لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
سعید اجمل کی معطلی اور سوشل میڈیا
......جویریہ صدیق......پاکستانی آف اسپنر سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ان پر پابندی عائد کردی ہے۔آئی سی سی کے مطابق آف اسپنر کی تمام گیندیں 15ڈگری سے تجاوز کر رہی تھیں، اس حوالے سے آسٹریلیا میں بائیو میکینکل ٹیسٹ کیا گیا اور نتائج آنے کے بعدان پر پابندی عائد کردی گئی ۔اس خبر کے نشر ہوتے ہوئے عوامی سطح پر غم اور مایوسی پھیل گی۔ون ڈے کرکٹ کے نمبر ون آف اسپنر سعید اجمل کا جادو صرف پاکستان ہی نہیں عالمی دنیا میں سر چڑھ کر بول رہا ہے اور ایسے وقت میں ان پر پابندی نے ان کے شائقین کو بے حد مایوس کیا ہے۔1977 میں پیدا ہونے والے سعید اجمل ٹیسٹ کرکٹ میں 178ون ڈے میچز میں 183اور ٹی ٹوینٹی میں 85وکٹیں لے چکے ہیں۔ سعید اجمل پر یہ اعتراض کچھ نیا نہیں 2009میں بھی ان کی بولنگ پر اعتراض کیا گیا تھا تاہم بعد میں ان کو کلیئر کردیا گیا۔ اس وقت سعید اجمل آئی سی سی کی عالمی ون ڈے رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں، لیکن پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گال ٹیسٹ میں امپائرز نے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو 15ڈگری سے تجاوز ہونے کی رپورٹ کی تھی۔ اس کے بعد انٹرنیشنل کونسل نے سعید اجمل کا آسٹریلوی شہر برسبین میں ان کا ٹیسٹ لیا اور دو ہفتے بعد ٹیسٹ کی رپورٹ کے مطابق کے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو قواعد و ضوابط کے منافی قرار دے کران پر پابندی عائد کردی۔ ایکشن کی درستگی تک وہ بین الاقوامی میچز میں بولنگ نہیں کرسکتے۔ اس پابندی کے سبب وہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور 2015ورلڈ کپ میں بھی ان کی شمولیت مشکوک ہوگئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ سعید اجمل پر پاپندی پر اپیل کا فیصلہ ایک سے دو دن میں کر لیا جائے گا۔ اگر یہ اپیل قبول ہو جاتی ہے تو سعید اجمل پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

سوشل میڈیا پر بھی سعید اجمل پر پابندی کے بعد بہت بے چینی اور غصہ نظر آیا۔ خبر کے بعد سے ہی یہ ٹویٹر پر ہائی ٹرینڈ بن گیا، ہر منٹ میں دس ٹویٹ سعید اجمل کے حوالے سے کیے گئے اور اب تک 15ہزار ٹویٹ کیے جا چکے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو پوری قوت کے ساتھ آئی سی سی میں سعید اجمل کا مقدمہ لڑنا چاہیے۔ سابق کرکٹر ثقلین مشتاق نے ٹویٹ کیا کہ میری تمام حمایت سعید اجمل کے لیے ہے اور میں ان کی ہر ممکن مدد کروں گا۔ سابق وزیر سینیٹر بابر اعوان نے ٹویٹ کیا کہ آئی سی سی کا یہ فیصلہ یک طرفہ ہے، اگر ملنگا کرکٹ کھیل سکتا ہے تو سعید اجمل کیوں نہیں، میں احتجاج کرتا ہوں۔ دی نیوز کے صحافی عثمان منظور نے ٹویٹ کیا کہ بگ تھری سعید اجمل کا مقابلہ تو نہیں کرسکتے اس لیے ان کو بین کردیا گیا۔ جیو ٹی وی کے رپورٹر اور کرکٹ ایکسپرٹ فیضان لاکھانی نے کہا کہ سعید اجمل اب بھی ورلڈ کپ کھیل سکتے ہیں بس اتنا کرنا ہے کہ وہ اپنے ایکشن میں بہتری لائیں، ڈیزل فوسٹر اس میں مدد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعید اجمل کو بین نہیں معطل کیا گیا ہے۔ ٹی وی اینکر سدرہ اقبال نے کہا کہ آج کل بری خبروں کا موسم ہے۔ افسوس کہ سعید اجمل پر پابندی عائد کردی گئی۔ صحافی مدیحہ انور نے ٹویٹ کیا کہ 111ون ڈے میچز اور 35ٹیسٹ میچیز کے بعد آئی سی سی کو پتہ چلا کہ سعید اجمل کا بولنگ ایکشن غیر قانونی ہے، حیرت ہے لیکن ہم سب سعید اجمل کے ساتھ ہیں۔

منزہ عباسی نے ٹویٹ کیا کہ بگ تھری کا پہلا شکار سعید اجمل ہوگئے۔ احمر خان نے کہا کہ اگر آپ کسی کو ہرا نہیں سکتے تو اس پر پابندی عائد کردیں، آئی سی سی کا فیصلہ افسوس ناک ہے، سعید اجمل کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ پاکستانی ہے۔ شاہد نبی نے ٹویٹ کیا کہ سعید اجمل دنیا کا نمبر ون بولر ہے، اچانک آئی سی سی کو خیال آتا ہے کہ نمبر ون بولر کا تو بولنگ ایکشن ہی غیر قانونی ہے، کیا بات ہے آئی سی سی کی سمجھ بوجھ کی۔ حرا شاہ نے ٹویٹ کیا کہ آئی سی سی صرف ہمارے کھلاڑیوں کو ہی ورلڈ لپ سے پہلے بین کیوں کرتا ہے؟علی حیدر نے ٹویٹ کیا آئی سی سی جانبدار ہے اور ورلڈ کپ سے پہلے سعید اجمل کو معطل کرنا پلان کاحصہ ہے۔فہد خان نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کہاں ہے ؟ارسلان عبید نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ بورڈ کی لابی بہت کمزور ہے۔محمد شہزاد نے کہا کہ آئی سی سی کو دوسرے بولرز کا مشکوک بولنگ ایکشن کیوں نہیں نظر آتا ؟سحر سمیع نے کہا کہ ورلڈ نمبرون آف اسپنر پر پابندی افسوس ناک ہے۔

بلال عباسی نے طنزیہ کہا کہ اس فیصلے کے خلاف آئی سی سی ہیڈ کوارٹر کے باہر دھرنا دینا ہوگا۔احمد خیام نے کہا کہ یہ بگ تھری کا تحفہ ہے پاکستانیوں کے لیے۔علی نے ٹویٹ کیا کہ ملنگا کا بولنگ ایکشن تو نظر نہیں آتا لیکن سعید اجمل ان کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔احسن جوکہ سوشل میڈیا ایکسپرٹ ہیں انہوں نے ٹویٹ کیا آئی سی سی آپ ہمیں بالکل اچھے نہیں لگتے۔سلمان نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ آئی سی سی کو اپنا نام انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے بدل کر انٹرنیشنل کرکٹ کامیڈی کر لینا چاہیے۔

تاہم حالات چاہے جو بھی ہوں سعید اجمل کے حوصلے بلند ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔پاکستان کے سنجیدہ حلقے اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس وقت کرکٹ بورڈ کو فوری طور پر سعید اجمل کے بو لنگ ایکشن کو درست کرنے پر توجہ دےاور تمام اعتراضات دور کرے۔اس کے ساتھ ساتھ دیگرکھلاڑیوں پر بھی توجہ دی جائے تاکہ ورلڈ کپ میں پاکستان متاثر کن کارکردگی دکھا سکے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias

 
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 ) احباب کو بھیجئے
تانيا تحريکی کی دہائی
چینی صدر کا دورہ ملتوی ،سوشل میڈیا پر ردعمل
آزادی انقلاب مارچ اور صحافی
انقلابی مون سون
لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا تجھے
 
انقلابی مون سون
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 30 )
تانيا تحريکی کی دہائی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 30 )
سول نافرمانی تحریک!!!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 29 )
چینی صدر کا دورہ ملتوی ،سوشل میڈیا پر ردعمل
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 29 )
لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا تجھے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 25 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  تانيا تحريکی کی دہائی   
.......نويد نسيم........میں برطانیہ کی آکسفورڈ يونيورسٹی سے ہسٹری اور سياسيات کی تعليم حاصل کرکے چار سال بعد پاکستان پہنچی تھی۔ جہاں ميرےوالدين کے علاوہ ميرا کزن انيس بھی ميرے لئے بيتاب تھا۔ جس کےساتھ میں نے اپنا بچپن اور پھر لندن جانے سے پہلے تک کا يادگاروقت گزارا تھا۔انيس کے
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (30)

 

  چینی صدر کا دورہ ملتوی ،سوشل میڈیا پر ردعمل   
........جویریہ صدیق........آخر کار وہی ہوا جس کا حکومتی اور سفارتی حلقوں کو ڈر تھا چینی صدر ژی جنگ پنگ کا دورہ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کی نذر ہوگیا۔ ژی جنگ پنگ نے 14سے 16ستمبر تک پاکستان کے دورے پر تشریف لانا تھی لیکن شاہراہ دستور پر
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (29)

 

  آزادی انقلاب مارچ اور صحافی   
.......جویریہ صدیق.......پاکستان میں صحافیوں کے لیےحالات سازگار کبھی نہیں رہے لیکن پاکستانی صحافیوں نے حالات کا مقابلہ ہمیشہ جوانمردی سے کیا۔ کبھی دہشت گردوں تو کبھی سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگ کا سامنا کیا تو کبھی خفیہ ہاتھ ان کے کام میں روڑے اٹکاتے رہے لیکن پھر بھی صحافی
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (7)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy