لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
۔۔۔ اور گولی چل گئی !
... سید عارف مصطفیٰ .... پی آئی کی نجکاری کا معاملہ ایک خونی تصادم میں بدل گیا یوں یہ معاملہ ایک حد درجہ گھمبیر رخ اختیار کرگیا ہے،،، گو حکومت کی طرف سے چھ ماہ تک ایسا کچھ نہ کرنے اورکسی ملازم کو نہ نکالنے کی یقین دہانیاں کروائیں گئیں تھیں اور بعد میں بھی ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے عزم کی تکرار کی گئی تھی تاہم نجانے کیوں چند حلقے اسے ایک بڑے تصادم میں بدلنے پہ کمر بستہ ہوگئے ،،، اور حکومت اس صورتحال سے نپٹنے میں بری طرح سے ناکام ہوگئی ،، گو آغاز برا نہ تھا اور صورتحال کافی حد تک قابو میں تھی لیکن پھر اچانک ایسا کچھ ہوگیا کہ سب منظر نامہ ہی بدل گیا اور گولی لگنے سے ہونے والی دو انسانی ہلاکتوں سے اس ناکام ہوتے احتجاج میں بھرپور جان پڑگئی-

رینجرز نے یہ پرزور انداز میں تردید کی ہے کہ اسنے کوئی بھی گولی چلائی ہے اور وہ ان ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے اور اس واقعے کی پوری فوٹیج جاری کردی ہے اورچیلنج کیا ہے کہ اس میں کہیں یہ نظر نہیں آرہا ہے گولی مجمع کے باہر سے چلی ہے بلکہ درحقیقت یہ گولیاں مجمع کے اند سے چلائی گئیں ہیں اور اسی فوٹیج میں ایک مشتبہ سے شخص کو بھی دکھایا گیا ہے کہ جو منہ پہ نقاب پہنے ہوئے ہے - واقعے کی فوٹیج بغور دیکھنے اور دیگر شواہد کی جانچ کرنے کے بعد بہت سے لوگوں کا بھی یہی خیال ہے کہ پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین پہ رینجرز یا پولیس نے گولی نہیں چلائی بلکہ صبح ہی سے جب ہڑتال اور تالا بندی ناکام ہوچکی تھی اور 40پروازیں بھی روانہ ہوچکی تھیں تو پھر گھبراہٹ حکومت کی صفوں میں نہیں تھی کہ وہ یوں اپنے پیروں پہ از خود کلہاڑا چلادیتی ،،، ہڑتال ناکام ہوتے دیکھ کر بالآخر مایوس عناصر نے انسانی لہوکے تیل سے ہڑتال کی چنگاریوں کو الاؤ میں بدل ڈالا اور حکومت منہ دیکھتی رہ گئی ۔۔۔ اکثر پاکستانی حکومتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی پیچیدہ صورتحال کو بروقت اور صحیح طرح سے حل کرنے سے قاصر رہتی ہیں اور اسے اپنی نالائقی یا غفلت یا بدعنوانی سے اتنا پیچیدہ بنادیتی ہیں کہ وہ مسئلہ گھمبیر تر ہوجاتا ہے پی آئی کا بھی یہی مسئلہ ہے ۔۔۔۔

یہ ادارہ 1960 اور 1970 کی دہائی میں اپنی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے اک قابل فخر مثال تھا لیکن اقرباء پروری اور سیاسی بھرتیوں نے اس ادارے کو برباد کر ڈالا اب صورتحال یہ ہے کہ یہاں

صرف 38 طیارے باقی رہ گئے ہیں کہ جن میں سے صرف 20 ہی استعمال کےقابل ہیں اور باقی طیارے ہینگروں میں پر نُچی زخمی چیل کی طرح کھڑے ہیں اور یہ طے ہے کہ ان 20 طیاروں پہ ہی سارا ادارہ ہرگز نہیں پالا جاسکتا کیونکہ پندرہ ہزار مستقل اور ساڑھے تین ہزار کنٹریکٹ ملازمین کو پالنے اور ادارے کو منفعت بخش بنانے کیلیئے کم ازکم 120 طیارے لازمی طور پہ مصروف عمل ہونا چاہیئیں - دنیا بھر میں ایک جہاز پر اوسطاً سو سوا سو ملازمین کا تناسب ہوتا ہے سری لنکن ایئر لائنز میں تو یہ تناسب صرف 33 افراد فی طیارہ جیسی عمدہ سطح پہ ہے جبکہ اس حوالے سے بدترین تناسب میں ہمارا نمبر شام کے بعد ہے جو کہ پکے ملازمین کے اور تمام طیاروں کے اعتبار سے 391 کے لگ بھگ ہے جبکہ قابل پروزاور تمام عملے کو نظر میں رکھا جائے تو یہ تناسب اس سے تقریباً دوگنا ہے اور اس بدترین نسبت کے ساتھ کوئی ایئرلائن چل ہی نہیں سکتی.

پی آئی اے کی اس دگرگوں صورتحال کی ایک بہت بڑی وجہ گزشتہ چند برسوں میں حکومتی سطح پہ اوپن اکائی پالیسی اختیار کرنا بھی ہے جسکے تحت اپنے منافع بخش روٹس کی ایک بڑی تعداد پہ دیگر ایئرلائنز کو بھی

پروازوں و بزنس کی اجازت دیدی گئی اور یوں پی آئی مزید خسارے کا شکار ہوگئی - اب پی آئی اے کی بہتری و بحالی جبتک ممکن نہیں کہ جب تک یہ پالیسی ترک نہ کردی جائے اور جہازوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہ کردیا جائے ،،، لیکن لگتا یوں ہے کہ چند لوگوں کی ساری دلچسپی اسی بات میں ہے کہ کیسے بھی ہو و برس قبل آئی ایم ایف سے کیئے گئے وعدے کو پورا کردیا جائے اور نجکاری کے ذریعے پی آئی اے سے جان چھڑالی جائے ۔۔۔ اب ایک نیا شوشا یہ چھوڑا گیا ہے کہ 120 دنوں میں نئی ایرلائن بناڈالی جائےگی گویا ادارے بننا بھی گڈے گڑیا کا کھیل ہوگیا ۔۔۔ بجائے نئے تجربے کے، مناسب یہی ہے کہ پہلے سے موجود ادارے کو بہتری طرف لایا جائے اور دوسری طرف ہڑتالیوں کو بھی اپنی ضدوں پہ نظر ثانی کرکے مذاکرات کی راہ اپنانی چاہیئے ورنہ سازشی عناصر اس صورتحال کو مزید خراب کرسکتے ہیں کیونکہ انکے ہاتھوں گولیاں چلا کر دو دو افراد کی جانیں تو پہلے ہی لی جاچکی ہیں اور اگر یہ کشمکش یونہی جاری رہی تو ایسے گھناؤنے عناصر کو اپنا مذموم کھیل کھیلنے اور خون آشامی کرنے کا مزید موقع مل سکتا ہے

 
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 0 ) احباب کو بھیجئے
سوشل میڈیا ہوچکا ہے بے اثر؟
زکا وائرس
تیل گرتا ہے گرانی نہیں گرنے پاتی
دُھند میں گاڑی کیسے چلائیں
فیصلہ تو اچھا ہے
 
تحسین ہونی چاہیے ۔۔۔ !
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 2 )
فیصلہ تو اچھا ہے
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 2 )
پاکستانی قیادت کا امن مشن
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 )
سعودی ایران ثالثی کا معاملہ
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 )
نمونیا ایک خطرناک بیماری
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 1 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  سوشل میڈیا ہوچکا ہے بے اثر؟   
.......سیدشاہ زیب علی.......
جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو بے خبری کے اندھیرے سے باہر نکال کر آگاہی کی روشنی میں پہنچادیا ہے۔ یاد کیجئے جب اینڈرائڈ موبائل لوگوں کے پاس نہیں تھے اور ان کے پاس خبروں کا صرف ایک واحدذریعہ میڈیا تھا اس وقت کیا کسی نے سوچا تھا کہ
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  زکا وائرس   
... جویریہ صدیق ... زکا وائرس اڈیس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔یہ وہی مچھر ہے جس کے باعث ڈینگی بخار اور زرد بخار پھیلتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے مطابق 1947 میں پہلی بار یوگنڈا میں اس کا پہلا کیس سامنے آیا۔حال ہی میں برازیل میں اس کی
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  تیل گرتا ہے گرانی نہیں گرنے پاتی   
۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ تیل پیدا کرنے والے ملک لرز اٹھے ہیں انکی معیشتیں کانپ رہی ہیں کیونکہ انکا سیال سونا یعنی تیل تیزی سے اپنی قدرو قیمت کھوتا جا رہا ہے کبھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر بِکنے والا تیل اب 30 ڈالر میں دستیاب ہے
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy