئے گئے جانوروں کا خون اور آلائشیں ہر طرف بکھری نظر آتی ہیں کہ جن پہ مکھیوں کے جھنڈ منڈلا رہے ہوتے ہیں - اگر کھلی دھوپ نکلی ہوئی ہو تو پھر تو چند ہی گھنٹوں میں جانوروں کے معدے و آنتیں سڑنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور یکایک جیسے بدبو کی آندھیاں سی چلنے لگتی ہیں اور جہاں کہیں غفلت سے کسی جانور کا معدہ پھٹ گیا ہو تو ہر طرف گویا سڑاند کا راج سا ہوجاتا ہے

یہ صورتحال عید کے باقی دو دنوں میں مزید ابتر ہوجاتی ہے کیونکہ ان دو دنوں میں بھی بہت قربانیاں کی جاتی ہیں جبکہ ابھی 2 دن پرانی آلائشوں کی صفائی بھی مناسب طور پہ نہیں کی گئی ہوئی ہوتی ہے ۔۔۔ یہ منظر نامہ ہمارے شہروں اور قصبات کی ہر عید قرباں کا ہے ۔۔۔ لیکن یہاں ایک سوال جو ذہن میں ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ ہے کہ کیا یہ صورتحال ساری اسلامی دنیا میں ایسی ہی ہے ،،، تو جواباً عرض ہے کہ قطعی نہیں، ہرگز نہیں ،،، زیادہ تر اسلامی ممالک میں اس طرز کی قربانیوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔ وہاں تو جانور خریدتے ہی مقامی بلدیہ کے حوالے کردیا جاتا ہے جو کہ اسکا ٹوکن مالک کے حوالے کردیتے ہیں اور اسے قربانی کے مقام اور صحیح وقت سے آگاہ کردیتے ہیں ۔۔۔ اور پھر کسی معینہ مقام پہ اجتماعی طور پہ قربانیوں کا اہتمام کرتے ہیں اور قربانی کرنے والا چاہے تو وہاں آکراپنے جانور کے گلے پہ خود چھری پھیر سکتا ہے اور گوشت بنواکے گھر لیجاسکتا ہے ۔۔۔ اس مقام پہ سے جانور کا خون اور آلائش ہاتھ کے ہاتھ صاف کردی جاتی ہے اوراس طرح شہر کی آبادیوں میں یوں 'خونریزی' کی داستانیں بکھری ہوئی نظر نہیں آتیں اور نہ ہی گندگی کے ڈھیر صحت و صفائی کو للکارتے دکھتے ہیں -

لیکن کیا یہ سب نفاست ہمارے یہاں ممکن نہیں ۔۔۔ یقینناً ہے لیکن فی الوقت اسکی راہ میں دو رکاوٹیں حائل ہیں جن میں پہلی رکاوٹ تو یہ ذہنیت ہے کہ ہمارا جانور عین ہمارے گھر کے سامنے ہی کاٹا جائے اور یہ سوچ اس دکھاوے سے جڑی ہوئی ہوتی ہے کہ جسکے تحت جانوروں کو چھنچھناتے زیوروں کا انبار پہنا کر تحت رات دن گلیوں میں دور دور تک چلایا پھرایا اور بھگایا اور دوڑایا جاتا ہے اور اسکے شور سے ہر طرف رات میں بھی شور کا اک غلغلہ سا بپا رہتا ہے اور اسی سطحی سوچ کے تابع ہوکر بہت سے لوگ خریدے گئے جانوروں کی بہت زیادہ قیمت بتا کر رعب جھاڑتے دکھائی دیتے ہیں اور انکی اسی نفسیات کا فائدہ اٹھا کر جانوروں کے اکثر بیوپاری انکے دام بہت زیادہ وصول کرلینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں- لیکن یہاں جسکا جتنا داؤ لگ جائے والا طریقہ ہی سب سے بڑا عملی طریقہ مانا جاتا ہے جبکہ دنیا بھر میں زیادہ تر قربانی کے جانوروں کی قیمت کا تعین انکے وزن کی فی کلو بنیاد پہ کیا جاتا ہے ۔۔۔ گو ہمارے ملک میں بھی اب کہیں کہیں اس نظام کی چکھا چکی تو ہو چکی ہے لیکن بیوپاریوں اور ٹھیکیداروں کا گٹھ جوڑ ان اقدامات کو صحیح طرح رو بہ عمل آنے ہی نہیں دیتا -اسی طرح قربانی کے جانوروں کو منڈی لائے جانے سے قبل انکے بیوپاریوں سے جگہ جگہ مختلف حیلوں و بہانوں‌ سے اتنی لوٹ مار کرلی جاتی ہے کہ اسکا خمیازہ شدید مہنگائی کے اس دور میں عوام یا صارف کو ہی اٹھانا پڑتا ہے ،،،

اب جبکہ بقرعید سر پہ اچکی ہے یہ نہایت ضروری ہے کہ اس بار بھی اگر عید پہ مویشی منڈی اور خریداری کے معاملات کو بہتر نہیں بھی کیا جاسکا تو کم ازکم اسکی قربانی کے نظام میں بہتری لانے اور اہل شہر کو مذبوحہ جانوروں کی آلائش و خون کی گندگی و بدبو سے بچانے کے اقدامات پہ ابھی سے تسلی بخش حد تک غوروفکر کرلیا جائے ورنہ جابجا ہونے والی قربانیوں کے نتیجے میں عوام حکومت کی غفلت کی سزا عید کے بعد تا دیر بھگتتے رہیں گے-

 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy