لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
شدید گرمی کی لہر۔ عذاب یا امتحان؟
..... فرخ نور قریشی......
بڑی حیرانگی کی بات ہے، جب بھی کبھی اس ملک میں طوفان آئے، سیلاب آئے، قحط آئے۔۔۔ہم سب کا دھیان پہلے اس بات پر گیا کہ یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے اور خدا کی طرف سے عذاب ہے۔ ہمارے ملک کے دیہی علاقوں کی تو بات ہی نہ کریں، شہری علاقوں میں بھی انفراسٹرکچر کا یہ عالم ہے کہ آسمان سے دو بوندیں برستی نہیں اور شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ ہوجاتی ہے، جس شدت سے طوفان و بارشیں اور طغیانی مغربی ممالک میں آتی ہیں اگر اس کی آدھی بھی شدت سے یہاںآجائیں تو نہ جانیں ایک دن میں کتنی ہلاکتیں ہوںاورایسی تباہی مچے کہ جس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ اسکے باوجود مغرب میں بسنے والی قومیں اس طرح کی قدرتی آفات کو سائنسی تناظر میں دیکھتے ہوئے انہیں گلوبل وارمنگ سے جوڑتی ہیں اور اس طرح کی آنے والی آفات کی پہلے سے ہی پیشگوئی کرکے حفاظتی اقدامات لے لیتی ہیں۔ نتیجتاً نقصان کافی کم ہوتا ہے۔

ہم شاید وہ واحد قوم ہیں جومغرب میں آنے والی قدرتی آفات کا شاید چوتھائی حصہ کا بھی سامنا نہیں کرتی لیکن پھر بھی اسے خدا کا عذاب قرار دے دیتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خدا کا بظاہر اتنا خوف رکھنے کے باوجود بھی ہم اپنے اعمال نہیں بدلتے ۔۔۔ بدلتے ہیں تو بس ہر رمضان میں اپنا رنگ۔ نمازوں پہ نمازیں، تلاوتوں پہ تلاوتیں، تراویحوں پہ تراویحاں۔۔۔اور پھر اچانک عید کے دن سب کچھ اس طرح رد کردینا گو یا کہ مہینے بھر کی سزا سے نجات پائی ہو۔

حالیہ دنوں میں کراچی نے سورج سوا نیزے پہ محسوس کیا۔ چار دنوں میں ایک ہزار کے لگ بھگ لوگ جا ںبحق ہوئے اور ہم نے اپنی قومی روایت کے مد نظر اسے خدا کا عذاب قرار دیا اور صبر شکر کر کے دوبارہ اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے۔

یہ ایک ہزار لوگ جو خدا کو پیارے ہوئے، وہ کون تھے؟ کیا یہ وہ لوئر مڈل کلاس طبقے کے لوگ تھے جو روزے کی حالت میں چلچلاتی دھوپ ، 45 ڈگری کی گرمی اور حبس میں فیکٹریوں اور آفیسز میں جانے اور پھر واپس گھر آنے کے لئے کراچی ٹرانسپورٹ کی ٹوٹی پھو ٹی منی بسوں کے انتظار میں گھنٹوں کھلے آسمان تلے کھڑے تھے، یا پھر وہ اشرافیہ اور ان کی اولادیں جو ائیرکنڈیشنڈ گاڑیوں میں بمعہ ڈرائیور اپنی مصروفیات کو نکلے تھے؟

کیا مرنے والی وہ بیگمات تھیں جو ائیر کنڈیشنڈ ماڈرن مالز میںمہنگے داموں فروخت ہونے والی چلرزمیں پڑی سبزیاں اور پھل خرید رہی تھیں یا کسی تپتی ہوگلی میں کسی سبزی کے ٹھیلے کو دھکیلتا ہوا وہ بوڑھا آدمی جس کے گھر میں شاید کوئی اور کمانے والا نہ تھا؟

کیا مرنے والا وہ وی آئی پی تھا جس کے لائٹیں مارتے پروٹوکول کی خاطر سڑکیں بلاک کی جاتی ہیں یا ٹریفک پولیس کا وہ کانسٹیبل جو دھوپ میں آٹھ گھنٹے کھڑا رہ کر ٹریفک کنٹرول کرتا ہے، یا پھر وہ مڈل کلاس بائیک والا جو بلاکڈ روڈ کے کھلنے کے انتظار میں آدھا گھنٹا دھوپ میں پکتا ہے؟

کیا مرنے والا وہ سیاستدان تھا جو اسمبلی کی عالیشان ٹھنڈ ی ٹھنڈی عمارت میں بیٹھا چیخ چلا اور چنگھاڑ کر اپنی پارٹی کے احسان کا بدلہ چکا رہا تھا یا پھر وہ مزدور جو شہر کے کسی کونے میں اسی طرح کی کوئی عالیشان اور بلند وبالا عمارت بنانے کے لئے اس سلگتی گرمی کی دوپہر میں محض اس لیئے اینٹیں اٹھا کر اپنا بدن جلا رہا تھا تاکہ بھوکے پیٹ کی جلتی آگ کو بجھا سکے؟

لاشوں کے اس انبار میں شاید ایک لاش بھی کسی ایسے شخص کی نہ تھی جو ایک عام آدمی نہ تھا۔

اگر یہ گرمی خدا کا عذاب تھی ، تو یہ عذاب پہلے ہی حکمرانوںکے دیئے ہوئے عذاب میں مبتلا لوگوں کے لیئے ہی کیوں تھا؟

کیا خدا کا عذاب بھی رتبہ، اسٹیٹس اور بینک بیلنس کا محتاج ہے؟ کیا وہ لوگ جو حکمراں ہیں، یا وہ اشرافیہ جو اس معاشرے کے برہمن ہیں، یا پھر وہ عالیٰ عہدوں پہ فائز سرکاری افسران، جنہوں نے اپنا پیٹ عوام کے مال سے بھرا اور پیاس عوام کے خون سے بجھائی ۔۔۔کیا ان لوگوں کی پاور ،پوزیشن ،رتبہ و مال انہیں عذاب پروف بنا دیتا ہے؟

نہیں۔۔۔یہ آگ برساتی گرمی خدا کا عذاب نہیں تھا۔۔۔یہ خدا کا امتحان تھا!

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ امتحان صرف انہی کے لیئے کیوں تھا جو اس گرمی کی وجہ جاں بحق ہوئے تو اسے اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔ یہ امتحان دراصل ان لوگوں کے لئے تھا جو ٹھنڈے ٹھار ایوانوں اور ائیرکنڈیشنڈ پناہ گاہوںمیں بیٹھ کر ایک عام آدمی کے ٹیکسزکی بجلی اڑاتے رہے لیکن عام آدمی چند ٹھنڈی سانسوں اورکسی اسپتال کی ایمرجنسی میں ایک بستر کی راہ دیکھتے دیکھتے مر گیا۔

یہ امتحان حکومت کے ان ذمہ داروں کا تھا جنہیں سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی کی سہولیات کو وسیع و جدید کرنا تو دور چند ایئرکنڈیشنرز لگوانے کا بھی کبھی خیال نہ آیا، اور یوں گرمی و حبس کے مارے مریضوں کو علاج کے لیئے دوبارہ گرمی و حبس کے ماحول میں لایا گیا۔

یہ امتحان انسانی گوشت کے ان بیوپاریوں کا تھا جنہوں نے محلات جیسے حسین اسپتال تو کھول رکھے تھے لیکن ایمرجنسیز کے دروازے ان غریب ، میلے اور لاوارث مریضوں کے لیئے بند کردیئے جن کے جسموں پہ میلے گرد آلود کپڑے تھے اور جیبیں خالی تھیں۔شاید انہیں ڈر تھا کہ ان کے جسموں سے آنے والے پسینے کی بو سے زیر علاج امراء و اشرافیہ مزید بیمار نہ پڑ جائیں۔۔۔شاید انہیں ڈر تھا کہ ان کے جسموں کے میلے کچیلے کپڑے ان کے اسپتال کے درودیوار میلے نہ کردیں۔۔۔یا پھر شاید انہوں نے ڈاکٹری سے زیادہ تجارت پڑھ رکھی تھی اور ان کے لیئے بزنس پہلے اور انسانی جان کی قدر بعدمیں تھی۔

یہ امتحان ان مفاد پرست منافع خوروں کے لیئے بھی تھاجنہوں نے اس قیامت خیز گرمی میں ان تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیں جنہیں عام حالات میں ایک غریب اور مڈل کلاس شخص افورڈ نہیں کرسکتا لیکن اس گرمی کے باعث وہ مرتا کیا نہ کرتا۔۔۔قرضہ لے کر بھی انہیں خریدنے نکل پڑا۔ جی ہاں میں بات کررہا ہوں ائیر کنڈیشنرز، ائیر کولرز، فرج، پنکھوں ،یو پی ایس اور جنریٹرز وغیرہ کی۔یقیناً ان لوگوں کو یا تو خدا کا خوف نہیں یا شاید خدا کے وجود پہ ہی شک ہے۔ یہ وہ بے شرم لوگ ہیں جن کا قرآن محض طلب و رسد کا معاشی اصول ہے اور اس سے آگے کچھ سوچنا ان کے لئے بدعت ہے۔

یہ امتحان ان نااہل افسران کا تھا جنہیں یہ پتہ تھا کہ گرمی کی اسی لہر نے گجرات میں دو ہزار لوگوں کی جان لی ہے اور اب یہ لہر سندھ کا رخ کرنے والی ہے، لیکن لوگوں کو کسی قسم کی آگاہی نہ دی گئی اورحفاظتی اقدامات لینا تو گویا کوئی گناہ کبیرہ کرنے کے مترادف ہے۔

سخت گرمی اور حبس ہو اور ایسے میں لوڈ شیڈنگ نہ ہو۔۔۔ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔ پاکستانیوں کے لیئے تو یہ part and parcel ہے۔ جون کے اس مہینے میں ’کے الیکٹرک‘ جہاں زائد یونٹس کی مد میںوصولیاں کرنے میںپھرتیا ں دکھا رہا ہے تاکہ مالی سال میں منافع دکھایا جاسکے۔۔۔کاش کہ اس کی ترجیح پہلے بجلی کے انفراسٹرکچر کو ٹھیک کرنے اور مزید بجلی پیدا کرنے پر ہوتی ۔ یہ وہ مقصد تھا جس کی وجہ سے اس ادارے کی نجکاری کی گئی تھی۔بے شک کئی بزرگ اسپتالوں کی ایمرجنسیز کے دروازوں کے باہر گہری گہری سانسیں لیتے ہوئے مر گئے لیکن انہیں اس حالت تک پہنچانے کی ذمہ دار’کے الیکٹرک‘ کی طرف سے کی جانے والی لوڈ شیڈنگ کی سزا تھی۔

یہ امتحان ان لوگوں کا بھی تھا جن کے اندر کا احساس اس حد تک مر چکا تھا کہ انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں اموات کو پیسے کمانے کاایک سنہری موقع جانا اور قبروں کی قیمتیں دوگنی کردیں۔ یوں غریبوں کے جنازے بھی رل گئے۔ کیا یہ لوگ بھول گئے کہ انہیں اسی قبر میں جانا ہے۔ آج تم پیسوں کے عوض مہنگے داموں قبریں فروخت کر رہے ہو، کیا تمہیں معلوم ہے کہ کل تمہیں یا تمہاری اولادوں کو قبر نصیب ہوتی بھی ہے یا نہیں۔ بچپن میں ہم سپر مین اور اسپائیڈر مین کے کارٹونز دیکھا کرتے تھے۔۔۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پورے شہر کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی تھی اور پولیس اور ادارے صرف یونیفارم پہننے کے لیئے رہ گئے تھے۔۔۔شاید ہم لوگوں کے ذہن اسی فریم آف مائنڈ میں آج بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ آج ہم عبدلستار عیدھی کو سپر مین مانتے ہوئے خود کچھ بھی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان چار پانچ دنوں میں اگر ایک ایدھی کا سرد خانہ نہ ہوتا تو سڑتی گلتی لاشیں بے شک گلی کوچوں اور اسپتالوں کے باہر یوں پڑی ہوتیں جیسے یہ کراچی نہیں صومالیہ کا شہر موگادیشو ہو۔

اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے گا، ان کا امتحان لے گا۔۔۔کسی کو درد، غم ،تکالیف و غربت دے کر اور کسی کو اختیار ، حکمرانی اور مال و دولت دے کر۔

یقین جانئے یہ گرمی خدا کا امتحان تھی۔۔۔عذاب آنا ابھی باقی ہے۔

twitter@aircraft_guy

[email protected]  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 ) احباب کو بھیجئے
انسدادمنشیات اور ہماری ذمہ داریاں
سن اسٹروک اور احتیاطی تدابیر
سائبر کرائم، انسانیت کیخلاف سنگین جرائم
انصاف ہی تحریک انصاف میں لاچار
پاکستان سری لنکا ٹیسٹ کرکٹ
 
انصاف ہی تحریک انصاف میں لاچار
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 11 )
قصہ ایک معصوم کبوتر کا‎
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 8 )
بھارتی فوج نے مودی کو’ماموں‘بنایا؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
ٹریفک حادثات کا سبب صرف ایک ہی ہے؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 7 )
آپریشن ضرب عضب کا ایک سال
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 6 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  انسدادمنشیات اور ہماری ذمہ داریاں   
...... جویریہ صدیق......‎
26 جون کو انسداد منشیات اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد منشیات کے انسانی زندگی پر مضر اثرات کے بارے میں آگاہی دینا ہے۔دنیا بھر میں کروڑوں افراد منشیات کے عادی ہیں،ہیروئن، شراب، حشیش ،افیون ،مورفن، گانجا ،بھنگ
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (3)

 

  سن اسٹروک اور احتیاطی تدابیر   
.....جویریہ صدیق......
پاکستان میں اس وقت گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سن اسٹروک کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔کراچی میں حالیہ گرمی کی لہر کے باعث دو سو سے زائد افراد سن اسٹروک کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔سن اسٹروک سورج کی شعائوں اور گرمی
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (2)

 

  سائبر کرائم، انسانیت کیخلاف سنگین جرائم   
.....سید عارف مصطفیٰ.....
اگر آپ فیس بک پہ کسی پرنسس لیلیٰ یا پرنسس ارمانہ کے اکاؤنٹ کی پروفائل پکچر کے طور پہ کسی نہایت خوبصورت لڑکی کی تصویر دیکھیں تو للچانے سے باز رہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ وہ کوئی رشیدہ یا رخسانہ ہو اور اپنی ماں میڈم برکتے یا
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (3)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy