لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 
Disclamier


Disclamier
کیا بہترعلاج صرف امیروں کا ہی مقدرہے
.....سید عارف مصطفیٰ ......
پاکستان میں یوں تو متعدد شعبے زوال اور انحطاط کا شکار ہیںلیکن ان میںصحت کا شعبہ سب سے نمایاں ہے۔ اس میں تو جہاں نظر دوڑائیں بدعنوانی کا آسیب ہرجگہ اپنے پنجے گاڑے ملے گا، جبکہ اس شعبے کا سارے کا سارا براہ راست تعلق ہی انسانی زندگی اور صحت کو بچانے سے ہے ابھی تھر ہی کی تازہ مثال لیں کہ جہاں ابھی تک بروقت طبی امداد نہ ملنے سے مختف امراض کا شکار ہونے والے 93 بچے ہلاک ہوچکے ہیں ، یہ خطہ خشک سالی کے باعث بہت سے طبی مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے، مستزاد یہ کہ یہاں کے اسپتال نہ صرف تعداد میں بےحد کم ہیں بلکہ یہاں پر نہ تو مناسب مقدار میں دوائیں ہیں اور نہ ہی ماہر ڈاکٹر اور طبی عملہ درکار تعداد میں میسر ہیںلیکن صرف تھر ہی کی کیا بات کریں ، ملک کے بیشتر دورافتادہ دیہی علاقوں کی یہی صورتحال ہے ، اور اب تو دیہات کا رونا روتے روتے خرابی کی نوبت شہروں تک کبھی کی آن پہنچی ہے، ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی مثال کو ہی لے لیجئے کہ جہاں سرکاری اسپتال موت کی تقسیم کے مراکز سمجھے جانے لگے ہیں کیونکہ یہاں پر کرپشن کے باعث علاج معالجے کی صورتحال حددرجہ ابتر ہے۔
کراچی شہر کے چھوٹے سرکاری اسپتالوں کو تو چھوڑیئے ، بڑے اسپتالوں جیسے جناح ، سول اور عباسی شہید اسپتال میں بھی صحت کی بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے، عام دوائیں ملنا تو دور کی بات انتہائی خطرے میں جان بچانے والی ادویات بھی اب یہاں ناپید ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ قبل راقم کو اپنے ایک بچے کے کسی مسئلے میں عباسی شہید اسپتال جانا پڑا تو وہاں طبی جانچ کی اہم اور ناگزیر سہولتوں کو بھی ندارد پایا ، ایسی زیادہ تر مشینیں معمولی معمولی خرابیوں کے باعث ناکارہ ہوئی پڑی ہیں اور انکی بندش کی وجہ سے باہر آس پاس موجود لیبارٹریز اور ایکسرے سینٹروں کا کام خوب زوروں پہ چل رہا ہے اور وہ اس اسپتال سے نامراد لوٹنے والوں کی جیبیں صاف کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں، مجھے اس ضمن میں مزید تحقیق کی جستجو ہوئی اور وہاں موجود کئی ڈاکٹروں اور طبی عملے کے چند ارکان سے بات کی تو یہ افسوسناک حقیقت بھی سامنے آئی کہ بجٹ میں منظور کی گئی رقم کو مختلف حیلوں بہانوں سے روکا جاتا رہنا معمول کی بات ہے حتیٰ کہ اب غیرمستقل ڈاکٹروں تک کو بھی کئی کئی ماہ کے بعد ہی تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوپاتی ہے، جب مجھے ایک لیڈی ڈاکٹر خاتون یہ بات بتارہی تھیں تو انکی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے تھے، کیونکہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کی پرورش کی مصروفیت کی وجہ سے شام کوپرائیوٹ پریکٹس بھی نہیں کرسکتی تھیں۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر طبی سہولتوں کی فراہمی کے سلسے میں کیا حکومتی سطح پہ واقعی فنڈز کی کمی ہی کا مسئلہ ہے یا اسکی کچھ اور بھی وجوہات ہیں۔ تو واضح طور پہ یہ چند وجوہات ابھر کر سامنے آتی ہیں۔
1- ملک کی موجودہ آبادی کے لحاظ سے ہر بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیئے مختص کردہ رقم ضرورت سے خاصی کم ہی رکھی جاتی ہے۔
2- خواہ مرکزی حکومت ہو یا صوبائی ، صحت کےلیئے رکھی گئی رقوم کا خاطر خواہ حصہ امیرکبیر ارکان اسمبلی اور سول بیورو کریسی و اشرافیہ پہ لٹادیا جاتا ہے یعنی وہ لوگ جو زرو جواہر میں کھیلتے ہیں وہ اس غریب قوم کے فنڈز کو بیرون ملک اپنے مہنگے مہنگے علاج معالجے پہ صرف کروانے میں ذرا بھی تردد نہیں کرتے اور اکثر ایک ہی وی آئی پی بندے کے علاج پہ کسی پورے محلے کے سال بھر کے طبی مصارف سے بھی زیادہ ہی اخراجات اٹھتے ہیں۔ یہ وی آئی پی لوگ ذرا ذراسی بیماری پہ بھی باہرجاکر ہی علاج کروانا پسند کرتے ہیں۔
3- صحت کے شعبے کیلئے مختص رقوم کے شفاف استعمال کے راستے قطعی مسدود ہیں اور متعلقہ وزیر اور اسکی وزارت کے بااختیار افسران اس ضمن میں مختار کل ہیں اور جو سیاہ و سفید کریں ، انکا ہاتھ پکڑنے کیلئے کوئی موثر احتسابی نظام روبہ عمل نہیں لایا جاسکا ہے۔
4- صحت کا شعبہ عمومی طور پہ چند بڑے اور روایتی ٹھیکیداروں کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، یہ لوگ متعلقہ سرکاری مشینری کو اپنی مٹھی میں لئے ہوئے ہیں۔ انہیں نوکر شاہی اور سیاسی جماعتوں کی سرپرستی بھی میسر ہے لہٰذہ جعلی اعدادوشمار کے تحت انکی بہت سی سپلائز تو صرف کاغذوں ہی کی حد تک محدود رہتی ہیں اور جو سپلائز کی بھی جاتی ہیں ان میں سے اکثر غیرمعیاری اور غیرمطلوب ہوتی ہیں۔ اور بہت سی سپلائیز کو بالا ہی بالا باہر واقع میڈیکل اسٹورز پہ فروخت کیلئے پہنچادیا جاتا ہے۔
5- متعدد سرکاری اسپتالوں میں طبی عملہ درکار تعداد سے کم نہیں ہوتا لیکن چونکہ سیاسی پشت پناہی یا رشوت کےبل پہ بھرتی کیا جاتا ہے چنانچہ انہیں خراب کارکردگی پہ کسی حقیقی تادیبی کارروائی کا خوف ہی نہیں ہوتا لہٰذہ وہ اکثر و وبیشتر اپنی ڈیوٹی سے غائب رہتے ہیں اور مریضوں کے لواحقین انہیں ڈھونڈھتے پھرتے رہتے ہیں۔ چھوٹے شہروں اور قصبات میں تو یہ رجحان نہایت کثرت سے ہے اور طبی عملے کے متعدد ارکان بڑے شہروں میں رہتے ہیں اور چھوٹے علاقوں میں جانا اپنی کسرشان سمجھتے ہیں، اور گھر بیٹھےصرف تنخواہ وصولنے سے سروکار رکھتے ہیں اور نجی اسپتالوں اضافی نوکری کرتے ہیں۔
درج بالا وجوہات ہمارے ملک میں صحت کے شعبے کے انحطاط کی بڑی ذمہ دار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب سرکاری اسپتالوں کی زبوں حالی نے عام شہری کا اعتماد اس جانب تقریباً ختم کرکے رکھ دیا ہے اور جو ذرا بھی افورڈ کرسکتا ہے وہ ادھر کا رخ ہی نہیں کرتا، اس گھمبیرتا نے نجی بنیادوں پہ کھلنے والے اسپتالوں اور طبی مراکز کی چاندی کردی ہے اور اب صحت کے شعبے کا بوجھ بڑی حد تک نجی شعبے نے اٹھایا ہوا ہے ۔ عوام کی بے بسی اور اپنی اہمیت کے پیش نظر ان نجی اسپتالوں کی بڑی تعداد عوام سے’لوٹ مار‘ کرنے کے مراکز میں تبدیل ہوچکی ہے اور انکا ہاتھ روکنے اور گردن پکڑنے والا کوئی نہیں، کچھ اسپتال تو ایسے ہیں کہ کسی معمولی سی ناسازی طبع پہ بھی مریض کے درجنوں طرح کے ٹیسٹ کروانا لازم سمجھتے ہیں۔ اسی طرح گائنی کے شعبے کے کئی مراکز اوراسپتال بھاری مال کمانے کیلئے خاص طور پہ اس بات میں دلچسپی زیادہ رکھتے ہیں کہ نارمل ڈیلیوری کے بجائے زچگی بذریعہ آپریشن کی جائے اور مزید یہ کہ وہاں پیدا ہونے والے ہر بچے کو انکوبیٹر میں رکھ کر بھاری رقوم بٹورنےکو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔ ایک بڑا اسپتال تو ایسا ہے کہ وہاں متوسط آدمی بھی اسکے نہایت مہنگے علاج کی تاب نہیں لاپاتا اور اکثر علاج کے درمیان ہی جائیداد و قیمتی اشیاء بیچنے کی نوبت آجاتی ہے اور اس سوہان روح احوال کو دیکھتے ہوئے اکثر حساس مریض ہمت اور زندگی کی بازی ہار بیٹھتے ہیں۔
معیار کے نام پہ قائم یہ چند بڑے اسپتال درحقیقت ذات پات کے نطام جیسی لعنت بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے معاشرے کو محرومی اور آسائش کے کئی طبقات میں تقسیم کرکے گویا مہر لگادی ہے۔ اس دلخراش صورتحال میں بہت سے گھروں میں آئے روز کتنے ہی قابل علاج مریض بتدریج ناقابل علاج ہو کر ایڑیاں رگڑتے مرجاتے ہیں۔ اپنے پیاروں کو یوں مرتے دیکھنا کس قدر کربناک ہوا کرتا ہے لیکن یہ منظر اب ہمارے عام آدمی کی زندگی کا ایک معمول کا منظر ہے جو کبھی اس گھر میں تو کبھی اس گھر میں رونما ہوتا رہتا ہے، ایسے ہی سفاک مناظر اور ایسی ہی بے بسی معاشروں کو توڑ پھوڑ ڈالتی ہے اور ایک ایسے انتشار کو جنم دےدیتی ہے کہ جسکی زد میں آسودہ حال طبقے کے لوگ بری طرح روند دیئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں محرومیوں کی یہ آگ کم ازکم صحت کے شعبے میں تو ہنگامی بنیادوں پہ بجھاڈالنی ہوگی کیونکہ جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ’اپنے پیاروں کو یوں مرتے دیکھنا کس قدر کربناک ہوا کرتا ہے‘ تو آخر لوگ کب تک دوائی اور علاج سے محروم اپنے پیاروں کو یوں مرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ بہتر ہے کہ کسی بڑے بحران سے پہلے ہی اصلاح کے لئے درکار ضروری اقدامات کرلئے جائیں اس میں سب کی سلامتی اور بھلائی مضمر ہے۔  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 3 ) احباب کو بھیجئے
سگریٹ نوشی سے انکار کا دن
تھر کا المیہ اورارباب اختیارکی غفلت‎
"دل ہے کہ مانتا نہیں...!"
متوان غذا صحت مند زندگی کی ضامن
شاہینوں کے بلے خوب گرجے، خوب برسے
 
انقلاب کا جھانسہ اورسادہ لوح عوام
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 36 )
انقلاب کا فرار
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 21 )
گورا رنگ ہی کیوں؟
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 19 )
"دل ہے کہ مانتا نہیں...!"
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 17 )
سراج الحق صاحب کی بھاگ دوڑ ۔۔۔ کھایا نا پیا گلاس توڑا بارہ آنے ۔۔
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 14 )
 
 
 
 
Disclamier
 
 
Disclamier
  سگریٹ نوشی سے انکار کا دن   
......سید ماجدعلی......
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سگریٹ نوشی سے انکار کا دن منایا جارہاہے یعنی ’’نوٹوبیکو ڈے۔‘‘ اس دن کے منانے کا مقصد عوام کو تمباکو نوشی سے پیدا ہونیوالی مہلک امراض کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے ۔ عالمی تنظیم صحت کے مطابق سگریٹ کے فروخت
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (2)

 

  تھر کا المیہ اورارباب اختیارکی غفلت‎   
......جویریہ صدیق.......
تھر کے پھول جیسے بچے غذائی قلت،افلاس، بھوک و پیاس کے باعث مرجھا رہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان الفاظ کی جنگ جاری ہے۔کیا انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں اور ہر موقع پر سیاست چمکانا ضروری ہے۔تھر میں قحط سالی کوئی نئی چیز نہیں ہر سال تھر
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (4)

 

  "دل ہے کہ مانتا نہیں...!"   
......سیدعارف مصطفیٰ......
سارے خواب ٹوٹ گئے،،، آسرا دینے والے سب چھوٹ گئے۔۔۔ لیکن " یہ دل ہے کہ مانتا نہیں۔۔۔! " عمران خان تو اپنی عجیب و غریب اداؤں کے باعث سبھی کوباربار حیران کیئے دے رہے ہیں،،، یوں تو نئی نئی چونکا دینے والی باتیں کرنے کےلیئے
مکمل بلاگ  
تبصرہ کریں  تبصرے  (17)

 

Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy