لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


کانگو بخار سے بچیئے Share
  Posted On Thursday, September 08, 2016
  جویریہ صدیق ۔۔۔۔ کانگو بخار کی وجہ سے ہونی والی ہلاکتوں کے باعث عوام میں تشویش پائی جاتی ہے کہ آخر یہ بخار ہے کیا اور اس کی علامات کیا ہیں ۔کانگو بخار مویشیوں کی جلد میں موجود ٹکس (چیچڑ ) کی وجہ سے ہوتا ہے.اگر یہ ٹکس کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ انسان کریمین گانگو ہیمرجک فیور میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ جانور کاخون،گوشت،آلائش وغیرہ بھی کانگو کے پھیلاو کا باعث ہیں۔اگر یہ انسان کے منہ ناک آنکھوں اور زخم پر لگ جائیں تو بھی انسان کانگو کا شکار ہوجاتا ہے۔

گانگو بخار پھیلانے والی hyalomma چیچڑ بھورے رنگ کی ہوتی ہے اور اس کی ٹانگوں پر سفید دھاریاں ہوتی ہیں ۔یہ جانوروں کے جسم سے چپک کر اپنی خوراک حاصل کرتی ہیں۔اگر یہ انسان کو کاٹ لیں تو علامات تین سے نو دن کے اندر اندر ظاہر ہوتی ہیں ۔جن میں فلو ،گلے میں تکلیف،ذہنی کیفیت کا بگڑنا، بخار چڑھنا ،پٹھوں میں درد ،تھکاوٹ ،دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا،جلد پر سرخ دھبے پڑ جانا،گردن میں درد اکڑاو،آنکھوں کا سرخ ہوجانا اور ان میں درد ہونا شامل ہے.اگر فوری طور پر علاج پر توجہ نا دی جائے تو جگر اور تلی بڑھ جاتی ہے .ناک کان آنکھوں اور منہ خون رسنا شروع ہوجاتا ہے اور انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے

اس بخار کا سب سے زیادہ خطرہ ان لوگوں کو ہوتا ہے مویشیوں کے بیوپاری ہیں یا گلہ بان ہیں ۔زراعت سے منسلک اور ذبیحہ خانوں میں کام کررہے ہیں .ایسے لوگوں میں یہ بخار عام افراد کی نسبت زیادہ ہونے کا امکان ہے.اس بخار کے جراثیم ایک متاثرہ شخص سے دوسرے صحت مند شخص کو فوری طور پر لگ جاتے ہیں. یہ بخار ایک انسان سے دوسرے انسان میں خون، رستے ہوئے زخم ،دیگر رطوبت اور جسمانی تعلقات سے پھیلتا ہے.

اس وقت پاکستان میں عید الاضحٰی کے موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد مویشی بازار کا رخ کررہے ہیں.اس لئے اس مرض کے پھیلنے کا خدشہ اور بڑھ گیا۔

عید الاضحٰی کے لئےخریداری کرتے ہوئے اور مویشیوں کے بیوپاری جانوروں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے منہ کو ماسک سے ڈھانپ لیں،آنکھوں پر چشمہ لگائیں اور ہاتھوں پر دستانے پہنیں، ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں جس کے بازو فل ہوں کہ اگر کوئی چیچڑ کپڑوں پر چپک جائے تو نظر آجائے.جوتوں کے ساتھ جرابیں پہن لیں یا لانگ بوٹ پہن کر رکھیں ۔اچھی طرح تصدیق کریں جانور بیمار تو نہیں۔

جانور کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں اور جانور پر اسپرے کروالیں تو بہت بہتر ہے۔بچوں کو مویشی منڈی لیجانےسے گریز کریں۔ مویشیوں کے بیوپاری اپنے جانور رکھنے کی جگہ پر اسپرے کروائیں.اپنے جانوروں کا ویٹ ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں.بیمار جانور کو الگ کردیں۔ورنہ باقی جانور بھی بیمار ہوجائیں گے.جانوروں پر چیچڑی کی افزائش روکنے والے اسپرے کریں یا پاوڈر کا چھڑکاو کریں.

قربانی کرتے وقت بھی احتیاط برتیں اور دستانے پہنیں، منہ پر ماسک اور بندجوتے پہن کر قربانی کریں۔ جانور کے خون اور آلائشوں کو ہرگز ہاتھ نا لگائیں. قربانی کا جانور ذبیح کرنے کے بعد آدھا گھنٹہ انتظار کریں جانور کا خون اچھی طرح نکل جائے پھر گوشت بنائیں.آلائشوں کو سڑکوں پر نا پھینکیں حفظان صحت کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں تلف کریں.قربانی سے فارغ ہوتے ہی جراثیم کش صابن سے ہاتھ دھویں نہایں اور لباس تبدیل کریں۔اس بخار سے بچاو کے لئے کوئی ویکسین دستیاب نہیں اس لئے احتیاط سے ہی ایک واحد حل ہے ۔

طبی عملہ بھی ہیمرجک فیور کے مریض کا علاج کرتے ہوئے اپنی حفاظت یقنی بنائے۔ یہاں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ قائم کرے اور طبی عملے کو تمام سہولیات فراہم کرے تاکہ بیماری کا علاج کرتے ہوئے وہ خود بیمار نا ہوجائیں ۔اس کے ساتھ ساتھ مریض کےگھر والے بھی مریض کے خون اور یا کسی طرح کے بھی مواد کو براہ راست ہاتھ نا لگائیں.ہر کام دستانے پہن کر کریں،آنکھوں پر چشمہ لگا کر اور منہ ڈھانپ کریں.اگر احتیاط نہیں برتی گئی تو یہ مرض فوری طور پر دوسرے انسان کو لاحق ہو جاتا ہے۔کانگوجان لیوا بخار سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے۔



Javeria Siddique writes for Daily Jang

Twitter @javerias



 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy