لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
کیا نفاذ اردو کیلئے تیاریاں مکمل ہیں
.....سید عارف مصطفیٰ.....
لگتا ہے کہ وطن عزیز کی تاریخ ایک خوشگوار موڑ مڑنے کو ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں قومی زبان تحریک کے وکیل کوکب اقبال کی جانب سے اردو کو سرکاری زبان قرار دلوانے کیلئے جو مقدمہ 2003 ء میںدائر کیا گیا تھا اب کئی برس بعد اسکی کھوئی ہوئی فائل بازیاب ہونے کے بعد اس کیس کی سماعت تیزی سے جاری ہے اور وہاں سے ججز کے جو ریمارکس سامنے آرہے ہیں وہ بہت حوصلہ افزاء ہیں ، کیونکہ پوری بینچ نےاس اہم آئینی تقاضے کی طویل خلاف ورزی کا سخت نوٹس لیا ہے اور حکومت سے اس بارے میں کڑی بازپرس کی ہے کہ جسکا حکومت تاحال کوئی جواب نہیں دے سکی ہے، تاہم اب سرکار کی جانب سے اردو زبان کو اسکا آئینی مقام دینے کے اہم تقاضے کی مزاحمت بھی معدوم ہوتی نظر آرہی ہے اور چند کمتر درجے کے اقدامات کا تو اعلان بھی کردیا گیا ہے ، جن میں پاسپورٹ ، شناختی کارڈ اور ڈومیسائل وغیرہ سے متعلق سرکاری فارموں کی طباعت اردو میں کرانے کا عندیہ دیدیا گیا ہے، نیز آئندہ سے عوامی مقامات اور سرکاری دفاتر میں اہم ہدایاتی بورڈ اردو میں لکھے جانے کی بابت بھی اعلان کردیا گیا ہے ، تا ہم عدالت عظمیٰ نے ان اقدامات کو مطلوبہ سے بہت کم قرار دیا ہے۔

ادھر سپریم کورٹ میں اردو زبان کے تشخص کی جنگ جاری ہے تو دوسری طرف عوامی سطح پہ بھی مختلف نوعیت کے سوالات اٹھتے سنے جارہے ہیں جن میں اہم تر یہ ہیں کہ کیا حکومت نے متعلقہ ادروں نے اردو کے نفاذ کیلئے درکار سب تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور کیا اردو میں پروفیشنل تعلیم کیلئے میدان ہموار کرلیا گیا ہے، تمام اصطلاحات کے ترجمے اور ضروری متبادل الفاظ پہ سب کام کی تکمیل ہوگئی ہے ، خصوصاً طلباء اور انکے سرپرستوں کی جانب سے اس ضمن میں بہت تشویش دیکھنے میں آرہی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر سپریم کورٹ نفاذ اردو کے حق میں فیصلہ دے بھی دے تب بھی متعلقہ اداروں کی کوتاہی سے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوپائے اور انکے بچوں کی تعلیم اس غفلت کی سزا پاجائے ۔ ایک اور خدشہ جو اسی مسئلے سے جڑا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ کیا اردو میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستانی طلباء کا بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کا معاملہ کھٹائی میں تو نہیں پڑ جائے گا اور انگریزی سے عدم واقفیت انکے پیروں کی زنجیر تو نہیں بن جائے گی۔

عوامی تشویش کے مذکورہ بالا یہ امور ایسے ہیں کہ جن پہ فوری بلکہ ہنگامی بنیادوں پہ کام کیا جانا چاہئے اور حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس جانب اپنی توانائیاں مرکوز کرلینی چاہئیں کیونکہ اب کوئی بھی غفلت ہماری قوم کو مایوسی کی گہرائی کھائی میں دھکیل سکتی ہے۔ ادھر حکومت کو بھی فروغ اردو اور نفاذ اردو کی ضمن میں ایسے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں کہ جو واقعی دور رس نتائج کے حامل ہوں ، محض لیپا پوتی پہ مبنی نہ ہوں۔ اس ضمن میں جو بڑا اقدام حکومت اپنے طور پہ بلاتردد اٹھا سکتی ہے وہ ہے فوری طور پہ مقابلے کے امتحانات اردو میں لئے جانے کا فیصلہ جو نہایت سود مند ثابت ہوگا ، اس سے ایک بڑی بلکہ بہت بڑی و حقیقی تبدیلی رونما ہوگی کہ یہاں انگریزی کے راج کا خاتمہ ہوجائیگا اورکئی عشروں سے قائم طبقاتی نظام تہس نہس ہوکر رہ جائیگا اور باتھ آئی لینڈ اور لائنز ایریا کے درمیان کی سماجی خلیج کو کافی حد تک پاٹا جاسکے گا ، پھر ایچیسن کالج اور گوالمنڈی کے کسی کالج کے طلباء کے مابین یکساں نصاب ہونے کی وجہ سے احساس کمتری کو معدوم کرنے میں بہت مدد مل سکے گی اور یوں نفاذ اردو کا عمل ہماری قومی امنگوں کے خاکے میں اصلی اور مطلوبہ رنگ بھرنے میں بہت ممد و معاون ثابت ہوگا۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 ) احباب کو بھیجئے
سحرافشاں شہید تمغہ شجاعت
ارکان اسمبلی غیر حاضر جناب‎
پاک بھارت مذاکرات پھر معطل
ماں کا دودھ بچے کیلئےمکمل غذا
ہری پوروالوں نے بھی ہری جھنڈی دکھادی
 
چنگ چی رکشوں کی بندش اوربےروزگاری
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 25 )
ہری پوروالوں نے بھی ہری جھنڈی دکھادی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 19 )
قصورکے بچوں کو انصاف دو۔۔
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 17 )
قصور اسکینڈل: معاملہ دبنا نہیں چاہئے!
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 16 )
مک مکا کی سیاست
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 10 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  سحرافشاں شہید تمغہ شجاعت   
.....جویریہ صدیق.....
16 دسمبر 2014 کو پشاور آرمی پبلک اسکول پشاور میں اپنے شاگردوں کے ساتھ اردو کی استاد سحر افشاں نے بھی جام شہادت نوش کیا،سحر افشاں سانحہ پشاور کے ان پہلے شہیدوں میں تھیں جنہیں دہشتگردوں نے نشانہ بنایا،ان کے غازی شاگرد کہتے ہیں ہماری بہادر میڈیم نے دہشتگردوں
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (4)

 

  ارکان اسمبلی غیر حاضر جناب‎   
.....جویریہ صدیق.....
الیکشن میں تو سیاستدان بلند و بالا دعوے کرتے ہیں کہ اگر ہم عوام کے ووٹوں سے جیت گئے تو تبدیلی لائیں گے،پر الیکشن جیتنے کے بعد عوام کے لیے تو نہیں اپنے لیے سیاستدان کافی تبدیلیاں لئے آتے ہیں،سیکڑوں گاڑیوں کا پروٹوکول، روزانہ سرکاری اور سفارتی تقریبات
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (3)

 

  پاک بھارت مذاکرات پھر معطل   
......عاقب علی......
بھارتی وزیر خارجہ کی گفتگو سے لگتا ہے کہ سشما سوراج کسی اور ہی دنیا میں رہتی ہیں اور بھارت بھی پاکستان،نیپال،بھوٹان اور سری لنکا اور چین کا پڑوسی ہونے کے بجائے مریخ پر واقع ملک ہے۔امریکا سمیت پوری دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (5)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy