لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


ہم زندہ قوم ہیں ، پائندہ قوم ہیں Share
  Posted On Saturday, September 03, 2016
 

سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ خرابے سے بھی اچھائی کا پہلونکل آیا ۔۔۔ یہ سب خدائی حکمتیں ہیں ۔۔۔ یکدم سے شہر پہ چھایا ہوا خوف و دہشت کا تین دہائی پرانا تار عنکبوت ٹوٹ کے نجانے کہاں جا پڑا ۔۔۔22 اگست کو الطاف حسین نے کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ کے ارکان سے اپنے خطاب میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے یکایک اپنے پیروں پہ جیسے کلہاڑی ہی مارلی اور انکا اپنا 3 دہائیوں سے تعمیر کردہ شخصی بت خود انہی کے ہاتھوں مسمار ہوگیا ۔۔۔ موصوف تو اپنی دانست میں مین یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ انکا اشارہ کرنے کی دیر ہے کہ اس ہیجانی تقریر کے بعد لوگ انکے نام کی مالا جپتے ہوئے بھرہ مار کے سڑکوں پہ نکل آئینگے اور سب کاروبار زندگی معطل ہوکے رہ جائیگا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس شہر سے جیسے (خدانخواستہ) پاکستان ہی مٹ جائے گا لیکن ہوا اسکے بالکل برعکس ۔۔۔ کوئی ایک فرد بھی انکی حمایت میں سڑک پہ نہیں آیا بلکہ الٹ یہ ہوگیا کہ جگہ جگہ انکے خلاف گلی کوچوں میں جلوس اور ریلیاں نکلنے لگے اور شدید احتجاج دیکھنے میں آیا اور ایسے میں جو کوئی طینت ان کی حمایت میں تھا بھی تو پھر اسکی بھی ہمت نہ تھی کہ سڑک پہ آکر انکے حق میں ایک آدھ نعرہ ہی لگا سکے

ماضی میں انکی کامیابیوں کے گواہ غیرملکی میڈیا والے خود انگشت بدنداں تھے یہ کیا ہوگیا ۔۔۔ وہ تو یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ ایم کیو ایم اس طرح آناً فاناً برسرعام تنہا ہوجائے گی کیونکہ ابھی دو ماہ قبل 2 جون ہی کو تو اس شہر میں ہونے والے ضمنی الیکشنوں میں اسکے امیدواران فتحیاب ہوئے تھے۔ ۔۔ لیکن درحقیقت وہ ایک اہم سچائی کو جاننے اور سمجھنے میں یکسر ناکام رہے تھے اور وہ یہ کہ اس شہر میں بسنے والوں کی اکثریت کے ماں باپ نے اس وطن کے حصول کی منزل پانے کیلیئے اپنا سب کچھ یا بہت کچھ کھو دیا تھا یعنی نہ صرف انہوں نے تحریک پاکستان میں سرگرم سے حصہ لیا تھا بلکہ قیام پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدل ڈالنے کی خاطر اپنے گھربار ملازمتیں اور کاروبار بلکہ اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کردیا تھا جنکی مجموعی تعداد بیس لاکھ کے لگ بھگ باور کی جاتی ہے - تو یہ نئی نسل بھی بہرحال اسی نسل کا خون ہے کہ اس باک وطن کی الفت جس کے لہو کے ہر قطرے میں شامل ہے اور انکے سارے وجود اور شعور میں دوڑتی ہے

الطاف حسین کی اس بری ہزیمت سے یہ بھی بخوبی پتا چلتا ہے کہ وہ کراچی میں اپنے ووٹروں کی اصل سوچ اور ترجیحات سے قطعی طور پہ نا آشناء تھے اور ہیں کیونکہ ابھی تو اس شہر سے اس جشن آزادی کو رخصت ہوئے ابھی دن ہی کتنے گزرے ہیں کہ جس کی غیرمعمولی رونق اور شان و شوکت دیکھ کر غیرملکی سیاحوں نے دانتوں تلے اپنی انگلیاں داب لی تھیں ۔۔۔ گو ویسے تو اس شہر میں ہمیشہ ہی یوم آزادی بہت اچھے انداز میں منایا جاتا ہے لیکن اس بار جشن آزادی کا جوش و خروش ہمیشہ سے کہیں زیادہ ہی رعنائی و ولولہ لیئے ہوئے تھا جس کی بڑی وجہ اس برس کشمیر میں بھارت کے خلاف چلنے والی بھرپور عوامی تحریک ہے کہ جو برہان احمد وانی کی المناک موت کے نتیجے میں ایک طوفان کی شکل اختیار کرگئی اور جب اسے روکنے کے لیئے بھارت نے مظوم کشمیریوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑے تو یہاں کا جشن آزادی اس اطمینان کی عکاسی کر رہا تھا کہ ' اچھا ہے کہ ہم بھارت سے الگ ہونے میں کامیاب ہوگئے اور ہمیں اس آزادی کی بہت قدر کرنی چاہیئے" ۔۔۔ اس بار 14 اگست کے دن کیا بچہ کیا بڑا سبھی آزادی کی مسرتوں کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور ساری قوم ایک سبز ہلالی کے نیچے متحد نظر آرہی تھی اور زبان حال سے کہ رہی تھی کہ "ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں "

کراچی والوں کی جانب سے اس جشن آزادی کو ایک بڑے تہوار کی مانند منانے کے باوجود الطاف حسین نے نجانے کس زعم میں یہ زہریلی تقریر کرڈالی لیکن وہ اگر وقعی یہاں کے شہریوں کے مزاج کو صحیح طرح سمجھ پاتے تو اس انتہائی اقدام کا تصور بھی نہ کرتے ،، وہ یہ سمھجھ رہے تھے کہ اس شہر کے لوگوں کو جو حقیقی مسائل درپیش ہیں اور یہ حکومت سے کئی معاملات پہ بہت شاکی بھی ہیں تو انکی اس ناراضی کو کسی اشتعال انگیز تقریر سے ایک اہیسی بغاوت میں بدلا جاسکتا ہے کہ جو خاکم بدہن جغرافیہ ہی تبدیل کرڈالے گی ۔۔۔ لیکن یہ انکی بہت بڑی بھول تھی ،،، بلکہ اسکا شدید رد عمل ہوا اور شمع وطن کے پروانے وطن سے محبت اور ان خیالات سے نفرت کے اظہار میں ہر جگہ نکل آئے اور انکے 'متاثرین' کہیں کونے کھدروں میں جاچھپے۔۔۔ یہ تاریخ کی گواہی ہے کہ جو کوئی رہنماء اپنی قوم کی نفسیات اور اسکے مزاج سے ناآشنا ہو تواسے ایسی ہی حیرت اور مایوسی کا دھچکا لگنےسے اسے کوئی بھی نہیں بچاسکتا اور نہ ہی اس اقدام کے قانونی اثرات سے تحفظ دے سکتا ہے کہ جو اسکے اس فعل کا لازمی نتیجہ ہوا کرتے ہیں ،،، ایسے لوگوں کو بالآخرتاریخ عبرت کا نشاں بنا ڈالتی ہے

خرابے سے بھی اچھائی کا پہلونکل آیا ۔۔۔ یہ سب خدائی حکمتیں ہیں ۔۔۔ یکدم سے شہر پہ چھایا ہوا خوف و دہشت کا تین دہائی پرانا تار عنکبوت ٹوٹ کے نجانے کہاں جا پڑا ۔۔۔22 اگست کو الطاف حسین نے کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ کے ارکان سے اپنے خطاب میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے یکایک اپنے پیروں پہ جیسے کلہاڑی ہی مارلی اور انکا اپنا 3 دہائیوں سے تعمیر کردہ شخصی بت خود انہی کے ہاتھوں مسمار ہوگیا ۔۔۔ موصوف تو اپنی دانست میں مین یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ انکا اشارہ کرنے کی دیر ہے کہ اس ہیجانی تقریر کے بعد لوگ انکے نام کی مالا جپتے ہوئے بھرہ مار کے سڑکوں پہ نکل آئینگے اور سب کاروبار زندگی معطل ہوکے رہ جائیگا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس شہر سے جیسے (خدانخواستہ) پاکستان ہی مٹ جائے گا لیکن ہوا اسکے بالکل برعکس ۔۔۔ کوئی ایک فرد بھی انکی حمایت میں سڑک پہ نہیں آیا بلکہ الٹ یہ ہوگیا کہ جگہ جگہ انکے خلاف گلی کوچوں میں جلوس اور ریلیاں نکلنے لگے اور شدید احتجاج دیکھنے میں آیا اور ایسے میں جو کوئی طینت ان کی حمایت میں تھا بھی تو پھر اسکی بھی ہمت نہ تھی کہ سڑک پہ آکر انکے حق میں ایک آدھ نعرہ ہی لگا سکے

ماضی میں انکی کامیابیوں کے گواہ غیرملکی میڈیا والے خود انگشت بدنداں تھے یہ کیا ہوگیا ۔۔۔ وہ تو یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ ایم کیو ایم اس طرح آناً فاناً برسرعام تنہا ہوجائے گی کیونکہ ابھی دو ماہ قبل 2 جون ہی کو تو اس شہر میں ہونے والے ضمنی الیکشنوں میں اسکے امیدواران فتحیاب ہوئے تھے۔ ۔۔ لیکن درحقیقت وہ ایک اہم سچائی کو جاننے اور سمجھنے میں یکسر ناکام رہے تھے اور وہ یہ کہ اس شہر میں بسنے والوں کی اکثریت کے ماں باپ نے اس وطن کے حصول کی منزل پانے کیلیئے اپنا سب کچھ یا بہت کچھ کھو دیا تھا یعنی نہ صرف انہوں نے تحریک پاکستان میں سرگرم سے حصہ لیا تھا بلکہ قیام پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدل ڈالنے کی خاطر اپنے گھربار ملازمتیں اور کاروبار بلکہ اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کردیا تھا جنکی مجموعی تعداد بیس لاکھ کے لگ بھگ باور کی جاتی ہے - تو یہ نئی نسل بھی بہرحال اسی نسل کا خون ہے کہ اس باک وطن کی الفت جس کے لہو کے ہر قطرے میں شامل ہے اور انکے سارے وجود اور شعور میں دوڑتی ہے

الطاف حسین کی اس بری ہزیمت سے یہ بھی بخوبی پتا چلتا ہے کہ وہ کراچی میں اپنے ووٹروں کی اصل سوچ اور ترجیحات سے قطعی طور پہ نا آشناء تھے اور ہیں کیونکہ ابھی تو اس شہر سے اس جشن آزادی کو رخصت ہوئے ابھی دن ہی کتنے گزرے ہیں کہ جس کی غیرمعمولی رونق اور شان و شوکت دیکھ کر غیرملکی سیاحوں نے دانتوں تلے اپنی انگلیاں داب لی تھیں ۔۔۔ گو ویسے تو اس شہر میں ہمیشہ ہی یوم آزادی بہت اچھے انداز میں منایا جاتا ہے لیکن اس بار جشن آزادی کا جوش و خروش ہمیشہ سے کہیں زیادہ ہی رعنائی و ولولہ لیئے ہوئے تھا جس کی بڑی وجہ اس برس کشمیر میں بھارت کے خلاف چلنے والی بھرپور عوامی تحریک ہے کہ جو برہان احمد وانی کی المناک موت کے نتیجے میں ایک طوفان کی شکل اختیار کرگئی اور جب اسے روکنے کے لیئے بھارت نے مظوم کشمیریوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑے تو یہاں کا جشن آزادی اس اطمینان کی عکاسی کر رہا تھا کہ ' اچھا ہے کہ ہم بھارت سے الگ ہونے میں کامیاب ہوگئے اور ہمیں اس آزادی کی بہت قدر کرنی چاہیئے" ۔۔۔ اس بار 14 اگست کے دن کیا بچہ کیا بڑا سبھی آزادی کی مسرتوں کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور ساری قوم ایک سبز ہلالی کے نیچے متحد نظر آرہی تھی

کراچی والوں کی جانب سے اس جشن آزادی کو ایک بڑے تہوار کی مانند منانے کے باوجود الطاف حسین نے نجانے کس زعم میں یہ زہریلی تقریر کرڈالی لیکن وہ اگر وقعی یہاں کے شہریوں کے مزاج کو صحیح طرح سمجھ پاتے تو اس انتہائی اقدام کا تصور بھی نہ کرتے ،، یہ تاریخ کی گواہی ہے کہ جو کوئی رہنماء اپنی قوم کی نفسیات اور اسکے مزاج سے ناآشنا ہو تواسے ایسی ہی حیرت اور مایوسی کا دھچکا لگنےسے اسے کوئی بھی نہیں بچاسکتا اور نہ ہی اس اقدام کے قانونی اثرات سے تحفظ دے سکتا ہے کہ جو اسکے اس فعل کا لازمی نتیجہ ہوا کرتے ہیں ،،، ایسے لوگوں کو بالآخرتاریخ عبرت کا نشاں بنا ڈالتی ہے ،،،

 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (0)     

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard
تبصرہ کریں




شاباش جماعت اسلامی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
مقابلے کے امتحانات میں , قومی زبان میں ہی اظہار ممنوع
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy