لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
بڑی بڑی عمارتیں بناتے ، لمبی لمبی گاڑیوں میں گھومتے انسان یہ تو بھول ہی گئے تھے کہ جس فضا میں سانس لئے رہے ہیں اس کو کتنا آلودہ کررہے ہیں ۔ہوا کچھ یوں نئی دہلی اور لاہور کے لوگ جب ایک صبح اٹھے تو دیکھا دھند چھائی ہوئی۔سب سمجھے کہ چلو آخر کار نومبر میں سردی آہی گئ۔خوشی خوشی باہر نکلے تو دھند کچھ عجیب تھی آنکھیں جلنےلگی اورگلےمیں خراش ارے یہ کیا ہوا یہ دھند تو نہیں کچھ اور ہے ۔اس دن شاید دونوں ممالک کے لوگوں کے احساس ہوا ۔ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ نفرت میں شاید مدر نیچر کو بھی نہیں بخشا ۔

جنگیں میزائل گولا بارود تو ایک طرف ہم تو ایک دوسرے کے لئے زہریلی فضا بھی قائم کررہے ہیں تاکہ ہماری موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلیں کھل کر جی بھی نا سکیں نا سانس لئے سکیں ۔لوگوں نے کہا دیکھو جی بھارت نے یہ زہریلی گیس پاکستان پر چھوڑی ارے تو بھائی کیا انہوں نے گیس اپنے دارالحکومت نئی دہلئ پر بھی خود چھوڑ دی ۔ایسا کچھ نہیں ہے دونوں ممالک میں ماحول دوست سرگرمیاں نا ہونے کے برابر ہیں اس لئے اب صورتحال کچھ ہے کہ نیچر کا از خود رپئیر کا سسٹم بھی اب کچھ تھک گیا ہے جس کی وجہ سے سموگ نے دہلی اور لاہور کو لپیٹ میں لئے لیا ۔

بہت سے لوگ سموگ سے واقف نہیں ہیں تو ان کے لئے بتاتی چلوں یہ ایک ایسی دھند ہے جو آلودگی کے باعث جنم لیتی ہے۔جس میں سلفئر اوکسایڈ، نائٹروجن آکسائیڈ،سی ایف سی گیسز، کوئلے کا دھواں، صنعتی دھواں ،ٹریفک کا دھواں، مٹی کے زرات اور آگ شامل ہے۔ پاکستان اور بھارت میں فصلوں کی کٹائی کے بعد جڑوں کو آگ لگانے سے بھی سموگ پیدا ہوتی ہے۔اس کے ساتھ دیوالی کے موقع پر ہونے والی آتش بازی بھی اس کے پھیلاو کا سبب ہے۔اس کے باعث سڑکوں پر وزیبلیٹی یا حد نگاہ بہت کم ہوجاتی ہے۔

اس کے اثرات بہت مضر ہوتے ہیں ۔ سموگ بچوں بڑوں تمام کی صحت پر منفی اثرات چھوڑتی ہے ۔سب زیادہ اثر پھیپھڑوں، گلے دل اور آنکھوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔سموگ کے باعث لاہور اور نئی دہلی دونوں میں لوگ بڑی تعداد میں ناک کان آنکھوں اور گلے کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔جن میں سانس لینے میں دشواری ،آنکھوں میں جلن عام ہے۔

دنیا کے بڑے شہر بیجنگ دہلی میکسیکو اسکا شکار ہوئے اور اب لاہور بھی اس کی زد میں ہے۔سموگ کے باعث ٹریفک حادثات میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

لاہورمیں ایک عرصہ دراز سے تعمیراتی منصوبوں پر کام ہورہا ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ درختوں کو کاٹ دیا گیا ۔جس کے باعث آلودگی کی شرح میں اضافہ ہوا ۔لاہور شہر میں بہت سی صنعتیں غیر قانونی طور پر کام کررہی ہیں وہ بھی آلودگی کا بڑا سبب ہیں ۔اس کے ساتھ عوام کا بھی عمومی رویہ کچھ اس طرح کا ہے جس کی وجہ سے آلودگی بڑھ رہی ہے ۔کچرا سڑکوں پر پھینک دیا، صاف پانی میں فضلہ شامل کردیا،کیمیکلز کا استعمال، گاڑیوں کی ٹیونگ نا کروانا وغیرہ شامل ہے۔

سموگ سے کچھ احتیاط کرکے بچا جاسکتا ہے جس وقت محکمہ موسمیات کی طرف سے یہ وارنگ جاری کی جائے کہ سموگ ہونے کا امکان ہے تو گھر سے نکلنے سے پرہیز کریں اگر باہر جانا ہو تو منہ ڈھانپ کر نکلیں ۔آنکھوں پر چشمہ لگائیں بہت دھند میں گاڑی چلانے سے پرہیز کریں۔لیکن یہ عارضی احتیاطی تدابیر ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرہ سر پر کھڑا ہے لیکن نا ہی پاکستان نا ہی انڈیا دونوں کی توجہ اس پر نہیں ۔ ۔کیوں نا دہلی سرکار اور لاہور کے درمیان ایک مقابلہ ہوجائے درخت لگانے کا کون زیادہ درخت لگائے گا۔

عوام صرف ماحول دوست سرگرمیاں کرکے ہی ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرسکتے ہیں۔پودے لگائے جائیں،جنگلات کی کٹائی کو روکا جائے ،شمسی توانائی کو عام کیا جائے ،پانی کو آلودہ نا کیا جائے ۔غیر ضروری طور پر اگ نالگائی جائے ۔سی ایف سی اور وی او سی جن اشیاء میں شامل ہو ان کے استعمال سے گریز کریں ۔گاڑی کی ٹیونگ کرائیں اور قریب میں کہیں جاتے ہوئے سائیکل یا واک کرنے کو ترجیح کریں ۔تمباکو نوشی سے پرہیز کریں ۔اسلام آباد اور لاہور میں بہت سے تعمیراتی منصوبے جاری ہیں اس لئے حکومت پر یہ خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان منصوبوں کے ساتھ پلانٹیشن کریں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی آئے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Twitter @javerias



 
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 0 ) احباب کو بھیجئے
ترک صدر کے سامنے بھی تماشا
کیا علامہ اقبال کو'اقبال سیالکوٹی' تک محدود کیا جارہا ہے ،،؟
کوئٹہ کا سانحہ کئی سوال چھوڑ گیا
کچھ بھی کہ دینا اس قدر آسان بھی کیوں ہو۔۔۔
عمران خان نے قومی اتفاق رائے کا ایک اہم موقع ضائع کردیا
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  ترک صدر کے سامنے بھی تماشا   
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ نہیں معلوم کہ عمران خان نے یہ کیوں ٹھان رکھی ہے کہ وہ ہر قیمت پہ سب سے منفرد نظر آئیں گے چاہے انکے اس شوق کی قیمت کچھ ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔ اب یہ پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  ترک صدر کے سامنے بھی تماشا   
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ نہیں معلوم کہ عمران خان نے یہ کیوں ٹھان رکھی ہے کہ وہ ہر قیمت پہ سب سے منفرد نظر آئیں گے چاہے انکے اس شوق کی قیمت کچھ ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔ اب یہ پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

  کیا علامہ اقبال کو'اقبال سیالکوٹی' تک محدود کیا جارہا ہے ،،؟   
سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ ایک مسئلہ تو بد قسمتی سے یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بہت بڑی شخصیت سمجھے جانے کا پیمانہ یہ ہے کہ آیا اسکی تاریخ پیدائش یا تاریخ وفات پہ قوم تعطیل منا پاتی ہے یا نہیں ،،، اور دوسرا معاملہ یہ بھی ہے کہ ترقی
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (0)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy